گیلانی صاحب!ہم آپ سے شرمندہ ہیں

(Sami Ullah Malik, )

یہ دنیا کیا ہے؟بستیوں پر مشتمل یہ دنیا،چھوٹی بڑی بستیاں اور ان میں ہنستے بستے ،روتے گاتے لوگ،اداس بھی مسرور بھی، مولائی مست بھی اور فکر مند بھی۔ہاں یہی ہے ناں دنیا، انسان کے اندر بھی تو ایک بستی ہے۔ دل، یہ بھی تو ایک بستی ہے، ہربندہ اپنی بستی کامکیں..... .دل جوایک چھوٹاسالوتھڑاہے،مگر ہرکوئی ایک ایٹم بم اٹھائے پھررہاہے،چاہتے ہوئے بھی اورنہ چاہتے ہوئے بھی،اس سے انکاربہت کٹھن ہے،بہت مشکل بھی اوربہت جاں لیوابھی،ہاں!نظر کرم ہوجائے توالگ بات ہے،مگر یہ ہر ایک کا نصیبا کہاں!اسی بستی سے انسان بستا ہے اوراسی سے اجڑتا بھی ہے۔وقت ساکت نہیں ہے لیکن یہ ہرایک پرمختلف گزرتاہے۔ صدیاں پل بن جاتی ہیں اوربعض اوقات پل صدیوں پر بھاری...... کچھ تو ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں کہ ارے اتنی جلدی گزرگیاوقت!......اورکبھی ہم باربارگھڑی دیکھتے ہیں اورہمیں اندر سے آواز آتی ہے،،گزرتاہی نہیں،ایک جگہ ٹھہرگیاہے وقت!،،بس اندرکی بستی پرموقوف ہے یہ سب کچھ........کہ وہ وقت کوکیسے محسوس کرتی ہے۔لاکھ اچھاہوموسم،بہت سہانااورسحرانگیز،پرمسرت اورنشاط انگیز....لیکن یہ جو اندرکی بستی ہے کبھی توگوشہ مسرت بن جاتی ہے اورکبھی اداسی کامسکن،بھوت بنگلہ،ہرشے کاٹنے کودوڑتی ہے۔ایساہی ہے ہرانسان کا موسم!"کبھی دھوپ میں،جھلسادینے والی دھوپ میں راحت وآرام،اورکبھی بہار میں خزاں،رسیدہ ٹنڈ منڈ درخت،بے برگ وبار،لیکن گزارناتوہے یہ وقت،جیسے بھی گزرے"۔

جب ان سے پوچھتے ہیں تومسکراتے ہوئے آہستہ سے سرگوشی کردیتے ہیں کہ "بس راضی رہو،راضی بہ رضائے الہی!"پھرپوچھناپڑگیاکہ"اچھا!کچھ نہ کریں، بس راضی بہ رضا رہیں،کوئی ہاتھ پاؤں نہ ہلائیں،کچھ نہ دیکھیں اورسوچیں؟ اسی مسکراہٹ کے ساتھ جواب ارشاد ہواکہ"نہیں نہیں،ایساتونہیں کہامیں نے، محنت کرو،جہد مسلسل ہی کانام توہے زندگی،زمین میں بیج ڈالو،گوڈی کرو،جھاڑ جھنکارالگ کرو،اورپھرانتظارکروکونپل پھوٹنے کا،اورجب پھوٹ پڑے کونپل،وہ ننھاسابیج زمین کاسینہ چیرکرباہرجھانکنےلگے تواس کی نگہداشت کرولاڈلے بچے کی طرح،اورسوچوکہ اس کاپھل کھائیں گے ضرور،اور پھر......"پھرکیا....
جلدی بتائیں، بڑھتی بے تابی کا امتحان نہ لیا کریں،گویا چیخ کر میں نے پوچھا،جلدی بتائیں......"؟
مالی دا کم پانی دینا،پر پر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھول لانا،لاوے یا نہ لاوے
"اورپھرمالی کاکام ختم ہوا،پھل پھول لانااس کاکام نہیں ہے۔آگیاتوشکرکرو،نہ آیا تو صبر......بس یہی ہے راضی بہ رضائے الہی،راضی بہ رضائے حق..... سر تسلیم خم اور منہ بسورے بغیرنعرہ مستانہ:بس توہی ہے ہمارا،ایک دربندتوسودر کھولنے والا۔میرے لئے بس توہی کافی ہے''الیس اللہ بکاف عبدہ''اور مجھے کسی اورکی ضرورت بھی نہیں،میری ضرورتوں کا،ہر طرح کی ضرورتوں کاانتظام کرنے والا بس توہی ہے،اورجب بندہ بشرسب کاانکارکردے تو وہ آتاہے،بندہ بشر جتنابھی دے،پیٹ نہیں بھرتا،لالچ ختم نہیں ہوتی،اورپھرطعنے کابھی ڈر،بھری مجلس میں اپنے احسان گنواکرذلیل ورسواکردیتاہے یہ انسان ۔وہ،میرارب!تھوڑاسا بھی دے توسارے کام سنورجاتے ہیں،لالچ وطمع اورحرص وہوس باقی نہیں رہتی اورپھرمنظربھی بدل جاتا ہے۔دیکھنے میں آگ اور رہنے میں جنت،لہورنگ جنت .......مسکراتے آنسواورسرشاری''۔
میں انہیں دیکھتا ہوں،چاروں طرف سے گھرے ہوئے مرد وزن اوران کے کڑیل جوان بیٹے اوربیٹیاں،معصوم کلکاریاں مارتے بچے اورٹوٹے پھوٹے مسمار گھر، چاروں طرف سے گھرے ہوئے شعب ابی طالب کی گھاٹی کے مکین،پچھلے۷۰ سالوں سے آٹھ لاکھ افواج کے حصارمیں،اطراف میں پڑوسی مسلمان ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں......لیکن محاصرہ اورسخت کردیاگیاہے۔خاکی وردی والوں کوکھلی دعوت اوراجازت ہے کہ اس جنت نظیرکی زمین اور فضاؤں کوبے دریغ استعمال کرو،ان پرگولیوں،پیلٹ کی بارش ہورہی ہے،سینکڑوں بینائی سے محروم کردیئے گئے، آگ،بارود برس رہا ہے،نوجوانوں کو اغوا کرکے غائب کردیاجاتا ہے،بوڑھے ماں باپ گھرمیں منتظرہیں اورکچھ تواپنے معصوم،لہولہان بچوں کو اٹھاتے ہیں،اکھڑی ہوئی سانس لیتے بچے، مرد وزن،جوان اوربوڑھے،بے سدھ دنیائے فانی پرتھوک کرجنت میں چلے جانے والے یہ بچے،مردوزن،جوان اور بوڑھے،وہی کے مکین تھے،بس کچھ پل کیلئے آئے تھے یہ سب!جوان کڑیل کچھ کرگزرے اوراپنی نذرپوری کرگئے۔
ارمان وآرزؤں بھرادل لئے رخصت ہونے والی بچیاں،صبرکرتاہوابوڑھااورآسمان تکتی بوڑھی ماں!بھائی بھائی کالاشہ اٹھاتاہے،ماں اپنے لال کا، باپ اپنے مستقبل کا،سب نے ہی تو آنکھیں موندلی ہیں،تازہ خون کاسجا سجایاغازہ بھرامسکراتا چہرہ،گویا منزل پالی۔صبروشکرکے مجسم اورتسلیم ورضا کے پیکر پاس کھڑے اللہ کی کبریائی کے نعرے لگارہے ہیں ...... سب کہ سب راضی بہ رضائے الہٰی۔ حیرت ہوتی ہے ،کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں،چاروں طرف سے گھرے ہوئے جواں مرد،جنہوں نے اس کریہہ زندگی پرتھوک کرموت کوگلے لگایاہے۔موت کا استقبال کیاہے اورکررہے ہیں ۔ان کادل بھی پکارپکارکر کہہ رہاہے کہ کہاں تھی تواے موت!ہمیں تیراہی توانتظارتھا۔آ!تجھے سینے سے لگانے کیلئے کس قدرہم بے تاب تھے ۔کبھی دیکھے ہیں آپ نے ایسے جوان مرد!موت بھی حیرت زدہ ۔ موت کو شکست دینے والے زندہ جاوید....اور کسے کہتے ہیں زندگی!ہم سانس لیتی ہوئی لاشیں، بس خودکوزندہ سمجھتے ہیں، ذلیل دنیاکے اسیرکتے بن گئے ہیں ہم۔
زندگی کامعنی اورمقصدسمجھناہوتوکشمیرکودیکھئے۔آپ آنکھیں کیوں بند کرتے ہیں؟بلی کودیکھ کرکبوترکی طرح،یہ ہے زندگی،اصل زندگی،امرزندگی، جواں مردوں کی زندگی،آگ وخون کے دریامیں بہتی زندگی ۔چاروں طرف سے گولہ بارودکی بارش میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کراسے دھتکارتے ہوئے لوگ،رقص کرتے ہوئے لوگ،اپنے رب کی کبریائی کاآوازہ بلند کرتے ہوئے لوگ.......عجیب لوگ،پاگل اوردیوانے لوگ......بےخود، سرشارلوگ، امرلوگ.... ..آپ ایک بھارت سمجھ بیٹھے ہیں،دنیا میں ستاون مسلم ریاستیں بھی توبھارت بنی ہوئی ہیں،باقی کاشکوہ میں کیوں کروں۔یہ ستاون بھارت جو خود کومسلمان کہتے ہیں،جبے ودستارپہننے والے،سوٹ کوٹ اورواسکٹ وشیروانی پہننے والے،بے حمیت،بےغیرت۔کیوں نہیں کہتے آپ ان کوبھارت؟ بھارت پرہم اگرمل کرتھوک دیں تووہ اس میں ڈوب جائےمگران ستاون بھارت سے کیسے جان چھڑائیں؟
یہی سوچناہے ۔صرف سوچنانہیں،کچھ کرگزرناہے،اورجب کچھ کرگزرنے کی بات آتی ہے توہمیں اپناتام جھام نظرآنے لگتاہے۔ہائے ہمارے محلات،ہماری گاڑیاں،ہماراخزانہ نہ لٹ جائے!جسے ہم نے جھوٹ سچ بول کر،خوشامد کرکے، تعلقات استعمال کرکے،رشوت دیکر،اپنا ضمیربیچ کرجمع کیا ہے۔یہ جو ہمارا سامان تعیش ہے اس کاکیابنے گا؟بس یہی سے پھرہم حکمت کاوعظ دیناشروع کر دیتے ہیں۔حکمت اوربےغیرتی میں ایک باریک سی لائن ہمیں نظرہی نہیں آتی۔ آنکھیں ہوتے ہوئے بھی اندھے ہیں ہم!دل ہوتے ہوئے بھی مردہ،نفاق کاپیکر،اب برالگتاہے توکیاکیاجائے!آپ کاقصیدہ پڑھاجائے؟نہیں یہ کبھی نہیں ہوگا۔قصیدہ گو بہت ہیں،سنتے رہئے انہیں،اورسردھنتے رہئے۔ستاون بھارت،مسلم لبادہ اوڑھے ہوئے۔ہم سب کے سب سوگ مناتے ہوئے،آہ و زاری کرتے ہوئے کبھی نہیں سوچتے کہ پہلے ان کاسہ لیسوں سے جو ہماری مسلم دنیاپرقابض ہیں،جان چھڑائیں۔جب تک یہ مسلط رہیں گےہم آہ و زاری کرتے رہیں گے اورخودکوبڑا معتبرسمجھتے رہیں گے۔پہلاکام ان نمک خواروں سے نجات حاصل کرناہے۔ بھارت کے خلاف مظاہرے بعدمیں کریں گے،پہلے خودپر مسلط بھارتی،امریکی و اسرائیلی ایجنٹوں کے خلاف سینہ سپرہوں،تب کچھ کرسکیں گے ہم۔یہ ایجنٹ ہمیں لے ڈوبیں ہیں۔شائد میں بہت دورنکل گیاہوں اورآپ کوبھی بہت سے کام کرنے ہوں گے لیکن کیاکروں اخبارات،ٹی وی اورریڈیومسلسل کشمیریوں کی چیخوں سے گونج ہی رہے ہیں لیکن کشمیرکے مظالم اور فریادوں پربھی تڑپنے کی اجازت نہیں،اسلامی جمہوریہ نیوکلیرطاقت ہوتے ہوئے بھی محض اس لئے حافظ سعیداوردیگرافرادکوپابندسلال کردیاکہ قصرسفید کے فرعون کی خوشنودی مطلوب ہے ۔یہ بھی نہ سوچاکہ مظلوم کشمیریوں کے دل پرکیا گزری ہے؟ڈاکٹرحافظ قاسم جوعین جوانی میں۲۴ سال کی عمرمیں ناکردہ گناہ کی پاداش میں پچھلے۲۴سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے اپنی زندگی کے تمام لمحوں کو جمع کرکے اس کاحساب کس سے مانگے ؟جب اسے یہ خبرہوگی کہ میرے وکیل کو بھی میری اسیری سے کوئی غرض نہیں۔حافظ قاسم کی اہلیہ میری انتہائی بہادربہن آسیہ اندرابی جو پچھلے ۲۵سالوں سے نامکمل پاکستان کی تکمیل کیلئے اپنی جان ہتھیلی پرلئے پاکستانی پرچم کواٹھائے بھارتی سفاک فوجیوں سے مقابلہ کررہی ہے،اس کااکلوتاابیٹااپنے باپ کے نقش قدم کو اپنی منزل جان کرظالم فرعونوں کے سامنے سینہ سپرہے، وادی کانوجوان عالم دین الطاف ندوی برسوں سے اپنے قلم سے جس شجاعت کا مظاہرہ کررہاہے، یٰسین ملک جس نے اپنی زندگی کابیشترحصہ بھارتی عقوبت خانوں میں گزارکر اب خون تھوکناشروع کردیاہے،ان سب کے دلوں کوہم نے پارہ پارہ کردیا۔
کوئی مسیحا نہ ایفائے عہدکوپہنچا
بہت تلاش پس قتل عام ہوتی رہی
ہرجمعتہ المبارک پرغزہ اورکشمیرکیلئے دعائیں ہوتی ہیں،سیدعلی گیلانی پیرانہ سالی اورعلالت کے باوجوداب تک عزیمت کااک پہاڑ،اپنے ارادے میں اٹل کہ دنیاکوان کاوعدہ یاددلارہے ہیں کہ تم سب نے کشمیریوں کوحق خودارادیت دینے کا وعدہ کیاتھالیکن کیاوجہ ہے انسانی حقوق کے دعویدارکشمیرکو بھلا بیٹھے ہیں۔ گزشتہ رمضان المبارک سے ہفتہ قبل انہوں نے انتہائی محبت وخلوص کے ساتھ اپنے شانوں پراوڑھی گرم شال پارسل کے ذریعے ارسال فرمائی ۔اس شال کودیکھ کرمجھے یوں محسوس ہواکہ مجھے زندگی کاحسین ترین اورقیمتی خزانہ مل گیا ۔میں نے فیصلہ کیاکہ ماہِ رمضان کے مبارک شب وروز اس شال کے ساتھ گزاروں گالیکن پہلی تراویح پرہی اس شال نے میرے ہوش اڑادیئے اورمجھے یوں محسوس ہورہاتھاکہ وہ میرے سامنے مغموم بیٹھے بغورمیرے چہرے پر نظریں گاڑے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔مجھے فوری طور پرچندبرس قبل میری خصوصی فرمائش پران کالند ن انسٹیوٹ آف ساؤتھ ایشیا کے سیمینارکا وہ ویڈیو خطاب آنکھوں کے سامنے ایک فلم کی طرح چلنا شروع ہوگیاجس میں وہ سیمینارکے شرکاءکودہشتگردی کامطلب سمجھا رہے تھے۔سامعین پرسکتہ طاری تھاکہ اس مردمجاہدکے صوتی مدلل خطاب نے جہاں دلوں کومسحورکردیا وہاں دلوں کے جھنجھوڑکرفرائض کی یاددہانی کرواتے ہوئے شرمندگی کے پسینے میں شرابورکردیا۔میرے کانوں میں آج بھی ہزاروں کشمیریوں کے یہ نعرے''ہم ہیں پاکستانی،پاکستان ہماراہے''کی قیادت کرنے والے سیدعلی گیلانی کی پرجوش آوازگونج رہی ہے اورہراس پاکستانی کا تعاقب کرتے ہوئے اس سے یہ مطالبہ کررہی ہے کہ تم قرآن کایہ پیغام کیوں بھول گئے ہو:
وَمَاْلَکُمْ لَاتَقْتِلُوْنَ فِیِ سِبِیلِ اللّہِ وَلْمُسْتَضْعِفِیْنَ مِنَ الْرِجَالِ وَاَلْنِسآِ وَاَلْوِلْدٰنِ الَّذِینَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنآاَخْرِجْناَمِنْ ہذِہِ اَلْقَرْیةِ اَلظَّالِمِ اَہْلَہَاوَاَجْعَلْ لَنَامِنْ لَّدُنْکَ وَلَیَّاوَاَجْعَلْ لَنَامِنَ لْدُنْکَ نَصِیْرَاَ
اورکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں اورعورتوں اوربچوں کی خاطرنہ لڑوجوکہتے ہیں اے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اورہمارے واسطے اپنے ہاں سے کوئی مددگاربنا(۵۷۔ النساء)
سمجھ میں نہیں آتاکہ ان دوستوں کوکیسے پرسہ دوں جوایک عرصے سے رفاقت کاحق اداکررہے ہیں۔ڈاکٹرخالداپنی تمام یادوں کے ساتھ سامنے بیٹھامسکرا رہا ہے، جیسے ہرنمازی کی خدمت کرنے کے بعددعاؤں کی درخواست کیاکرتاتھا۔ پاکستان نے ایٹمی دھماکے کئے توسب سے پہلے اس کا مبارکبادکاٹیلیفون آیاتھا۔خوشی اور مسرت قابل دید تھی۔ایک ایک کے گلے مل کراللہ کی کبریائی بیان کررہا تھا۔ چند مہینے پہلے اچانک اپنے دل کا ایٹم بم ہاتھ میں لئے سامنے کھڑاہوگیا کہ'' میں نے فیصلہ کرلیاہے کہ واپس غزہ جاکراپنے لوگوں کواس فنی علوم سے روشناس کرواؤں'' ۔ سب نے سمجھایا کہ ایسی اعلی ملا زمت، عیش وآرام وہاں تومفقود ہے ۔اس کابس ایک ہی جواب تھا کہ''ان کے ہاتھ میں قلم کاہونابہت ضروری ہے،میں اس دنیامیں آخرکب تک قیام کروں گا''۔سعادت مندبیوی جوخود بھی ایک ڈاکٹر اپنے دومعصوم بچوں کوساتھ لئے اپنے شوہر کے ہمراہ ،''بس راضی رہو، راضی بہ رضائے الہی'' کے مصداق ،سب کچھ چھوڑچھاڑکراس منزل صادق کی طرف رواں دواں،اب اس کے ساتھ رابطہ صرف ای میل یااس کابڑا بھائی لیکن آج اسی کے بڑے بھائی نے مسجد میں ڈاکٹر خالدکی غائبانہ نمازجنازہ کی امامت کرواتے ہوئے یہ انکشاف کیاکہ ڈاکٹرخالداپنے مشن میں کامیاب ہوگیا ہے۔وہ اپنے تمام اہل خانہ کے ساتھ اپنے ہی تعمیر کردہ ہسپتال میں اپنے رب سے ملنے چلا گیا ہے۔ کبھی لوٹ کرنہیں آئے گا۔اپنے مضبوط ارادے کے ساتھ درجن سے زائد فری ڈسپنسریاں غزہ کے لوگوں کیلئے کام کررہی تھیں جو اس نے صرف دو سالوں میں قائم کرکے دکھائیں۔وہ اپنے پیچھے درجن سے زائد فری ڈسپنسریوں کا ترکہ چھوڑ کر چلا گیا۔ تین پرائمری اسکول بھی چلا رہا تھا جہاں بچوں کومفت تعلیم کے ساتھ ساتھ کتابوں اوراچھی خوراک بھی مہیا کررہاتھالیکن کیا واقعی ڈاکٹر خالد رخصت ہو گیا؟ابھی پچھلے ہفتے اس کا پیغام آیا تھا کہ'' زندگی بچانے کے لئے ان ادویات کی اشد ضرورت ہے،کچھ کرو''۔ ڈاکٹر خالد کے یہ الفاظ میرا تعاقب کر رہے ہیں کہ'' اگر پاکستان فلسطین کا ہمسایہ ہو تاتو آج ہمارایہ حال نہ ہوتا''۔اس کوکیا بتاؤں کہ اب میرے کشمیراورپاکستان میں کشمیریوں کیلئے آواز بلند کرنے والے حافظ سعیداوران جیسے ہزاروں پرکیا بیت رہی ہے؟جناب سیدعلی گیلانی ان دنوں شدیدعلیل سرینگرکے میڈیکل انسٹیوٹ میں زیرعلاج ہیں۔ میراان سے کئی ہفتوں سے رابطہ بھی نہیں ہورہااورمیں ان دنوں صوتی ملاقات سے محروم بہت مضطرب اورپریشان ہوں۔میں ان سے ایک استدعا کرناچاہتا ہوں کہ آپ کے اس خوبصورت ہدیہ سے آنے والی خوشبوسے میں ہرروزمستفیذہوتاہوں لیکن اس شال سے آنے والے لاکھوں بے گناہ کشمیریوں شہداء کی چیخ و پکار اوران کی فریادوں نے مجھے بے حال کردیا ہے۔آپ کی اس شال کوکشمیری صاحبِ اقتدارنے اپنی نمناک آنکھوں سے بوسہ دیکرمجھ سے کئی وعدے وعید کئے تھے اورمجھے نجانے کیوں یقین بھی آگیاتھالیکن مجھے یہ علم نہیں تھاکہ اقتدارکی غلام گردشیں اس قدرکمزورکردیتی ہیں کہ آپ توکربلا میں نہیں گھبراتے لیکن ہم مدینے میں بیٹھے خوف سے کانپ رہے ہیں۔ خداراسنئے! یہ مرد مجاہد سیدعلی گیلانی کیاکہہ رہے ہیں لیکن گیلانی صاحب !ہم آپ سے شرمندہ ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 227273 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Feb, 2017 Views: 464

Comments

آپ کی رائے