بادل چھٹ جائیں گے !

(Roqiya Ghazal, Lahore)
مگر مچھ کا شمار دنیا کے خطرناک اور مہلک ترین جانوروں میں ہوتا ہے ایسا ممکن نہیں کہ آدمی اس کو چھوپائے، اُس کے ساتھ وقت گزارے ،کھیلے اورہمرکاب ہو کر اسکی کی حرکات و سکنات کا اچھی طرح جائزہ لے سکے بلاشبہ یہ خیال ہی روح فرسا ہے کہ ایک مگر مچھ کہ جو آدمی کو زندہ نگل جاتا ہے اس کے سامنے بلا خوف و خطر سارے پردے ہٹا کر کوئی کھڑے ہو سکے بظاہر یہ ایک ناممکن اور مشکل بات لگتی ہے مگر اﷲ تعالیٰ نے انسان کو اتنا فہم ،ہنر اور حکمت دی ہے کہ وہ تمام خطرناک جانوروں ،درندوں اور پرندوں کو نہ صرف قابو کر سکتا ہے بلکہ کسی حکمت عملی سے ان کے ساتھ رہ کر ان کی زندگیوں کا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے۔

امریکی ریاست کولا راڈو سے تعلق رکھنے والی سمانتھا ینگ(SamanathaYoung )نامی لڑکی نے اس نا ممکن کو ممکن بنا دیا ہے وہ مگرمچھوں کے ساتھ بلا خوف و خطر وقت گزارتی ہے اور 2سال کی عمر سے ایسا کر رہی ہے وہ نہ صرف مگرمچھوں پر سواری کرتی ہے بلکہ ان کے ساتھ دن کا بیشتر وقت گزارتی ہے اس کے والد jayyoung کے مطابق اس نے اپنی بیٹی کو پہلا مگر مچھ تب دیا جب وہ بچہ تھا اور وہ اس کے ساتھ ہی بڑا ہوا ہے اسے دو دفعہ مگر مچھوں نے کاٹا بھی تھا مگر میں بضد تھا کہ وہ اس خوف پر قابو پالے اورپانچ سال کی عمر میں وہ 3 فٹ کے مگر مچھ کے ساتھ کھیلتی تھی اب وہ مگرمچھوں کو قابو کرنے کی باقاعدہ ٹریننگ دیتی ہے ۔اس طرح ایک کمزور لڑکی نے طاقتور، مہلک اور خطر ناک ترین جانور پر قابو پاکریہ جان لیا ہے کہ مگر مچھ کب اور کس وقت حملہ کرتا ہے اور یہ کس چیزیا رحرکت سے ڈرتا ہے وغیرہ یہ سب کچھ اس عقل و فہم کی وجہ سے ممکن ہوا جو کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کو دی ہے اور اس سے ثابت ہوا کہ انسان اگر کھلے درندوں کو قابو کر سکتا ہے تو مردم نما بھیڑیوں کو کیونکر قابو نہیں کر سکتا بس ذرا عقل اور بہتر حکمت عملی کے ساتھ کام لینے کی ضرورت ہے مگر اس میں ایک بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس لڑکی کا فعل ایک انفرادی اقدام تھا جس کے نفع و نقصان کی وہ خود ذمہ دار تھی جبکہ ایک لیڈر کا فعل ایک اجتماعی اقدام ہوتا ہے جو پوری قوم پر اثر انداز ہوتا ہے اس لیے کوئی بھی قدم اٹھانے اوراُسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت سوچ و بچار اور احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ایسے میں اگر منفی نتائج برآمد ہو نگے تو کوئی بھی عذر قابل قبول نہیں ہوگا بلکہ اس کا خسارہ ملک و قوم کو برداشت کرنا ہوگا لیکن یہ طے ہو چکا ہے کہ اگر درندے شہری آبادی میں گھس آئیں اور دندناتے پھریں تو یہ کمزوری نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت ہے اور اس غفلت کی وجہ صرف ’’کرسی بچاؤ ‘‘ مہم ہے شاید اسی موقع کے لیے کسی نے کہا ہے کہ !
عشق اتنا تو نہ مجنوں نے بھی لیلی سے کیا
جتنا کرسی سے میرے ملک کے نیتا نے کیا

اس میں تو کوئی دو رائے ہی نہیں کہ ہمارے لیڈران نے امن عامہ کو کبھی سنجیدگی سے نہیں لیا اسے بھی عوامی مسائل کی طرح دعووں اور نعروں کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے کہ پاک افواج کی ’’ضرب عضب ‘‘ کے ضمن میں دی گئی قربانیاں بھی آج گہنا رہی ہیں ۔جس کا جو جی چاہتا ہے وہ بول رہا ہے جبکہ بارہا لکھا گیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ سب کی’’ مشترکہ‘‘ ذمہ داری ہے مگرنیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد تو درکنار اس کا ذکر بھی مفقود ہو چکا تھا بلکہ اسے نا قابل عمل کہے جانے کا بھی عندیہ دیا جا رہا تھا یعنی مکمل طور پر اسے نظر انداز کر دیا گیا تھا جبکہ لکھاری حضرات لکھ لکھ کر صفحے کالے کر رہے تھے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نا گزیر ہے اور میں نے بھی اس پر بارہا قلم اٹھایاکہ دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کرنے کے لیے اس کے پتنگ بازوں کو پکڑنا ناگزیر ہے مگر ہم مست مئے پندار رہے اور دشمن چوکس اور ہوشیار رہے ۔اسی لیے سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا تھا ـ:’’ دفاع کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ دشمن تمہیں مارنے کے لیے نیام سے تلوار نکال ہی رہا ہو پہلے ہی اس کی گردن اڑا دو ،وہ اگر کل حملے کے لیے آرہا ہو تو تم اس پر آج حملہ کر دو ‘‘۔مگر۔۔ افسوس کہ دشمن کے حملے کے بعد ہم سوچتے ہیں کہ ہم ایک جھنڈے تلے جمع ہوں اور باہم مل کر اس جنگ کا مقابلہ کریں جو کہ ہم پر مسلط کر دی گئی ہے اور چند دن بعد ہی عوام بھوک و ننگ میں پریشان و خوار اور ہم ایک دوسرے کے دانت توڑنے پر مستعد و ہشیار نظر آتے ہیں جبکہ قدم قدم پر ہمارے بزرگوں کی باتیں اور ہدایات موجود ہیں جو کہ ہمیں سیدھی راہیں متعین کرنے کی راہنمائی فراہم کرتی ہیں مگر افسوس کہ ہم اپنے اسلاف کی باتوں کو پس پشت ڈال کر اپنی سوچ اور فہم کو ہی بالاتر سمجھ رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے حالات اس اون کے گولے کی طرح ہو چکے ہیں جو کہ ہاتھ سے گر چکا ہے اور جتنا سرا ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں اسی قدر الجھاؤ کا شکار ہو رہے ہیں ۔ویسے اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہماری صفیں بھی درست نہیں کہ عوامی مسائل کا حل نہ ہونے کے برابر ہے ۔جن میں سر فہرست غربت اور بے روزگاری ہے مجھے پھر سلطان صلاح الدین ایوبی کا قول یاد آگیا کہ ’’جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہو جائے وہاں تین چیزیں سستی ہو جاتی ہیں ،عورت کی عزت ،مرد کی غیرت ،مسلمان کا خون ‘‘ بدقسمتی سے آج یہ تینوں چیزیں سستی نظر آتی ہیں یہی وجہ ہے کہ مسلسل شکست ہمارا مقدر بن رہی ہے ویسے بھی جس قوم کے نوجوان روحانیت (دین) کو چھوڑ کر مردہ دلی اور فحاشی کی زندگی گزارنے پر اتر جائیں وہ قوم بغیر جنگ کئے ہار جاتی ہے اگر عمیق نظری سے دیکھا جائے تو ہم سوشل میڈیا پر تفریحی جنگ لڑنے والی قوم بن چکے ہیں اور اسی میں خود کو فنکار سمجھتے ہیں یہاں تک کہ حکومتی سربراہان اور اپوزیشن جماعتیں بھی آجکل یہی کر رہی ہیں -

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں حقائق سے فرار کے لیے بچگانہ اور غیر اخلاقی طریقے اپنائے جاتے ہیں جو کہ انتشار کا سبب بنتے ہیں اور دشمن چاہتا بھی یہی ہے کہ افرا تفری پھیلائی جائے اور پوری قوم کے اعصاب شل کر دئیے جائیں اور ہم ٹھہرے گفتار کے غازی اور کوئی کردار کا غازی بننا بھی نہیں چاہتا اور گفتار کا بھی عالم یہ ہے کہ ایک پٹھان نے اپنی بیوی سے کہا : ـ’’اری اوکمبخت ! لائٹ نہیں ہے تو پنکھا ہی چلا دو ‘‘ بیوی غصے سے بولی : ’’آخر پٹھان ہی ہو نا!عقل تو ہے ہی نہیں ! پنکھا چلا دونگی تو یہ موم بتی نہ بجھ جائے گی ‘‘ بدقسمتی سے جو کردار و عمل کے غازی تھے وہ ٹھان چکے ہیں کہ کسی لالچی کے ساتھ تخت پر بیٹھنے سے بہتر ہے کہ کسی عالم کے ساتھ فرش پر بیٹھا جائے اور ایسوں کو ویسے یہ کہتے ہیں کہ ولی بننے کا سوچتے ہو پہلے انسان تو بن جاؤ۔ بریں وجہ کشیدگی اور مایوسی بڑھ چکی ہے بہرحال حکومت پنجاب نے ملک میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے بعد انسداد دہشت گردی کے لیے جاری آپریشن میں رینجرز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ بلاشبہ خوش آئندہے کیونکہ آج یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہماری ذرا سی غفلت نے دشمن کو کس قدر بیباک کر دیا کہ وہ پنجاب تک آگیا ہے بریں سبب حکومت کو بھی احساس ہو چکا ہے کہ مشکل فیصلے ناگزیر ہیں ۔آج ہمارا ملک آگ و خون کی لپیٹ میں ہے جبکہ موسم بہاراں کا مژدہ سنا رہا ہے ایسے میں گلشن کی رعنائیوں کو واپس لانا بلا شبہ باغبانوں کا کام ہے اور ہم پر امید ہیں کہ غم کے بادل چھٹ جائیں گے ہم رینجرز کو پنجاب میں خوش آمدید کہتے ہیں کہ اب سب ملکر وہ بہاریں واپس لائیں گے جو ہماری کوتاہیوں اور مفادات کی نظر ہو چکی ہیں اور دشمنان پاکستان نیست و نابود ہو جائیں گے کہ مردم نما بھیڑیوں کو بے ہوش کرنے کے لیے عقل و دانش کے چراغ جلانے ہونگے ورنہ پچھتاوے کے لیے بھی وقت نہیں ملے گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Roqiya Ghazal

Read More Articles by Roqiya Ghazal: 116 Articles with 49999 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Feb, 2017 Views: 498

Comments

آپ کی رائے