صرف اور صرف

(مقصود حسنی, قصور)

ایک خوشامدی نے بادشاہ سے کہا: حضور آپ کی کیا بات ہے۔ آپ سا نہ کوئی ہوا ہے اور نہ کبھی کوئی ہوگا۔ آپ کی بڑی لمبی عمر ہے اور آپ تا دیر سلامت رہیں گے۔ جب کوئی نہیں ہو گا تب بھی آپ کی بادشاہت قائم ہو گی۔ دریا کی منہ زور لہریں بھی آپ کے حکم کی تابع ہیں اور تابع رہیں گی۔ وہ بھی آپ کے حکم کے بغیر حرکت میں نہیں آتیں۔
خوش آمدی کے کہے نے بادشاہ کی روح کو سکون دیا اور دل تر وتازہ کر دیا۔ اس نے بہت سی اشرفیاں اس کی آغوش میں ڈال دیں۔
بادشاہ نے پاس کھڑے گماشتے سے کہا۔ رملی کو بلواؤ۔
اس نے فورا سے پہلے ایلچی کو حکم دیا کہ رملی کو شاہی دربار میں حاضر کیا جائے۔
وہ تیر کی طرح اڑتا ہوا رملی کو بلانے چلا گیا۔ دریں اثنا بادشاہ نے جی حضوریے سے کہا کہ ہمارا تخت فوری طور پر دریا کے کنارے لگوایا جائے۔ جی حضوریہ بادشاہ کے حکم کی تعمیل میں جٹ گیا۔
رملی آ گیا۔ بادشاہ نے کہا کہ ہمارے اس کارندے نے کہا ہے کہ ہم تادیر جئیں گے۔ جب کچھ بھی نہیں ہو گا اس وقت بھی ہماری بادشاہت قائم ہو گی۔ بتاؤ اس کا کہنا کہاں تک درست ہے۔
رملی تھوڑی دیر تک حساب کتاب لگاتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ بادشاہ سچ اور حق کی سننے کے عادی نہیں ہوتے۔ حق سچ کی کہنے والے ہمیشہ جان سے گئے ہیں۔ اگر اس نے بھی آج حق سچ کی کہی تو جان سے جائے گا۔ خوشامدی انعام و اکرام لے کر گیا ہے اور وہ اپنے قدموں واپس گھر نہ جا سکے گا۔ پھر اس نے جعلی خوش خبری لبریز خوشی کے ساتھ اس خبر کی تصدیق کر دی۔ یہ ہی نہیں اس نے پانچ سات جملے اپنے پاس سے بھی جڑ دیئے۔
رملی کی باتوں نے بادشاہ کو خوش کر دیا ہاں البتہ خوش آمدی پر ناراض ہوا کہ اس نے ساری باتیں کیوں نہیں بتائیں۔
اسی دوران حکم شاہی کی تعمیل میں بادشاہ کا تخت دریا کنارے آراستہ کر دیا گیا۔ بادشاہ چیلوں‘ چمٹوں‘ گماشتوں‘ خوش آمدیوں وغیرہ کے ساتھ دریا کنارے لگے تخت پر آ بیٹھا۔ سرد اور رومان خیز ہوا نے اسے بہت لطف دیا۔ بادشاہ نے ماحول اور فضا کی تعریف کی اور آئندہ سے دریا کنارے تخت آراستہ کرنے کا حکم دیا۔ کسی کو اصل حقیقت کہنے کی جرآت نہ ہوئی۔
بادشاہ خوش آمدیوں کی خوش آمد سننے میں مگن تھا کہ دریا کی ایک منہ زور لہر آئی سب کچھ بہا کر لے گئی۔ بادشاہ کی ٹانگیں اوپر اور سر نیچے ہو گیا۔ بادشاہ کا تخت بہتا ہوا جانے کہاں چلا گیا اور وہ خود بہتا ہوا اپنی سلطنت کی حدوں بہت دور نکل گیا۔ دیکھا وہاں ویرانیوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ کسے حکم جاری کرتا کہ اسے اس کے قدموں پر کرے۔ ہاں اللہ کے حکم کی تعمیل میں موت کا فرشتہ اس کے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا اور چند لمحوں کی مہلت دینے کے لیے بھی تیار نہ تھا۔
رملی سیانا تھا تب ہی تو خبر کی تصدیق اور اپنے جھوٹ کا انعام لے کر چپکے سے دربار سے کھسک گیا تھا۔
دریا کی ایک لہر نے ثابت کر دیا کچھ باقی رہنے کے لیے نہیں ہے۔ بقا صرف اور صرف اللہ ہی کی ذات کے لیے ہے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: مقصود حسنی

Read More Articles by مقصود حسنی: 184 Articles with 116541 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2017 Views: 592

Comments

آپ کی رائے