بھارتی دھمکیاں، بہادر عوام اور پاکستانی حکمت عملی۔۔۔۔2

(Ghulam Ullah Kiyani, )
یہ بھار ت کے لئے کشمیریوں کا صاف اور واضح پیغام ہے۔ لیکن بھارتی پالیسی ساز اس پیغام کو سمجھنا نہیں چاہتے۔مسلسل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں کشمیر ی عوام نے اپنے جان کی پروا کئے بغیر بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان جھڑپ کی جگہ پر پہنچ کر بھارتی آپریشنز کو ناکام بنا دیا۔ بھارتی فورسز نے اگر چہ لاتعداد کشمیریوں کو اس دوران شہید بھی کیا۔ لیکن عوام پیچھے نہ ہٹے۔ پانپور میں بھی ایسا ہی ہوا۔ جب کہ فروری کے دوسرے ہفتے ،میں ضلع کولگام کے ناگہ بل فرصل میں جب بھارتی فورسز اور مجاہدین کے درمیاں جھڑپ ہو رہی تھی تو ہزاروں لوگ خواتین اور بچے آس پاس کے دیہات سے اس طرف نعرے لگاتے ہوئے اور اﷲ اکبر ، کلمہ کا ورد کرتے ہوئے نکل پڑے۔ انھوں نے چاروں اطراف سے بھارت فورسز پر پتھراؤ کیا۔ اس جھڑپ میں چار مجایدن شہید ہوئے۔ لا تعداد بھارتی فوج ہلاک ہوئے۔ بھارتی فورسز نے مطاہرین پر فائرنگ کی۔ جس سے ایک شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ شہید ہونے والا شہری 22سال کا مشتاق ابراہیم ایتوتھا۔ جس کا تعلق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کے علاقے بجبہاڑہ کی سری گفوارہ بستی سے تھا۔ کولگام میں بھارتی فورسز نے دو مظاہرین کو گولیاں مار کر شہید کیا۔ عوام کا جھڑپ کی جگہ پہنچ کر بھارت فورسز کو ناکام بنانے کا ایک سال قبل فروری 2016میں بھی جنوبی کشمیر کے عشمقام علاقہ میں مظاہرہ ہوا۔ جہاں ہزاروں افراد نے بھارتی فوج کو گھیرے میں لے کر ان پر پتھراؤ کیا۔ جس دوران افسران سمیت درجنوں بھارتی فوجی زخمی ہوئے۔ گزشتہ ایک سال سے جہاں بھی عوام کو خبر ملتی ہے کہ مجاہدین بھارتی فوج کے محاصرے میں پھنس گئے ہیں۔ تو لوگ دور دور سے 20کلو میٹر سے بھی زیادہ دور سے وہاں پہنچ جاتے ہیں اور مجاہدین کو محاصرے میں لینے والی فوج کا مھاسرہ کر لیتے ہیں۔ جو فوج جدی ترین اسلحہ اور گولہ بارود سے لیس ہوتی ہے۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے یہ فوج قابض فوج ہے اور کشمیریوں کی نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ فوج انہیں بھی شہید کرنے سے باز نہیں آئے گی۔ عوام اپنی جان کی کوئی پروا کئے بغیر مجاہدین کی سلامتی کے لئے میدان میں کود پڑتے ہیں۔ بھارتی فوج اور پولیس ایک سال سے مسلسل عوام کو دھمکیاں نما ہدایات دے رہی ہے۔ عوام کو جھڑپ کی جگہ سے دور رہنے اور تین کلو میٹر تک کے علاقے میں گھروں سے باہر نہ نہ نکلنے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن عوام بھارتی فورسز کا ایک نہیں سنتے۔ شمالی کشمیر کے حاجن اور کرالہ گھنڈ ہندواڑہ میں بھی عوام نے یہی کیا۔ چاروں اطراف سے بھارتی فوج کو گھیر کر ان پر پتھراؤ کیا۔ ان جھڑپوں می بھارتی فوج ے کئی اعلیٰ افسر اور اہلکار مارے گئے۔ جب کہ مجاہدین عوام مظاہروں کی وجہ سے بھارتی فوج کا محاصرہ توڑ کر نکل گئے۔ بھارتی فوج کے چیف نے بھی دھمکیاں دیں۔ یہ دھمکی بھی دی کہ جھڑپ کی جگہ مطاہرے کونے والوں کو بھی جنگجو قرار دے کر انہیں مار دیا جا ئے گا۔ لیکن ان دھمکیوں کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔ کیوں کہ عوام کو پتہ ہے کہ بھارتی فوج کشمیر میں عوام کی نسل کشی اور قتل عام کے لئے ہی داخل ہوئی ہے۔ جب اس کا مقصد ہی عوام کو شہید کرنا ہے تو لوگ اب گھروں میں یا بھارتی فوج کی حراست میں شہید ہونے کے بجائے فوج پر پتھر مارت ہوئے اور آزادی کے نعرے لگاتے ہوئے شہید ہونے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ بھارتی فوج ویسے ہی کشمیریوں کو چن چن کر قتل کر رہی ہے۔ اس فوج کی دھمکیوں کا لوگ اب کوئی اثر قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ آزاد کشمیر آزادی کا بیس کیمپ کہلاتا ہے۔ لیکن سوائے چند درجن مہاجرین 1989کے، کوئی بھی بھارت مخالف مظاہروں میں شامل نہیں ہوتا۔ اسلام آباد میں کوئی احتجاج ہو تو حریت کانفرنس کے چند افراد ہی اس میں نظر آتے ہیں۔ یہ بے حسی کیا ہے۔ دعوے برے بڑے کئے جاتے ہیں۔ کشمیر کے نام پر آزاد کشمیر کے سیاستدان پوری دنیا کو فتح کر لیتے ہیں۔ سیر سپاٹے کرتے ہیں۔ چندے جمع کرتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر جو ہو رہا ہے اس پر کوئی شرمندہ نہیں۔ اگر کوئی توجہ دلائے تو سارے اسے کسی کا ایجنٹ قرار دے کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعمیری تنقید کی گنجائش بھی ختم ہو رہی ہے۔ اسے بھی سیاست اور مخالفت کے زمرے میں ڈال دیا جاتا ہے۔

پاکستان اگر کشمیر پر دعویٰ نہیں کرتا جب کہ بعض لیڈر صرف سیاست چمکانے کے لئے اور عوام کی تسکین کے لئے کشمیر کو اپنی شہ رگ قرار دیتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔ کشمیر کمیٹی کے سربراہ، کمیٹی میں شامل لوگ کشمیر کے حروف ابجد تک سے واقف نہیں۔ صرف کانہ پری سے کام نہیں چلے گا۔ پاکستان بھارت کی نسل کشی پالیسی ، بھارتی فوج کی عوام کو دھمکیاں ،نہتے عوام کے قتل عام سے دنیا کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھنے اور تازہ حقائق دنیا کو سامنے پیش کرنے کا کوئی مستقل بندو بست کرے۔ سفارتی، سیاسی، تجارتی، میڈیا پالیسی کو کشمیر سے منسلک کیا جائے۔ بھارت کشمیریوں پر مظالم اور طاقت کا استعمال توسیع پسندی کی وجہ سے کر رہا ہے۔ اس نے کشمیر کو تجربہ گاہ بنایا ہے۔ پاکستان نے جس امریکہ کے مفاد میں اپنے مفادات کو داؤ پر لگا دیا، وہ امریکہ بھی بھارت کا سٹریٹجک اتحادی بن چکا ہے۔ دنیا میں پاکستان اپنے اتحادی تلاش کرے تو مشکل سے ہی چند نظر آئیں گے۔ اس لئے پاکستان کو چو مکھی جدوجہد کے لئے خود کو تیار کرنا ہے تا کہ اس کا انحصار دیگر ممالک پر کم از کم ہو ۔اس کے برعکس اگر عالمی اور علاقائی سطح پر پاکستان پر دن بدن دیگر ممالک کا انحصار بڑھانے کی جانب توجہ دی جائے تو مستقبل کے لئے زیادہ مناسب ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے قومی ، علاقائی اور عالمی کردار کے لئے کشمیر انتہائی اہم ہے۔ پاکستان کے لئے کشمیر اور کشمیری بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح کشمیر کا پانی۔ آج کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار کشمیریوں کی تحریک اپنے عروج پر ہے۔ عوام نہتے ہونے کے باوجود جدیداسلحہ سے لیس بھارتی فوج کو میدان جنگ میں للکار رہے ہیں اور سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان نے اپنے بجا کردار ادا نہ کیا اور بھارتی مکاری اور جارحیت کو دنیا میں بے نقاب کرنے میں کوتاہی اور سستی دکھائی تو شاید کشمیری آج جیسی کیفیت پھر کبھی قائم نہ کر سکیں۔بھارت انتہائی سفاکی اور جارحانہ طور پر پاکستان کے اندر دہشت گردی جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن بھارت میں لا تعداد بغاوتوں کے باوجود امن ہے۔ اگر کوئی واقعہ ہو جائے تو فوری طور پر پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے صرف یہ نہیں کہا گیا کہ کشمیری جو پتھر بھارتی فوج پر پھینکتے ہیں وہ راولپنڈی سے لائے گئے ہیں۔ باقی وہ سب کچھ کہہ چکے ہیں۔ پاکستان مشکلات سے دوچار ہے۔ مگر اسے کئی محاذوں پر کام کرنا ہے۔ سب نے اپنا کام کرنا ہے۔ اس میں باہمی ربط و ضبط ، تعاون کی بھی مزید ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ یہ نمبر گیم یا کریڈٹ اپنے نام کرنے کا مسلہ نہیں۔ بلکہ ایک ٹیم کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ تعاون سے تمام محاذوں پر کام کرنے کا سوال ہے۔ کشمیری اپنے کردار ادا کر چکے۔ انہوں نے تحریک آزادی کو اپنے خون سے سیراب کیا اورمسلسل ایسا کارنامہ انجام دیا کہ جو شاید آج تک کسی بھی قوم نے انجام نہیں دیا ہو گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219113 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
27 Feb, 2017 Views: 237

Comments

آپ کی رائے