کشمیری رہنماء آسیہ اندرابی کی پکار اور مسلم حکمرانوں کا کردار

(Mian Muhammad Ashraf Asmi, Lahore)

لاہور میں الحمرا دبی بیٹھک میں ورلڈکالمسٹ کلب کے روح رواں جناب محمد ناصر اقبال خان نے ایک باوقار نشست کا اہتمام کر رکھا تھا۔جس میں لاہور کے کالم نگار مدعو تھے۔ جواں جذبوں کے امین نامور کالم نگار صحافی جناب ذبیع اﷲ بلگن بھی تشریف فرماء تھے۔ اِس قلم قبیلہ کے سرخیل جناب ایثار رانا بھی وقت پر تشریف لا چکے تھے۔ ممتاز حید ر اعوان جیسے کہنہ مُشق قلم کار بھی اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے۔ ڈاکٹر عمرا نہ مشتاق،محترمہ رابعہ رحمان، محترمہ رقیہ غزل بھی تشریف فرما تھیں۔ برادرم ناصر چوہان دلا وزیز مسکراہٹ کے ساتھ میرے ساتھ والی نشست پر برا جمان تھے۔ نامور صحافی جناب سردار مراد علی خان کی موجودگی بھی اِس قلم قبیلے کی نشست کے لیے باعث تقویت تھی۔عظیم کشمیری رہنماء محترمہ آسیہ اندرابی چند لمحوں بعد سری نگر سے براہ راست اِس قلم قبیلے سے خطاب فرمانے والی تھیں۔تلاوت اور نعت کے بعد محترمہ آسیہ اندرابی کا خطاب شروع ہوا۔ بندہ ناچیز سمیت بہت سے شُرکاء کی آنکھوں میں نمی تھی۔ اِس خطاب کے دوران جو ولولہ میں نے محترمہ آسیہ اندرابی کی گفتگو میں محسوس کیا۔ مجھے خود پہ فخر محسوس ہوا کہ ہاں میں بھی کشمیری حریت پسندوں کی منزل کی آواز اُٹھانے والوں میں سے ہوں۔ بے شک میری آواز نحیف سہی۔ بے شک میرئے افعال اور اقوال متصادم سہی۔ یہ بھی درست کہ میں کشمیری حریت پسندوں جتنا بہادر نہیں ۔ یہ بھی بجا کہ میں بزدلی اور یا کی اتھاہ گہرائیوں ڈوبا ہوا ہوں لیکن پھر بھی نبی پاکﷺ کا اُمتی ہونے کے سبب سرزمین پاکستان کا ایک فرد ہونے کے سبب کشمیر کی آزادی کے متوالوں کی محبت میرا اثاثہ ہے۔ میرئے کمزور ہاتھ بے شک ہندو بنیے تک نہیں پہنچ سکتے لیکن میرے اندر کا مسلمان مجھے محمد بن قاسمؒ کی یاد دلاتا ہے۔ آسیہ اندرابی صاحبہ کی عالمی حالات پر گہری نظر۔ معیشت اور معاشرت کے حوالے سے اُن کا بے لاگ تجزیہ۔ اتنی باکمال مائیں بہنیں بیٹیاں جس قوم میں ہوں اُن کو کب تلک کوئی غلام بنا سکتا ہے۔ آسیہ اندرابی میری وہ بہادر بہن ہیں جن کے خاوند ڈاکٹر عاشق عاشق حسین فکتو 1992 سے بھارتی جیل میں قید ہیں۔ محترمہ آسیہ اندرابی ایک پڑھی لکھی خاتون ہیں بائیو کمیسٹری میں بی ایس اور پھر عربی میں ماسٹر ڈگری کی حامل ہیں ۔ اِس عظیم خاتون نے صرف دو سال اپنے شوہر ڈاکٹر فکتو کے ساتھ گزارے اِن کے دو صاحبزادے ہیں ایک ملائیشیا میں آسیہ اندرابی کی بہن کے پاس ہے اور ایک اِن کے ساتھ ہے۔ اِس عظیم خاتون نے دختران ملت کے نام سے وادی کشمیر کی خواتین کو آزادی کے لیے تیار کیا ہے۔ پردہ نشین محمد عربیﷺ کے دین کا نام لیوا لینے والی قوم کی اِس بہن کا یہ خطاب ایک طرف تو دکھی کر رہ تھا تو دوسری طرف عالی عز م کی پیکر اِس عظیم بہن کی باتیں حوصلہ مند بھی تھیں۔ اپنے خطاب میں جب اُنھوں نے کہا کہ ہم تو آپ پاکستانیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ تو مجھے خود میں شرمندگی محسوس ہو رہی تھی کہ کا ش ہم پاکستانی اپنے حکمرانوں کو یہ باور کرواسکتے کہ کشمیریوں کو قتل کرنے کی اجازت مودی سرکار کو کیوں دے دی گئی ہے۔ کشمیر کشمیر کی دن رات ہم بات کرتے ہیں۔ کشمیر کی آزادی ہمیں کس سے درکار ہے بھارت سے اور کشمیریوں سے ہمارا رشتہ کیا ہے وہ رشتہ کلمہ طیبہ کا ہے وہ رشتہ پاکﷺ کا اُمتی ہونے کا ہے۔ اب ہم آگے چلتے ہیں کشمیر کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ظاہری سے بات ہے بھارت ہے ۔ اب بھارت سے آزادی کے لیے کس طرح بھارت پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔ اِس کے لیے ہم بھارت کے قریب تر ہمسایہ ممالک کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان کا دعویٰ کہ کشمیر اُس کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارت کشمیر سے آنے والے دریاوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو پانی سے محروم کرنے کی سازش کا ارتکا ب کر چکا ہے۔ ہمارئے حکمران اُس کے ساتھ تجارت کے لیے ہلکان ہو رہے ہیں۔ کشمیر کا لہو بہانے والے بھارت کے ساتھ پاکستان کی حکومت نے یہ سلوک روارکھا ہوا ہے کہ بھارتی فلمیں پاکستان میں نمائش کے لیے اجازت دے دی ہے۔ پاکستان سفارتی سطح پر بھارت کی بد معاشیوں اور کشمیریوں کے خلاف اُس کی جانب سے ڈھائے جانے والے ظلم کو پیش ہی نہیں کر پایا۔

بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے ساتھ بیٹھ کر اعتراف کیا کہ ہاں وہ بھی مکتی باہنی میں شامل تھا جس نے مشرقی پاکستان کو توڑا۔ یہ ہے حال ایک اور مسلمان ملک کا جو بلک بھارت کے ساتھ واقع ہے۔ گویا بنگلہ دیش کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کی حمایت اسلام کے نام پر قصہ ختم ہی سمجھیں۔اب چلتے ہیں ایران کی جانب جو بہت براسلامی ملک ہے۔ بھارت کی ایران کے ساتھ پیار کی پینگوں کا عالم یہ ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را کا جو سب سے بڑا نیٹ ورک آپریٹ ہو رہا ہے پاکستان کے خلاف وہ ایرن کی سرزمین پر سے ہو رہا ہے۔ ایران اور افغانستان ملکر بھارت کے ساتھ ایران سے پاکستانی بندرگاہ گوادر کے مقابلے کے لیے پورٹ میں حصہ دار بن چکے ہیں۔ افغانستان کا یہ حال ہے کہ اُس کی فوج تک کو بھارت ٹریننگ دے رہا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والی تمام تر تحریک کا مرکز افغانستان ہے اور اُسے بھارت آپریٹ کر رہا ہے۔ بھارتی اور افغانی سربراہان مملکت آپس میں اس طرح شیر و شکر ہیں کہ خدا کی پناہ۔ افغانی طلبہ بھارت جا کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بھارت نے افغانستان میں اپنے بے شمار قونصلیٹ قائم کر رکھے ہیں جو درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسی را کے دفاتر ہیں جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے۔ جنگ عضب درحقیقت پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف لڑی گئی۔ اب اسلامی دُنیا کے سب سے اہم ترین ملک سعودی عرب کی بات کرتے ہیں۔ یہ وہ ملک ہے جس کے لیے پاکستانی مسلمان ہر وقت جان دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اِس ملک میں پاکستانیوں کو ملازمت کے دوران وہ سہولیات میسر نہیں ہیں جو کہ ہمارئے دُشمن ملک بھارت کے باشند وں کو حاصل ہیں۔ حال ہی میں بھارت کا سب سے بڑا سول ایوارڈ مودی کو دیا گیا ۔ یہ ہے بھارت کے ساتھ سعودی عرب کی محبت کا عالم ۔ بھارت کی فی کس آمدنی میں اُن بھارتیوں کا بہت اہم کردار ہے جو کہ عرب دُنیا میں کمائی کر رہے ہیں۔ بھارتیوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کے ساتھ سعودی حکومت کا رویہ بہتر نہ ہے۔ بھارت اور سعودی عرب کا آپس میں تجارتی حجم پاکستانی تجارت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔ تو جناب ایران اور سعودی عرب جو آپس میں سرد جنگ میں بر سر پیکار ہیں۔ یہ دونوں ممالک بھارت کے ساتھ بہترین تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔ گویا سعودی عرب بھی بھارت پر کشمیر کی آزادی کے لیے دباؤ نام کی کوئی چیز نہیں ڈال سکتا ۔اب مشرق وسطی کی بات ہو جائےَ متحدہ ارب امارات نے بھارت میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا معائدہ کر لیا ہے۔اب بتائیں قارئین اکرام کشمیریوں کے لیے کو ن آگے آئے گا۔ پاکستان، سعودی عرب، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان، مشرق، وسطی کے مسلمان ممالک۔ تو جواب نفی میں۔ گویا کشمیری اِسی طرح شہید ہوتے رہیں گے۔ بھارت اُن کے خون سے غسل کرتا رہے گا۔ اور ہم پانچ فروری کو کشمیروں کے ساتھ یوم یکجہتی منا کر گھر جا کر سو سو جاتے ہیں۔ میرئے وسوسے حقائق پر مبنی ہی سہی لیکن آسیہ اندرابی کے خطاب اور سوالو جواب کی نشست نے مجھ بہت حوصلہ دیا کہ جس قوم میں آسیہ اندربی فریدہ بہن جی جیسے خواتین آزادی کا مشن لے کر میدان عمل میں ہیں اُس قوم کو بھارت شکست نہیں دے سکتا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE

Read More Articles by MIAN ASHRAF ASMI ADVOCTE: 445 Articles with 221325 views »
MIAN MUHAMMAD ASHRAF ASMI
ADVOCATE HIGH COURT
Suit No.1, Shah Chiragh Chamber, Aiwan–e-Auqaf, Lahore
Ph: 92-42-37355171, Cell: 03224482940
E.Mail:
.. View More
16 Mar, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے