دہشت گردی پاکستان کو لے ڈوبے گی۰۰۰

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
دہشت گردوں کی جانب سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی پھر سے ایک مرتبہ کوشش کی گئی۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہورمیں،13فبروری کی شام،پنجاب اسمبلی کے سامنے چیئرنگ کراس پر، ڈرگ ایکٹ میں ترمیم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران خودکش حملہ میں ڈی آئی جی ٹریفک مبین احمد اور ایس ایس پی آپریشنز زاید محمود گوندل سمیت ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور سو کے لگ بھگ زخمی ہوگئے۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اﷲ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے حملہ آور کی شناخت ہو گئی۔دھماکے کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان سے الگ ہونے والی شدت پسند تنظیم جماعت احرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔ جبکہ 7؍ فبروری کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھاریٹی (نیکٹا)کی جانب سے لاہور میں دہشت گردوں کے حملے کے خطرے کے بارے میں الرٹ جاری کیا گیا تھا اور حفاظتی اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔اس مراسلے میں جو سیکریٹری داخلہ پنجاب، صوبائی پولیس آفیسر(پی پی او) اور ڈی جی پاکستان رینجرز پنجاب کو بھیجا گیا تھا جس میں ہدایت جاری کی گئی تھی کہ لاہور میں تمام اہم تنصیبات ، ہاسپتلوں اور اسکولوں کی سخت نگرانی کی جائے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کی جانب سے الرٹ جاری کرنیکے بعد دوشنبہ کی شام چھ بجکر 10منٹ پر ہونے والا خودکش حملہ جو پنجاب اسمبلی کے قریب ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران کیا گیا ہے کافی تشویش کا باعث ہے کیونکہ اسمبلی کے قریب اور دواعلیٰ افسران پر حملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے اطراف و اکناف سیکیوریٹی کے انتظامات ناقص رہے ہیں یہی نہیں بلکہ اعلیٰ پولیس افسران کی سیکیوریٹی بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے قبل بھی پاکستان کے کئی علاقوں میں اعلی پولیس عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اس لئے ان افسران کی سیکیوریٹی بھی اہم تھی ۔پاکستانی حکومت اور فوج یہ دعویٰ کرتی رہی ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی پر تقریباً قابو پالیا گیا ہے لیکن اس حملہ کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہیکہ دہشت گردی پر قابو پانے یا دہشت گردی کو ختم کردینے کا دعویٰ شاید اتنا آسان اور جلد ممکن نہیں جتنا کہ کہا اور سمجھا جارہا ہے ۔ دہشت گرد تنظیمیں نہ تو بے قصور عوام کو دیکھتی ہیں اور نہ ہی عوام کی خدمت کرنے والوں کو۔ پاکستان میں دھماکے کبھی عام عوامی مقامات پر کئے جاتے ہیں تو کبھی اسکولوں اور عبادتگاہوں میں کئے جاتے رہے ہیں۔ جس ملک کے عوام اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیتے ہیں ان کاسر ان دھماکوں کے بعد عالمی سطح پر شرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ دہشت گرد جنکا نام مسلم بتایاجاتا ہے وہ بے قصور، معصوم عوام اور انکی خدمت کرنے والوں کو ہلاک کرکے کیا بتانا چاہتے ہیں یہ سمجھ سے باہر ہے ۔ اگر ان ظالمانہ کارروائی کروانے والی دہشت گرد تنظیموں کا تعلق واقعی مذہب اسلام سے ہوتا تو شاید وہ اپنے ہی معصوم اور بے قصور اسلامی بھائیوں کا قتل عام اس بے دردی سے نہیں کرتے۔ اگر وہ اپنے مذہب اور ملک سے پیار کرتے ہیں ، اسلامی شریعت کا نفاذ واقعی چاہتے ہیں تو اس طرح کے دہشت گردانہ حملے کرنے کی سوچ بھی انہیں لرزہ براندام کر دیتی کیونکہ اسلام نے کسی بھی بے قصور انسان کے قتل سے منع فرمایا ہے۔ خیر لاہور میں ہونے والا یہ خودکش حملہ پھر سے ایک مرتبہ پاکستانی حکومت اور سیکیوریٹی ایجنسیوں کو متزلزل کرکے رکھدیا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کوپھر سے ایک مرتبہ متاثر کیا ہے ۔ پہلے ہی نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سات اسلامی ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں سفری پابندی عائد کرکے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی ممالک اور مسلمان دہشت گرد ہیں ۔ دشمنانِ اسلام اپنی کوششوں کے ذریعہ عالمِ اسلام کو دہشت گرد بتانے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہیں اور یہ ظالم دہشت گرد تنظیموں کے ذمہ دار معصوم ، ناسمجھ ، کم عمر لڑکوں ، لڑکیوں اور خواتین کو مختلف طریقوں سے ورغلا کر معصوم انسانیت کا قتل عام کررہے ہیں۔

شامی اپوزیشن مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کی تشکیل پر متفق
عالمِ اسلام کو ان دنوں خطرہ صرف دشمنان اسلام سے ہی نہیں بلکہ نام نہاد شدت پسند جہادی تنظیموں اور شیعہ ملیشیا ء سے بھی ہے ۔ عراق ، شام اور یمن کے حالات عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان میں خودکش حملے، بم دھماکے اور فائرنگ کے واقعات کوئی نئی بات نہیں رہے۔ عوام خوف و ہراس کے ماحول میں زندگی گزرانے پر مجبور ہیں۔ شام میں بشارالاسد ، ولادیمیرپوتین اور ایرانی فوج و ملیشیاء کی ظالمانہ اور بربریت پر مبنی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو دوسری جانب امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے بھی شدت پسند تنظیم داعش و دیگر تنظیموں کے خاتمہ کے لئے بھی حملے کئے جاتے ہیں ان حملوں میں بھی عام شہریوں کی ہلاکت ہوتی ہے ۔ شام میں ایک طرف جنگ بندی معاہدے کے لئے بات چیت کا ماحول بتایا جاتا ہے تو دوسری جانب بشارالاسد اور روسی فوج اپوزیشن اور شدت پسند تنظیموں پر کسی نہ کسی بہانے شدید فضائی کارروائی کرتے ہوئے حملے کرکے عام شہریوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ گذشتہ دنوں شام میں جاری بحران کے حل کے سلسلے میں جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی 20 فروری کو ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی اپوزیشن نے متفقہ مذاکراتی وفد تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق چوتھے جنیوا اجلاس کے انعقاد سے 10 روز پہلے شامی اپوزیشن کا ایک اہم اجلاس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہوا جس میں شام کی سپریم مذاکراتی کونسل، شامی نیشنل الائنس کے ارکان کے ساتھ ساتھ عسکری تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ریاض میں شامی حزب اختلاف کے اجلاس کے دوران جنیوا میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات کو کامیاب بنانے پرغور وخوض کیا گیا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق اپوزیشن کے نیشنل الائنس کے رکن ھشام مروہ نے بتایا کہ اس اجلاس کے حتمی فیصلوں کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اجلاس میں شریک تمام دھڑوں، سیاسی اور انقلابی گروپوں نے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات کے لیے مشترکہ وفد تشکیل دینے سے اتفاق کیا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے تجویز پیش کی گئی ہے کہ جنیوا اجلاس کے دوران وہ شام میں پرامن اقتدار کی منتقلی اور پہلے جنیوا اجلاس میں طے کردہ نکات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جائے گا۔قبل ازیں آستانا میں ہونے والے مذاکرات میں شامل شامی اپوزیشن گروپوں کے مشترکہ مندوب محمد علوش نے کہا تھا کہ جمعہ اور ہفتہ کے ایام میں سعودی عرب میں ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن کے تمام دھڑے شرکت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حزب اختلاف خود کومتحد رکھتے ہوئے آئندہ کے مذاکراتی مراحل کے لیے یکساں موقف اپنانے اور متفقہ مذاکراتی وفد تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے۔اب دیکھنا ہے کہ شام کے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس صدر ولادیمیرپوتین کے درمیان شام کے سلسلہ میں کس قسم کے اقدامات کئے جاتے ہیں کیونکہ روس نہیں چاہتا کہ شام سے بشارالاسد کا خاتمہ ہو جبکہ دوسری جانب سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک چاہتے ہیں کہ شام سے بشارالاسد کو اقتدار سے بے دخل کیا جائے ۔ ادھر بشارالاسد نے نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشروط تعاون کیلئے تیار رہنے کی بات کی ہے۔ـــذرائع ابلاغ کے مطابق بشار الاسد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شامی پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے امریکہ کو مشروط تعاون کی پیشکش کی ہے ، بشارالاسد کے مطابق شام میں انسانی بحران کا ذمہ دار مغربی ممالک، ترکی، سعودی عرب اور قطر ہے،دمشق میں ایک غیرملکی خبررساں ادارے کو انٹرویودیتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ وہ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے امریکہ سے تعاون کے لئے تیار ہیں، بشرطیکہ اگر امریکہ واقعی سنجیدہ ہے تو شامی حکومت کے ذریعے تعاون کریں۔شام میں امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کی جانب سے داعش و دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی کے سلسلہ میں شامی صدر کاکہنا ہے کہ کسی بھی ملک کی حکومت اور عوام سے تعاون کیے بغیر دہشتگردی کو شکست دینا ناممکن ہے، انھوں نے ٹرمپ حکومت کی جانب سے شامی پناہ گزینوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کو مثبت اقدام قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ امریکہ کے مفادات کا تعین کرنا صرف امریکی عوام کا حق ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ شام میں بشارالاسد کی ظالمانہ کارروائیوں کے نتیجہ میں لاکھوں شامی عوام خانہ بدوش زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بے گھر و بے آسرا شامی عوام پناہ گزیں کیمپوں میں بھی اشیاء ضرویہ و ادویات سے محروم ہیں۰۰۰

ترکی میں صدارتی اختیارات میں اضافے کے آئینی بل کی منظوری
ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے اپنے ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعہ صدارتی نظام کی راہ ہموار کرنے آئینی اصلاحاتی بل کی منظوری دے دی۔ترک نائب وزیر اعظم کے مطابق 16؍ اپریل کو نئے صدارتی نظام سے متعلق ریفرنڈم ہونے کا امکان ہے۔ آئینی اصلاحات سے صدر ترکی کے اختیارات میں اضافہ ہوگا۔ترک صدر رجب طیب اردوان کے مطابق اصلاحات سے سیاسی بحران کے موقع پر ملک کو استحکام ملے گا،تاہم مخالفین کوخدشہ ہے کہ اس سے آمرانہ حکمرانی کو فروغ حاصل ہوگا،گذشتہ ماہ ترک پارلیمنٹ نے بھی اس بل کی منظوری دی تھی۔
***
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 255 Articles with 96044 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Feb, 2017 Views: 577

Comments

آپ کی رائے