مسلک اور فرقہ

(Atif Javed, AJK)

اختلاف کائنات کا حسن اور فطرت کا نگہبان ہے ۔ زمین و آسمان ، صبح وشام ،دن و رات ،سردی و گرمی کا اختلاف کائنات کی بقا کا ضامن ہے جب یہ ختم عالم زماں ومکاں ختم۔ دو ڈاکٹرز کا اک ہی بیماری کا طریقہ علاج مختلف ہو سکتا ہے۔دو سائنسدان اک ہی معاملہ میں مختلف رائے رکھ سکتے ہیں۔دوفلسفی اک ہی چیز کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھ سکتے ہیں ۔ لیکن جب اسلام میں دو اہل علم میں رائے کا اختلاف ہوتا ہے تو توپوں کا رخ اسلام کی طرف ہو جاتا ہے کہ یہ آجکے دور میں قابل عمل نہیں کیونکہ اس کے ماننے والوں میں اختلافات ہیں حتی کہ نادان بھول جاتے ہیں کہ اختلاف تو فطرت ہے اور اسلام تو عین فطرت ہے ۔
 
میرے دوستو اختلافات دو طرح کے ہوتے اور اسلام نے بھی ان کو بیان کیا ہے ایک وہ اختلاف جسے نبی آخرالزمانؐ نے رحمت فرمایا ہے اور جو کسی صحت مند معاشرے کے ارتقاء کی علامت ہوتا ہے وہ فروعات کا اختلاف ہے اور اسکی بنیاد پر مسلک یا سکول آف تھاٹ بنتے ہیں اور اس صورت حال میں اصول اور بنیادپر اتفاق ہوتاہے جیسے جب تک دو ڈاکٹرز ڈاکٹری کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے بے شک الگ طریقہ علاج اپنائیں وہ ڈاکٹر ہی کہلائیں گے اسی طرح اسلام میں قرآن اور حدیث اصول ہے ہاں ان کی تشریح اور تاویل ،تطبیق اور ترجیح میں اختلاف ہو سکتا ہے نماز بنیاد ہے اسکے پڑھنے کے مختلف طریقے جو سنت سے ثابت ہوں ہو سکتے ہیں رسالت محمدی ایمان ہے کوئی آپکونورمجسم مانے یا نور ہدایت کیا فرق پڑتاہے۔ یہاں پہ اختلاف ترجیح اور تاویل کا ہو گا نہ کے انکار کا ۔ اور اللہ نے اس اجتہادی اختلاف پہ اجر رکھا ہےجو اہل علم کے درمیان ہو ۔ لیکن ہمارے نوجوان آجکل اس اختلاف کو دیکھ کر یا لوگوں کے ورغلانے پہ دین میں کیڑے نکالتے ہیں حتی کہ اگر وہ اپنا شعور استعمال کرتے تو انکو پتہ چلتا کہ یہ اختلاف تو اسلام کی سچائی کی علامت ہے اور اللہ اور رسول اللہ ؐ نے بھی عبادت کرنے کے مختلف طریقے بتائے تاکہ جس کو جس پہ شرح صدر ہو عمل کرے۔ اسلیے مسلک باعث رحمت ہیں بس رائے متشددنہ ہو ۔ امام مالک، امام شافعی ،امام احمد بن حنبل ،امام ابو حنیفہ اور غیر مقلدین کے درمیان جو اختلاف ہے وہ یہی ترجیح اور تطبیق کاہےاور تمام فقہا کا اس اختلاف کے بارے میں متفق علیہ قول ہے کہ ہماری رائے درست ہے اور دوسرے کی رائے غلط ۔لیکن ہماری رائے کے غلط ہونے کا اور دوسرے کی رائے کے درست ہونے کا احتمال موجودہے ۔اسلام کےسارے مسالک اسکے گلدستے ہیں جیسے سب پھول گلدستے کو خوبصورت بناتے ہیں اس طرح یہ اسلام کی رونق ہیں نہ کہ فرقے ۔ اب کچھ لوگ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کالج اور یو نیورسٹیز سے کچے ذہن کے بچوں کو یہ اختلاف بتا کر گمراہ اور اسلام سے متنفر کرتے ہیں کہ بھائی اسلام میں آج تک نماز کا اک طریقہ ثابت نہیں ہو سکا ،امین بالجہر اور فاتحہ خلف الامام پہ جھگڑا ہے نور اور بشر کے معاملات ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ نماز اصول ہے جو متفق علیہ ،رسالت رسول مقبولؐ اصول ہے جو متفق علیہ ہے آگے فروعات میں خود اسلام نے آزادی دی ہے کہ جس طریقہ کو چاہو اختیار کرلو ۔

اب اک اور اختلاف ہے جو مذموم ہے اور قرآن وحدیث میں جسکی مذمت کی گئی ہے وہ اصول میں اختلاف ہے اور اسی اختلاف سے فرقہ وجود میں آتا ہے اگر کوئی قرآن کا انکا ر یا حدیث کا انکا ر یا صحابہ کی حیثیت یا ختم نبوت کا انکار کر ے یا دین کے بنیادی ارکان نماز،روزہ ، زکوة اور حج کے وجود کا انکار کرکے یہ کہے کہ میں مسلمان ہو تووہ فرقہ ہے اور قابل مذمت ، قابل گرفت اور یہاں تک کے ارتداد کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے مثلاً پرویزی، بہائی، قادیانی وغیرہ کیونکہ یہ کسی نہ کسی اصول کے منکر ہیں ۔

اب ہماری زمہ داری اختلاف کو پہچاننا ہے کہ وہ کس درجہ کا ہے کیا وہ بھائی بھائی والا اختلاف ہے جسکی وجہ سے رشتہ ختم نہیں ہوتا یا دشمن والا ہے جو تمام تعلق ختم کر دیتاہے۔ اور اپنی نوجوان نسل کو ان ملحدوں سے بچانا ہو گا جنہوں نے اس اختلاف کو بنیاد بنا کر ہماری نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ہواہے ۔ اللہ ہمیں تمام مسالک کا احترام کرنے کی توفیق دے اور فرقوں کے شر سے بچائے

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: atifjaved

Read More Articles by atifjaved: 14 Articles with 4279 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jan, 2017 Views: 573

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ