دہشت گردی کی حالیہ لہر

(Abid Ali Yousufzai, Sawat)
فروری کا مہینہ تھا۔ سردیوں کا موسم سمٹنے لگاتھا۔ کاروبار زندگی میں تیزی آنے لگی تھی۔ ملک بھر میں دھرنوں کا ماحول ختم ہو چکا تھا۔سیاسی جماعتیں پانامہ لیکس کے چکروں میں پھنسے ہوئے تھے۔ وطن عزیز میں اقتصادی ترقی کا آغاز ہو چکا تھا۔سی پیک منصوبہ کامیاب کے طرف گامزن تھا۔ تیاریاں مکمل ہو چکی تھی۔ ملک بھر میں نسبتا امن قائم ہوچکا تھا۔ گلگت سے کراچی تک دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آچکی تھی۔ مملکت خدادا د کے مختلف حصوں میں ترقیاتی کام جاری تھے۔

ایسے میں اچانک وطن عزیز کو نظر بد لگ گئی۔ چاروں صوبوں میں خون کے دریاں بہنے لگے۔ پر امن شہریوں پر شب خون مارا گیا۔ مال روڈ لاہور میں ایک احتجاجی مظاہرہ کو انسانیت کے دشمنوں نے نشانہ بنایا۔ خود کش دھماکہ کے نتیجے میں نہ صرف حملہ آور نے اپنے جسم کے پرخچے ہوا میں بکھیر لئے بلکہ بیسیوں معصوم بے گناہ شہریوں کے زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ ایک مرتبہ پھر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دہشت گردی کے منحوس بادلوں نے اپنے لپیٹ میں لے لیا۔ لاہور کی فضا میں بارود کی بدبو سمیت لاہوریوں کا خون شامل ہو گیا۔

ادھر پنجاب کے دور الحکومت میں خودکش حملہ آور نے صف ماتم بچا دیا ۔ ادھر بلوچستان کا دار الخلافہ بھی سپاک درندوں کے دہشت سے نہ بچ سکا۔ وطن عزیز کے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے بڑے صوبوں میں دہشت گردی کے واردات پر بس نہیں ہوا۔ خیبر پختونخواہ کے دار الحکومت پشاورکے علاقے حیات آباد کو بھی خون آلود کر دیا گیا۔

ابھی حالات سنبھلے نہ تھے۔ تینوں صوبوں میں سوگوار فضا ابھی باقی تھی کہ سندھ کے علاقے سیہون میں لال شہباز قلندر کے دربار میں جاری عرس پر انتہا ہوگئی۔ تقریبا 100 زائرین کو لقمہ اجل بنایا گیا۔ ہسپتالوں میں زخمیوں کے لئے جگہ باقی نہ رہی۔ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ یوں اسلام، پاکستان اور انسانیت کے دشمنوں نے ملک بھر میں خون کے دریا بہا دئے۔

وطن عزیز میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد سیکیورٹی ادارے حرکت میں آگئے اور ملک دشمن کے خلاف گھیرا تنگ کردیا۔ ایک ہی دن میں سو دہشت گردوں کو نشان عبرت بنادیا گیا۔ خطرے کے پیش نظر سیکیورٹی کو مزید سخت کر دیا گیا۔ مزید ممکنہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی سیل قائم کر دئے گئے۔

اس کھٹن وقت میں جہاں ملک کی فضا سوگوار ہے اور مختلف ادارے بہتری کے لئے لائحہ عمل طے کر رہے ہیں وہاں بعض شر پسند عناصر ان واقعات کو مذہبی رنگ دے کر فرقہ واریت پھیلانے میں مصروف عمل ہیں۔ یقینا یہ وہ لوگ ہیں جن کا کوئی دین نہیں۔ درحقیقت یہی لوگ پاکستان اور اسلام کے دشمن ہیں۔ ان مشکل حالات میں آئیں عہد کریں کہ ہم ایک قوت بن کر اسلام کی دفاع اور پاکستان کی سالمیت کے لئے اپنے مال وجان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Ali Yousufzai

Read More Articles by Abid Ali Yousufzai: 97 Articles with 48877 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2017 Views: 242

Comments

آپ کی رائے