ہمارا گھر مندر بن گیا تھا

(Munir Bin Bashir, Karachi)
گھروں سے دریافت ہونے والی عجیب اشیا ------ کوئی مالا مال تو کوئی خوف سے نڈھال
آئیے دیکھیں پاکستان کے گھروں سے کیا کیا نکلا -
ہماری ویب کے ایک مضمون سے متاثر ہو کر یہ دوسرا مضمون بھی تو نکلا

راولپنڈی میں ابن صفی مرحوم کے سسر مرحوم کی دہری دیوار والا مکان - یہ تصویر ابن صفی مرحوم کی شادی کے وقت کھنچی گئی تھی

یادش بخیر -- یہ ہماری ویب کے آرٹیکل بھی کیا خوب ہوتے ہیں کہ یادوں کی کشتی کو ماضی کے مختلف وادیوں میں لے جاتے ہیں -
ایک مضمون دیکھئے کچھ اس طرح لکھا ہے کہ “ گھروں سے دریافت ہونے والی عجیب اشیا٬ کوئی مالا مال تو کوئی خوف سے نڈھال “
اس میں مغربی ممالک میں مختلف گھروں سے پرانے مکینوں کی چھوڑی ہوئی اشیا کے بارے میں بتایا گیا ہے - آسٹریا میں کسی گھر میں مکین کو باتھ روم کی دیوار سے ایک کوریائی میزائل ملا - ایک امیر جرمن باشندے کو اپنے گھر کے تہہ خانے سے جنگِ عظیم کے دور کے ہتھیار ملے جن میں ایک ٹینک اور توپ بھی شامل تھی- اسی طرح ایک دوسرے ملک چیک ری پبلک میں گھر کے اندر کسی کام کے سبب کھدائی کی گئی تو کسی گرجا گھر کی چار صد سال پرانی گھنٹی ملی -
لیکں یہ حیرانی کی بات نہیں ہے - پاکستان مین بھی ایسی اشیا نکلتی رہتی ہیں -
اور ایسی ہی کچھ اشیا مجھے ماضی کی وادیوں میں لے جا رہی ہیں --

نوشکی -بلوچستان کا ایک دور افتادہ مقام ہے جو تقریباً ایران جانے والی شاہ راہ پر واقع ہے - یہ قصبہ انگریزوں نے نہایت ہی منصوبہ بندی سے بنایا تھا - تمام سڑکیں گلیاں کشادہ اور ایک دوسرے کے سے قائمہ زاویہ بناتی ہوئی ملتی ہیں - یہ 1954 -55 کا زمانہ تھا -ہم اسی خوبصورت قبضے میں رہتے تھے - مکان کا نمبر بھی ابھی تک یاد ہے - یہ 102 تھا - انگریزوں نے اپنے لئے ایک ٹینس کورٹ بھی بنایا ہوا تھا - جس کے فرش پر ہم خانے بنا کر اسٹاپو وغیرہ کھیلا کرتے تھے -

قیام پاکستان سے قبل یہاں ہندو کافی تعداد میں تھے کیونکہ ارد گرد کے علاقوں کے لئے یہ ایک بہت بڑا تجارتی مرکز تھا اور ہندو اس تجارت کے کرتا دھرتا تھے - قیام پاکستان کے بعد کافی تعداد میں ہندو یہاں سے ہجرت کر کے بھارت چلے گئے تھے لیکن پھر بھی ان کی ایک کافی تعداد رہ گئی تھی -

ایک دن اباجان مرحوم نے گھر کے صحن میں کیاری بنا کر مختلف پھول لگانے کا ارادہ کیا - دروازے کے قریب ہی ایک مناسب جگہ دیکھ کر کھدائی کی - ہم بچے بھی اباجان کا ساتھ دے رہے تھے اور مٹی اٹھا اٹھا کر قریب ہی ڈھیر کرتے جا رہے تھے - اچانک ایک چھوٹا سا پتھر نیچے گرا - میں چونک گیا کہ پوری مٹی میں پتھر نہین تھا یہ کہاں سے نکل آیا - اسے اٹھایا اور اسے دیکھنے لگا - بھائی جان جو قریب ہی کھڑے تھے انہیں بھی تجسس ہوا اور وہ بھی کام چھوڑ کر میرے قریب آگئے اور اسکی مٹی صاف کر نے لگے - اور ہماری حیرت کی انتہا نہیں رہی کہ وہ پتھر نہیں تھا بلکہ ایک گائے کی شکل کا کھلونا تھا ۔ میں اس وقت چار پانچ برس کا تھا - میں نے تو اسی وقت اس سے کھیلنا شروع کردیا -
اباجان مرحوم نے کیاری میں بیج بودئے - ایک دو پنیریاں بھی اباجان مرحوم نے کہیں سے لا کر لگا دیں - ایک دو دن گزر گئے - ہم نے گائے کی جانب زیادہ توجہ نہیں دی-
نہ جانے ہندووں کو کیسے اس کا علم ہو گیا -
غالباً باجی مرحومہ یا بھائی جان میں سے کسی نے اسکول میں میں تذکرہ کیا تھا اور کسی ہم جماعت کو وہ گائے دکھائی بھی تھی - اس کے بعد تو ہندو خواتین کا ہمارے گھر تانتا بندھ گیا- وہ نہ جانے کیا کیا چیزیں لے کر آتیں ، اور اس مقدس پوتر د ھرتی جہاں سے لکڑی کی گائے نکلی تھی کے پھیرے لگا تیں - پھر کسی نادیدہ ہستی کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کرتیں اور سر نہوڑائے بیٹھ جاتیں - دھیمی دھیمی آواز میں کوئی اشلوک پڑھتیں - اس کیاری کی مٹی کو اپنی انگلی سے چھوتیں اور نہ جانے کیا رسومات کرتیں - ان کے پاس ایک چھوٹی سی گھنٹی ہوتی تھی اسے ہلکی ہلکی آواز میں بجاتی تھیں - ان کی کوشش ہوتی کہ جب والدین نہ ہوں اس وقت آئیں اور اپنی رسومات ادا کریں - یہ کیا ہو رہا تھا اس کا تو ہم بچوں کو علم نہیں تھا لیکن ان کے آنے سے ہم خوش بہت ہوتے تھے کیوں کہ وہ طرح طرح کی مٹھائیاں ' لڈو وغیرہ پیتل کی تھالیوں میں رکھ کے لاتیں اورکیاری کے گرد ان کو لیکر گھومتں اور ہمیں بھی پرشاد ہے کہہ کر دیتی تھیں - ہمارا گھر تو ایک قسم کا مندر بن گیا تھا- بعد میں امی آتیں تو ہمیں بہت غصہ ہوتی تھیں - خیر بعد میں اباجان نے وہ گائے وہاں کے ایک معتبر ہندو کو دے دی تھی - ہندو اس مقام سے بہت سی مٹی بھی کھود کر لے گئے تھے - ان کا کہنا تھا کہ یہ پوتر مٹی ہے - اس کے بدلے میں ہندوؤں نے کہیں اور سے مٹی لا کر ڈال دی تھی -


اسطرح کا ایک قصہ ابن صفی (مشہور جاسوسی ناول نگار -- عمران فریدی اور کیپٹن حمید کے کرداروں کے خالق ) کے فرزند جناب احمد صفی بھی بیان کرتے ہیں - وہ کہتے ہیں کہ راولپنڈی میں نانا ابو کو جو گھر فوج کی طرف سے الاٹ ہؤا وہ اس سے قبل کسی ہندو خاندان کا تھا جو ہجرت کر گیا تھا۔۔ والدہ مرحومہ نے بتایا کہ ایک کمرے کی دیوار دہری بنی ہوئی تھی اور اس پر ہا تھ مارتے تو جیسے برتنوں کے جھنجھنانے کی آواز آتی تھی۔۔۔ نانا ابو کے سخت حکم کی وجہ سے کسی نے بھی اس دیوار کو نہ چھیڑا - بعد کو جب یہ مکان کسی اور کو بیچا گیا تو یہ معلوم ہؤا کہ انہوں نے اس دیوار کو توڑا تو اندر سے گر ہستی کا پورا سامان برآمد ہوا ۔ شائد کسی کے جہیز کے لیے رکھا گیا تھا ۔۔۔ اور نہ جانے اس سامان کے علاوہ کیا کیانکلا ہو جس کا پتہ ہی نہ چل سکا۔۔۔ ہجرت کے زمانے میں ایسے بہت سے واقعات ملتے ہیں -

اس طرح کا ایک واقعہ جنگ اخبار کے کالم "ناقابل فراموش " میں بھی چھپا تھا - ایک مسلمان خاندان بھارت سے ہجرت کر کے آیا تو اس خاندان کو کراچی میں کوئی فلیٹ الاٹ ہوا - وہ اس میں رہنے لگے - ایک دن کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا تو پتہ چلا کہ کوئی اجنبی ہے -اس نے بتایا کہ وہ ہندوستان سے آیا ہے اور ہجرت سے پہلے اسی فلیٹ میں رہتا تھا - اس نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندو ہے - دو تین دن فلیٹ میں آتا رہا - پھر ایک دن اس نے راز دارانہ انداز میں کہا کہ اس کے پاکستان آنے کا ایک مقصد ہے - اس نے یہ بھی کہا کہ محلے والے اس خاندان کے اخلاق، کردار اور ایمانداری کی بہت تعریف کر رہے تھے - اس ہندو نے کہا کہ یہ سب کچھ معلوم کر نے کے بعد اسے امید واثق ہے کہ مقصد میں کامیابی ہو جائے گی - اس تمہید کے بعد اس ہندو نے کہا کہ بٹوارے کے وقت جب وہ ہندوستان جا رہا تھا تو اس کے پاس بہت سا سونا تھا لیکن اس وقت کے حالات میں اسے لے جانا بہت دشوار تھا - آخر اس ہندو کو ایک ہی حل سمجھ میں آیا کہ سونا اسی فلیٹ میں چھوڑ دیا جائے اور بعد میں حالات صحیح ہو جائیں تو لے جائے - اس ہندو نے سونے کو باریک سی تار میں تبدیل کیا اور گھر کی چھت اور دیواروں میں بچھی ہوئی بجلی کی تاروں کے ساتھ ساتھ یہ سونے کی تار بھی بچھادی - اس ہندو نے کہا کہ اب اسکی بہن یا بیٹی کی شادی ہے اور وہ اس امید پر پاکستان آیا ہے کہ اسے اپنا سونا مل جائے گا

پاکستانی نے بغیر کسی تردد کے کہا " مجھے تو اس کا علم نہیں لیکن جناب یہ آپ کی امانت ہے -آپ بلا کسی تامل کے اپنی امانت لے جا سکتے ہیں "
ہندوستان سے آئے ہوئے فرد کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا - وہ تو سوچ کر آیا تھا کہ نئے مالک مکان کو اس میں سے نصف حصہ دے دے گا لیکن یہاں تو ایسی کوئی بات ہی نہیں تھی - خیر قصہ مختصر سابق مالک نے پوری رات لگا کر بجلی کی تاروں کےساتھ لگا ہوا اپنا سونا نکال لیا - اس نے نئے مالک مکان کو ایک بار پھر اپنی پیش کش دہرائی لیکن پاکستانی کا کہنا تھا کہ وہ شے جس کا مکان سے کسی طرح کا تعلق ہی نہیں بنتا وہ کیسے لے سکتا ہے -
قصہ مختصر ہندوستانی باشندے نے سونے کی تاریں لیں - اس نے جانے کیا انتظام کئے تھے کہ بخیریت اپنے ملک چلا گیا - وہاں جا کر خیریت سے پہنچ جانے کی اطلاع دی- دو مہینے بعد اس کی طرف سے شادی کارڈ بھی آیا جس میں اس پورے پاکستانی خاندان کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی-

ناقابل فراموش میں شائع شدہ کہانی سے اندازہ ہوتا تھا کہ یہ غالباً 1960 یا 1961 کا قصہ ہے - ہمارے بزرگ بتاتے ہیں کہ جب وہ مشرقی پنجاب یا بھارت کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان آئے اور الاٹ شدہ مکان میں داخل ہوئے تو ایسے لگتا تھا کہ اصل مکین کہیں نزدیک ہی گئے ہیں - جانے والے ہندؤں کو کامل یقین تھا کہ واپس اپنے گھروں میں آئیں گے - قرہ العین حیدر اپنی کتاب “روشنی کی رفتار “ صفحہ 116 پر لکھتی ہیں کہ جب اسپین سے مسلمان نکل کر مراکش پہنچ رہے تھے تو وہ اپنے اندلسی گھر کی چابیاں مراکش میں دیواروں پر ٹانگ دی تھیں انہیں امید تھی کہ واپسی ھو گی-

Comments Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)
14 Mar, 2017 Views: 7676

Comments

آپ کی رائے
Munir Bin Bashir:
bohat hi dilchaps tahreer likhe ha ap ni ...bohat umdha ...
By: shohaib haneef , karachi on Mar, 20 2018
Reply Reply
0 Like
My younger brother Munir Ahmed took me back in the past in the Time Tunnel.Yes indeed it were good old days when it was all Peace all around us .
I must appreciate the memories of Munir Ahmed and he made it so interesting while the Truth of the incident remains intact and that is his of his being an Excellent Article Writher.
I always say that the Caption of the Article is the one which attract the eyes and mind to read the Article .And in this case the caption “ہمارا گھر مندر بن گیا تھا “ is fantastic while it remains a Truth as well. This may be the reason that till 11:30 a.m on 16th March, 2017 a total number of 1634 Viewers have seen / read this Article since its publication on 14th March, 2017…….It is indeed amazing and I appreciate it from the core of my heart to Munir Ahmed and the Management of Hamari Web as well. Keep it up while I remain “Dua Go” for both of you .
By: Major ( Retd ) Sagheer Ahmed , Karachi on Mar, 16 2017
Reply Reply
0 Like
nice artical :)
By: Zeena, Lahore on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
میں بھی آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے میرے اس مضمون کے املا کی تصحیح کی
By: Munir Bin Bashir, Karachi on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
جناب امجد سلیم علوی صاحب صاحب کتاب ہیں - اورمعروف محقق جناب غلام رسول مہر کے فرزند ہیں -وہ فیس بک میں اس مضموں پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ
بہت شاندار یادیں۔ ہمارے اقبال حسن بھائی نے جو ناول لکھا ہے، "یہ راستہ کوئی اور ہے" وہ تقسیم کے پس منظر میں ہے اور ایسے واقعات ہی کو بیان کرتا ہے۔ لاہور میں ہندو بڑی تعداد میں آباد تھے۔ تقریبا" نصف آبادی غیر مسلموں پر مشتمل تھی۔ ماڈل ٹاؤن، کرشن نگر، رام گلیاں، شاہ عالم مارکیٹ تو مکمل ہندو آبادیاں تھیں۔ ایسے قصے بہت سنے کہ ان بستیوں کے گھروں سے ایسی اشیا ملیں۔ اکثر لوگ تو بھرا گھر چھوڑ کر صرف جانیں لے کر ہی لائن کے پار گئے، جیسے مشرقی پنجاب سے مسلمان ادھر کو آۓ۔ میرے والد کے دل سے یہ صدمہ کبھی محو نہ ہوا کہ ان کی تقریبا" تین ہزار کتب گاؤں والے گھر میں تھیں، پارٹیشن کے وقت وہ کتابیں وہیں پھول پور (جالندھر) میں رہ گئیں

By: Munir Bin Bashir, Karachi on Mar, 15 2017
Reply Reply
0 Like
بہت ہی دلچسپ مضمون۔ ہماری کہانی شامل کرنے کا شکریہ۔
خیر اندیش،
احمد صفی
By: Ahmad Safi, Lahore on Mar, 14 2017
Reply Reply
0 Like