اقبال کی مترجمہ منظومات

(Khalid Nadeem, Sargodha)
دنیا میں ہر بڑا شاعر بالعموم عالمی کلاسیک سے متاثر دِکھائی دیتا ہے۔ اس اثرپذیری کا اظہار مختلف پیرایے میں ہوتا ہے۔ کبھی تو وہ اس کے کسی شعر کو اپنی نظم و غزل میں تضمین کرتا ہے، کبھی وہ اس کے کسی شعریا نظم وغیرہ کا ترجمہ کرتا ہے اور بعض اوقات وہ اس کے کسی شعر یا نظم کے خیالات اخذ کرتا ہے۔ علامہ اقبال بھی زندگی کے مختلف حصوں میں دنیا کے مختلف شعرا سے اثر لیتے رہے۔ اقبال نے بعض شعرا کے مصرعے یا اشعار ان کے کلام میں بطور تضمین جگہ دی، بعض شعراکی نظموں کا ترجمہ کیا اور بعض شعرا کی نظموں سے خیالات اخذ کیے۔ یہاں مترجمہ و ماخوذ نظموں کو پیش نظر رکھا جائے گا۔
اقبال نے اپنی تیرہ نظموں کے ساتھ لفظ ’ماخوذ‘ لکھا ہے؛ یعنی (۱) ایک مکڑا اور مکھی، (۲) ایک پہاڑ اور گلہری، (۳) ایک گاے اور بکری، (۴) بچے کی دُعا، (۵) ہمدردی، (۶) ماں کا خواب، (۷) پیامِ صبح، (۸) عشق اور موت، (۹) رُخصت اے بزمِ جہاں، (۱۰) گدائی، (۱۱) یورپ، (۱۲) شیر اور خچر، (۱۳) تقدیر؛ لیکن حقیقتاً ان کی ماخوذ نظموں کی تعداد بیس ہے، البتہ ان نظموں کے ساتھ لفظ ’ماخوذ‘ درج نہیں؛ یعنی (۱۴) پرندے کی فریاد، (۱۵) ایک پرندہ اور جگنو، (۱۶) حقیقت حسن؛ جب کہ چار مقامات پر لفظ ’ترجمہ‘ درج کیا گیا ہے، یعنی (۱۷) آفتاب، (۱۸) بالِ جبریل کا سرِ عنوان شعر (پھول کی پتی سے ……)، (۱۹) قید خانے میں معتمد کی فریاد اور (۲۰) عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت۔
بارہ نظموں کے ساتھ ان شعرا کی نشان دہی کی گئی ہے، جن کی نظموں سے وہ ماخوذ یا ترجمہ ہیں؛ یعنی (۱)ایک پہاڑ اور گلہری ازایمرسن، (۲) ہمدردی از ولیم کوپر، (۳) آفتاب از گایتری، (۴) پیامِ صبح از لانگ فیلو، (۵) عشق اور موت از ٹینی سن، (۶) رخصت اے بزمِ جہاں از ایمرسن، (۷) ایک شعر از بھرتری ہری، (۸) قید خانے میں معتمد کی فریاد از معتمد، (۹) عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت(پہلا بند) از عبدالرحمن اوّل (۱۰) گدائی از انوری، (۱۱) یورپ از نیٹشے، (۱۲) تقدیر از محی الدین ابن عربی؛ البتہ آٹھ نظموں کے ساتھ شاعر کا نام درج نہیں، یعنی (۱۳) ایک مکڑا اور مکھی، (۱۴) ایک گاے اور بکری، (۱۵) بچے کی دعا، (۱۶) ماں کا خواب، (۱۷) پرندے کی فریاد، (۱۸)، ایک پرندہ اور جگنو، (۱۹) حقیقت حسن، (۲۰) شیر اور خچر۔
واضح رہے کہ ان نظموں میں سے آٹھ نظمیں بچوں کے لیے لکھی گئیں، یعنی (۱) ایک مکڑا اور مکھی، (۲) ایک پہاڑ اور گلہری، (۳) ایک گاے اور بکری، (۴) بچے کی دُعا، (۵)، ہمدردی، (۶) ماں کا خواب، (۷) پرندے کی فریاد اور (۸) ایک پرندہ اور جگنو۔
لسانی اعتبار سے ان منظومات میں سے بارہ انگریزی سے ماخوذ ہیں، یعنی (۱) ایک مکڑا اور مکھی، (۲) پہاڑ اور گلہری، (۳) گاے اور بکری، (۴) بچے کی دعا، (۵) ہمدری، (۶)، ماں کا خواب، (۷) پرندے کی فریاد، (۸) پیامِ صبح، (۹) عشق اور موت، (۱۰) رخصت اے بزمِ جہاں، (۱۱) ایک پرندہ اور جگنو، (۱۲) قید خانے میں معتمد کی فریاد؛ تین کا تعلق جرمن شاعری سے ہے، یعنی (۱۳) حقیقت حسن (۱۴) یورپ، (۱۵) شیر اور خچر؛ دو سنسکرت سے متعلق ہیں، یعنی (۱۶) آفتاب، (۱۷) ایک شعر؛ جب کہ دو نظمیں عربی سے ماخوذ و مترجمہ ہیں، یعنی (۱۸) ’عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت‘ اور (۱۹) ’تقدیر‘، جب کہ ایک نظم (۲۰)’گدائی‘ فارسی سے۔
شعری مجموعوں کے اعتبار سے تیرہ ماخوذ نظمیں بانگِ درا میں شامل ہیں، یعنی (۱) ایک مکڑا اور مکھی، (۲) ایک پہاڑ اور گلہری، (۳)ایک گاے اور بکری، (۴) بچے کی دعا،(۵) ہمدردی، (۶) ماں کا خواب، (۷) پرندے کی فریاد، (۸)آفتاب، (۹) پیامِ صبح، (۱۰) عشق اور موت، (۱۱) رخصت اے بزمِ جہاں، (۱۲) ایک پرندہ اور جگنو، (۱۳) حقیقت حسن؛ چھ بالِ جبریل میں، یعنی (۱۴) ایک شعر، (۱۵) قید خانے میں معتمد کی فریاد، (۱۶) عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت، (۱۷) گدائی، (۱۸)یورپ، (۱۹)شیر اور خچر ؛ اور ایک ضربِ کلیم میں، یعنی (۲۰) تقدیر۔
mmm
اقبال کی جن نظموں کو ترجمے سے قریب قرار دیا جا سکتا ہے؛ ان میں ’آفتاب‘، بالِ جبریل کا سرِ غزلیات کا ایک شعر، ’قید خانے میں معتمد کی فریاد‘ اور ’عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت‘ شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی کسی اردو نظم کو باقاعدہ ترجمہ نہیں کہا جا سکتا، لیکن مذکورہ نظموں میں سے دو منظومات کسی حد تک ترجمہ کی ذیل میں شمار کی جا سکتی ہے:
اندلس میں بنو امیہ کے پہلے حکمران عبدالرحمن اوّل نے قرطبہ کے پاس اپنے لیے ایک خاص باغ بنوایا، جس کا نام رصافہ رکھا۔ اس میں اپنے لیے محل بنوایا، اس باغ میں کھجور کا ایک درخت بھی لگوایا۔ ایک روز کھجور کے درخت کو دیکھ کر اپنی پہلی حالت یاد آ گئی اور اس نے چند شعر عربی میں لکھے۱؂۔ اقبال نے ایک نظم ’عبدالرحمن اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت‘ پر نوٹ دیتے ہوئے لکھا کہ یہ اشعار، جو عبدالرحمن اوّل کی تصنیف سے ہیں، تاریخ المقری میں درج ہیں۔ مندرجہ ذیل اردو نظم ان کا آزاد ترجمہ ہے (درختِ مذکور مدینۃ الزہرا میں بویا گیا تھا)،۲؂ لیکن درست یہ ہے کہ پوری نظم نہیں، بلکہ صرف پہلا بند ہی عبدالرحمن اوّل کی نظم کا آزاد ترجمہ ہے، دوسرا بند اقبال کے اپنے تاثرات ہیں۔ اس سلسلے میں پہلے عربی نظم پیش کی جاتی ہے:
تبدَّت لنا وسط الرصافۃ نَخْلّۃٌ
تنائت بأرض الغربِ عن بلد النخلِ
فقلت شبیھي فیي التغُّرب والنَّوَی
و طولِ التنائي عن بُنيّ و عن أھلي
نشأت بأرضٍ أنتِ فیھا غریبۃ
فمثلُکِ في الاقصاءِ والمُتْنَأی مثلي
شَقَتْکِ غوادي المُزْنِ من صوبھا الذي
یَسُحُّ ویستمري السَماکین بالویل۳؂
اب اس کا انگریزی اور اردو منثور ترجمہ دیکھیے:
A palm tree I beheld in Ar-Rusafa
Far in the West, far from the palm-tree land:
I said: You, like myself, are far away, in a strange land;
How long have I been far away from my people!
You grew up in a land where you are a stranger,
And like myself, are living in the farthest corner of the earth:
May the morning clouds refresh you at this distance,
And may abundant rains comfort you forever! ۴؂
ایک کھجور کا درخت منیتہ الرضافہ (باغ کا نام) کے بیچ میں میرے پیشِ نظر ہے، جو ارضِ مغرب میں آ کر نخل کی سرزمین سے دُور ہو گیا ہے۔
مَیں نے کہا، تُو بھی میری ہی طرح ہے؛ غربت میں، فراق میں اور اپنے آل اولاد سے طول طول دُوری میں۔
تُو نے ایسی سرزمین میں پرورِش پائی ہے، جہاں تُو غریب الوطن ہے۔ دُور اور جدائی میں تیری مثال ویسی ہی ہے، جیسی کہ میری۔
صبح کے بادل تجھے بارش سے سیراب کریں؛ وہ بارش، جو موسلادھار ہوتی ہے اور (دو ستاروں) سماکین سے مسلسل پانی لے کر نیچے گراتی ہے۔۵؂
اب اقبال کی نظم کا متعلقہ بند دیکھیے:
میری آنکھوں کا نُور ہے تُو
-میرے دل کا سرور ہے تُو
اپنی وادی سے دُور ہوں مَیں
میرے لیے نخل طور ہے تُو
مغرب کی ہَوا نے تجھ کو پالا
صحراے عرب کی حور ہے تُو
پردیس میں ناصبور ہوں مَیں
پردیس میں ناصبور ہے تُو
غربت کی ہَوا میں بار وَر ہو
ساقی تیرا نمِ سحر ہو۶؂
عربی نظم کے انگریزی اور منثور اردو ترجمے کے بعد اقبال کے منظوم کاوش کو کسی حد تک ترجمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اسی طرح ’گدائی‘ کو انوری (م:۵۴۷ھ) کی فارسی نظم سے محض ماخوذ قرار دینا بھی قرینِ انصاف نہیں۔ اقبال کی نظم سے پہلے انوری کی غزل کا مطالعہ مفید رہے گا:
آں شنیدستی کہ روزی زیرکی با ابلھی
گفت کین والی شہر ما گدایی بی حیاست
گفت چون باشد گدا آن کز کلاہش تکمہ ای
صد چو ما را روزہا بل سالہا برگ و نواست
گفتش ای مسکین غلط اینک از اینجا کردہ ای
آن ہمہ برگ و نوا دانی کہ آنجا از کجاست
در و مروارید طوقش اشک اطفال منست
لعل و یاقوت ستامش خون ایتام شماست
او کہ تا آب سبو پیوستہ از ما خواستہ است
گر بجویی تا بہ مغز استخوانش زان ماست
خواستن کدیہ است خواہی عشر خوان خواہی خراج
زانکہ گر دہ نام باشد یک حقیقت را رواست
چون گدایی چیز دیگر نیست جز خواہندگی
ہر کہ خواہد گر سلیمانست و گر قارون گداست۷؂
اس نظم کے بارے میں ڈاکٹر محمد ریاض لکھتے ہیں کہ ’انوری نے ملوکانہ استعمار کے خلاف بھی خوب لکھا ہے اور دورِ استبداد میں ایسا کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ سات ابیات پر مشتمل مندرجہ ذیل قطعہ آج بھی ملوک، امرا اور حکام کے لیے وجہِ ندامت بن سکتا ہے‘۔۸؂ یہ موضوع چونکہ اقبال کے فکر و فلسفے سے لگا کھاتا تھا، چنانچہ انھوں نے اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سمجھتے ہوئے اردو میں پیش کیا۔ اقبال نے لفظی یا شعر در شعر ترجمہ نہیں کیا، بلکہ مکمل قطعے کو پانچ اردو اشعار میں ڈھال دیا۔دیکھیے، کیا تخلیقی شان ہے اس ترجمے میں:
مے کدے میں ایک دِن اِک رندِ زیرک نے کہا
ہے ہمارے شہر کا والی گداے بے حیا
تاج پہنایا ہے کس کی بے کلاہی نے اسے
کس کی عریانی نے بخشی ہے اسے زرّیں قبا
اس کے آبِ لالہ گوں کی خونِ دہقاں سے کشید
تیرے میرے کھیت کی مٹی ہے اس کی کیمیا
اس کے نعمت خانے کی ہر چیز ہے مانگی ہوئی
دینے والا کون ہے ، مردِ غریبِ و بے نوا
مانگنے والا گدا ہے ، صدقہ مانگے یا خراج
کوئی مانے یا نہ مانے ، میر و سلطاں سب گدا۹؂
دونوں نظموں کے مطالعے کے بعد یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ اقبال نے انوری کے خیال کو اپنی گرفت میں لے کر اسے نظم کیا ہے، لیکن چونکہ دونوں نظموں میں اشعار کی تعداد مختلف ہے اور بعض اشعار کے خیال کو نظر انداز بھی کیا گیا ہے، اس لیے اسے باقاعدہ ترجمہ نہ بھی سمجھیں تو آزاد ترجمہ ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔
کلام اقبال اردو میں ترجمے کی ذیل میں سنسکرت کی ایک نظم اور ایک متفرق شعر کو بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ بانگِ درا کے حصہ اوّل میں شامل نظم ’آفتاب‘ کے عنوان کے نیچے…… (ترجمہ گایتری) …… سے نظم کی حیثیت نمایاں کر دی گئی ہے۔ نظم ’آفتاب‘ دراصل رگ وید کے ایک مشہور منتر گایتری کا ترجمہ ہے۔ یہ منتر چاروں ویدوں میں موجود ہے اور جسے بقول ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی، برہمن اس قدر مقدس سمجھتا ہے کہ بے طہارت کسی کے سامنے اس کو پڑھنا بھی گوارا نہیں کرتا۔۱۰؂
اگرچہ اقبال اسے ترجمہ قرار دیتے ہیں، تاہم انھیں ’ اندیشہ ہے کہ سنسکرت دان اصحاب اس پر وہی راے قائم کریں گے، جو چیپ مین نے پوپ کا ترجمۂ ہومر پڑھ کر قائم کی تھی؛ یعنی [نظم آفتاب میں] شعر تو خاصے ہیں، لیکن یہ گایتری نہیں۱۱؂؛ گویا خود اقبال کو بھی اس ترجمے پر اطمینان نہ تھے، جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اس نظم کے خیالات کو اقبال نے اپنے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ سنسکرت متن سے استفادے کی کوئی صورت نہیں، اس لیے یہاں گایتری منتر کا انگریزی ترجمہ دیا جاتا ہے:
We meditate on that most adorable, desirable and enchanting luster and brilliance of our Supreme Being, our Source Energy, our Collective Consciousness …. who is our creator, inspirer and source of eternal Joy. May this warm and loving Light inspire and guide our mind and open our hearts. ۱۲؂
اے آفتاب! رُوح و روانِ جہاں ہے تُو
شیرازہ بندِ دفترِ کون و مکاں ہے تُو
باعث ہے تُو وجود و عدم کی نمود کا
ہے سبز تیرے دَم سے چمن ہست و بود کا
قائم یہ عنصروں کا تماشا تجھی سے ہے
ہر شے میں زندگی کا تقاضا تجھی سے ہے
ہر شے کو تیری جلوہ گری سے ثبات ہے
تیرا یہ سوز و ساز سراپا حیات ہے
وہ آفتاب ، جس سے زمانے میں نُور ہے
دل ہے ، خرد ہے ، روحِ رواں ہے ، شعور ہے
اے آفتاب! ہم کو ضیاے شعور دے
چشم خرد کو اپنی تجلی سے نُور دے
ہے محفلِ وجود کا ساماں طراز تُو
یزدانِ ساکنانِ نشیب و فراز تُو
تیرا کمال ہستیِ ہر جاندار میں
تیری نمود سلسلۂ کوہسار میں
ہر چیز کی حیات کا پروردِگار تُو
زائیدگانِ نُور کا ہے تاجدار تُو
نَے ابتدا کوئی ، نہ کوئی انتہا تِری
آزادِ قیدِ اوّل و آخر ضیا تِری۱۳؂
¹چوں کہ سنسکرت متن کی دستیابی اور خواندگی کا محل نہیں، اس لیے متن سے نظم کی موازنہ ممکن نہیں۔
بالِ جبریل کی غزلیات میں حصہ اوّل سے پچھلے صفحے پر درج ذیل شعر ملاحظہ ہو:
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازُک بے اثر۱۴؂
اس شعر کے نیچے قوسین میں بھرتری ہری کا نام درج ہے؛ گویا یہ خیال اقبال کا نہیں، بلکہ بھرتری ہری کا ہے، جسے اقبال نے اردو زبان میں پیش کیا ہے۔ بھرتری ہری سنسکرت زبان کے عظیم شاعر تھے۔ وہ اجین کے حکمران تھے، لیکن بیوی پر شبے کے باعث سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سلطنت اپنے چھوٹے بھائی بکرما جیت (تقویمِ ہند اسی کی مناسبت سے بکرمی کہلاتا ہے) کے سپرد کر کے جنگل کی طرف نکل گئے اور سنیاس اختیار کر لیا۔ اقبال ان کی حکمت و دانائی کے معترف تھے، جس کا اظہار انھوں نے جاوید نامہ میں ’آں سوے فلک‘ کے تحت ’صحبت با شاعرِ ہندی نژاد برتری ہری‘ کے عنوان سے کیا ہے۔ اقبال نے بھرتری ہری کے جس اشلوک کا منظوم ترجمہ کیاہے، اس کا ایک نثری اردو ترجمہ بابو گوری شنگر لال اختر نے درج ذیل الفاظ میں کیا ہے:
جو شخص کھوٹے آدمی کو اپنی نصیحت سے راہِ نیک پر لانے کی خواہش رکھتاہے، وہ ایسا ہے، جیسے کوئی نازُک کنول کی ڈنڈی کے سوت سے ہاتھی کو باندھنا چاہتا ہو اور سرس کے پھول کی پنکھڑی سے ہیرے کو پرونا چاہتا ہو اور کھاری سمندر کو ایک بوند شہد سے میٹھا کرنا چاہتا ہو۔۱۵؂
ایک اَور ترجمہ میرزا محمد بشیر نے بھی کیا ہے:
مست ہاتھی کو کنول کے زیرے سے باندھ سکتے ہیں، پھول کی پتی سے ہیرے کو کاٹ سکتے ہیں اور شہد کے ایک قطرے سے کھاری سمندر کو میٹھا کر سکتے ہیں۔ جو یہ سب کر سکتے ہیں، وہ مردِ ناداں کو اپنے کلام سے متاثر نہیں کر سکتے ہیں۔ ۱۶؂
یہاں مقصود نثری تراجم کا تقابل نہیں، بلکہ بھرتری ہری کے اشلوک کے مفہوم سے اقبال کے شعر کی مطابقت کا جائزہ لینا ہے؛ چنانچہ نثری تراجم اور اقبال کے منظوم ترجمے کے موازنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال نے اشلوک کے مرکزی خیال کے ساتھ ساتھ الفاظ کو بھی پیش نظر رکھا ہے۔ یقینا اقبال کا ترجمہ بھرتری ہری کے اشلوک کے قریب اور شعریت کے اعتبار سے پُرتاثیر ہے۔
بالِ جبریل کی نظم ’قید خانے میں معتمد کی فریاد‘ کے ساتھ اقبال نے ایک نوٹ دیا ہے:
معتمد اشبیلیہ کا بادشاہ اور عربی شاعر تھا۔ ہسپانیہ کے ایک [اور] حکمران نے اس کو شکست دے کر قید میں ڈال دیا تھا۔ معتمد کی نظمیں انگریزی میں ترجمہ ہو کر ’وِزڈم آف دی ایسٹ سیریز‘ میں شائع ہو چکی ہیں۔ ۱۷؂
اقبال کے اس نوٹ سے چند ایک غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں، اس لیے درست صورتِ حال عرض کر دینا ضروری ہے۔ اندلس کی اموی سلطنت کے خاتمے کے بعد اشبیلیہ پر بنوعباد کے حکمران معتمد بن عباد (۱۰۴۰ء۱۰۹۵-ء) نے ۱۰۶۹ء سے ۱۰۹۱ء تک حکومت کی۔ ایک وقت تک وہ اسپین کے عیسائی حکمران الفانسو کو خراج دیتا رہا، لیکن پھر اس میں اَن بن ہو گئی تو معتمد نے مراکش کے حکمران یوسف بن تاشقین کو مدد کے لیے بلا لیا، جس نے ۱۰۸۶ء میں الفانسو کو شکست فاش دی، لیکن ۱۰۹۱ء میں معتمد کو معزول کر کے مراکش میں قید کر دیا۔ مولانا غلام رسول مہر لکھتے ہیں کہ اس کی آخری زندگی بڑی ہی تلخ گزری۔ اس کی لڑکیاں سوت کات کر جو پیسے کماتی تھیں، ان سے کنبے کا گزارہ چلتا تھا‘۔۱۸؂ دورانِ قید کہی گئی اس کی عربی نظمیں لارنس سمتھ(Dulcie Lawrence Smith) نے Wisdom of the East Series کے تحت The Poems of Mu'tamid انگریزی ترجمہ کیا ہے۔ ساٹھ صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ لندن سے جان مرے (John Murray) کی جانب سے ۱۹۱۵ء میں شائع ہوا۔ اغلب ہے کہ درج ذیل نظم کی تخلیق کے وقت اقبال کے پیش نظر یہی کتابچہ رہا ہو:
اِک فغانِ بے شرر سینے میں باقی رہ گئی
سوز بھی رخصت ہوا ، جاتی رہی تاثیر بھی
مردِ حر زِنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر آج
مَیں پشیماں ہو ، پشیماں ہے مِری تدبیر بھی
خود بخود زنجیر کی جانب کھنچا جاتا ہے دِل
تھی اسی فولاد سے شاید مِری شمشیر بھی
جو مِری تیغِ دو دوم تھی ، اب مِری زنجیر ہے
شوخ و بے پروا ہے کتنا خالق تقدیر بھی۱۹؂
حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ کتابچے کی کوئی نظم بھی اقبال کی اس نظم سے مطابقت نہیں رکھتی، البتہ Saif نامی درج ذیل نظم اس کے مرکزی خیال سے کسی قدر قریب ہے:
They called her saif, the Sword, who carries a sword,
A glittering brand,
In either dark eye; O Saif, why take to thy hand
Three weapons, when one were more than a man could withstand?
Thous Sword, drawn to slay me!
In the glint of those blades whose sheath is a sweeping lash,
The droop of a lid,
Hath she dazzled us both, from herself her own charms are not hid.
We are prisoners bound by their brightness; but Allah forbid
I should break from my prison.۲۰؂
اقبال کی درج بالا نظم کو انگریزی متن کا ترجمہ نہیں قرار دیا جا سکتا، البتہ کسی حد تک ماخوذ قرار دیا جا سکتا ہے۔
اقبال نے اپنے ابتدائی دَور،یعنی ۱۹۰۵ء تک بچوں کے نصاب کے لیے کم و بیش آٹھ ماخوذ نظمیں لکھیں، علاوہ ازیں چار مزید ماخوذ نظمیں اسی دَور سے یادگار ہیں؛ گویا اس پورے دَور میں بارہ نظموں کا تعلق دیگر زبانوں سے ہے؛ اگرچہ اس کے بعد بھی ان کے ہاں اخذ و استفادے کا سلسلہ چلتا رہا، لیکن اس کی رفتار بتدریج کم ہوتی گئی اور ۱۹۰۵ء سے ان کی وفات تک اس سلسلے میں محض آٹھ نظموں کا اضافہ ہوا۔
ان نظموں کے بالاستیعاب مطالعے اور تجزیاتی وتنقیدی جائزے کے بعد برملا کہا جا سکتا ہے کہ اقبال کے ہاں ترجمہ یا ماخوذ کا مطلب کسی دوسری نظم کے خیال کا ہوبہو اپنا لینا نہیں، بلکہ انھوں نے ایسی تمام نظموں سے اپنی فکری ضرورت کے مطابق ہی استفادہ کیا ہے۔ جہاں اور جتنا ضروری محسوس ہوا، خیال یا مرکزی خیال سے اتنا ہی اثر یا تاثر قبول کیا۔ اس کے بعد اگر نظم میں کوئی تفصیل ہے تو اسے چھوڑ دیا؛ اسی طرح اگر کسی نظم میں کوئی تشنگی محسوس کی تو محض دیے گئے خیال تک خود کو محدود نہ رکھا، بلکہ وہاں اپنی تہذیبی اور علمی گنجائش کے مطابق طبع زاد اشعار شامل کر لیے؛ چنانچہ اقبال کے نزدیک’ماخوذ‘ سے مراد دوسروں کی بالادستی یا سرپرستی تسلیم کرنا نہیں، بلکہ اردو زبان و ادب کی بنجر کھیتیوں کو سرسبز کرنا ہے؛ یہی وجہ ہے کہ وہ ترجمے کو عمل کو اپنے شوق کے ساتھ منسلک نہیں کرتے، بلکہ عصری ضرورتوں کو پورا کرنے کی غرض سے انگریزی، جرمن، عربی،فارسی یا سنسکرت کے چشموں سے اردوکی موضوعاتی اور فکری پیاس بجھاتے ہیں۔
حوالے:
۱؂ مولانا غلام رسول مہر: مطالب بالِ جبریل، لاہور: شیخ غلام رسول اینڈ سنز، س ن، ص ۱۹۱
۲؂ علامہ اقبال: بالِ جبریل، ص ۱۰۵ء، مشمولہ کلیاتِ اقبال اردو، لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۲۰۱۳ء یازدہم
۳؂ عبدالرحمن الداخل، بحوالہhttp://falih.ahlamontada.net/t1587-topic
۴؂ http://logismoitouaaron.blogspot.com/2015/05/abd-al-rahmans- palm-tree-andalusian-poem.html
۵؂ ڈاکٹر سید محمد یوسف: ’اقبال اور عبدالرحمن الداخل‘، مشمولہ اقبال اور عظیم شخصیات مرتبہ طاہر تونسوی، لاہور: تخلیق مرکز، ۱۹۷۹ء، ص ۱۶-۱۵
۶؂ علامہ اقبال: بالِ جبریل، ص ۱۰۵
۷؂ انوری، بحوالہ:http://ganjoor.net/anvari/divan-anvari/ghetea/sh40/
۸؂ ڈاکٹر محمد ریاض: اقبال اور فارسی شعرا، لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۱۹۷۷ء، ص۷۲
۹؂ علامہ اقبال: بالِ جبریل، ص ۱۲۰
۱۰؂ ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی: عروجِ اقبال، لاہور: بزمِ اقبال، ص ۲۵۲
۱۱؂ علامہ اقبال: کلیاتِ باقیاتِ شعر اقبال مرتبہ ڈاکٹر صابر کلوروی، لاہور: اقبال اکادمی پاکستان، ۲۰۰۴ء، ص ۱۳۴، ۱۳۸
۱۲؂ http://www.magicofgayatri.com/pages/magic-of-gayatri.html
۱۳؂ علامہ اقبال: بانگِ درا، ص ۵۹-۵۸
۱۴؂ علامہ اقبال: بالِ جبریل، ص ۲۰
۱۵؂ بابو گوری شنکر لال اختر(مترجم: ۱۹۱۳ء) بحوالہ پروفیسر عبدالستار دلوی: اقبال کے ایک ممدوح، بھرتری ہری، بمبئی: دائرۃ الادب، ۲۰۰۴ء، ص ۶
۱۶؂ میرزا محمد بشیر (مترجم): نیرنگِ خیال، جنوری ۱۹۴۲ء، بحوالہ اقبال شناسی اور نیرنگِ خیال مرتبہ ڈاکٹر طاہر تونسوی، بزمِ اقبال لاہور، ۱۹۹۳ء، ص ۸۲
۱۷؂ علامہ اقبال: بالِ جبریل، ص ۱۰۴
۱۸؂ مولانا غلام رسول مہر: مطالبِ بالِ جبریل، ص۱۸۹-۱۸۸
۱۹؂ علامہ اقبال: بالِ جبریل، ص ۱۰۵-۱۰۴
۲۰؂ https://archive.org/details/poemsofmutamidk00muta, p-36٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khalid Nadeem

Read More Articles by Khalid Nadeem: 14 Articles with 16513 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2017 Views: 2806

Comments

آپ کی رائے