بھارت نے کشمیر کھو دیا

(Ghulam Ullah Kiyani, )
پی چدم برم نے یہ بیان دے کو بھارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔میڈیا پر بحث ہو رہی ہے۔ حکمران بی جے پی وضاحتیں پیش کر رہی ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبد اﷲ کے بیان پر بھی تبصرے ہو رہے ہیں۔چدم برم بھارتی کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں۔ وہ بھارت کے وزیر خزانہ اور وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔سیاست کا 1984 سے آغاز کیا۔ اس سے پہلے بھارتی سپریم کورٹ اور مختلف ہائیکورٹس میں وکالت کر تے رہے ہیں۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے تعلیم یافتہ ہیں۔70سال سے زیادہ عمر ہے۔ اس لئے چدم برم کے اعتراف کو غیر سنجیدہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

چدم برم نے گزشتہ روز ایک تقریب میں حاضرین سے مخاطب ہو کر کہا ،’’آپ میں سے بہت میرا یقین شاید نہ کریں ، لیکن بھارت نے کشمیر تقریباً کھو دیا ہے، دلت اور اقلیتیں ، طلباء، میڈیا سب خوفزدہ ہیں۔ کشمیر میں حالات بہت خراب ہیں۔ بھارت نے کشمیر میں مسلسل غلطیاں کی ہیں ، جن کو اب درست کرنے میں بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘

ملک سابق وزیر داخلہ اور وزیر خزانہ کے حیدر آباد دکن میں دیئے گئے بیان کے بعد بی جے پی نے ان پر حملے کئے ہیں۔ ان کے نزدیک چدم برم کی دماغی حالت درست نہیں یا وہ دماغی توازن کھو چکے ہیں۔ بھارتی وزیر اطلاعات و نشریات وینکیا نائیڈو کا سخت موقف سامنے آیا۔ جس پر چدم برم نے جوابی حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نائیڈو کو کوئی بھی سنجیدہ نہیں لیتا۔ نائیڈو نے کہا کہ چدم برم کا بیان پاکستان کے لئے موسیقی کے مترادف ہے۔ جسے سے علٰحیدگی پسندی کو فروغ اور دہشتگردی کی حوصلہ افزائی ہو تی ہے۔ چدم برم نے کہا’’ کشمیر میں فوج کی تعیناتی کا فیصلہ، اس کے منڈیٹ میں توسیع اور پھر فوجی چیف جیسے شخص کی جانب سے وارننگ جاری کرنا، یہ سب آخری تنکا ہی نہیں بلکہ اونٹ کی پشت پر بچا ہوا گھاس کا آخری تنکا ہے‘‘۔ چدم بدم مزید کہتے ہیں کہ وادی کشمیر کے70لاکھ عوام ہندوستانی حکومت کے جابرانہ طریقوں سے خود کو الگ تھلگمحسوس کرتے ہیں،روزانہ ان پر طاقت کا وحشیانہ استعمال ہو رہا ہے۔ جو خوفناک غلطی ہے۔بھارتی فوجی چیف بپن راوت نے جھڑپ کی جگہ آ کر مظاہرے اور پتھراؤ کرنے والوں کو ملک دشمن قرار دینے کا بیان دے کر حد پار کر دی ہے۔

چدم برم کے بیان سے پہلے خود بی جے پی کے سینئر لیڈر اور ملک کے سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے بھی کشمیر میں بھارت کے خلاف بڑھتی ہوئے نفرت اور غصے کو خطرناک قرار دیا ہے۔ وہ واجپائی کے دور میں بھارت کے وزیر خارجہ تھے۔ جبکہ کوئی ناخواندہ نہیں بلکہ انڈین ایدمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس)ہیں۔ جو پاکستان میں سی ایس ایس کے ہم پلہ ہے۔ ان سینئر لوگوں کی جانب سے بھارت کی کشمیر پالیسی کی کھل کر تنقید بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور پالیسی سازوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھی۔ لیکن وہ اب بھی اس کے لئے شاید تیار اور آمادہ نظر نہیں آتے۔

وزیراعظم نواز شریف جب ملک سے باہر بھارت کے بارے میں دوستانہ بیان دے رہے تھے۔ اس وقت بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھارت میں دہشت گردی اور کانپور ریل حادثہ کی تاریں پاکستان کے ساتھ ملا رہے تھے۔ نومبر2016کو کان پور میں اندور پٹنہ ایکسپریس ریل حادثہ کا شکار ہوئی جس میں 149افراد مارے گئے۔ اس وقت نریندر مودی نے حادثہ کا الزام سرحد پار نیپال کے سر ڈال دیا لیکن آج پاکستان کا نام لے رہے ہیں۔اس پر ایک کمیشن بنا تھا۔ کمیشن آف ریلوے سیفٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ریل حادثہ کسی دہشت گردی سے نہیں ہوا۔ بلکہ ریل کی کوچز پرانی، کیرج اور ویگن میں خرابی، اور ٹائروں کی خراب لائنمنٹ ہی ریل کے پٹری سے اترنے کے بنیادی وجوہات تھیں۔ یہ رپورٹ کمشنر ریلوے سیفٹی پی کے آچاریہ نے تیار کی تھی ۔ ریلوے سیفٹی کمیشن بھارتی شہرای ہوا بازی وزارت کے تحت کام کرتا ہے۔ لیکن ملک کا وزیراعظم اس تکنیکی رپورٹ کو ایک طرف رکھ کر پاکستان دشمنی کی وجہ سے حد پار کر رہا ہے۔ اتر پردیش میں ریاستی انتخابات کے فرقہ ورانہ بنیادوں پر جیتنے کے لئے بھی بی جے پی پاکستان مخالف بیانات کا سہارا لے رہی ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم پاکستان ہمیشہ بھارت کے بارے میں خیر سگالی کا جذبہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ بھارت کو بات چیت کے لئے گھیرے میں لیا جائے۔ تا ہم بھارت پر کسی عسکری،سفارتی یا سیاسی دباؤ کو بڑھائے بغیر میاں صاحب کا جذبہ کام نہیں آ سکتا۔ کیوں کہ بھارت کے پالیسی ساز مکاری میں اپنا کوئی چانی نہیں رکھتے۔ ان کا طرز عمل دھوکہ دہی ہے۔ پاکستان کے خلوص کا وہ جواب عیاری سے دیتے ہیں۔ بھارت آسانی سے کشمیر چھوڑنے پر تیار نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کسی دھوکے ، مغالطے میں نہ رہے۔ تا ہم بھارتی جارحیت کو جس طرح بھارت کے سینئر سیاستدان اور دیگر لوگ بے نقاب کر رہے ہیں، اسے پاکستان دنیا کے سامنے لانے میں کیوں ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 574 Articles with 219126 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
27 Feb, 2017 Views: 340

Comments

آپ کی رائے