میڈ اِن چائنا - Made In China

(Engr.Mazhar Khan, )
 آجکل سی پیک اور گوادر بندرگاہ کا بول بالا ہے اِس میں کوئی شک نہیں کہ سی پیک بہت اہمیت کا حامل منصوبہ ہے یہ چین کا پاکستان کے لیے ایک تحفہ ہے اِس میں پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کے بھی بہت سے فوائد پوشیدہ ہیں معاہدہ کی شرائط کیا ہیں یہ تو اعلیٰ حکام ہی بتا سکتے ہیں جو وہ بلعموم نہیں بتاتے اگر کچھ بتانا مناسب سمجھیں بھی تو عوام کو حقائق کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتے اب اﷲ جانے پس پردہ کیا ماجرہ ہے اور کیا مک مکا ہوا ہے لیکن جس طرح ڈھنڈوراپیٹا جا رہا ایسا لگتا ہے اِس منصوبے کی تکمیل کے ہوتے ہی پاکستان میں دودھ کی نہریں چل پڑیں گی ، غربت بھوک و افلاس ختم ہو جائے گی ، ملکی اندرونی و بیرونی قرضہ اُتر جائے گا ، پاکستان میں دنیا کی ٹاپ کلاس یونیورسٹیاں بن جائیں گی اور پوری دنیا سے لوگ یہاں علم حاصل کرنے آ جائیں گے ، یورپ سے لوگ اپنا علاج کروانے پاکستان کا رُخ کریں گئے، پاکستان پوری دنیا میں انوسٹمنٹ کرے گا ، پاکستانی ٹیکنالوجی پوری دنیا میں چھا جائے گی ، پاکستان کی معیشت دنیا کی طاقتور معیشت بن جائے گی ۔۔؟ یہ انشااﷲ ضرور ہو گا لیکن ابھی بہت وقت چاہیے ہم تو سودی قرضوں کے بغیر چل ہی نہیں سکتے ہماری توسپائنل کارڈ کی مفلوج ہوئی پڑی ہے اس منزل پہ پہنچنے کے لیے پہلے ہمیں اپنا راستہ تو چوز کر لینا چاہیے اور ایسے خواب ہم ابھی افورڈ نہیں کر سکتے یہ بات ہر زبان پہ ہے کہ سی پیک سے یہ ہو جائے گا وہ ہو جائے پاکستان میں انقلا ب آ جائے تو جناب ِ والا یہ دیکھو تو سہی یہ بنا کون رہا ہے چین ! پیسے اُن کے ، انجینئرز اُن کے، مٹیریل اُن کا، مشینری اُن کی ہر چیز تو میڈ اِن چائنہ ہے انقلاب آیا ہے تو چائنہ میں آیا ہے ترقی ہوئی ہے تو چائنہ میں ہوئی ہے آپ تعصب کی عینک اُتار کے اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو آپ کی آنکھیں کُھل جائیں گی کہ پاکستان میں تو ہر چیز چائنہ کی ہے جو چیز بھی بازار سے لینے جاؤ وہ چائنہ کی ہو گی کنگھی ، شیشہ ، جوتے ، پلاسٹک، کیمیکلز، گاڑیاں ، سائیکلز ، موٹر سائیکلز، موبائلز، انرجی سیورز،پلاسٹک فرنیچر، میڈیسن، میڈیکل انسٹرومنٹس، انڈسٹریل مشینز ، لیب انسٹرومنٹس، لیب اور انڈسٹریل کیمیکلز، الیکٹریکل انسٹرومنٹس،سی پیک ، موٹر وے انجینئرز یہ سب میڈ اِن چائنہ ہے محترم اِسے کہتے ہیں انقلاب اور ترقی اور ہمارے ہاں سودی قرضوں سے کسی شہر میں میٹرو بس بنا دی تو ترقی ہو گئی ۔؟چاہیے اپنے ملک کے انجینئرز دھکے کھا رہے ہوں اور دوسرے ملکوں کے انجینئرز یہاں آ کے کام کر رہے ہوں اورہم نے اپنی فیکٹریوں نئی لگانا تو دُور پہلے جو ہیں اُن کو بھی تباہ و برباد کر دیا کیونکہ ہم نے فیکٹریوں کو کیا کرنا ہے ہمارا دوست ملک چائنہ ہمیں ہر چیز بنا کے دے گا اُن کے پاس بہت ساری فیکٹریاں بھی ہیں اور انجینئرز بھی اور ہم اپنی قوم کو اور زیادہ بے روز گار کریں گیں کچھ لوگ خام خیالی کی وجہ سے کہتے ہیں کہ چائنہ یہاں فیکٹریاں لگائے گا یہ کرے گا وہ کرے گا تو میرے بھائی چائنہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا مُلک ہے وہ اپنے ملک میں اپنے لوگوں کو روزگار دیں گیں یا ہمیں۔؟ اور اگر لگائیں بھی سہی تو کتنی ۔؟ دو چار بس ! اور اُن سے کمایا گیا پیسہ وہ کیا ہمیں دیں گے۔؟ اصل میں ہم کچھ کرتے نہیں ہم نے صرف بڑھکیں مارنی ہیں اور لوٹنا ہے اگر چائنہ کے پاس ہر چیز میڈ اِن چائنہ ہے تو ہم بھی کسی سے کم نہیں لو سُن لو پھر ہمارے پاس کرپشن،جعلی ادویات، جعلی ڈاکٹر،جعلی پیر، جعلی مجاہد، جعلی مولوی، اعلی ٰ اخلاق و اعلیٰ تعلیم و تربیت سے مبرا کرپشن زدہ سیاستدان ،پاناما اورسوئٹزرلینڈکے بنکوں میں پیسہ ،دنیا کی تیسری بڑی خطرناک ایئرلائن، دنیا کی پہلی پانچ سو ٹاپ رینکنگ میں بھی نہ ہونے اور کلرکوں کی فوج پیدا کرنے والی یونیورسٹیاں،تھانہ کلچراور تھانہ دار،سفارش کلچر ،بے روزگاری ، غربت ، لاقانونیت، غنڈا گردی ، دہشت گردی ، یہ سب میڈ اِن پاکستان ہے ہم بھی کسی سے کم نہیں اگر چائنہ کی بہت ساری چیزیں میڈ اِن چائنہ ہیں تو ہمارے پاس بھی ہیں آخر ہمارے حکمران عوام کو حقیقت سے آگاہ کیوں نہیں کرتے اور کیوں نہیں بتاتے کہ یہ گلشن کا سارا کاروبار سودی قرضوں سے چل رہا ہے ۔؟اور افسوس ہے میرے ملک کے دانشوروں ،تجزیہ نگاروں اور کالم نگاروں پہ وہ بھی قوم کو اصل حقائق سے آگاہ نہیں کرتے اور لکیر کے فقیر بن کر سیاستدانوں کی طرح عوام کو مِس گائیڈ کرتے ہیں خدا کے لیے قلم کی سیاہی کو خوش فہمیوں اور بد گمانیوں میں ضائع نہ کریں اور لوگوں کو تصویر کے دوسرے رُخ سے بھی روشناس کروائیں لیکن یہ نام نہاد دانشور اور کالم نگار بھی تو میڈ اِن پاکستان ہیں تو حضور والا پاکستان اُس دن ترقی کرے گاجس دن پاکستان سمیت پوری دنیا میں میڈ اِن چائنہ نہیں میڈ اِن پاکستان ہو گا۔میڈ اِن پاکستان ۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr.Mazhar Khan

Read More Articles by Engr.Mazhar Khan: 11 Articles with 4891 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Feb, 2017 Views: 268

Comments

آپ کی رائے