لمعاتِ بخشش: امام احمد رضا کی فکر و نظر کا آئینہ

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
ڈاکٹر مشاہدرضوی کی کتاب لمعات بخشش پر مفتی ولی محمد رضوی،سنی تبلیغی جماعت ، باسنی ، راجستھان کا گراں قدر تبصرہ
پیش کش : ڈاکٹر مشاہدضوی آن لائن ٹیم

مفتی ولی محمد رضوی،سنی تبلیغی جماعت ، باسنی ، راجستھان
بحمدہٖ تعالیٰ مجھے ایک فاضل گرامی مولانا محمد حسین صاحب مُشاہدؔ رضویزی زید مجدہٗ کی ایک ’’لمعاتِ بخشش‘‘ نامی کتاب میرے ایك عزیز کے بدست موصول ہوئی ہے ،جو دو سو چالیس صفحات پر پھیلی ہوئی ہے ۔ کتاب پر شہزادۂ گرامی مرتبت آلِ رسول سیدی حسنین میاں نظمی دام ظلہٗ العالی کا گراں قدر مقالہ کتاب کی زینت ہے۔ بعدہٗ شہزادۂ رسول سیدی محمد اشرف میاں قادری برکاتی مارہروی دام ظلہٗ العالی کا مبارک تاثر رونق لیے ہوئے ہے۔ ان کے بعد موجودہ دور میں ایک برق بارنگار شات پیش کرنے والے مشک بار مقالہ نگاری کرنے والے گرامی قدر مولانا ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی زید مجدہٗ کا خوب صورت مقالہ ہے۔ جو اپنی رنگ ترنگ میں مصنف کے حوصلوں کو بلندی دیتا ہوا گل کاری کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

یہ ایک نعتِ رسول ﷺ کا حسین گل دستہ ہےاور مناقبِ صحابۂ کرام رضی المولیٰ عنہم کا چمن ہےاور دیگر اولیاے کرام ، صالحین ِ عظام کی عقیدت کا روح پرور مجموعہ ہے۔ امام احمد رضا رضی المولیٰ عنہ کی فکر و نظر کا آئینہ ہے۔جس کو فاضل نوجوان نے بڑی عرق ریزی ، حسنِ عقیدت و شعریت سے سجا کر پیش کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے اس میدان میں ان کا قلم رواں دواں ہے اور وہ اس عزم وحوصلہ کے ساتھ قلم چلاتے ہیں کہ ان مقدس اشعار اور مبارک فن کے ذریعہ عشقِ رسول ﷺ کا جام سب کو پلادیں اور الفتِ نبی ﷺ کی چاشنی سے سب کو سرشار کردیں ۔بزمِ پیغمبراعظم علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمارے عزیز شاعر نے اس طور پر سجائی ہے کہ اس كی روحانیت اور سرور سے قلب و جگر خوشبوسے مهك جاتے هیں ۔ شاد شاد هوتے هیں ۔ باغ باغ هوتے هیں ۔ بڑی حسین بزم سجائی هے كه قاری پڑھے تو بس پڑھتا چلا جائے اور عقیدت و ادب میں جھومتا جائے ۔

شاعرِ مؤدب نے ہمارے اہل سنت کے اکابر کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا مثلاً: امام احمد رضا ، مفتی اعظم ہند ، تا ج الشریعہ مفتی اختر رضا قادری ، شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی صاحب، مناظر اہل سنت علامہ ارشد القادری علیہم الرحمۃ والرضوان ۔ تاکہ آنے والی نسلیں اپنے محسن و مربی حضرات کو پہچانیں اور اس بات کو جانیں کہ اس سنیت کی بہاریں کیسے کیسے عالی گرامی شخصیات نے خونِ جگر شامل کیاہے تب جاکر اہل سنت کا نورانی قافلہ آگے بڑھا ہے ہے غرض یہ کہ اس جد وجہد اور مساعیِ جمیلہ پر ہمارے گرامی قدر شاعر و ادیب مبارک بادی کے مستحق ہیں ۔ ایسے متحرک و فعال عالم کی حوصلہ افزائی ضرور ہونی چاہیے ۔تاکہ وہ نئے عزائم کے ساتھ خوب کام کریں ۔ بلند حوصلوں کے ساتھ ہوش مندی اور بیداری کانمونہ پیش کریں ۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کہ اردو ادب فروغ پائے مگر وہ بارگاہِ رسالت کے آداب کی مبارک چھاؤں میں آگے بڑھے ۔ فنِ شاعری کا عروج ہو مگر وہ دین و سنیت کی ترجمانی کا حق ادا کرتا ہوا پھولتا پھلتا رہے۔ ہماری حیات کے گوشوں سے ہم غلامِ رسول (ﷺ)ہونے کی شناخت مسلسل قائم کرتے رہیں ۔ تاکہ زمانہ ہماری حرکت و رفتار سے ہم جان لیں کہ ہم کون اور کس کا گن گاتے ہیں ۔ امام احمد رضا کے سُر میں کاش ہم بھی اسی طرح سُر ملائیں ع
دل ہے وہ دل جو تری یاد سے معمور رہا

مولیٰ تعالیٰ اس عشقِ رسولِ کریم ﷺ کی چنگاری کا کوئی ذرّہ ہمارے دل میں ڈال دے اور ہم کو بھی سوزِ عشق کی سے سرفراز کردے ۔آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔مولیٰ ہمارے شاعرِ اہل سنت کے علم و عمل اور فضل و کمال میں دن دونی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے اور ان کو فخرِ اہلِ سنن ہونے کی سعادت سے مسعود فرمائے ۔ آمین ثم آمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ۔
فقط والسلام
ولی محمد رضوی عفی عنہ
خادم سنی تبلیغی جماعت ، باسنی،
۱۰ ؍جمادی الاخریٰ ۱۴۳۲ھ / ۱۴ ؍مئی ۲۰۱۱ء

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 360716 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
07 Mar, 2017 Views: 375

Comments

آپ کی رائے