ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا، پر یاد آتا ہے

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
غالب ؔ کو دنیا سے رخصت ہوئے ڈیڑھ صدی ہونے کو آئی پر غالبؔ ہر اس شخص کے دل پر راج کررہا ہے جو ادب سے معمولی سے بھی رغبت رکھتا ہے۔شعر و شاعری کی بات ہو غالب ؔ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوتی ہے ۔غالبؔ کے بے شمار اشعار ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔بعض بعض باتیں جو غالبؔ نے اپنے شعار میں کہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی آجکل کے زمانے کا شخص وہ باتیں کررہا ہے۔ غالبؔ کے بارے میں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ غالبؔ ہر دور کا شاعر ہے، ماضی کا بھی حال کا بھی اور یہ مستقبل کا بھی اتنا ہی مقبول اورمحبوب شاعر رہے گا۔ جب تک یہ دنیا آباد ہے، اردو زبان کے بولنے اور سمجھنے والے اس دنیا میں موجود رہیں گے غالبؔ بھی ان کے درمیان موجود رہے گا۔ غالبؔ کو دنیا سے رخصت ہوئے 150 سال ہونے کو ہیں لیکن غالب ؔ شعری دنیا میں آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔جسمانی طور پر وہ یقیناًاب اس دنیا کا حصہ نہیں اسی لیے اس نے از خود کہا کہ’ غالبؔ مر گیا پر یادآتا ہے‘ اور حقیقت بھی یہی ہے ۔ ادب سے رغبت رکھنے والوں کو غالب ؔ کی کمی محسوس ہوتی ہے وہ یاد آتا ہے۔
ہوئی مدت کہ غالبؔ مرگیا ، پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

اردو کے معروف ادیب ، نقادپروفیسر ڈاکٹر سلیم اختر نے درست کہا کہ’غالب ؔ آج کاشاعر، لیکن غالب ماضی کا شاعر کب تھا۔ در اصل اپنی وژن فلسفیانہ سوچ ، بلندی پرواز تخیل ، جدتِ طبع اور اسلوب کی جمالیات کی بنا پر غالب کو کسی خاص زمانے ، مخصوص تہذہب ، جداگانہ کلچر یا تاریخ کے خاص دور میں وقت کا پابند نہیں قرار دیا جاسکتا۔غالبؔ اپنے زمانے کے بعد مستقبل کا شاعر تھا ا س لیے غالبؔ آ ج اپنا معاصر محسوس ہوتا ہے اور مستقبل بعید میں بھی اس کے معاصر ہونے کی خصوصیت برقرار رہے گی، جس شاعر نے صدی ڈیڑ صدی تک خود کو جدید، بلکہ جدید ترثابت کیے رکھا تو وہ آنے والی صدی، دو صدی کے قارئین کے لیے بھی ان کا معاصر ہی رہے گا‘۔

غالب ؔ کا نام اسد اللہ بیگ خان تھا، عرفیت مرزا نوشہ، قلمی نام مرزا غالب، تخلص پہلے اسد کیا پھر غالب ؔ اختیار کیا، مرزا نجم الدولہ، دبیر الملک اور نظام جنگ جیسے خطابات سے بھی نوازے گئے۔ 27دسمبر 1797ء میں ہندوستان کے شہر آگرہ میں جنم لیااور 15 فروری1869 ء کو داعی اجل کو لبیک کہا۔ دہلی میں دفن ہوئے۔ ان کا خاندان قوم ترک سلجوقی کی اولاد میں سے ہے، ان کے دادا چوقان بیگ خان شاہ عالم کے عہد میں سمر قند سے دلی میں آکر آباد ہوئے ۔ ان کے والد عبد اللہ بیگ خان دلی سے اکبر آباد میں آباد ہوئے ۔ مرزا غالبؔ ابھی پانچ چھ برس ہی کے تھے کہ ان کے والد ایک لڑائی میں مارے گئے ۔ والد کے انتقال کے بعد ان کے چچا نصراللہ خاں نے ان کی پرورش کی لیکن ان کا بھی جلد انتقال ہوگیا۔ غالبؔ نے ان کے بارے میں اپنی سوانح عمری جو صیغہ غائب میں لکھی ہوئی ہے، اردو اکیڈمی بہاولپور کے جریدے ’الزبیر7آپ بیتی نمبر 1964میں شائع ہوئی میں لکھا ہے کہ ’ شاعری میں بڑا کمال پیدا کیا ،نہ فقط شعر بلکہ نثر میں بھی دستگاہ رکھتے تھے نثر کی تین کتابیں پنج آہنگ، مہر نیمروز ،دستنبو ، فارسی نظم کا کلیات دس ہزار بیت کا با لفصل اردو اخبار لکھأو میں چھپا ہو اہے‘۔ گویا مرزا کو علم و ھنر ، شعر و شاعری و نثر نگاری ورثہ میں ملی، یا یوں کہا جاسکتا ہے کہ غالبؔ کے خاندان میں ادب سے شغف پایا جاتا تھا۔ دوسری جانب غالبؔ نے کہا ؂
آتے ہیں غیب سے یہ مضامین خیال میں
غالبؔ صریرِ خامہ نوائے سروش ہے

غالبؔ کی شاعری کی خصوصیت ، عظمت کے لیے یہی کہا جاسکتا ہے کہ شاعری میں حسن ، خوبصورتی، تعریف و توصیف ، عشق و محبت ہی نہیں بلکہ غالب نے اپنی شاعری میں زندگی کی حقیقت کو، حالات اور واقعات کا ادراک کرتے ہوئے، انسانوں کی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہوئے، عام اور چھوٹی چھوٹی باتیں ، سادہ الفاظ میں ، سلیس زبان میں بیان کی ہیں۔ غالبؔ کی شاعری کا ایک اہم عنصر منطقی اور استدلالی انداز بیان ہے۔ہندوستان کے معروف شاعر، ماہر غالبیات پروفیسر اسلوب احمد انصاری کے مطابق ’ غالب صرف جذبات کا تجزیہ ہی نہیں کرتے بلکہ ان میں باہمی تعلق پیدا کنے کی کوشش کرتے ہیں۔ محبت ان کے لیے کوئی ایسا جذبہ نہیں جو فطری طریقے سے دلکش محرکات میں ڈھل جائے بلکہ یہ ایک گرم تیز روہے جو پوری شخصیت کے اندر انقلاب پید کردیتی ہے۔ غالب صرف اشاروں سے کام نہیں لیتے بلکہ اپنے نرم و لطیف احساسات کیفیات کا تجزیہ کرتے اور ان پر استدلا کرتے ہیں‘۔
عمر بھر ہم یوں ہی غلطی کرتے ر ہے غالبؔ
دھول چہرے پہ تھی اور ہم آئینہ صاف کرتے رہے

غالبؔ کا شمار 19صدی کے اہم اور معروف و معتبر شعراء میں ہوتا ہے غالب سے قبل کی صدی یعنی 18صدی میر تقی میر کی صدی تھی۔ غالب کی بڑائی اور خوبی دیکھئے کہ وہ بہت بڑا شاعر ہوتے ہوئے بھی اس نے میرؔ کی تعریف و توصیف میں کنجوسی نہیں کی۔ مرزا غالبؔ جیسے استاد شاعر نے بر ملا میرؔ کے معتقد ہونے کا اقرار کیا
اپنا تو عقیدہ ہے بقول ناسخ
آپ بے بہرہ ہیں جو معتقدِ میر نہیں

پھر غالبؔ نے میرؔ کے معتقد ہونے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ دنیا کو یہ باور بھی کرایا کہ غالب ؔ ہی ریختے کے استاد نہیں ، ان سے پہلے میرؔ بھی زبان و بیان کے استاد رہ چکے ہیں۔ غالب ؔ کا یہ شعر بہت معروف ہے ؂
ریختے کے تُم ہی استاد نہیں ہو ، غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا

غالب ؔ کی ایک خوبی اس کے اشعار میں سچائی ہے جسے وہ بہت ہی سہل انداز سے بیان کردیتا ہے ؂
غالبؔ بُرا نہ مان جو واعظ بُرا کہے
ایسا بھی کوئی ہے سب اچھا کہیں جسے
یہ دنیا مطلب کی ہے تُم کِس مخلص کی بات کرتے ہو غالبؔ
لوگ جنازہ پڑھنے آتے ہیں وہ بھی اپنے ثواب کی خاطر

غا لبؔ شاعری کی معراج پر ہونے کے ساتھ ساتھ اردو ادب میں خطوط نگاری میں صف اول میں دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے مکتوب نگاری کو بھی ایک نیا رنگ اور منفرد اسلوب دیا۔مرزاغالبؔ بجا طور پراردو مکتوب نگاری کے دولھا تصور کیے جاتے ہیں۔حالانکہ غالبؔ سے پہلے غلام غوث بے خبر ؔ اور رجب علی بیگ سرور کے مکتوبات تاریخ کا حصہ ہیں۔عبد الرحمٰن چغتائی نے غالب ؔ کی مکتوب نگاری کو غالبؔ کی شاعری سے کہیں اعلیٰ درجہ کی تخلیق قرار دیا ہے۔بقول غالبؔ ؂
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کوئی پیغامِ زبانی اور ہے

غالبؔ کے مکتوبات کی تدوین کئی احباب نے اپنے اپنے طور پر کی ۔ عود ہندی، اردوئے معلیٰ، مکاتیب غالبؔ کا ذکر ملتا ہے۔ اس سلسلہ کا ایک مجموعہ1919ء میں مرزا عسکری نے مرتب کیا تھا جو لکھنؤں سے نظامی پریس نے شائع کیا تھا۔ اس کے علاوہ مولانا امتیاز علی خان عرشی نے پہلی بار ’مکا تیبِ غالبؔ ‘کے عنوان سے غالبؔ کے خطوط کو تاریخ وار ترتیب دیا جو1949ء میں شائع ہوا تھا، آفاق حسین آفاقؔ کا مرتب کردہ مجموعہ ’نادرات غالب‘1949، غلام رسول مہر کا مر تب کردہ مجموعہ ’خطوط غالبؔ ‘شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے علاوہ قاضی عبد الودود اور مالک رام کا نام بھی غالبؔ کے مکاتیب کے حوالے سے معتبر اور تاریخ میں نمایاں ہے۔ غالبؔ کے مکاتیب کے حوالے سے ہندوستان کے معروف ادیب و دانشور ڈاکٹر خلیق انجم کو غالبؔ پر اعلا درجے کی تحقیق کرنے والوں میں شمار کیا جات ہے۔اس موضوع پر ان کی اولین کاوش ’’غالب کی نادر تحریریں‘‘ تھی اس کے بعد ’’غالب اور شاہان تیموریہ‘‘ 1974ء میں اور’ ’ غالب کچھ مضامین‘‘ منظر عام پر آئیں۔مکا تیبِ غالبؔ کے حوالے سے ڈاکٹر خلیق انجم کی قابل قدر تحقیق ’’غالب کے خطوط ‘‘پانچ جلدوں پر مشتمل جن میں پانچویں جلدخطوط غالب کی تاریخ وار فہرست ہے ہندوستان کے علاوہ پاکستان سے انجمن تر قی اردو نے یکے بعد دیگرے شا ئع کیں۔ جلد اول و جلد دوم 1989میں، جلد سوم 1990ء، جلد چہارم 1995ء اور جلد پنجم یعنی اشاریہ 2000ء میں منظر عام پر آئیں۔ ان جلدوں کا مطالعہ انجمن ترقی اردو پاکستان کے کتب خانے واقع گلشن اقبال میں کیا جاسکتا ہے۔

شاعری ، مکتوبات کے علاوہ تقریظ یا دیباچہ نگاری میں بھی غالب ؔ نے ایک نئی جہت کی روایت ڈالی۔ تقریظ عام طور پر تعریف و توصیف تصور کی جاتی تھی اور اب بھی اسی قسم کی صورت حال ہے۔ کتاب کا مصنف کسی دوسرے شخص سے اپنی کتاب پر دیباچہ یا تقریظ اس عرض سے ہی لکھواتا ہے کہ تقریظ لکھنے والا کتاب اور صاحبِ کتاب کی تعریف اور توصیف ہی لکھے گا۔ لیکن غالبؔ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس کا عمل سچائی اور ایمانداری کے ساتھ تقریظ لکھنے کی جانب عمل کر کے دکھایا۔رضا علی عابدی نے اپنی تصنیف’کتابیں اپنے آباء کی‘ میں لکھا ہے کہ ۱۸۰۴ء میں شائع ہونے والی کتاب میر امن کی ’’باغ و بہار ‘‘ تھی یہ ہندوستانی پریس کلکتہ سے شائع ہوئی تھی ۔ اس کتاب کا دیباچہ ’جان گلکرسٹ کا تحریر کردہ ہے۔ سرسید کی تصنیف ’’آثار الصنادید‘‘پہلی بار ۱۸۴۷ء میں’سید الاجنار‘ کے تحت جب کہ دوسری بار ’منشی نول کشور‘ لکھنؤ سے ۱۸۷۶ء میں شائع ہوئی ۔اس کتاب کے آخر میں تقریظیں شامل ہیں۔آثار الضنادید پر تقریظیں لکھنے والوں میں محمد مومن خان مومن،مولوی امام بخش صہبائی، مرزا اسد اﷲ خان غالبؔ اور محمد صدرالدین خان شامل ہیں۔یہ تقریظیں نظم اور نثر دونوں میں لکھی گئیں۔ مولانا حالی نے لکھا ہے کہ ’’دہلی کے جن نامور لوگوں کی تقریظیں آثار الصنادید کے آخر میں درج ہیں انہوں نے آئین اکبری پر بھی نظم یا نثر میں تقریظیں لکھی تھیں مگر آئین کے آخر میں صرف مولانا صہبائی (مولانا امام بخش صہبائی) کی تقریظ چھپی ہے‘‘۔

حالیؔ ’’حیات جاوید ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ سر سید احمد خان نے اپنی کتاب ’آئینِ اکبری‘ ۱۸۵۵ء میں مکمل کی۔ انہوں نے محسوس کیا کہ مرزا اسد اﷲ خان غالبؔ ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جو ان کی اس علمی کا وش اور محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھیں گے۔ سر سید نے مرزا غالبؔ سے رابطہ کیا کہ وہ اس کتاب کی تقریظ (اس وقت کی روایت کے مطابق ثنائیہ پیش لفظ) تحریر کردیں۔غالبؔ نے سر سید کی حوصلہ شکنی نہیں کی بلکہ ان کی کاوش کو وقعت کی نگاہ سے دیکھا ۔ غالبؔ نے کتاب کا احاطہ کرتے ہوئے اپنے طور پر ایک اصلاحی نظم لکھی جو فارسی میں تھی۔سرسید نے اس تقریظ کو آئین اکبری میں شامل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ نظم سر سید کی کتاب آئینِ اکبری‘ کا پیش لفظ یا تقریظ ضرور ہے لیکن اس کتاب کا حصہ نہیں۔ یہ دیباچہ یا مثنوی تعریفی نہیں بلکہ اس میں مصنف کی سرزنش بھی کی گئی اور بہت سے مفید مشورے غالبؔ نے سرسید کو دئے۔ دیباچہ نگاری کے سفر میں یہ اہم پیش رفت تھی اور غالب ؔ کی جانب سے دیباچہ نگاروں کو یہ پیغام بھی تھاکہ دیباچہ یا تقریظ صرف ثنائی ہی نہیں ہونی چاہیے بلکہ اصلاحی یا تنقیدی بھی ہوسکتی ہے۔ دیباچہ نگار تصنیف میں کوئی کمی یا خامی محسوس کرے تو بلا تردد اس کا اظہار بھی کردے۔ غالبؔ کی یہ نظم’’کلیاتِ غالب‘‘ کے علاوہ سبط حسن کی کتاب ’نویدِ فکر‘ میں شامل ہے۔مرزا غالبؔ کی تقریظ کوسرسید نے قصداً نہیں چھپوایا۔ اس تقریظ میں مرزا نے ظاہر کیا ہے کہ ابو الفضل کی کتاب اس قابل نہ تھی کہ اس کی تصحیح میں اس قدر کوشش کی جائے۔ ڈاکٹرجمیل جالبی نے اپنی کتاب ’تاریخ ادبِ اردو‘ جلد چہارم میں بھی اس مثنوری کا ذکر کیا ہے۔مرزا غالبؔ کے علاوہ مصطفےٰ خاں مرحوم نے بھی آئین اکبری پر تقریظ لکھی جو کتاب میں شامل نہ ہوسکی۔

بڑے شاعروں اور ادیبوں پر لکھے جانے کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو یہ بات عام طور پر سامنے آتی ہے کہ غالبؔ پر بہت لکھا گیا، مختلف پہلوؤں سے لکھا گیا۔ حالانکہ غالبؔ نے نہیں معلوم دل کے پہلانے کوکہا ، یا اس شعر سے وہ اپنے بارے میں لکھنے والوں کو متوجہ کرنا چاہتے تھے ؂
نہ ستائش کی تمنا ، نہ صلے کی پروا
گرنہیں ہیں میرے اشعار میں معنی نہ سہی

غالب ؔ پربہت لکھا گیا، لکھا جارہا ہے اور آئندہ بھی مختلف زاویوں سے لکھنے اور تحقیق کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ذیل میں غالب ؔ کے چند ضرب المثل اشعار پیش ہیں
ان کے دیکھے سے جو آجاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
کھُلتا کِسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شِعروں کے انتخاب نے رُسوا کیا مجھے
اپنی گلی میں مجھ کو نہ کر دفن بعدِ قتل
میرے پتے سے خلق کو کیوں تیرا گھر ملے
استادِ شہ سے ہو مجھے پُر خاش کا خیال
یہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں غندہ ہائے گُل
کہتے ہیں جِس کو عشق خلل ہے دماغ کا
پنہا تھا دامِ قریب آشیانے کے
اڑ نے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹو جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں
ڈھانپا کفن نے داغِ عیوبِ برہنگی
میں ورنہ ہر لباس میں ننگِ وجود تھا
صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہ
مہتا ہوں سچ کہ جُھوٹ کی عادت نہیں مجھے
قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں وہ جو لکھیں گے جواب میں
قید میں یعقوب نے لی، گو نہ یوسف کی خبر
لیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہوگئیں
کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
میں بھی منہ میں زباں رکھتا ہوں
کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے؟
نکلنا خُلد سے آدم کا سنتے آئے تھے لیکن
بہت بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے
نکتہ چین ہے غمِ دل اس کا سنائے نہ بنے
کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے
میر انیسؔ نے مرزا کے انتقال پر انہیں منظوم خراج تحسین کچھ اس طرح پیش کیا ؂
گلزارِ جہاں سے باغ جنت میں گئے
مرحوم ہوئے جوارِ رحمت میں گئے
مداحِ علی کا مرتبہ اعلیٰ ہے
غالب اسد اللہ کی خدمت میں گئے

شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ؔ کا زمانہ غالبؔ کے بعد کا ہے۔20صدی اقبال کی صدی ہے، اقبال نے غالبؔ کو منظوم خراج تحسین پیش کیا جو ہر اعتبار سے اپنی جگہ اعلیٰ و منفرد ہے۔ اس منظوم خراج عقیدت کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں اقبالؔ نے غالبؔ کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ ایک شعر میں اُردو کی حالت زار کا حقیقی منظر پیش کیا ہے۔اقبال ؔ کا یہ منظوم خراج تحسین ’بانگِ درا‘ میں موجود ہے۔ اقبال کی اس نظم کا عنوان مرزا غالب ہے ؂
فکرِ انسان پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا
ہے پر مرغِ تخیل کی رسائی تا کُجا
تھا سر اپا روح تُو ، بزم سخن پیکر ترا
زیبِ محفل بھی رہا محفل سے پنہا بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حُسن کی منظور ہے
بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بریط سے سرمایہ دار
جس طرح ندی کے نغموں سے سکوتِ کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار
تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیر ی شوخیِ تحریر میں
تب گویائی سے جشن ہے لب تصویر میں
نطق کو سو نا ز ہیں تیرے لب اعجاز پر
محوِ حیرت ہے ثریا رفعتِ پرواز پر
شاہد مضمون تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچۂ دلی گل شیراز پر
آہ ! تُو اُجڑی ہوئی دلی میں آرمِیدہ ہے
گُلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لُطف گویائی میں تیری ہمسری ممکن نہیں
ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشین
ہائے ! اب کیا ہوگئی ہندوستاں کی سرزمیں
آہ ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
گیسوئے اُردو ابھی منت پذیر شانہ ہے
شمع یہ سودائیِ دلسوزیِ پروانہ ہے
اے جہاں آباد ! اے گہوارۂ علِم و ہُنر
ہیں سراپا نالۂ خاموش تیرے بام و در
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر
یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفنن تجھ میں کوئی فخر روز گار ایسا بھی ہے؟
تجھ میں پنہا کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 753 Articles with 640256 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
15 Feb, 2017 Views: 1056

Comments

آپ کی رائے