دنیا اصل دہشت گرد کو پہچانے

(Sohail Aazmi, )
گلوبل ٹیررزم انڈیکس رپورٹ 2016-17ء کے مطابق عالمی دہشت گردی ریکارڈ میں دنیا کے 17بدترین ملکوں جہاں پر دہشت گردی بہت زیادہ ہے پاکستان 13ویں نمبر پر ہے۔ جبکہ اس فہرست میں عراق پہلے، افغانستان دوسرے،نائیجیریا تیسری اور بالترتیب شام، مصر، یمن، سوڈان، صومالیہ، لیبیا، تھائی لینڈ، فلپائن، یوکرائن، پاکستان، وسطی افریقی ریپبلک ، شمالی سوڈان، انڈیا کولمبیا شامل ہیں ان ممالک میں اگر آپ مشاہدہ کریں تو تھائی لینڈ، انڈیا کسی حد تک یوکرائن کے علاوہ باقی تمام ممالک میں امریکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ نام نہاد ہشت گردی کو ختم کرنے کی آڑ میں خود دہشت گردی کررہاہے ۔ نائن الیون سے پہلے چند ممالک اس فہرست میں شالم تھے لیکن اب ان کی تعداد آئے روز بڑھتی جارہی ہے اور ان ممالک کے علاوہ بھی دیگر کئی ممالک اپنے آپ کو جن میں کئی یورپی ممالک اور امریکہ بھی شامل ہے غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ مذکورہ ممالک میں چند کے علاوہ نوے فیصد مسلمان ممالک امریکی اور اس کے حلیف ممالک کی خون ریزی، ظلم و بربریت کا شکار ہیں جسکا واحد مقصد مسلمانوں ،اسلام کو بدنام کرنا اور ان کے وسائل پر قبضہ کرناہے۔ ان ممالک کی فہرست میں فلسطین کانام شامل نہیں ہے جہاں پر امریکی اور اسرائیلی مشترکہ دہشت گردی کا شکا رلاکھوں مسلمانوں ہیں۔امریکہ کے نئے صدر جن کی حرکتوں، بیانوں، غیر سنجیدگی، مسخرہ پن او رتارکین وطن خصوصا مسلمانوں کیساتھ جاری دشمن کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے او ریہ قوی امید کی جاسکتی ہے کہ اگر یہ بدزبان چند سال امریکہ کا صدر رہ گیا تو امریکہ کی تقسیم یقینی ہے کیونکہ اس کے آنے کے دن سے خود امریکی عوام اسکے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ اس امریکی صدر نے آتے کے ساتھ ہی اپنے گماشتے اسرائیل کو Backup کرنا شروع کردیاہے کہ وہ فلسطینی مسلمانوں پر مزیدظلم و ستم ڈھائے امریکی حکومتوں کی دنیا بھر میں جاری دہشت گردی کے باوجود آج وہ دنیا میں امن کا پیامبر بنا پھرتاہے۔ لیکن عراق، ا فغانستان، مصر، لیبا، یمن، سوڈان، صومالیہ، شام وغیرہ میں اسکی دہشت گردی پر کوئی واویلا نہیں کرتا۔ الٹا 28ممالک کی نیٹو کی فوج افغانستان اور دیگر ممالک میں اسکی ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنی ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ اور فرانس نے دنیا بھر کو 2016ء میں 59کھرب اور 40ارب کا اسلحہ فروخت کیا صرف امریکہ نے کئی ممالک میں جنگ کو ہوا دیکر 43کھرب اور 20ارب کا اسلحہ فروخت کیا جبکہ دوسرے نمبر پر موجود فرانس نے یہ رپورٹ امریکی اخبار کی تیار شدہ ہے۔ ایک طرف تو امریکہ امن کا علمبردار بنا ہوا ہے او ردوسری جانب وہ کئی ممالک میں جلتی پہ تیل والا کام کرکے اپنا اسلحہ فروخت کرتاہے۔ جس سے اس کی کوشش ہے کہ وہ ڈگمگاتی معیشت کو سنبھالا دے سکے لیکن خدا کی لاٹھی بے آواز ہے اسے اﷲ کی ذات نے افغانستان میں اس بری طرح سے پھنسایا ہے کہ وہاں سے اب وہ تو کمبل کو چھوڑنا چاہتاہے لیکن کمبل اسے چھوڑنے پر تیار نہیں ہے۔ ہر ظالم کے ظلم کی ایک انتہا ہوتی ہے امریکہ کے جاری ظلم اب اپنی آخری حدوں کو چھورہے ہیں اس نے 11ستمبر کا ڈرامہ رچاکر مسلمانوں پر جو دہشت گردی کی وہ اب اسکے اپنے گلے پڑ گئی ہے اور کھربوں ڈالر افغانستا ن میں برباد کرنے کے باوجود اسکے ہاتھ کچھ نہ آیا لیکن امریکہ تمام تر اپنی مسلم کش پالیسیوں ، مسلم ممالک میں انتشار پھیلانے کے باوجود کوئی سبق لینے کو تیار نہیں ہے ۔ الٹا اب داعش کی تخلیق کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں لڑا رہاہے۔ اب توامریکہ کے افغانستان میں حلیف ترکی کے صدر طبیب اردگان نے بھی واضح کردیاہے کہ امریکہ داعش او ر کردوں کی پشت پناہی کررہاہے۔ ترک صدر کے مطابق انہیں پور ایقین ہے کہ امریکہ اور اسکی تمام اتحادی قوتیں شدت پسند گروہوں کی مدد کررہی ہیں جن میں داعش اور کرد گروہ YPG اور PYD شامل ہیں۔ اخبا ر انڈیپنڈنٹ کے مطابق ترک صد رنے کہا کہ داعش کی حمایت کا الزام ہم پر لگایا جاتاہے لیکن ہمارے پاس مصدقہ ثبوت موجود ہیں کہ دہشت گردوں کی مدد میں امریکہ ملوث ہے۔ ایک امریکی نواز تھنک ٹینک کونسل آف فارن ریلیشنز کے سینیئر ممبر میکاز بنکو کے مطابق امریکہ نے یکم جنوری 2015ئی سے دسمبر 2015ء تک صرف ایک سال کے عرصہ میں اسلامی ممالک پر 23ہزار بم برسائے ہمار اپنا ملک جو کہ 60ہزار مسلمانو ں کو دہشت گردی کی جنگ کی بھینٹ چڑھا چکاہے ۔ 119 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانے کے باوجود امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے ۔ دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان بھی نائن الیون سے پہلے زیادہ پر امن اور بہتر ملک تھا یہی حال ملا عمر کے افغانستان کا تھا جو دنیا کے نقشے پر واحد اسلامی حکومت تھی لیکن 28ملکوں کی امریکہ کی قیادت میں فوج افغانیوں کو شکست نہ دے سکی خود ایک امریکی جنرل بولگر جو کہ افغانستان اور عراق میں فوجوں کو تربیت دیتا رہاہے اپنی کتاب میں لکھتاہے کہ میں امریکی جنرل ہوں اور دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہار چکا ہوں وہ بیان کرتاہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز 2001ء کو ہوا جو پاکستان ، عراق، شام، صومالیہ، یمن تک پھیل گئی لیکن کیونکہ امریکہ طویل عرصہ تک چھاپہ مار جنگ لڑنے کی طاقت ، تربیت نہیں رکھتا اسلئے ہم یہ جنگ ہار چکے ہیں۔ اس کے مطابق امریکی جنگ دہشت گردی کے خلاف تھی ہی نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے خلاف تھی مذکورہ دہشت گردی ریکارڈ کے ممالک کی فہرست میں پہلا نمبر امریکہ، دوسرا اسرائیل، تیسرا انڈیا کا ہونا چاہئے تھا لیکن عالمی دہشت گرد امریکہ دونوں لاکھوں مسلمانوں کے قاتل ممالک اسرائیل اور انڈیا کی پشت پناہی کرتاہے ۔ ان کی پیٹھ تھپکتاہے۔ انہیں کھربوں کا اسلحہ فروخت کرتاہے۔ پوری دنیا کی دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن دنیا خصوصا 55اسلامی ممالک نے آنکھیں بند کررکھی ہیں۔ دہشت گرد ملکوں کی فہرست جاری کرنے سے پہلے دہشت گردی کی وجوہات اور اسکے بانی کی پہچان کرنی ہوگی۔ بصورت دیگر امن کا خواب کبھی پورا نہ ہوسکے گا۔ آج 17ممالک فہرست میں شامل ہیں تو کل یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ اور عنقریب ایسا وقت آئے کہ کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہیگا۔ دنیا میں امریکہ کا پھیلاہوا جال اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہے ا سکی یہودی لابی اسلام قبول کرنے کے بڑھتے ہوئے رحجانات سے خائف ہے ان کا بس نہیں چل رہا کہ وہ اس سیلاب کو کیسے روکیں۔ وہ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اپنے پراپگنڈہ کے ذریعے اسلام کے احیاء کو روکنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں لیکن میرے نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ دین اسلام ایک نہ ایک دن ہر کچے پکے گھر میں پہنچ کر رہے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sohail Aazmi

Read More Articles by Sohail Aazmi: 154 Articles with 74063 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Mar, 2017 Views: 530

Comments

آپ کی رائے