الیکشن میں شکست کے لیے اویسی اور ڈاکٹر ایوب جیسے قائدین بھی کیوں ذمہ دار نہیں؟

(Najeeb Qasmi, Riyadh)
یوپی اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی جیت اور دیگر پارٹیوں کی شکست کے اسباب کا جائزہ

ہندوستان کے اہم صوبہ اترپردیش میں اسمبلی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمراں پارٹی بی جے پی کو بھاری اکثریت کے ساتھ جیت حاصل ہوئی ہے، جب کہ کانگریس، سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی، مجلس اتحاد المسلمین اور پیس پارٹی کو کراری شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ نومبر ۲۰۰۰ کو اترپردیش سے الگ ہوئے ہمالیائی پہاڑ کے دامن میں واقع صوبہ اتراکھنڈ میں بھی بی جے پی کو اکثریت کے ساتھ جیت حاصل ہوئی۔ بی جے پی کی غیر متوقع اور حیرت انگیز کامیابی اور دیگر پارٹیوں کی بری طرح شکست کے اسباب پر مختلف زاویوں سے غور وخوض جاری ہے۔ مایاوتی نے ووٹنگ مشین میں گڑبڑی کو بی جے پی کی کامیابی کا سبب قرار دے کر الیکشن کمیشن سے انکوائری کرانے کا مطالبہ کردیا، جس کی تایےد یوپی کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو، اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ ہریش راؤت اور بہار کے سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو نے بھی کی۔ اس کے لیے سماج وادی پارٹی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتی ہے۔عوامی سطح پر اورسوشل میڈیا پر ای وی ایم کے تعلق سے شبہات کا اظہار کیا جارہا ہے۔

۲۰۱۲ کے یوپی اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد نے سماج وادی پارٹی کو ووٹ دے کر اکھلیش یادو کی سرپرستی میں حکومت سازی کے لیے اہم کردار ادا کیا تھا۔ لیکن مظفر نگر جیسے حادثے اور گزشتہ انتخابات کے وقت مسلمانوں سے کیے گئے متعدد وعدے پورے نہ کیے جانے، نیز خاندان کے آپسی جھگڑے کے باعث مسلمانوں نے اُس جذبہ سے سماج وادی پارٹی کو ووٹ نہیں دیا جو گزشتہ اسمبلی انتخابات میں دیکھنے میں آیا تھا۔ کانگریس کے روایتی ہندو ووٹرس نے سوچا کہ جب کانگریس کے علاوہ سماج وادی پارٹی کو ووٹ دیا جاسکتا ہے تو پھر ہندو راشٹر بنانے کے لیے بی جے پی کو ہی کیوں ووٹ نہ دے دیا جائے ، چنانچہ کانگریس کا اپنا ووٹ بھی انہیں نہیں ملا جس کی وجہ سے اُن کو صرف ۷ سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ بہوجن سماج پارٹی نے سوچا کہ دلت اور پچھڑی جاتی کی شکل میں اُس کا اپنا ووٹ بینک تو محفوظ ہے، مسلمانوں کے ووٹوں کو حاصل کرنے کے لیے ۴۰۳ امیدواروں میں سے سو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دے دیا، اور کچھ سیاسی علماء ومسلم دانشوروں نے بہوجن سماج پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل بھی کرڈالی، جس کا منفی اثر یہ ہوا کہ دلت اور پچھڑی جاتی نے بہوجن سماج پارٹی کو مسلمانوں کی پارٹی سمجھ لیا، لہٰذا انہوں نے ایسی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا جو کم از کم مندر اور شمشان کی بات تو کرتا ہے، چنانچہ دلت اور پچھڑی جاتی کے ووٹ کا بڑا حصہ بی جے پی کو چلا گیا، دوسری طرف مسلمانوں کا ووٹ تقسیم ہوگیا۔ میری رائے میں مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کے اہم ذمہ دار اسد الدین اویسی اور ڈاکٹر ایوب ہیں جنہوں نے مسلمانوں کے نام پر غلط سیاست کی، نیز وہ چند سیاسی علماء اور مسلم دانشوران بھی ذمہ دار ہیں جنہوں نے الیکٹرونک میڈیا کے سامنے آکر مسلمانوں سے کسی خاص پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی، جس کی وجہ سے مسلم ووٹ تو تقسیم ہوا ہی، اس کا منفی اثر یہ بھی ہوا کہ ہندو ووٹ بی جے پی کو چلا گیا جو بی جے پی کا اصل ہدف ہے۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی خراب پالیسیوں کی وجہ سے بھی یہ صورت حال سامنے آئی، لیکن وہ اس وقت موضوع بحث نہیں ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اترپردیش میں مسلمانو ں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجود شکست کیوں ہوئی اور اس کے اسباب کیا ہیں؟ اس الیکشن میں صرف ۲۴ مسلم امیدوار جیتے ہیں جبکہ تقریباً ۸۵ سیٹوں پر مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ہیں، اگر شعلہ بیان تقریروں کے بجائے حکمت عملی سے کام لیا جاتا تو اِن میں سے ایک بڑی تعداد جیت سکتی تھی۔گزشتہ اسمبلی الیکشن میں ۶۸ مسلم امیدوار جیتے تھے۔

اسد الدین اویسی نے بہار اسمبلی الیکشن سے عبرت حاصل نہ کرکے صوبہ اترپردیش میں بھی اپنی ذاتی خواہشوں کی تکمیل کے لیے غیر دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے ۳۸ امیدوار میدان میں اتاردئیے۔ یہ بات غور کرنے کی ہے کہ اگر بالفرض تمام ۳۸ امیدوار جیت بھی جاتے تو کیا کوئی انقلاب برپا ہو جاتا۔ نبی پاک حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا کہ سچا مؤمن ایک سوراخ سے دوبار ڈسا نہیں جاتا ۔ جب بہار میں مسلم اکثریت والے علاقوں کے مسلمانوں نے مجلس اتحاد المسلمین کے مسلم امیدواروں کو یکسر مسترد کردیا تو عقلمندی کا تقاضا یہی تھا کہ مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار کو انتخابات میں اتارنے کے بجائے اترپردیش کے الیکشن میں منظم مشینری کی طرح کام کرکے بی جے پی کو شکست دینے کی حکمت عملی پر عمل کیا جاتا، یا کسی بڑی سیکولر پارٹی کے ساتھ انتخابات میں شرکت کے لیے مفاہمت کی جاتی۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور ۳۸ امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالنے کے لیے شعلہ بیان تقریریں کی گئیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہار کی طرح مسلم ووٹ تو اُن کو نہیں مل سکا لیکن بی جے پی مخالف پارٹیوں کو بڑا نقصان ضرور ہوا اور عام ہندو کو کمل کے پھول کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اور یہ نتیجہ طے تھا کیونکہ جب ہندوستان میں مسلمانوں کو کسی ایک مسلم پارٹی کے نام سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی تو اکثریتی فرقہ کا بھگوا رنگ کے جھنڈے تلے جمع ہونا فطری بات ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ خود مسلمان تو متحد نہ ہوسکے لیکن اکثریتی فرقہ شمشان اور دیوالی کے نام پر ایک ہوگیا۔

یہی حال ڈاکٹر ایوب کا ہے کہ وہ اپنے امیدواروں کو جیت تو کیا دلاتے خود بھی شکست سے دوچار ہوگئے۔ اُنہوں نے خلیل آباد سے الیکشن لڑکر بی جے پارٹی کو جیت کا تحفہ پیش کردیا۔ خلیل آباد سے ۵۶ ہزار ووٹ لے کر بہوجن سماج پارٹی کے امیدوار ’’مشہور عالم چودھری‘‘ دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ ڈاکٹر ایوب تیسرے نمبر پر رہے، حالانکہ وہ خود کو مستقبل کا وزیر اعلیٰ بتارہے تھے۔ اترپردیش میں ان کی پیس پارٹی نے اتنے کم ووٹ حاصل کیے ہیں کہ الیکشن کمیشن نے اُن کی پارٹی کے تمام امیدواروں کے ذریعہ حاصل شدہ ووٹوں کی مجموعی تعداد کا ذکر اپنی ویب سائٹ پر نہیں کیا ہے۔ جو رقم اُن کی پارٹی کی تشہیر کے لیے صرف ہوئی، اُس سے سینکڑوں غریب بچیوں کی شادی ہوسکتی تھی۔

اسد الدین اویسی نے مسلم اکثریتی علاقوں سے ۳۸ امیدوار میدان میں اتارے تھے، جس میں سے ایک امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوسکا۔ سنبھل سیٹ کے علاوہ مجلس اتحاد المسلمین کا کوئی بھی امیدوار تیسرے نمبر تک بھی نہیں پہنچ سکا۔ دس امیدواروں کو تو ایک ہزار ووٹ بھی نہیں مل سکے۔ ۳۸ میں سے صرف تین امیدوار ایسے ہیں جنہیں دس ہزار سے زیادہ ووٹ مل سکے ۔

پچاس سال سے زیادہ سیاسی زندگی کا تجربہ رکھنے والے ڈاکٹر شفیق الرحمن برق کے پوتے ضیاء الرحمن ترک کو جب آخری وقت میں اکھلیش یادو نے سنبھل سے ملحق بلاری سیٹ سے ٹکٹ نہیں دیا تو ڈاکٹر برق نے وقت کی قلت کی وجہ سے فوری طور پر مجلس اتحاد المسلمین کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اگر برق صاحب اپنے پوتے کے لیے بہوجن سماج پارٹی کا ٹکٹ لے آتے تو ضیاء الرحمن ترک کی جیت یقینی ہوتی۔ سنبھل سیٹ سے ضیاء الرحمن نے جو ۶۰ ہزار ووٹ حاصل کیے ہیں، یہ در اصل مجلس اتحاد المسلمین کا ووٹ نہیں ہے بلکہ ڈاکٹر برق کی پچاس سالہ سیاسی زندگی او ر اُن کی خدمات کا ثمرہ ہے، جس میں وہ ۴ مرتبہ اسمبلی اور ۳ مرتبہ پارلیمنٹ کا الیکشن جیتے۔ نیز سنبھل سیٹ پر ترک برادری کا اچھا خاصہ ووٹ ہے۔ سنبھل سیٹ پر چونکہ مسلم آبادی کافی ہے، اس کی وجہ سے بی جے پی نہیں جیت سکی اور سماج وادی کا امیدوار منتخب ہوا۔

مجلس اتحاد المسلمین کے دس ہزار سے زیادہ ووٹ لینے والے دوسرے امیدوار فیض اﷲ چودھری ہیں جو کانٹھ (مرادآباد) سے چناؤ لڑ رہے تھے، جہاں بی جے پی کا امیدوار سماج وادی پارٹی کے امیدوار انیس الرحمن کو صرف ۲۳۴۸ ووٹوں سے شکست دے کر کامیاب ہوا ہے۔ اگر مجلس اتحاد المسلمین بی جے پی کو شکست دینے میں مخلص تھی تو انہوں نے علماء کونسل کی طرح اپنا امیدوار میدان سے کیوں نہیں ہٹایا؟
اسی طرح ٹانڈا سیٹ سے مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار کو صرف ۲۰۷۰ ووٹ حاصل ہوئے، جہاں بی جے پی کے امیدوار کو کامیابی ملی۔ سماج وادی پارٹی کے امیدوار عظیم الحق پہلوان کو صرف ۱۷۲۵ ووٹووں سے شکست ہوئی ہے۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں قانونی حوالے دے کر تقریر کرنے والے سیاست دان کو یہ اندازہ نہیں ہوسکا کہ ان کا امیدوار صرف دو ہزار ووٹ لے کر عظیم الحق کی شکست کا سبب بن سکتاہے اور جس سے اُن کے اعلان کے مطابق اُن کا اصل حریف یعنی بی جے پی کا امیدوار جیت جائے گا۔

بلرام پور کے قریب گیان ساری میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار منظور خان کو صرف ۳۱۶۰ ووٹ ملے، جہاں بی جے پی پارٹی کا امیدوار سماج وادی کے امیدوار علاء الدین کو صرف دو ہزار تین سو ووٹوں سے شکست دے کر لکھنؤ اسمبلی میں پہنچ گیا۔

اسی طرح شراوستی سیٹ پر مجلس اتحاد المسلمین کے کلیم کو صرف ۲۹۳۳ ووٹ ملے۔ بی جے پی کا امیدوار ’’رام فیران‘‘ نے سماج وادی پارٹی کے امیدوار محمد رمضان کو صرف ۴۴۵ ووٹوں سے شکست دے کر کامیاب ہوا۔ اس سیٹ کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مجلس اتحاد المسلمین نے یہ سیٹ بی جے پی کو ہدیہ میں دی ہے۔

بات صرف اِن چند سیٹوں کی نہیں، بلکہ اسد الدین اویسی کی پالیسی سے پورے اترپردیش میں پولرائزیشن ہوا جس کا فائدہ سو فیصد بی جے پی کو ہوا، جو بی جے پی کا اوّلین مقصد ہے۔

وزیر اعلیٰ بننے کا خواب دیکھنے والے ڈاکٹر ایوب کی پیس پارٹی کی ایک اور مثال پیش ہے۔ میہڈول جو سنت کبیر نگر ضلع میں واقع ہے، اِس میں پیس پارٹی کا امیدوار محمد عرفان ۲۵ ہزار ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہا اور مجلس اتحاد المسلمین کا امیدوار محمد تابش خان ۱۹ ہزار ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر رہا۔ غرضیکہ دونوں قائدین ملت کے امیدواروں کے آپس میں لڑنے کی وجہ سے بی جے پی پارٹی کو جیت حاصل ہوئی۔

اترپردیش کے الیکشن میں مجلس اتحاد المسلمین کو صرف دو لاکھ پانچ ہزار یعنی صفر اعشاریہ ۲ فیصد (0.2%) ووٹ ملے ہیں،جن میں ۶۰ ہزار ووٹ سنبھل سیٹ سے ڈاکٹر برق کے پوتے ضیاء الرحمن کے ہیں۔ اِن اعداد وشمار سے معمولی سیاسی بصیرت رکھنے والا شخص آسانی سے یہ سمجھ سکتا ہے کہ اسد الدین اویسی اور ڈاکٹر ایوب جیسے قائدین ملت کے مقاصد کیا تھے؟ اگر یہ حضرات بی جے پی کو شکست دینے میں واقعی مخلص ہوتے تو وہ بہار اسمبلی سے عبرت حاصل کرکے اپنے امیدواروں کو میدان میں اتارنے کے بجائے دیگر سیکولر پارٹی کے اُن امیدواروں کو جیت دلانے کی کوشش کرتے جو بے جی پی کو شکست دے سکتے تھے۔ جس کے لیے شعلہ بیان تقریروں کے بجائے منظم مشینری کی طرح اور ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کیا جاتا۔ بلا شبہ کانگریس، سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے بھی مسلمانوں کو وہ نہیں دیا جو اُن کاحق ہے۔ لیکن سیاسی دور اندیشی کا تقاضہ یہ تھا کہ فسطائی فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دینے کے لیے باہمی مصالحت کی رائے ہموار کی جاتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا، جس کے افسوسناک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین کی یوپی میں اس کارکردگی کے بعد سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ اس پارٹی کے درپردہ مقاصد کچھ اور تھے اور بظاہر کچھ اور ۔ اس کے قول وعمل کا اختلاف اب عوام کے سامنے کھل کر آچکا ہے۔ لیکن یہ پھر بھی ۲۰۱۹ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں مسلم آبادی والے حلقوں میں اپنے امیدوارمیدان میں اُتارے گی جس سے سیکولر ووٹ تقسیم ہوگا اور اُس کا فائدہ یقیناً بی جے پی کو ہی پہونچے گا۔

الیکشن کے دوران شائع ہونے والے مضامین میں مبصرین نے اس طرف واضح اشارہ کیا تھا کہ مسلمانوں کو انتہائی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ ووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی نہ اٹھا سکے۔ یہاں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب اور ذات پات کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں۔ ملک کی مجموعی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ۲۰ فیصد ہے۔ ایسی صورت میں مسلمانوں پر مشتمل اگر کوئی پارٹی میدان میں اترے گی تو اُس کا حشر بھی وہی ہوگا جو مسلم لیگ کا ہوا۔ اس کانتیجہ لازمی طور پر یہ ہوگا کہ ہندتو کی علمبردار پارٹیوں کا راستہ ہموار اور آسان ہوجائے گا۔ ایسی صورت میں اقلیتوں کے حقوق کی بازیابی اور ان کے مسائل کا حل اور بھی پیچیدہ ہوجائے گا۔ دوران الیکشن مضامین میں یہ کہا گیا کہ اسد الدین اویسی کی مجلس اتحاد المسلمین کا اترپردیش کے الیکشن میں اترنے کا انجام بظاہر وہی نظر آرہا ہے جو ۲۰۱۵ میں بہار کے الیکشن میں سامنے آیاجہاں اُن کی پارٹی کے چناؤ نشان سے لڑنے والے بعض مضبوط مسلم امید واروں کو بھی مسلم اکثریت والے علاقوں میں شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا، جبکہ اُن کے مقابلہ میں مہاگٹھ بندھن اور کمیونسٹ پارٹی کے مسلم امیدواروں کو جیت حاصل ہوئی تھی۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہندوستان جیسے مختلف مذاہب اور ذات پات والے ملک میں دیگر سیاسی پارٹیوں کے ساتھ مل کر ہی سیاسی اکھاڑے میں اترنا چاہئے۔

ظاہر ہے کہ اب بی جے پی پوری طاقت کے ساتھ اقتدار میں آگئی ہے۔ ۲۰۱۷ میں ہونے والے صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے انتخابات میں ان کی پسند کے امیدوار ہی ہندوستان کے ان دونوں اہم عہدوں پر فائض ہوں گے۔ راجیہ سبھا میں بھی اکثریت حاصل کرنے کے بعد ہندوستان کے بعض قوانین اور دستور میں تبدیلی لانا اُن کے لیے آسان ہوجائے گا۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم شدت پر مبنی تنگ نظر سیاست کاحصہ نہ بنیں، اور سیکولر طاقتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کریں۔ جس قسم کے مسائل درپیش ہیں اُن کے حل کرنے میں جذبات کو بالائے طاق رکھ کر صبر وتحمل اور دور اندیشی سے کام لیں۔ باہمی مسلکی اختلافات کو پس پشت ڈال کر مل جل کر آئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کریں۔ قرآن وحدیث کی روشنی میں ہمارا جو موقف ہے اُس پر عمل کریں، علماء دین کا احترام کریں اور اُن کے کسی موقف سے اگر کوئی اختلاف بھی ہے تو اُس کے اظہار میں شائستگی اور احترام کا دامن نہ چھوڑیں۔ یہ بات تاریخی طور پر مسلم ہے کہ کوئی بھی معروف مذہب یا کوئی مسلک اپنے حریف کو صفحہ ہستی سے نہیں مٹا پایا ہے اور نہ بظاہر ایسا ممکن ہے۔ لہٰذا ہمیں اختلافی مسائل پر چٹخارہ لینے اور اُن کو اُچھالنے میں دلچسپی لینے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو ایسی جد وجہد اور ایسے پروگراموں میں صرف کرنا چاہئے جن کا مقصد اﷲ کی مخلوق کی خدمت، نیز مختلف مذاہب اور مسالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنا ہو۔ یہ ملک کسی مخصوص مذہب کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور پارسی سب کا ہے، اور اس پر سب کا یکساں حق ہے۔ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں نے کندھے سے کندھا ملاکر اپنے ہم وطنوں کے ساتھ بھرپور حصہ لیا ہے، اور آج بھی اس کی تعمیر وترقی میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی سمت میں ہمیں سوچ سمجھ کر ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو سماجی بھائی چارہ کو مضبوط کریں اور دوسری اقوام کے ساتھ ساتھ ہماری روز مرہ کی زندگی کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں معاون ہوں۔
کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا
سورۃ الرعد آیت نمبر ۱۱ میں ارشاد باری ہے: اﷲ تعالیٰ کسی قوم کی حالت اُس وقت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لائے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Najeeb Qasmi

Read More Articles by Najeeb Qasmi: 133 Articles with 104049 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 Mar, 2017 Views: 401

Comments

آپ کی رائے