کشمیر کی آزادی مسلم حکمران نہیں چاہتے؟

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

 آج پانچ فروری ہے اور میں اُس سارئے منظر نامے کو دیکھ رہا ہوں جس منظر نامے میں بے چارئے کشمیری اپنی جانیں دئے رہیں ہیں۔مجھے یہ احساس ہے کہ دُنیا اِس وقت گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔کشمیر کشمیر کی دن رات ہم بات کرتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی ہمیں کس سے درکار ہے بھارت سے اور کشمیریوں سے ہمارا رشتہ کیا ہے وہ رشتہ کلمہ طیبہ کا ہے وہ رشتہ پاکﷺ کا اُمتی ہونے کا ہے۔ اب ہم آگے چلتے ہیں کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ظاہری سے بات ہے بھارت ہے ۔ اب بھارت سے آزادی کے لیے کس طرح بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اِس کے لیے ہم بھارت کے قریب تر ہمسایہ ممالک کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کا دعویٰ کہ کشمیر اُس کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارت کشمیر سے آنے والے دریاوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی سازش کا ارتکا ب کر چکا ہے۔ ہمارئے حکمران اُس کے ساتھ تجارت کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں۔ کشمیر کا لہو بہانے والے بھارت کے ساتھ پاکستان کی حکومت نے یہ سلوک روارکھا ہوا ہے کہ بھارتی فلمیں پاکستان میں نمائش کے لیے اجازت دے دی ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر بھارت کی بد معاشیوں اور کشمیریوں کے خلاف اُس کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم کو پیش ہی نہیں کر پایا۔ بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے ساتھ بیٹھ کر اعتراف کیا کہ ہاں وہ بھی مکتی باہنی میں شامل تھا جس نے مشرقی پاکستان کو توڑا۔ یہ ہے حال ایک اور مسلمان ملک کا جو بلک بھارت کے ساتھ واقع ہے۔ گویا بنگلہ دیش کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کی حمایت اسلام کے نام پر قصہ ختم ہی سمجھیں۔اب چلتے ہیں ایران کی جانب جو بہت براسلامی ملک ہے۔ بھارت کی ایران کے ساتھ پیار کی پینگوں کا عالم یہ ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا جو سب سے بڑا نیٹ ورک آپریٹ ہو رہا ہے پاکستان کے خلاف وہ ایرن کی سرزمین پر سے ہو رہا ہے۔ ایران اور افغانستان ملکر بھارت کے ساتھ ایران سے پاکستانی بندرگاہ گوادر کے مقابلے کے لیے پورٹ میں حصہ دار بن چکے ہیں۔ افغانستان کا یہ حال ہے کہ اُس کی فوج تک کو بھارت ٹریننگ دے رہا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی تمام تر تحریک کا مرکز افغانستان ہے اور اُسے بھارت آپریٹ کر رہا ہے۔ بھارتی اور افغانی سربراہان مملکت آپس میں اس طرح شیر و شکر ہیں کہ خدا کی پناہ۔ افغانی طلبہ بھارت جا کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے بے شمار قونصلیٹ قائم کر رکھے ہیں جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دفاتر ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔ جنگ عضب درحقیقت پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف لڑی گئی۔ اب اسلامی دُنیا کے سب سے اہم ترین ملک سعودی عرب کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس کے لیے پاکستانی مسلمان ہر وقت جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اِس ملک میں پاکستانیوں کو ملازمت کے دوران وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ ہمارئے دُشمن ملک بھارت کے باشند وں کو حاصل ہیں۔ حال ہی میں بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ مودی کو دیا گیا ۔ یہ ہے بھارت کے ساتھ سعودی عرب کی محبت کا عالم ۔ بھارت کی فی کس آمدنی میں اُن بھارتیوں کا بہت اہم کردار ہے جو کہ عرب دُنیا میں کمائی کر رہے ہیں۔ بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کے ساتھ سعودی حکومت کا رویہ بہتر نہ ہے۔ بھارت اور سعودی عرب کا آپس مین تجارتی حجم پاکستانی تجارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ تو جناب ایران اور سعودی عرب جو آپس میں سرد جنگ میں بر سر پیکار ہیں۔ یہ دونوں ممالک بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔ گویا سعودی عرب بھی بھارت پر کشمیر کی آزادی کے لیے دباؤ نام کی کوئی چیز نہیں ڈال سکتا ۔اب مشرق وسطی کی بات ہو جائےَ متحدہ ارب امارات نے بھارت میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا معائدہ کر لیا ہے۔اب بتائیں قارئین اکرام کشمیریوں کے لیے کو ن آگے آئے گا۔ پاکستان، سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، مشرق، وسطی کے مسلمان ممالک۔ تو جواب نفی میں۔ گویا کشمیری اِسی طرح شہید ہوتے رہیں گے۔ بھارت اُن کے خون سے غسل کرتا رہے گا۔ اور ہم پانچ فروری کو کشمیروں کے ساتھ یوم یکجہتی منا کر گھر جا کر سو جائیں گے۔

27اکتوبر1947ئکو بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعظم برطانیہ کو ایک ٹیلی گرام نمبر 402 ارسال کیا جس میں لکھا تھا کہ ہمارانقطہ نظر جو ہم نے بارہا عوام کے سامنے رکھا ہے کہ کسی بھی متنازعہ علاقہ یا ریاست کے الحاق کا فیصلہ لوگوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے گا اور ہم اس نقطہ نظر پر قائم ہیں۔ نہرو نے ایک اور ٹیلی گرام 31اکتوبر1947ئکو وزیراعظم پاکستا ن کے نام ارسال کیا جس میں درج تھا کہ ریاست جموں وکشمیر کے عوام الحاق کا فیصلہ کریں گے، یہ اُن تک ہے کہ وہ جس بھی ملک سے چاہیں‘ الحاق کریں۔

یہی وہ دوغلی اور منافقانہ پالیسی تھی جس پر پہلے دن کی پہلی ساعت سے ہی بھارتی رہنما کاربند تھے اور انہوں نے اِسی اندھی روشنی سے لوگوں کو گمراہ کیا اور بدستور گمراہ کرتے چلے گئے۔ نہرو نے اپنے وعدے کا اعادہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عالمی برادری کے سامنے بھی کیا اور بعد کے برسو ں کے دوران وہ مسلسل اس خوبی کے ساتھ اِس کا اعادہ کرتے رہے کہ گویا وہ کشمیر میں استصوابِ رائے کروانے کے لیے ازخود تیار بیٹھے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہ تھا۔ یہ ہندو بنیے کی وہ چھری تھی جس کو اس نے ہمیشہ آستین میں چھپا رکھا ہوتا ہے حالانکہ اس دوران اُس کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ رقصاں ہوتی ہے۔یہ ظلم کی وہ شکل ہے جس کی بھیانک تعبیر کشمیریوں کے مقدر کے ساتھ وابستہ کردی گئی۔ ہر گزرتے دن اور ہر بیتتے پل کے ساتھ اس ظلم کی مزیددرمزید بھیانک صورتیں آشکار ہوتی رہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 1948ئمیں عالمی برادری کے پلیٹ فارم پرکیے گئے وعدے کو ایفا نہ کرنے کے باوجود بھارت نے 1950میں خود کو دنیا کی سب سے بڑی عوامی جمہوریہ قرار دے دیا اور عالمی برادری سے اس کی سند بھی لے لی۔پون صدی تک اِس وعدے کے ایفا نہ ہونے اور ہر نئے دن ظلم کی ایک نئی تصویر بن جانے والے تحریک آزادی میں مصروف کشمیریوں کے ساتھ پاکستان کی اخلاقی‘ سیاسی و سفارتی حمایت ہمیشہ جاری رہی ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے زائد عرصے سے اس حمایت ویکجہتی کے عملی مظاہر کے طور پر پانچ فروری کو قومی دن کی صورت دے رکھی ہے۔ اِس دن پوری قوم کراچی سے خیبر تک اور دیگر دنیا میں بسنے والے کشمیری اور پاکستانی پوری شدت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایک جانب جہاں مظلوم و مقہور کشمیریوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ تم اس تحریک میں تنہا نہیں‘ ہم تمھارے ساتھ ہیں اور یہ کہ جو زخم تمھارے جسموں پر لگتے ہیں ہم انہیں اپنے دلوں پر محسوس کرتے ہیں وہاں وہ بھارت کو بھی یہ باور کرواتے ہیں کہ کشمیری تنہا نہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔ لیکن سب کچھ بس پاکستانی عوام کی جانب سے ہے۔ حکمران بھی صر ف لپ سروس کرتے ہیں۔پوری دُنیا نے دیکھ لیا ہے کہ ہمارئے حکمران اور دیگر مسلم حکمران کشمیر کو کتنے سنجیدہ ہیں -
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 220621 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
07 Feb, 2017 Views: 290

Comments

آپ کی رائے