عاشقِ رسول (ﷺ)محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کا جگمگاتا نعتیہ مجموعۂ کلام ’’لمعاتِ بخشش‘‘ایک جائزہ

(Dr. Muhammed Husain Mushahid Razvi, Malegaon)
ڈاکٹر مشاہدضوی کی کتاب لمعات بخشش پر پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم انصاری
( چیئرمن اردو ، پرشین ، عربک بورڈآف اسٹڈیز نارتھ مہاراشٹر یو نی ورسٹی ، جلگاؤں) کے گراں قدر تاثرات
پیش کش : ڈاکٹر مشاہدرضوی آن لائن ٹیم

’’لمعاتِ بخشش‘‘ایک جائزہ
ٌٔ٭پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم انصاری
( چیئرمن اردو ، پرشین ، عربک بورڈآف اسٹڈیز نارتھ مہاراشٹر یو نی ورسٹی ، جلگاؤں)
چمک جائے مرا ظاہر مرا باطن مر ے آقا
منور قلب ہوجائے مرا لمعاتِ بخشش سے
محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کا پاکیزہ مجموعۂ کلام ـ’’لمعاتِ بخشش‘‘ ہاتھوں میں آتے ہی دل عشقِ نبی کے جذبات سے سرشار ہوجاتا ہے ۔ صرف آنکھوں ہی کو نہیں دل و دماغ کو بھی سروٗر بخشنے والا نیلے رنگ کا دل کش سر ورق جس پر گنبدِ خضرا کی حسین تصویر اپنے جمال کی روشنی بکھیر رہی ہے ، دیکھنے والے کو دیکھتے ہی رہنے پر مجبور کردیتی ہے ۔ سرورق کا دوسرا رُخ اور اس کے اندر کے فولڈنگ پر اتنے جامع مضامین رقم ہیں کہ بے ساختہ زبان سے داد و تحسین کے کلمات نکل پڑتے ہیں۔ ان مضامینِ رنگارنگ قرأت کے ذریعے قاری کے دل میں یہ احساس پیداہوجانالازمی ہے کہ صنفِ شاعری میں حمد و مناجات اور پھر نعت شریف کاسب سے اعلیٰ مقام ہے۔
سید آلِ رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی نے صاف طور پر تحریر فرمایا :
’’ شاعری ایک وجدانی کیفیت کانام ہے۔ ‘‘
سید محمد اشرف قادری برکاتی مارہروی لکھتے ہیں :
’’ فنِ نعت کسبی نہیں وہبی ہے ۔ یہ صرف عطاے الٰہی سے حاصل ہوتا ہے ۔‘‘
ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی نے بڑے زرین خیالات کا اظہار کیا ہے ۔ فرماتے ہیں :
’’ یہ نعتِ نبی ﷺ کی بات ہے ۔ یہاں نہ بے ہوش جوش کی ضرورت ہے نہ بے جوش ہوش کی گنجایش ہے ۔ یہاں تو باہوش جوش اور باجوش ہوش چاہیے ۔‘‘
’’لمعاتِ بخشش‘‘ کے شروع کے چوبیس صفحات نثر سے پُر ہیں ۔ صفحہ نمبر ۳؍ سورۂ توبہ کی آیت نمبر۲۴ مع ترجمہ سے مزین ہے جس کا وہ حسین عنوان ’’جاں نثاری و فداکاری ‘‘ہے۔ صفحہ نمبر ۴؍ ’’سرمستی و سرشاری ‘‘ کے عنوان سے بخاری شریف کی ایک حدیثِ پاک کا آئینہ دار ہے ۔ صفحہ نمبر ۵ سے صفحہ نمبر ۱۲ تک ’’لمعاتِ بخشش‘‘ کے شاعر محمد حسین مُشاہدؔرضوی نے ’’نذرانۂ عقیدت ‘‘ ، ’’ارمغانِ خلوص‘‘، ’’انتساب‘‘ اور ’’سرنوشت‘‘ کے عنوانات کے ذریعے اپنے پاکیزہ خیالات کی روشنی بکھیری ہے۔ یہ صفحات عشقِ نبوی ﷺ کی مہکار سے مُشک و عنبر کی طرح مہک رہے ہیں ۔ اس کے بعد صفحہ نمبر ۱۳سے ۱۶تک سید آلِ رسول حسنین میاں نظمیؔ مارہروی نے
’’اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے ‘‘
اس موضوع پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور محمد حسین مُشاہدؔ رضوی اور اُن کی شاعری کا بڑے اچھوتے انداز میں تعرف پیش کیا ہے اور اپنی قیمتی آرا سے بھی نوازا ہے ۔ اسی طرح صفحہ نمبر ۱۷ اور ۱۸ پر سید محمد اشرف قادری برکاتی مارہروی نے ’’اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ‘‘ کو موضوعِ سخن بناکر مُشاہدؔ رضوی کو دعائیں دی ہیں۔ بعد ازاں حضرت ڈاکٹر غلام جابر شمس مصباحی نے صفحہ نمبر ۱۹ یا ۲۴ خوب صورت الفاظ اور حسین جملوں کی بارش ہے ۔ ’’ہزار بار بشویم دہن ز مُشک و گلاب‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا گیا اُن کا یہ مضمون مُشاہدؔ رضوی کی شخصیت اور شاعری پر بڑے اچھے انداز میں روشنی ڈالتا ہے ۔
اب آئیے آگے بڑھتے ہیں ؎
اے مُشاہدؔ حمد و نعت و منقبت
روح کی تسکین ہیں دل کا قرار
صفحہ نمبر ۲۵ پر اس شعر کے ذریعے اُن کے کلامِ بلاغت نظام کی شروعات ہوتی ہے ۔ سب سے پہلے حمد اور مناجات کا سلسلہ ہے۔ صفحہ نمبر ۳۶ تک حمد اور مناجات کے نہایت اچھوتے اشعار بکھرے ہوئے ہیں ۔ حمدِ باریِ تعالیٰ میں جب اُن کا قلم گویا ہوتا ہے تو کیسے خوب صورت اشعار صفحۂ قرطاس پر بکھرتے ہیں ، ملاحظہ کیجیے ؎
بطونِ سنگ میں کیڑوں کو پالتا ہے تو ہی
صدف میں گوہرِ نایاب ڈھالتا ہے تو ہی
جو لوحِ ذہنِ مُشاہدؔ میں بھی نہیں یارب
وہ حرفِ تازہ قلم سے نکالتا ہے تو ہی
حمد ہے بے حد مرے پروردگار
ہے تو ہی معبود تو ہی کردگار
ذرّے ذرّے کا تو ہی مسجودہے
ہے تو ہی معبود اے پروردگار
خدایا! ہر اک جہاں ہے تیرا
زمیں ہے تیری زماں ہے تیرا
ہے تیرے نور سے روشن جہاں مرے اللہ
ہے تیرے فیض کا دریا روں مرے اللہ
خدایا! حاملِ آدابِ بندگی کردے
ہر این و آں سے جُدا میری زندگی کردے
ترے ہی نور سے تابندگیِ عالم ہے
مٹاکے ظلمتیں تو بخش روشنی دل میں
نصیب کردے مُشاہدؔ کو اطمینان و سکون
نہ آنے پائے خداوندا بے کلی دل میں
حمد ومناجات کے بعد نعتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو صفحہ نمبر ۱۶۰ تک پھیلا ہوا ہے ۔ محمد حسین مُشاہدؔ رضوی کی نعتوں کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ انھوں نے ہر نعت کا ایک خوب صورت سا عنوان بھی دیا ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ عنوان انھوں نے اپنی نعت ہی سے اخذ کیا ہے ۔ یہ خوب صورت ، پاکیزہ اور روشن نعتیں اُن کی زندگی کا برا قیمتی سرمایہ ہیں اور اس بات کی بیّن دلیل ہیں کہ اُن کا سینہ عشقِ رسول ﷺ سے لبریز ہے ۔ سرورِ انبیا حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ڈوب کر جب اُن کا قلم گویا ہوتا ہے تو کیسے کیسے حسین اشعار صفحۂ قرطاس پر بکھرتے ہیں ، ملاحظہ فرمائیں ؎
آقا سے ہم کو درسِ مساوات کے طفیل
انسان دوستی کا اصولِ حسیں ملا
قاہرہ بھایا نہ مجھ کو کاشغر اچھا لگا
مجھ کو تو بس دوستو! طیبہ نگر اچھا لگا
اے مُشاہدؔ نعت گوئی عاشقوں کا کام ہے
سیکھنا احمدرضاؔ سے یہ ہنر اچھالگا
وہ وحدانیت کا پرستار ہوگا
رسالت کا جس دل میں اقرار ہوگا
شفاعت وہ کردیں گے جس اُمتّی کی
وہ جنّت میں جانے کا حق دار ہوگا
آقاے نامدار مدنی تاج دار صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و توصیف جیسی اللہ تبارک و تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے کوئی اور کہاں بیان کرسکتا ہے ۔ اس کا اعتراف مُشاہدؔ رضوی اپنے اشعار میں اس طرح کرتے ہیں ؎
ہر ایک وصف تو خالق نے آپ کو بخشا
احاطہ کس طرح کوئی کرے فضائل کا
ہمارے لفظ ہیں بے بس ثناے سرور میں
کہ جب قرآن ہے رطب اللساں شمائل کا
صبیح آپ صباحت کی آبروٗ بھی آپ
ملیح آپ ملاحت کی آبروٗ بھی آپ
زبان گنگ فصیحانِ کائنات کی ہے
فصیح آپ فصاحت کی آبروٗ بھی آپ
مُشاہدؔ رضوی جب معراج کا واقعہ بیان کرتے ہیں تو فرماتے ہیں ؎
کوئی انسان وہاں پہنچا ہے نہ پہنچے گا کبھی
آپ چھوڑ آئے جہاں نقشِ قدم آج کی رات
الغرض مُشاہدؔ رضوی کی نعتیں چاند ستاروں کی طرح جگمگا رہی ہیں ۔ ہر نعت نمونتاً پیش کیے جانے کے قابل ہے۔ پڑھتے جائیے اور سر دُھنتے جائیے ۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں اور کچھ حد تک لطف اندوز ہوجائیں کیوں کہ مکمل لطف تو کتاب کے مکمل مطالعہ ہی پر آئے گا ؎
نکالا ہم کو جہالت کے اندھے غاروں سے
نہ آیا جگ میں کوئی میرے رہنما کی طرح
جب سے غمِ رسول کی لذّت سے آشنا ہے دل
واللہ! میں تو ہوگیا آلامِ جاں سے دور دور
غارِ حراسے نکلی تھی عرصہ گذر گیا
اب بھی ہے خوب روشن قرآن کی شعاع
سب کو سیدھا رستہ چلایا ، نیک بنایا ایک بنایا
عظمت کے مینار محمد صلی اللہ علیہ وسلم
سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عاشقِ صادق جسے دُنیا مُشاہدؔ رضوی کے نام سے جانتی ہے ، اپنے نعتیہ اشعار میں اللہ پاک سے جب دُعا بھی مانگتا ہے تو عشقِ رسول ﷺ ہی کی دُعا مانگتا ہے ؎
تو رکھنا دل میں مُشاہدؔ کے دائماً اللہ
وِلاے سرورِ کونین کا دِیا روشن
خدایا! چشمِ طلب کا جہاں نمائی دے
جہاں سے دیکھوں مدینہ مجھے دکھائی دے
خدایا! اور کوئی غم نہ ہوگا پھر مجھ کو
نبی کے غم سے نہ مجھ کو کبھی رہائی دے
صفحہ نمبر ۱۶۰ پر ایک مرصّع دُرود و سلام پر نعتوں کا سلسلہ مکمل ہوتا ہے ۔ جس میں مُشاہدؔ رضوی دل کی گہرائیوں سے ارشاد فرماتے ہیں ؎
طیبہ کے تاجدار پہ لاکھوں سلام ہو
محبوبِ کردگار پہ لاکھوں سلام ہو
اس کے بعد صفحہ ۱۶۱ سے مناقب و قصائد کا دل نشیں سلسلہ ہے۔ خلفاے راشدین رضی اللہ عنہم ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ،غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ اور بہت سارے بزرگانِ دین اور اولیاے کرام سے متعلق مُشاہدؔ رضوی نے عقیدتوں کا اظہار کیا ہے۔
قطعات نگاری میں بھی مُشاہدؔرضوی کا جواب نہیں ہے ؎
ارضِ جنّت کی طلب میں کیوں گذاروں زندگی
روبرو ہو سبز گنبد اور واروں زندگی
میرے قلب و روح کی آلایشیں ہوجائیں پاک
عشقِ احمد کے سہارے جو سنواروں زندگی
اخیر کے ۳۶ صفحات پر مُشاہدؔ رضوی کی تحریر کردہ آزاد منظومات ہیں جو ’’لمعاتِ بخشش‘‘ کی زینت ہیں ۔ ان کے تمام کلام کی طرح منظومات بھی اپنی برجستگی ، شیفتگی اور شستگی کا لوہا منوارہی ہیں۔ کتاب کی تکمیل میں محمدرضا مرکزی مرکزالدراسات الاسلامیہ جامعۃ الرضا ، بریلی شریف کے جامع مضمون پر ہوتی ہے ، جس میں انھوں نے ’’محمد حسین مُشاہدؔ رضوی۔ اک تعارف‘‘ کے عنوان پر بہترین انداز میں مضمون نگاری کی ہے ۔
(ماخوذ:۔ صریرِ خامہ: از: ڈاکٹر محمد سلیم انصاری ،شائع کردہ: نیو وائسس پبلی کیشن، اورنگ آباد،۲۰۱۳ء ، صفحہ ۱۶ تا ۲۱)

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi

Read More Articles by Dr. Muhammed Husain Mushahi Razvi: 409 Articles with 353946 views »


Dr.Muhammed Husain Mushahid Razvi

Date of Birth 01/06/1979
Diploma in Education M.A. UGC-NET + Ph.D. Topic of Ph.D
"Mufti e A
.. View More
07 Mar, 2017 Views: 315

Comments

آپ کی رائے