امریکی صدر !پابندیاں نہیں پیار محبت

(Dr Tasawar Hussain Mirza, Lahore)

اسلام نے چودہ سو سال قبل ہی مسلمانوں کو بتا دیا تھا کہ ’’ یہود و نصریٰ ‘‘ مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے امریکہ کے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات اسلامی ملکوں پر امریکہ نے ’’ دہشت گردی ‘‘ سے امریکہ کو بچاؤ کے لئے پابندی احکامات جاری کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان وغیرہ پر کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تازہ حکم نامے پر دستخط کردیئے ہیں جس کے تحت 7 مسلم ملکوں سے آنے والے پناہ گزینوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی بار بار یہ کہتے رہے تھے کہ اگر وہ صدر بن گئے تو دہشت گردی کا شکار ملکوں سے آنے والوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردیں گے اور اس صدارتی حکم کے ساتھ انہوں نے اپنے وعدے کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔وائٹ ہاؤس ترجمان کے مطابق ’’قومی تحفظ کیلئے غیرملکی دہشت گردوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی‘‘ کے عنوان سے جاری کردہ اس خصوصی صدارتی حکم نامے کے تحت شام، ایران، عراق، سوڈان، لیبیا، یمن اور صومالیہ کے شہریوں کو آئندہ 90 دن تک امریکا میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا، اس کے علاوہ امریکا کا ’’ریفیوجی ایڈمیشن پروگرام‘‘ بھی آئندہ 120 دن تک کیلئے معطل کردیا گیا ہے۔ٹرمپ کا منصوبہ 2017 کے مالی سال میں امریکا آنے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد کم کرکے پچاس ہزار تک کرنا ہے جو مالی سال 2016 میں ایک لاکھ دس ہزار تھی۔ پنٹاگون میں اس حکم نامے پر دستخط کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے فخریہ انداز میں اعلان کیا کہ وہ ’’انتہاء پسند اسلامی دہشت گردوں‘‘ کو امریکا سے باہر رکھنے کیلئے جانچ پڑتال کے سخت ترین اقدامات ترتیب دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سابق صدر براک اباما کے ان فیصلوں کو کیسے لیتے ہیں جو انہوں نے آخری دنوں میں لئے ہیں ۔مثلاً براک اباما نے جاتے جاتے اپنے آخری دنوں میں کئی ایسے کام کر گئے ہیں، جو آنے والے دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کے لئے ایک امتحان بھی ہوگا اور دینا کو یاد بھی رہیں گئے ۔ انھوں نے ایک طرف جہاں یہودی اور ہندو کو بھی آنے والے وقتوں میں امریکہ کے صدر بننے کا خواب دکھایا ہے، وہیں انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلم سمیت دیگر اقلیتوں اور کالوں سے منافرت کو امریکہ برداشت نہیں کرے گا۔ جمہوریت میں اتحاد ہی متحدہ امریکہ کی پہچان ہے۔ امریکہ کے لوگ اپنی اس مخصوص پہچان کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کرینگے۔ اس لئے کہ یہ اقلیت، مسلمان اور کالے اتنے ہی محب وطن ہیں، جتنے دوسرے ہیں۔ اباما نے ان لوگوں پر طنز کرتے ہوئے، جو خود کو بہت زیادہ محب وطن ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کہا کہ کچھ لوگ خود کو دوسروں کے مقابلے زیادہ بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ایسے وقت میں جمہوریت کی شکست ہوتی ہے۔ دور صدارت ختم ہونے سے چند روز قبل براک اباما نے جہاں 64قیدیوں کو مکمل معافی دی، وہیں ایسے 209 قیدیوں کی سزا کوختم کرنے کا بھی اعلان کیا، جو بہت دنوں سے قیدو بندکی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان میں اگست 2013 ء سے 35 سال کی سزا بھگتنے والی چیلسی میننگ بھی شامل ہے، جو کہ سفارتی مراسلوں اور میدان جنگ کی رپورٹوں کو افشاں کرنے کی مرتکب پائی گئی تھی اور ان رپورٹوں کو وکی لکس نے شائع کر ایک طوفان کھڑا کر دیا تھا۔اسی طرح 29 سالہ میننگ اپنی جنس تبدیل کرانے سے قبل بریڈلی میننگ کے نام سے ایک مرد کے طور پر جانی جاتی تھی اور جو فوج کے خفیہ معلومات کا تجزیہ کرنے کی ماہر تھی۔ اس کی قید کی مدت 17مئی 2045 ء کو ختم ہونے والی تھی۔ اور کنساس میں واقع فورٹ لیوین جیل میں قید یہ میننگ دو بار خود کشی کی بھی کوشش کر چکی ہے۔اس کو بھی مافی دے دی گئی حالانہ تنقید کا نشانہ بھی صدر اوباما کو بنایا گیا ۔ اباما نے امریکی انتظامیہ کے ماتحت پیوٹوریکو کی آزادی کے لئے تحریک چلانے والی 55 سال کی سزا پانے والی آسکر لوپیج ریویرا کی بھی سزا کو معاف کر دیا ہے۔ ویسے رویرا 1999 ء میں ملنے والی معافی کو ٹھکرا چکی ہیں۔ براک اباما کے کئے گئے ر اپنے آخری عوامی خطاب میں براک اباما نے اس بات کو باور کروانے کی کوشش ک ہے کہ، وہ یقینی طور پر ایک بہتر انسان، ایک ذہین اور دور اندیش سیاست داں اور ایک با اثر صدر مملکت کا ہے۔ اباما کی آخری تقریر سے امریکہ کی ایک بچی اس قدر متاثر ہوئی کہ اس نے ٹویئٹ کر اباما کو لکھا کہ آپ آٹھ سال تک وھائٹ ہاؤس میں نہیں رہے، بلکہ ہم لوگوں کے دلوں میں رہے اور کبھی بھی آپ ہم سے جدا نہیں ہو سکتے۔

امریکی صدر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے اور آرڈر سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ان کے ’’دل ور دماغ ‘‘ میں مسلمانوں لئے کوئی اچھائی کی بات نہیں بلکہ وہ اسلام دشمن ہے ! امریکی صدر نے ’’ دہشت گردی ‘‘ سے امریکہ بہادر کو پاک کرنے کے لئے چند اسلامی ممالک پر پابندی لگائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ باقی اسلامی ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نظر میں پر امن ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ ایسے ہی جیسے ڈاکٹر کسی کو پنسلین کا انجکشن لگانے سے پہلے ’’ ٹیسٹ ڈوز ‘‘ کے لئے معمولی مقدار کو جسم میں داخل کرتا ہے تا کہ پنسین کا ردِ عمل دیکھا جائے اگر ردِ عمل کے طور پر جسم قبول نہ کرے تو پھر پنسلین کا انجکشن نہیں لگایا جاتا مگر جسم کا درِ عمل سامنے نہ آئے تو سمجھا جاتا ہے کہ جسم کو پنسلین موافق آگائی ہے پھر پورا انجکشن لگا دیا جاتا ہے۔

اب وقت آگیا ہے ’’ امت ِ محدیہ ‘‘ کو حصوں کی بجائے پورا جسم ظاہر کرنا ہوگا ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ’’ پورا انجکشن ‘‘ لگا دیا جائے گا

یہاں پر دوباتیں عرض کرنا ضروری ہے اول:۔ پیارے نبیﷺ کا پیارا فرمان ہے جس کا مفہوم کچھ یہوں ہے کہ ’’ میری امت ایک جسم کی مانند ہے ‘‘ اگر جسم کے کسی حصہ میں درد ، دکھ ہو تو پورا جسم محسوس کرتا ہے ۔ ( حصہ کو آپ اسلامی ملک اور جسم کو سارے اسلامی ممالک ہیں )

کیا اس یہ مطلب نہیں کہ اگر کسی ایک اسلامی ملک پر پابندی لگتی ہے تو اس کا مطلب تمام اسلام ممالک پر پابندی سمجھنا چائیے۔

دوسری بات ’’ اسلام امن اور محبت کا درس دیتا ہے ‘‘ جو دین پانی بھی زیادہ نہ بہاؤ کی تلقین کرتا ہو وہ ’’ خون ‘‘ بہاؤ کی کیسے اجازت دے سکتا ہے۔اسلام نے تو جانوروں کو زبح کرتے وقت جانور کے سامنے’’ چھری‘‘ تیز کرنے کی اجازت نہیں دی۔ جی یہ وہ اسلام ہے جو میرے اور آپ کے پیارے آقاﷺ لائے ہے ، ہمیں تو سکھایا جاتا ہے کہ جانور کو بھوکا اور پیاسا زبح نہ کرو۔ تو پھر انسانوں کو تکلیف دینے کا کوئی مسلمان سوچ بھی نہیں سکتا !

چند ایک منافق ہیں جو یہودونصریٰ کے کہنے پر اسلام کو بدنام کر رہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسلام کو بدام کرنے کے لئے یہ پابندی والہ فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آپ امریکہ کی سلامتی کے لئے جو بھی کام کریں گئے دنیا اور اسلامی دنیا آپ کے ساتھ ہے ، مگر عالم اسلام کو بدنام نہ کریں کیونکہ اسلام ’’ اﷲ پاک کا پسندیدہ دین ہے، اور جو اﷲ کا پسندیدہ ہو اس کا ایک امریکہ کیا پوری دنیا کے انسان اور جن بھی مل کر کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ تو پھر قدرت نے جو موقع دیا ہے اس فائدہ اٹھا کر دنیا میں پیار محبت اور امن قائم کرنے میں اپنا رول ادا کریں تاکہ رہتی دنیا تک آپ کا نام رہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza

Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 269 Articles with 162036 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Jan, 2017 Views: 405

Comments

آپ کی رائے