مسلم لیگ ن دباؤ کا شکار

(Hur Saqlain, )
 پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں مسلم لیگ ن نے کمال مہارت سے اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔اس نے پیپلز پارٹی کے خلاف پانچ سال تک منظم انداز میں مہم چلائی۔عوام کو باور کرایا کہ یہ جماعت کرپشن کی سر پرستی کرتی ہے۔ ملک میں توانائی کا بحران اسی کرپشن کی بدولت ہے۔ملک میں تمام تر بد انتظامی اور بد عنوانی پیپلز پارٹی ہی کی بدولت ہے۔ ابتدا ئی دنوں میں ہی ججزز بحالی تحریک کے سلسلے میں شروع کیا گیا لانگ مارچ گوجرنوالہ پہنچنے سے پہلے ہی کامیابی سے ہمکنار ہو گیااور یوں اس بات کا کریڈٹ بھی مسلم لیگ ن کے حصے میں آیا۔ مسلم لیگ ن نے قانونی جنگ میں بھی پیپلز پارٹی کو مشکل میں ڈالے رکھا۔ میمو سکینڈل کیس اور سوئس حکومت کو خط لکھنے کے معاملے میں نواز شریف خود عدالت میں گئے اور عوام کو تاثر دینے کی کوشش کی کہ وہ اس محاذ پر بھی سب سے آگے ہیں۔ شہباز شریف اور چوہدری نثار مقتدر حلقوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے رہے۔ اس دور میں جب طاہر القادری نے لاہور سے اسلام آباد کی طرف مارچ کیا تھا تو وفاق کی درخواست کے باوجود شہباز شریف کی حکومت نے اس مارچ کو روکنے کی کوشش نہ کی بلکہ انہیں اسلام آباد تک رسائی دینے کے لیے سہولت کار کا بھی کردار ادا کیا۔ شہباز شریف وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجودوفاقی حکومت کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں خود شریک ہوتے اور اس وقت کے صدر آصف علی کو الٹا لٹکانے کے دعوے بھی کرتے تھے۔لوڈشیڈنگ کے خلاف اقبال پارک میں کیمپ آفس بھی قائم کرتے تھے۔ کچھ صحافی اور چینل بھی ن لیگ کے ہمنوا رہے۔انہوں نے بھی اپنا خوب رنگ جمایا ۔اس طبقے نے بھی اپنے قلم اور کیمرے سے عوام کو یہ باور کروا دیا تھا کہ ان کے دکھوں کا مداوا مسلم لیگ ن ہی ہے۔پاکستان مسلم لیگ ن نے 2013کے انتخابات کی مہم بھی بڑے منظم انداز میں چلائی۔ اس جماعت نے اپنی انتخابی مہم میں قوم سے پرکشش وعدے کیے تھے۔ توانائی کے بحران پر چند ہفتوں میں قابو پانے کی نوید سنائی گئی تھی۔قوم کوقرضوں سے نجات دلانے کی بات کی گئی۔ہر انتخابی جلسے میں طاہر لاہوتی کا خوب چرچا کیا گیا ۔مسلہ کشمیر کو پھر سے زندہ کرنے کا عزم کیا گیا۔ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ سے واپس لانے کا عہد بھی عوام کے ساتھ کیا گیا تھا۔جب 2013کے انتخابی نتائج سامنے آئے تو پاکستان مسلم لیگ ن نے دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔
 
جب نواز شریف نے تیسری بار بطورِ وزیراعظم حلف اٹھایا تو قوم کو ایک امید تھی کہ اب ان کے مسائل حل ہوں گے اور ان کے دکھوں کا مداوا ہو گا۔نواز شریف قوم کو بتا چکے تھے کہ ان کے پاس تجربہ کار ٹیم موجود ہے جس نے اپنا ہوم ورک مکمل کیا ہوا ہے۔قوم کو بہتر نتائج کا شدت سے انتظار تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ قوم مسائل کی دلدل میں مزید دھنستی چلی گئی۔ملک میں اب بھی 8سے 10گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔سوئی گیس کا بحران پہلے سے زیادہ سنگین ہو گیا ہے۔صحت اور تعلیم کے محکمہ جات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔ حکومت یہ دونوں محکمے نجی شعبے کے حوالے کر رہی ہے۔بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔غیر ملکی قرضوں کا مزید بوجھ اس قوم پر ڈالا جا رہا ہے۔ مسلم لیگ کی گڈ گورنس کا کیا کہنا کہ کچرا اٹھانے کے لیے بھی ترکوں کو مدد کے لیے بلایا گیا ہے۔پولیس کا محکمہ زبوں حالی کا شکار ہے اس کی کارکردگی شرمناک حد تک خراب ہے۔انصاف نہ ملنے کی وجہ سے لوگ اب خود قانون کو ہاتھ میں لے رہے ہیں اور قتل کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔حافظ سعید کو نظر بند کر کے کشمیریوں کو بھی سخت پیغام دیا گیا ہے۔مودی کی خوشنودی کے لیے بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش کی اجازت دی گئی ہے۔ڈاکٹر عافیہ کا نام اب ان حکمرانوں کو ناگوار محسوس ہوتا ہے۔ٹرمپ کے مودی کے ساتھ اچھے تعلقات بن رہے ہیں۔وہ ایران کو بھی للکار رہا ہے۔افغانستان میں امریکہ کی بدولت بھارت کا اثر رسوخ زیادہ ہو رہا ہے۔ عربوں کی اقتصادی حالت اب پہلے جیسی شاندار نہیں رہی اب پاکستان کے ساتھ ان کے تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں رہی۔ عالمی سطح پر پاکستان کے لیے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے مگر حکومت کو اس کا ادراک نہیں یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان تنہا ہو رہا ہے۔نواز شریف نے تو پیپلز پارٹی کا کڑا احتساب نہ کیا مگر خود پانامہ کیس میں پھنس گئے۔عدالت کا فیصلہ سر آنکھوں پر مگر عوام کی نظروں میں یہ حکمران گر گئے ہیں۔ان کی عزت اور وقار پر حرف ضرور آیا ہے۔جس تجربہ کار ٹیم کا ذکر کرتے تھے اس نے حکمرانی کے مزے تو ضرور لوٹے ہیں مگر ملک و قوم کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔جن قلم کاروں نے عہدے حاصل کیے عوام کی نظروں میں ان کی عزت بھی داغدا ر ہوئی۔

اس وقت وزیرا عظم نواز شریف شدید دباؤ کا شکار دکھائی دیتے ہیں اسی لیے نامکمل منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں۔انہوں نے جو وعدے قوم سے کیے تھے وہ پورے نہ ہو سکے۔پانامہ کیس ان کے لیے دردِ سر بنتا جا رہا ہے۔نا اہلی کی تلوار ان کے سر پر لٹک رہی ہے۔پارلیمنٹ میں ترامیم ان سے نہیں ہو پا رہی ہیں۔اپنے آپ کو بچانے کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں اور غالب امکان ہے کہ وزیر اعظم اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دے کر اپنی ساکھ بچانے کی کوشش کریں گے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: hur saqlain

Read More Articles by hur saqlain: 77 Articles with 37866 views »
i am columnist and write on national and international issues... View More
06 Feb, 2017 Views: 470

Comments

آپ کی رائے