پاکستان کو سمجھنے کی ضرورت

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)
بھارت جنوبی ایشیاء میں پاکستان اور اس کے حلیف ممالک سے ہمیشہ سے ہی ناخوش نظر آتا ہے اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو بھارت اپنے آپ کو خطے کی سب سے بڑی معیشت سمجھنے لگا ہے جو کہ دیوانے کے خواب کے مترادف ہے دوسرا وہ اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کی جمہوریت کا ہی کمال ہے کہ اس کی دو تہائی آبادی رات کو سونے کے لئے فٹ پاتھ کا استعمال کرتی ہے کیونکہ ان بیچاروں کے پاس رہنے کے لئے گھر تک موجود نہیں ہیں بھارت کہتا تو خود کو دنیا کی سب سے بری جمہوریت ہے مگر وہ اپنے میں شامل کئی علاقوں کو جمہوری حق دینے کے بجائے ظلم و ستم کے وہ کارہائے نمایاں سر انجام دے رہا ہے جنھیں دیکھ کر اور سن کر لوگ ہلاکو خان اور چنگیز خان کی جنگیں بھول جاتے ہیں کشمیر یوں پر ظلم کی داستانیں بھارتی جمہوریت کے منہ پر وہ کالک ہے جسے وہ رہتی دنیا تک دھو نہیں سکتا بھارت خطے میں دو ملکوں پاکستان اور چین سے انتہائی خوف محسوس کر تاہے اور اس خوف کو کم کرنے کے لئے وہ ہر سال اپنے بجٹ میں اربوں روپے کا ضافہ کر رہا ہے اور اس دفاعی بجٹ میں اضافے سے اسکی عوام کا جو استحصال ہورہاہے وہ بھارت کے عوام بخوبی جانتے ہیں بھارت ماضی میں پاکستان کے خلاف سر جیکل سٹرائیک کی باتیں کر کے دنیا میں خوب مذاق بن چکا ہے اور تمام دنیا جانتی ہے کہ بھارت میں وہ سکت نہیں کہ وہ پاکستان جیسے ملک کے خلاف ایسے جنگ کر سکے بھارت کے کولڈ سٹارٹ نظریے کے باوجود پاکستان بھارت کے خلاف دفاع کے لئے کافی مضبوط ہے اس لئے بھارت کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے پاکستان اپنی خودمختاری کی حفاظت کے لئے اہم طاقت ہے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو بھارتی ہتھیاروں سے ناصرف مقابے میں بہتر ہیں بلکہ ان کو عالمی دنیا بھی ماننے پر مجبور ہے پاکستان میں بننے والے سی پیک کی وجہ سے بھارت سرکار کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں اور اس ایک منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے پاکستان میں دہشت گردی کروا رہا ہے اور اس کے لئے وہ مسلم ملک افغانستان کو براہ راست ملوث کر کے یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان میں ہوانے والی دہشت گردی میں شامل نہیں مگر یہ اٹل حقیقت ہے کہ ہندو پیٹ پیچھے وار کرنے کا ماہر ہے کیونکہ ہندو کی خصلت میں شامل ہے کہ وہ سازشی ہوتا ہے اس لئے ہمیں کسی بھی طور پر بھارت پر اعتبار کرنے کے بجائے ہر وہ اقدام اٹھانا ہو گا جس سے پاکستان کا دفاع مضبوط ہو بھارت کے کولڈ سٹارٹ نظریے کے باوجود ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح پاکستان اپنی خودمختاری کا دفاع کرنے کے لئے عسکری لحاظ سے کافی مضبوط ہے بھارتی آرمی چیف نے جس طرح کولڈ سٹارٹ کے نظریے کی تصدیق کی اسے پاکستان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے خطے میں امن عمل کو بھارت نے خراب کیا ہے انہوں نے پاکستان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کے الزامات عائد کئے دیگر عوامل نے بھی پاک بھارت کشیدگی میں اضافہ کیااور حال ہی میں پاکستان میں شروع ہونے والی دہشت گردی کی لہر بھی بھارتی سازش کا شاخسانہ ہے بھارت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فوجی لحاظ سے دونوں ملکوں کے درمیان فرق بھی ہو تب پاکستان اپنا دفاع کرنے کیلئے کافی مضبوط ہے۔ پاکستان بھارت کی کسی بھی سرجیکل سٹرائیکس کا جواب اپنے میزائلوں کے ذریعے بھرپور انداز میں دے سکتا ہے یہ میزائل اور ایٹمی صلاحیت پاکستان نے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لئے حاصل کی ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ دشمن کوئی کارروائی کرے اور پاکستان اپنی جوہری صلاحیت کو شیشے میں سجا کر رکھے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیا اس سے بخوبی واقف ہے کہ مشرقی پاکستان کو جس طرح بھارت نے جارحیت اور سازش کے ذریعے الگ کیا اور اس کے نوے ہزار فوجیوں کو قیدی بنایا اس کے باعث پاکستان کو ایٹمی پروگرام شروع کرنا پڑا' بھارت جیسے پڑوسی کی موجودگی میں پاکستان کے لئے اپنے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانا ضروری ہوگیا تھا اس لئے بھارت کو اب یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس کی معمولی سی مہم جوئی کی بھی اسے بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی خطے میں نئی صف بندیاں بھی بھارت کی آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں روس ماضی کا سوویت یونین نہیں ہے اب پاکستان کے ساتھ اس کے تعلقات میں گرمجوشی بڑھ رہی ہے اور وہ بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو حقیقت پسندانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ فوجی مشقیں شیڈول کے مطابق مکمل کی دوسری طرف روس اور چین کے تعلقات میں سٹریٹجک گہرائی مضبوط ہو رہی ہے سی پیک کے ذریعے پاکستان اور چین کے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ معاشی رابطوں اور تعلقات کو جو نئی وسعت ملے گی وہ بھی بھارت کو تنہائی سے دوچار کرے گی اگر بھارت نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی نہ کی اور پاکستان و چین کے ساتھ اچھی ہمسائیگی کو استحکام نہ دیا تو اسے شدید خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا یہ خسارہ معاشی ہونے کے ساتھ ساتھ سفارتی بھی ہوگا۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت جو خطے میں عدم استحکام اور امن ومان کی صورت حال بگاڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہے وہ خطے میں بلیم گیم کھیلنے کے بجائے اپنی بھوک سے بلکتی عوام کو دیکھے اور اس کی بھوک مٹانے کے لئے کردار ادا کرئے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وسائل کا رخ اپنی عوام کی طرف موڑے نا کہ خطے میں ا پنی چوہدراہٹ اور طاقت بڑھانے کے لئے ساتھ ساتھ اسے اپنے تمام مقبوضہ علاقوں میں وہاں کی عوام کو وہ آزادی دینی ہو گی جس کا وہ وعدہ اقوام متحدہ میں کر کے آیا ہے کیونکہ اگر اسے دنیا کی سب سے بڑی جمہویت کا تمغہ اپنے سینے پر سجانا ہے تو پہلے غصب شدہ علاقوں کو آزاد کرنا ہو گا کیونکہ ان علاقوں کو وہ بنیادی حقوق نہ دے کر ایک ایسا لاوا پکا رہاہے جس کے پٹھنے سے خود بھارت کے کتنے ٹکڑے ہونگے بھارت خود نہیں جانتااس لئے بھارتی حکمرانوں کو چاہے وہ پاکستان کو کھلے دل سے اپنا ہمسایہ تسلیم کریں تاکہ خطے میں دیر پا امن قائم ہو سکے اور دونوں ملکوں کے عوام ترقی کی منازل طے کرسکیں-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 133518 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
27 Feb, 2017 Views: 291

Comments

آپ کی رائے