مصطفی کمال کی پاک سرزمین پارٹی کے پرچم کی رونمائی !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
مصطفی کمال نے 3 مارچ 2016 کو کئی سال کی خاموشی کے بعد انیس قائم خانی کے ساتھ کراچی کی سرزمین پر قدم رکھنے کے ساتھ ہی ایک ہنگامی پریس کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی سابقہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے الطاف حسین کے حوالے سے چونکادینے والے انکشافات کرتے ہوئے اپنی ایک علیحدہ سیاسی جماعت بنانے کے عزم کا اظہار کیا تو اس موقع پر انہوں نے انیس قائم خانی کے ہمراہ پاکستان کے قومی پرچم کو ہی اپنی پارٹی کا پرچم قراردیتے ہوئے میڈیا کے سامنے پیش کیاجس کے بعد انہوں نے متعدد پریس کانفرنسیں کیں جن میں ان کی جانب سے مسلسل پاکستان کے قومی پرچم کو ہائی لائیٹ کیا گیاپھر انہوں نے اپنی نئی سیاسی پارٹی کے قیام کے اعلان کے لیئے 23 مارچ کی تاریخ چنی اور اپنی نئی سیاسی جماعت کا نام پاکستان کے قومی ترانے کے پہلے مصرعہ ’’ پاک سرزمین کا نظام ،قوت اخوت عوام ‘‘ میں سے منتخب کرکے’’پاک سرزمین پارٹی‘‘ رکھاجس سے ان کی پاکستان اور پاکستان کے سیاسی ماضی سے گہری وابستگی کا واضح اظہار ہوتا ہے جبکہ ان کی نئی سیاسی جماعت ’’پاک سرزمین پارٹی ‘‘ کے قیام کے تاریخی دن جس روسٹرم پرکھڑے ہوکر مصطفی کمال نے پاکستانیت کے اظہار سے بھرپور خطاب کیا اس روسٹرم پر پاکستان کا قومی ترانہ تحریر تھا جبکہ اسٹیج پر بھی جہازی سائز قوی پرچم آویزاں کیا گیا تھا اورمصطفی کمال سمیت پاک سرزمین پارٹی کے تمام قائدین نے اپنے ہاتھوں میں پاکستان کے قومی پرچم تھامے ہوئے تھے ۔

مصطفیٰ کمال اور ان کے ساتھیوں کی پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے پاکستان کے قومی پرچم کی قدرومنزلت کرتے ہوئے جس طرح سے کراچی جیسے لسانی سیاست میں بری طرح جکڑے ہوئے شہر میں رہنے والے عام لوگوں میں پاکستانیت کے جذبے کو زندہ کرنے کے لیئے پہلے دن سے مثبت اقدامات کیئے گئے اور پاکستانیت کا جو بھرپوراظہار کیا گیا اس پر مصطفی کمال ،ان کے ساتھیوں اور پاک سرزمین پارٹی کے جذبات اور مثبت کوششوں کی قد رکرتے ہوئے انہیں سراہنے کی بجائے معاشرے کے مختلف حلقوں کی جانب سے ان کی سیاست پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کے تیر برسائے جانے لگے اور ان پر سب سے بڑا اعتراض یہ کیا گیا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت کے پرچم کے طور پر پاکستان کے قومی پرچم کو استعمال نہ کریں بلکہ اپنا ایک علیحدہ پارٹی پرچم بنائیں۔شدید تنقید کے باوجود مصطفی کمال نے خود پر اور اپنی قائم کردہ سیاسی جماعت پاک سرزمین پارٹی کا دفاع کیااوربڑی وضاحت کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ :’’ہم سب پاکستانی ہیں اور پاکستان سے محبت کے اظہار کے لیئے ہمیں اپنے ہاتھوں میں پاکستانی پرچم تھامنے سے کوئی نہیں روک سکتا اور چونکہ ماضی میں پاکستان بھر اور خاص طور پر کراچی میں جس انداز کی سیاست کی جاتی رہی ہے اس میں زیادہ تر جھگڑے سیاسی پارٹی کا جھنڈا لگانے اور اتارنے پر ہی کیئے جاتے رہے اور پارٹی جھنڈا پاکستانیوں کو آپس میں تقسیم کرنے کا باعث بنتا تھا لہذا ہم نے اپنی پارٹی کا کوئی جھنڈا ہی نہیں بنایا ہم اپنے جلسے جلوسوں اور پارٹی آفس پر پاکستان کا جھنڈا ہی لگائیں گے کہ ہم لوگوں کوتقسیم کرنے کے لیئے نہیں جوڑنے آئے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی قوم میں ایکبار پھر پاکستانیت کا جذبہ پوری قوت کے ساتھ بے دار ہوجائے تو پھر کوئی ’’را’’ کا ایجنٹ ہماری قوم کے نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے مضموم مقاصد کے حصول کے لیئے استعمال کرنے کی جرات نہیں کرسکے گا‘‘۔

23 مارچ 2016 کو پاک سرزمین پارٹی کے قیام کے دن سے لے کر آج تک مصطفی کمال سمیت ان کی پارٹی کی پوری قیادت اور کارکنوں کا طرز سیاست اس بات کا غماز ہے کہ پاک سرزمین پارٹی نے اپنے قول وفعل کے ذریعے خود کو ایک سچا پاکستانی ثابت کرنے کے ساتھ عام لوگوں میں پاکستانیت کے جذبے کو زندہ کرنے کے سلسلے میں انتہائی فعال کردار ادا کرکے کراچی کے ماحول میں وہ زبردست تبدیلی پیدا کردی جس کا انتظار کراچی کے محب وطن باشندے برسوں سے کر رہے تھے ۔مصطفی کمال نے اپنے جلسے جلوسوں ،بیانات ،ٹی وی انٹرویوز اور تقاریر میں لوگوں کو یہ ہی درس دیا کہ:’’ وہ سیاسی اختلافات کو دشمنی کا رنگ نہ دیں کہ پاکستان میں رہنے والے ہر زبان بولنے والے اور تمام قومیتوں و فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد آخر کار مسلمان اور پاکستانی ہیں اور سب آپس میں بھائی بھائی ہیں،سیاسی ،قومی ،مذہبی ،مسلکی اور لسانی اختلافات برسوں سے چلے آرہے ہیں انہیں ختم نہیں کیا جاسکتا لیکن آپس میں رواداری اور برداشت کا مظاہرہ کرکے مختلف زبانیں بولنے والے اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں میں سے ایک دوسرے سے نفرت تو ختم کی جاسکتی ہے لہذا ہمارا پیغام یہ ہی ہے کہ آپ انتخابات میں جس کو پسند کرتے ہیں اس شخص اور پارٹی کو ووٹ دیں لیکن سیاسی اختلافات کو دشمنی میں نہ بدلیں ،سب کو آزادانہ سیاست کرنے اور اپنے من پسند امیدوار کو ووٹ دینے کی آزادی اور ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔سندھی ،اردو، پشتو،پنجابی ،بلوچی اور دیگر زبانیں بولنے والے سیاسی اختلافات کو صرف انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک محدود رکھیں اور عام زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ مکمل بھائی چارے کے ساتھ وقت گزاریں‘‘۔

پاکستانی پرچم سے محبت اور پاکستانیت کے اظہار پر مشتمل ان تما م مثبت باتوں کے باجود الیکشن کمیشن کے قوانین کے باعث پاک سرزمین پارٹی کو انتخابی سیاست میں حصہ لینے کے لیئے اس بات کا پابند کیا گیا کہ وہ بھی پاکستان میں سیاست کرنے والی دیگر تمام سیاسی جماعتوں کی طرح اپنی پارٹی کا کوئی علیحدہ پرچم تیار کریں کہ علیحدہ پارٹی پرچم اور انتخابی نشان الاٹ کروائے بغیر پاک سرزمین پارٹی انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی چنانچہ پاک سرزمین پارٹی کے سیکریٹری جنرل رضا ہارون اور وائس چئیر مین وسیم آفتاب کی جانب سے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کے سامنے پہلی بار پاک سرزمین پارٹی کے جھنڈے کی رونمائی کرکے پاکستان کے انتخابی قوانین کی ضرورت کو بھی پورا کردیاگیا لیکن اس موقع پر رضا ہارون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ:’’ آج پاک سرزمین پارٹی کے جس’’ پرچم‘‘ کی رونمائی کی جارہی ہے وہ ملکی قوانین کی پاسداری میں تیار کیا گیا ہے ہم نے پاکستان اور پاکستانی جھنڈے سے محبت کے اظہار کے لیئے اور پاکستانیت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیئے اپنے اس پارٹی پرچم کو بھی پاکستان کے قومی پرچم سے مشابہ رکھا ہے لیکن ہم اپنے جلسے جلوسوں اور پارٹی دفاتر پر بدستور پاکستا ن کے قومی پرچم کو ہی لہراتے رہیں گے کہ کسی پاکستانی کو پاکستان کا قومی پرچم اٹھاکر سربلند کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ‘‘۔

پاک سرزمین پارٹی کا جو پارٹی پرچم اس پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا وہ پاکستان کے قومی پرچم سے کافی ملتا جلتا ہے کہ پی ایس پی کے جھنڈے کا رنگ بھی ہرا اور سفید ہی رکھا گیا ہے البتہ جھنڈے پر چاند ستارے کی جگہ جلی حروف میں ’’ پاکستانی ‘‘ لکھا گیا ہے، پاکستان کے قومی پرچم میں گہرا سبز رنگ نمایاں ہے جبکہ پی ایس پی کے جھنڈے میں ہلکا سبز رنگ استعمال کیا گیا ہے ،پاک سرزمین پارٹی کے پرچم میں بھی ہرے اور سفید رنگ کا وہی تناسب رکھا گیا ہے جو کہ پاکستان کے قومی پرچم میں دکھائی دیتا ہے۔مجموعی طور پر پاک سرزمین پارٹی کا پرچم پاکستان کے قوی جھنڈے سے بہت زیادہ مشابہ ہے جس سے ایک بار پھر پاک سرزمین پارٹی کی قیادت کی پاکستان سے گہری دلی اور جذباتی وابستگی عیاں ہوتی ہے۔

مصطفیٰ کمال اور پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے روز اول سے پاکستان کے قومی پرچم اور پاکستان کے ساتھ واضح اظہار محبت کے باوجود بعض بدگمان لوگ آج بھی پاک سرزمین پارٹی کو ایم کیو ایم کا ایک دھڑا قرار دیتے ہیں تو اسے مخالفت برائے مخالفت اوربدگمانی کی انتہا ہی کہا جاسکتا ہے کہ اگر مصطفی کمال اور پاک سرزمین پارٹی کو ان کی گزشتہ 10 ماہ کی سیاسی سرگرمیوں کی روشنی میں پرکھنے کے بعد بھی ’’کمال گروپ‘‘ اور ایم کیو ایم کا ’’دھڑا‘‘ ہی قرار دیا جانا ہے تو پھر تعصب اور برائی مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں میں نہیں بلکہ ان بدگمان لوگوں میں ہے جو اردو بولنے والی کمیونٹی میں سے پیدا ہونے والے ایک سچے محب وطن لیڈر امصطفی کمال ور ا س کی پاکستان پرست سیاسی جماعت’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کرپائے یا پھر شایدکچھ مقتدرلوگ اردوبولنے والے اس بے باک اور دلیر سیاسی رہنما اور اس کی قائم کردہ نئی پارٹی کی ملک گیر مقبولیت سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہوکہ کراچی کی قیادت لسانیت پسند سیاسی جماعتوں کے ہاتھو ں سے نکل کرمحب وطن قیادت کے ہاتھوں میں چلی جائے اور کراچی پر ان حلقوں کی گرفت ڈھیلی پڑجائے جو کراچی اور اس کی سیاسی قیادت کو اپنی انگلیوں پر چلانے کے عادی ہوچکے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71712 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
17 Feb, 2017 Views: 376

Comments

آپ کی رائے