چکوال کے سیاستدانوں کی آپس میں رشتہ داریاں اور بیچاری عوام

(Javed Iqbal Anjum, )

میں سب سے پہلے اپنے محترم قارئین کا تہہ دل سے مشکور ہوں جو میرے کالم کو پسند کرتے ہیں اور پاکستان، دُنیا بھر سے مجھے خوبصورت پیغامات اور فون کالز کرتے ہیں۔ یقینا آپ لوگوں کا یہ حوصلہ ہی مجھے بہت بڑی تقویت دیتا ہے جس کی وجہ سے عوامی مسائل کو ارباب اختیار تک پہنچانے کی ادنیٰ سی کوشش کرتا ہوں۔ آج کا کالم بھی خالصتاً عوامی کالم ہو گا۔ اس قلم سے عوام کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اگرچہ میں نے اس کا عنوان چکوال کے سیاستدانوں کی آپس میں رشتہ داریوں کو موضوع بنایا ہے مگر پورے پاکستان کا یہی حال ہے۔ ایک طرف محمد زبیر مسلسل ٹی وی ٹاک شوز میں پی ایم ایل (ن) کی حمایت کر کر کے سپریم قیادت کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے بعد گورنر سندھ بن جاتے ہیں جبکہ دُوسری طرف اُنہی کے بھائی اسد عمر پی ٹی آئی کے ایم این اے کی سیٹ پر موجود ہیں۔ دونوں بڑی جماعتوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دونوں کو سیاست کی اچھی سمجھ آگئی ہے یعنی یہاں پر سیاست کی جس کو اچھی سمجھ آجائے سمجھ لیں کہ وہ عوام کو بے وقوف بنانے کا ماہر بن چکا ہے۔ چکوال کی سیاست میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔ سابق ضلعی ناظم سردار غلام عباس جن کے پاس چکوال کا سب سے زیادہ ذاتی ووٹ بنک موجود ہے اس وقت وہ پی ایم ایل (ن) کے ساتھ ہیں، کتنے دنوں کے لئے ہیں اس کا اندازہ نہیں، چونکہ بے شمار پارٹیاں بدل چکے ہیں۔ سابق تحصیل ناظم سردار آفتاب اکبر خان ان کے بھتیجے ہیں۔ سردار اشرف خان اور سردار آفتاب اکبر خان آپس میں ماموں بھانجا ہیں۔ سردار اشرف خان نے پی ٹی آئی کے راجہ یاسر سرفراز کی پھوپھو سے شادی کی۔ راجہ یاسر سرفراز ایس ایس پی مہدی خان کے گھر سے شادی شدہ ہیں۔ سردار ممتاز ٹمن کا بیٹا سردار خضر حیات کے گھر سے شادی شدہ ہے۔ سابق ایم پی اے سردار خرم نواب (مرحوم) بھی سردار خضر حیات کے گھر سے شادی شدہ تھے۔ سردار آفتاب اکبر خان کی ہمشیرہ ایم پی اے چوہدری لیاقت علی خان کے ہم زلف سے شادی شدہ ہیں۔ سردار آفتاب اکبر اور سردار اظہر عباس (جو حال ہی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں) آپس میں سگے خالہ زاد ہیں۔ سردار اظہر عباس، سردار آفتاب اکبر کے سالا صاحب بھی ہیں۔ راجہ یاسر سرفراز کی ہمشیرہ سردار اشرف (مرحوم) کے بیٹے سے شادی شدہ ہے۔ پیپلز پارٹی کے شاہ جہان سرفراز راجہ اور پی ٹی آئی کے راجہ یاسر سرفراز آپس میں چچا زاد بھائی ہیں۔ ایم پی اے چوہدری لیاقت علی خان، اُن کی بیگم عفت لیاقت علی خان ایم این اے جبکہ اُن کے دونوں بیٹے چوہدری حیدر سلطان اور چوہدری شہریار سلطان مستقبل کے ایم این اے اور ایم پی اے ہیں۔ صوبائی وزیر اور ایم پی اے ملک تنویر اسلم سیتھی اور اُن کے والد بزرگوار ملک اسلم سیتھی چیئرمین یونین کونسل منارہ ہیں۔ ایم این اے حلقہ این اے 60 میجر (ر) طاہر اقبال اور اُن سے بھی پہلے اُن کے چچا بزرگ سیاسی رہنما لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد المجید ملک (مرحوم) اور اب ایم این اے میجر طاہر اقبال کے بھائی ملک نعیم اصغر اعوان چیئرمین یونین کونسل جند اعوان ہیں۔ سابق تحصیل ناظم تلہ گنگ ملک سلیم اقبال اور اب اُن کے نواسے اور متوقع اُمیدوار حلقہ پی پی 23 ملک شہریار اعوان جو کہ ایم پی اے ملک ظہور انور (مرحوم) کے بھتیجے ہیں۔ اسی طرح بیگم عفت لیاقت علی خان کا ایک بھائی سردار آفتاب اکبر خان کی بہن سے شادی شدہ ہے۔ سابق ایم پی اے اور پارلیمانی سیکرٹری چوہدری اعجاز حسین فرحت کی شادی سابق ناظم ماما خان بہادر سے ہوئی ہے اور ان کی ایک ہمشیرہ کی شادی کوٹ چوہدریاں، دُوسری کی دُلہہ اور تیسری کی کالس خاندان میں ہوئی ہے۔ معروف نعت خوان عبد الرزاق جامی (جو خود کو سب کچھ سمجھتے ہیں) ان کے بیٹے سلطان رضا جامی زکوٰۃ و عشر کمیٹی ضلع چکوال کے چیئرمین ہیں۔

یہ تو تھیں رشتہ داریاں۔ اب آپ عوام کا اندازہ خود کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک کی 20 کروڑ کی آبادی پر چند بڑے خاندان قابض ہیں۔ انہی خاندانوں کے افراد مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے ہیں اور آپ کو حیرت ہو گی کہ اگر ایک بھائی پی ایم ایل (ن) میں ہے تو دُوسرا پی ٹی آئی اور تیسرا پاکستان پیپلز پارٹی میں ہو گا۔ غرض ان لوگوں نے پارٹیاں تقسیم کی ہوئی ہیں جبکہ عوام کی حالت یہ ہے کہ عوام الیکشن پر صرف دُوسری پارٹی کو ووٹ ڈالنے کی وجہ سے ایک دُوسرے کا سر پھاڑنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ کئی کئی سال تک بات چیت بند کرتے ہیں۔ ایک الیکشن ختم ہوتا ہے اور دُوسرا الیکشن آجاتا ہے مگر بھائی کی بھائی سے بات چیت بند ہوتی ہے۔ جس عوام کی خاطر یہ حلف لیتے ہیں، ووٹ لیتے ہیں جب اقتدار میں آتے ہیں تو اُسی عوام کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ پھر اسی عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ عوام کے ساتھ تعلق صرف ووٹ لینے کی حد تک ہوتا ہے۔ جیسے ہی ووٹ لے لیا پھر تعلق ختم ہو جاتا ہے۔ ایم این اے، ایم پی اے پھر اپنے اپنے ووٹرز کے تبادلے رکوانے اور جن جن غریبوں نے ووٹ نہیں دئیے ہوتے اُن کے دُور دراز علاقوں میں تبادلے کرانے پر مامور ہو جاتے ہیں۔ شاید ان کے نزدیک اسی کو عوامی خدمت کہا جاتا ہے۔ کاش آپ کو کبھی سیاسی ڈیروں پر جانے کا اتفاق ہو تو وہاں پر آپ کو صبح صبح ہی اتنا رش نظر آئے گا جیسے وہاں کوئی نظر نیاز تقسیم ہو رہی ہو۔ عوام کو بھی شاید تھانے، کچہری اور تبادلوں کے علاوہ کچھ اور نہیں چاہئے۔ اگر چاہئے ہوتا تو میرے وطن کا یہ حال نہ ہوتا۔ جب تک خود عوام کو سمجھ نہیں آئے گی کہ منتخب نمائندوں سے کام کیا لینا ہے اُس وقت تک یہی حال رہے گا۔ سوچنا یہ ہے کہ کب عوام کو اس بات کا احساس ہو گا کہ منتخب نمائندے اُن کی خدمت کے لئے منتخب کئے جاتے ہیں جبکہ ایم این اے، ایم پی اے منتخب ہونے کے بعد عوام سے خدمت کرانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ بات جس دن عوام کو سمجھ آگئی اُس دن یقینا میرا وطن دُنیا کا بہترین وطن بن جائے گا۔ یہاں پر کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ سب کچھ یہاں موجود ہے۔ یہاں پہاڑ ہیں، نباتات ہیں، دریا ہیں، سمندر ہیں، وسیع میدانی علاقہ، پہاڑوں میں چھپے ہوئے وسیع خزانے موجود ہیں۔ یہاں پر اگر کمی ہے تو صرف اور صرف ایسے ارباب اختیار کی جو خالصتاً عوام کی خدمت پر مامور ہوں اور اُن کو وطن سے اُتنا ہی پیار ہو جتنا اُن کو اپنا بینک بیلنس بڑھانے سے پیار ہوتا ہے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ پاکستان دُنیا کا اُبھرتا ہوا اور ترقی کرتا ہوا پاکستان آپ کو نظر آئے گا اور یقینا اُس پاکستان میں صرف عوام کی بات ہو گی اور عوامی منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کی بات ہو گی۔ ایسا کبھی بھی نہیں ہو گا کہ اگلے انتخابات آجائیں اور پچھلے انتخابات کے وعدے ابھی پورے نہیں ہوئے ہوں۔ پورا کا پورا شہر چلا چلا کر اپنی بے بسی کی داستان سنا رہا ہو اور یہ بتا رہا ہو کہ اس شہر کا کوئی پرسان حال نہیں۔ کاش عوام کو سمجھ آجائے اور اُن کو اپنا اصلی حق لینے کا طریقہ بھی آجائے۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
٭٭٭٭٭
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 35294 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Mar, 2017 Views: 448

Comments

آپ کی رائے