ستم کا غم کا مصیبت کا دور بدلے گا

(vaseel khan, mumbai)
ماضی اور حالیہ بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اس کے ارادے صدفیصد فسطائی ہیں اور وہ ملک کے اندر ایسی فضا بنانا چاہتی ہے جس کے ذریعے اس کی ہندواسٹیٹ بنانےکی خواہش پایۂ تکمیل کو پہنچ سکے
مرکز میں بی جے پی سرکار کا جب سے قیام ہوا ہے اس کے لیڈران سوائے متنازعہ بیانات دینے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے کوئی او رکام کرہی نہیں رہے ہیں ۔چھوٹے سے لے کر بڑے لیڈران سب ایک ہی بولی بول رہے ہیں ۔کبھی سادھوی پراچی یہ کہہ کر بدزبانی کرتی ہیں کہ ’جو رام کی اولاد نہیں وہ حرام کی اولاد ہیں ‘ مہنت ادتیہ ناتھ ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر حملہ کرتے ہوئے اس کی فضاؤں کو زہر آلود کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ’ مغربی یوپی کو ہم کبھی کشمیر نہیں بننے دیں گے‘ اور کبھی یہ کہہ کر لوگوں کے دلوں میں شگاف ڈالنے کا کام کیا جاتا ہے کہ جنہیں بڑے جانوروں کا گوشت کھانا ہے انہیں پاکستان چلے جانا چاہیئے،ان کے لئے ہندوستان میں رہنے کا کوئی جواز نہیں ۔گذشتہ دنوں یہ اعلان کیاگیا کہ بی جے پی رام مندر بنانے کے اپنے عہد کی پابند ہے اور جلد ہی اس کی تعمیر شروع کردی جائے گی ۔ اور اب ۱۳؍فروری کے اخبارات میں مرکزی وزیرداخلہ کرن رجیجو کا انتہائی متعصبانہ بیان شائع ہوا ہے کہ ملک میں ہندوؤں کی آبادی گھٹ رہی ہے ، انہوں نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی آبادی کا موازنہ کرتے ہوئے اس کا سبب یہ بتایا ہے کہ ہندوؤں کی آبادی اس لئے کم ہوتی جارہی ہے کہ وہ مذہب تبدیل نہیں کرواتے ۔انہوں نے اپنے ٹوئیٹر اکاؤنٹ پر یہ باتیں ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھی ہیں کہ اقلیتوںکی آبادی ارد گرد کے ممالک کے مقابلے بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ان مذاہب کے سربراہوں پر عائد کی ہے جو تبدیلی ٔ مذہب کا کام بڑی مستعدی اور دلچسپی کے ساتھ کرتے ہیں ۔کرن رجیجو کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اس ملک کی متعدد ریاستوں کے علاوہ مہاراشٹر میں لوکل باڈیز کےانتخابات ہورہے ہیں ۔ایسا نہیں ہے کہ یہ بیانات عادتاًاور فطرتاًدیئے گئے ہوں ، بلکہ یہ پوری منصوبہ بندی کے تحت جاری کئے جارہےہیں ،یہی وجہ ہے کہ کرن رجیجو جیسے لیڈران جن کے بیانات متوازن ہوا کرتے تھے اب وہ بھی انہی کی زبان بولنے لگے ہیں ۔ایسی زبان کا استعمال دراصل ان کی ہی نہیں بی جے پی کی مجبوری ہے ، وہ دیکھ رہی ہے کہ ملک کے انتخابات کے پیش نظر عوامی رجحان میں زبردست تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ، یوپی ،پنجاب ،گوا ، اترا کھنڈ، منی پوراور مہاراشٹر وغیرہ جن ریاستوں میں بھی انتخابات ہورہے ہیں عوامی سطح پر بی جے پی سے دوری بنانے کارنگ نمایاں طور پر دیکھنے میں آرہا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہندوستانی عوام فطرت کے زور پر امن و انصاف کی فضا میں سانسیں لینا چاہتی ہے وہ ہرگز نہیں چاہتی کہ ملک میں ایسی حکومتوں کا قیام ہو جو ترقیاتی منصوبوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف نفرت اور بیگانگی کا ماحول قائم کرے ۔کرن رجیجو نے اپنے بیان کو کانگریس کے اس حالیہ بیان کا رد عمل بتایا ہے جس میں کانگریس نے کہا ہے کہ نریندرمودی حکومت ارونا چل پردیش کو ہندو اکثریتی ریاست میں تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کو ایسے اشتعال انگیز بیانات نہیں دینے چاہیئں جبکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے جہاں تمام لوگوں کو دستوری طور پر یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہیں اختیار کریں اور پرامن طور پر اس کی ترویج و تبلیغ کا کا م کریں ۔ کانگریس نے بی جے پی پر جو الزام لگایا ہے کہ وہ ہندو مسلم منافرت کے ذریعے ہندواسٹیٹ بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے تو اس میں تلملانے کی کیا ضرورت ہے اس کے اقدامات خود اس کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ پورے ملک کو ہندوریاست بنانا چاہتی ہے ۔اگر اسے ان الزامات سے انکار ہے تو اس کے بیانات اور اقدامات ایسے کیوں نہیں ہوتے جس سے پتہ چلے کہ وہ ملک میں امن و انصاف اور یکجہتی کی فضا قائم کرنا چاہتی ہے ۔ ماضی اور حالیہ بیانات کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اس کے ارادے صدفیصد فسطائی ہیں اور وہ ملک کے اندر ایسی فضا بنانا چاہتی ہے جس کے ذریعے اس کی ہندواسٹیٹ بنانےکی خواہش پایۂ تکمیل کو پہنچ سکے ۔رجیجوکی سادہ لوحی تو دیکھیں وہ کہتے ہیں جب ملک میں امن و قانون کی حکمرانی ہے،لوگ میل ملاپ سے رہ رہے ہیں ، انہیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہے پھر کانگریس اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کیوں دیتی ہے یہ تو وہی بات ہوئی کہ دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو نظر آجائے لیکن اپنی آنکھ کا شہتیرنہ دکھائی دے ۔’کتے کے کاٹنے کا علاج یہ نہیں ہے کہ آپ بھی اس کے پاؤں میں کاٹ لیں ایسا کرنا کسی بھی طرح عقلمندی نہیں کہی جائے گی ‘۔ایسے میںاگر کانگریس کے حالیہ بیانات کا جائزہ لیا جائے جو غلط بھی نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ غلط بھی ہو تب بھی کرن رجیجو کیلئے یہ تجز یہ ضروری ہے کہ ان کاحالیہ جوابی بیان کیا کانگریس کےبیانات کا جواب ہے۔ ظاہر ہے اس میں کہیں سے بھی کوئی جواب کی جھلک نہیںدکھائی دیتی ۔ہاںان بیانات کے پس منظر میں اس کی گھبراہٹ اور بے چینی ضرور دکھائی دیتی ہے ،جسے یہ احساس ہوگیا ہے کہ اگر ہندوکارڈ نہیں کھیلا گیا تو اس کی شکست یقینی ہے، جبکہ اصل صورتحال یہ ہے کہ کارڈ کھیلنے کے بعد بھی یہ شکست ان کے ہی حصے میں جانیوالی ہے، کیونکہ عوام کی ایک کثیر تعداد ہندو یا مسلم کارڈ پر یقین نہیں رکھتی ، وہ اپنے سیکولرذہن کے ساتھ ملک میں امن و امان کے ساتھ رہنا چاہتی ہے ۔۲۰۱۵کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کوجو عظیم کامیابی ملی تھی وہ صرف اور صرف کانگریس کی مسلسل ناکامیوں کے سبب ملی تھی ،اس میں بی جے پی کا کوئی عمل دخل نہیں تھا ۔ آج بھی کامیابی اسی پارٹی کے قدم چومے گی جو عوامی فلاح و بہبود کا کام کرے گی اور امن و انصاف کا قیام ہندو مسلم منافرت سے نہیں آپسی بھائی چارے اور میل ملاپ سے ہی ممکن ہے اور بی جے پی کے پاس ایسا نہ کوئی فارمولاہے نہ ہی اسکیم اسے وہ نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے جو کاتب تقدیر نے اس کیلئے لکھ دیا ہے ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: vaseel khan

Read More Articles by vaseel khan: 126 Articles with 60754 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Feb, 2017 Views: 434

Comments

آپ کی رائے