ویلنٹائن ڈے کی حقیقت اور شرعی حیثیت!

(Abdul Qadoos Abid, )
اسلام محبت اور اخوت کادین ہے اسلام چاہتاہے کہ دنیاکے تمام انسان محبت اور پیار کے ساتھ زندگی بسرکریں ،محبت پیاراور دوستی کوکہتے ہیں ،عموماً ایسالفظ سننے کو ملتا ہے ہرشخص اسکا متلاشی دکھائی دیتاہے ،اﷲ تعالیٰ نے ایمان والوں کی محبت کوان الفاظ میں بیان کیا’’اہل ایمان اﷲ سے شدید محبت رکھتے ہیں‘‘اﷲ تعالیٰ نے محبت کو انسانی فطرت اور ضمیر میں شامل کیاہے اﷲ تعالی اور بندے،والدین اولاد،بہن بھائی،میاں بیوی،ماں بیٹی،رشتہ داروں ،عزیزوں اور دوست احباب کے رشتوں اور تعلقات کے سارے زاویے اسی جذبہ محبت کی مرہون منت ہیں،رشتوں میں آنے والی دراڑیں اور ٹوٹ پھوٹ کومحبت کامرہم ہی بھرتا ہے بلکہ زندگی کے جتنے بھی امتحانات ہیں ان میں سرخروئی کاذریعہ صرف محبت ہے،حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق ’’تین چیزیں جس میں پائی جائیں وہ ایمان کی حلاوت اور مٹھاس محسوس کرتا ہے ایک یہ اﷲ اور اسکارسول ﷺ اسے ہرچیز سے زیادہ محبوب ہیں‘‘محبت الہی کے بعد محبت رسول ﷺ اہل ایمان کی محبت کادوسرامحورہے،جووالدین ،اولاد،اورتمام لوگوں سے زیادہ ہونی چاہیے اسکے بدلے میں اﷲ تعالی انسان کے ساتھ ستر(70)ماؤں سے زیادہ پیارکرتاہے اور آپ ﷺ کاامت سے پیارکایہ عالم تھا کہ راتوں کو جاگ کر امت کیلئے رویاکرتے اور ہردعامیں یادکرتے،اور روز قیامت میں یہی جذبہ محبت کارفرماہوگا،محبت کاتیسرامحور صحابہ کرام ؓ ہیں جن سے محبت کرنے والوں کوحضور ﷺ نے نوید سنائی کہ اﷲ تعالی بھی ان سے محبت رکھے گا،محبت کے یہ تمام جذبے انسان کے حقیقی محبت کے عکاس ہیں ،دین اسلام سے دوری نے محبت کے لفظ کو بدنام کردیا ہے اسے خواہشات کی تسکین کاسمبل بنادیاگیاہے،ویلنٹائن ڈے کی صورت میں جسکی مثال ہمارے سامنے ہے،معاشرے میں آج رواج پانے والے ویلنٹائن کی کہانی اصل اور تاریخی کہانی کچھ یوں ہے کہ جب موجودہ عیسائیت کے مرکز روم میں پہلی بار عیسائیت منظر عام پر آئی تو عیسائیوں نے اس حوالے سے جشن منانے کی کوشش کی تو14فروری کاانتخاب کیاگیا یہ وہ دن تھا جب رومیوں نے عیسائی پادری ویلنٹائن کوپھانسی دی تھی، اس زمانہ میں روم پرایک بادشاہ کلاڈیئس دوئم تھاکی حکومت تھی ،جنگوں کے دوران قتل و غارت اتنی ہوئی کہ اسکی فوج میں سپاہی کم ہوگئے اور پھر نوجوان موت کے ڈر سے بیویوں کو چھوڑ کرجنگ میں نہ جاتے تھے،بادشاہ نے شادیوں پر ہی پابندی عائدکردی تاکہ نوجوان شادیوں کے چکرسے نکل کرفوج میں بھرتی ہوں ،تووہاں رہنے والے عیسائی پادری ’’ویلنٹائن ‘‘ نے عیسائیت کی تبلیغ کیلئے خفیہ شادیوں کاپروگرام بنایا ،عقدہ کھلاتو بادشاہ کلاڈیئس دوئم نے اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا وہاں پادری ویلنٹائن کامعاشقہ جیل کے انچارج آسٹریئس کی بیٹی سے ہوگیااور وہ روزانہ اسے ملنے آنے لگی،پادریوں کی شادیوں پرتوپابندی تھی اور شادی تو ممکن نہ تھی،پھریہ بات کھل گئی تو بادشاہ نے ویلنٹائن کوپیشکش کی کہ وہ عیسائیت چھوڑکررومی دیوی ،دیوتاؤں کی پوجاکرے اور بادشا ہ اسے اپنی قربت دیگا اسے معاف بھی کردیاجائے گااور اپنی سگی بیٹی بھی اس سے بیاہ دیگا لیکن ویلنٹائن نے انکارکردیا،پھررومی جشن سے ایک روز پہلے یعنی14فروری270عیسویں میں اسے سزائے موت دے دی گئی ویلنٹائن نے مرنے سے پہلے جیل انچارج کی بیٹی کوخط لکھا جسکے الفاظ تھے’’تہمارے ویلنٹائن کی جانب سے‘‘اور یوں یہ رسم چلی اور چلتی گئی،مغرب کی مذہب بیزاری نے اسے ایک تہوار کی شکل دی ،جرمنی ،ناروے،برطانیہ،سویڈن،سلوانیا،برازیل،رومانیہ،اسپین،فرانس،ڈنمارک کے ساتھ ساتھ جاپان،چین،کوریا،بھارت اور پاکستان میں یہ دن منانے کارحجان عام ہوتاجارہاہے یوم محبت کاعنوان دے کرگلاب،سرخ کارڈز اور تحائف دیے جاتے ہیں ماضی قریب تک ایسی محبت باعث شرم اور بے حیائی سے تعبیر کیاجاتاتھا،مریضان محبت اسے ظاہر نہ ہونے دیتے کہ کہیں انکی عزت پرحرف نہ آجائے ،آوارگی،بدچلنی کانام دیاجاتاتھا،ایسے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کواوباش کہاکرتے تھے،نبی اکرم ﷺ نے فرمایا’’کہ تم اپنے سے پہلی قوموں کے طریقوں پر بالشت بالشت اور ہاتھ بہ ہاتھ لازماً پیروی کروگے حتیٰ کہ ان میں سے کوئی گوہ کی بل میں گھساہوگاتو تم اسکی بھی پیروی کروگے‘‘آپ ﷺ سے پوچھا گیا(وہ قومیں )یہودی اور عیسائی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھراور کون ہے ؟(صحیح بخاری)آپ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ ’’جوجس قوم کی مشابہت کواختیارکریگا وہ انہی میں سے ہوگا‘‘۔سمجھ نہیں آتا جنکے طورطریقے اپنائے گئے ہیں وہ ہمارے طورطریقے تواپناتے نہیں ہیں ،ابھی دسمبر گزراتوبہت سارے لوگوں کوایک دوسرے کو ہیپی کرسمس کہتے ہوئے دیکھا،کیاکسی یہودونصاریٰ میں سے کسی کو عیدمبارک کہتے ہوئے دیکھا؟یاانگریز ایک دوسرے کو عیدمبارک کہتے ہوں یاعیدمبارک کے کارڈ ایک دوسرے کوبھیجتے ہوں ؟رمضان کے روزے یا کسی کوقربانی کرتے ہوئے دیکھا؟ہرگزنہیں۔۔۔۔توپھرہم کیوں ایسے گندے غلیظ تہوار مناکراپنے آپکو اﷲ تعالیٰ کے سامنے رسواکرتے ہیں ،کیوں ایسا سامان کرتے ہیں کہ اﷲ اور اسکے فرشتوں کی لعنت کی زدمیں آجائیں ،عورت کودین میں کیامقام حاصل ہے ازدواج مطہرات،صحابیات رسول ؐ کی چارشہزادیاں عورتوں کاآئیڈیل کیوں نہیں ہیں ؟عورت اپنی تذلیل کاسبب خود کیوں بن گئی ہے،خواتین پردے کی اہمیت کوسمجھیں شیطان کوخوش نہ کریں ،دنیاکوپتا نہیں کہ مسلمان عورت چھپانے کیلئے ہے کھلے عام بازاروں میں پھرنے کیلئے نہیں ،خدارا بے حیائی کے اس کام کوچھوڑیں نیک نیتی سے اس کام کوچھوڑیں گے تونتیجہ بھی ویساہی ہوگا،جوکام ہمارے نبی ﷺ اور انکے صحابہ ؓ نے نہیں کیا جسکی ترغیب ہمیں نبی ؐ نے نہیں دی جسکاانہوں نے منع فرمایا وہ نہ کریں۔14فروری کوویلنٹائن منانے والے مسلمانوں کے سامنے ایک اور حدیث بھی پیش کرتے ہیں عامر بن امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان آپ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا اے اﷲ کے رسول ﷺ مجھے زنا کی اجازت دیں وہاں موجود لوگ اسکے قریب آئے اور اسے ڈانٹتے ہوئے کہنے لگے رک جا۔۔۔۔رک جا۔۔۔۔آ پ ﷺ نے اسے اپنے قریب بلاکربٹھایا اور فرمایا کہ کیا تو پسند کرتاہے کہ ایسا تیری ماں سے کیاجائے ؟اسنے جواب دیا اﷲ کی قسم ہرگز نہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی ماؤں کیلئے ایسا فعل پسند نہیں کرتے،آپ ﷺ نے پھر فرمایا کیاتوایسا اپنی بیٹی کیلئے پسند کرتاہے؟اسنے جواب دیا اﷲ کی قسم نہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بیٹیوں کیلئے پسند نہیں کرتے ،آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اپنی بہن کیلئے ایسا پسند کرتاہے ؟اس نے کہا اﷲ کی قسم ہرگز نہیں ،آپ ﷺ نے فرمایا لوگ بھی اپنی بہنوں کیلئے پسند نہیں کرتے،آپ ﷺ نے فرمایاکیاتو ایسااپنی پھوپھی کیلئے پسندکرتاہے؟اس نے کہا ہرگز نہیں ،آپ ﷺ نے فرمایااپنی خالہ کیلئے؟اسنے جواب دیا اﷲ کی قسم ہرگز نہیں ،آپ ﷺ نے فرمایالوگ بھی اپنی پھوپھیوں کیلئے پسندنہیں کرتے،آپ ﷺ نے اسکے سینے پرہاتھ رکھااور فرمایا اے اﷲ اسکے گناہ بخش دے اسکادل پاک کردے اور اسکی شرم گاہ کومحفوظ کردے پس اسکے بعد اس شخص کوکبھی بھی ادھرادھر نظراٹھاتے بھی نہیں دیکھاگیا،14فروری کو پیار ومحبت کرنے والے لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو پھول اور تحائف دے کر اظہار عشق کرتے ہیں بڑے شہروں میں تو باقاعدہ تقریبات ،پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارا میڈیا بھی تمام اخلاقی حدودپھلانگتے ہوئے لڑکے لڑکیوں کوچمٹتے چومتے،ایک دوسرے کے اوپر چڑھتے چاٹتے دکھایاجاتا ہے جیسے یہ سب ہماری تہذیب کاحصہ ہو۔۔۔۔یہ تہوار منانے والوں نے کبھی یہ سوچا کہ اظہار عشق میں جوپھول یاتحفہ کسی کی بہن کو بھیجتے ہیں اگرایسے ہی پھول یاتحفہ کوئی انکی اپنی سگی بہن کوپیش کرے یا اسکے گھر بھیج دے تو وہ کس حد تک برداشت کرلیں گے؟۔۔۔۔اور وہ کون کون اور کتنے نوجوان ہونگے جواپنی سگی بہنوں کوگھروں سے خود روانہ کریں گے کہ جاکراپنے عاشقوں کے ساتھ ویلنٹائن ڈے منائیں ؟اگرکوئی اپنی سگی بہن کیلئے پسند نہیں کرتاتو پھر دوسرے کی بہن کیلئے کیوں پسند کرتاہے؟؟؟؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Qadoos Abid

Read More Articles by Abdul Qadoos Abid: 3 Articles with 1105 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Feb, 2017 Views: 586

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ