انسان کی زندگی اور کراماً کاتبین

(Muneer Ahmad Khan, Rahimyarkhan)

انسان کی پیدائش کے ساتھ ہی دو فرشتے اس کے ساتھ بھیج دیے جاتے ہیں ایک فرشتہ نیکیاں لکھتا ہے دوسرا فرشتہ برایاں لکھتا ہے اور جب انسان فوت ہوتا ہے تو انسان کی پوری زندگی کا ریکار ڈ جمع کرکے. محفوظ کر دیتے ہیں اور جب قیامت کا دن آئے گا تو وہ ریکار ڈ دوبارہ کھولا جائے گا اور نیکیوں اور برایوں کا وزن ہوگا جن کے اعمال اچھے ہوں گے وہ جنت میں جاے گا اور جن کے اعمال برے ہوں گے وہ جہنم میں جائے گا اور اب بطور مسلم ہمیں سوچنا ہوگا کہ جب ہمیں پتہ ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے چند دن کی ہے اور ایک خواب کی مانند ہے اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ انسان. کی زندگی کے تینوں مراحل پل بھر میں گزر جاتے ہیں بچپن میں تو سات سال کی اللہ پاک نے رعایت رکھی ہے. کیونکہ سات سال بعد نماز فرض ہوتی ہے اور دس سال بعد نماز نہ پڑھنے کا گناہ فرشتے لکھنا شروع کر دیتے ہیں اور سب سے اہم مرحلہ جوانی کا ہوتا ہے جس میں انسان پر حقوق و فرایض کی ادایگی شروع ہو جاتی جب انسان اپنے خاندان کا آغاز کرتا ہے تو اس پر اسکی بیوی بچوں کے حقوق اور والدین کے حقوق شروع ہوجاتے اور انسان کے فرایض بن جاتے. ہیں اسکے علاوہ رشتہ داروں ہمسایوں کے حقوق. شروع ہوجاتے ہیں اور پورے ان لوگوں کے حقوق شروع ہوجاتے ہیں جن سے انکا واسطہ پڑتا ہے اور اس مرحلے مین انسان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے چاہیں. اور اسی مرحلے میں انسان کی. اگلی. زندگی بگڑتی اور سنورتی ہے اگر انسان اچھے کام کرجاے حقوق اللہ اور حقوق العباد ایمانداری سے ادا کرجاے تو اسکی دونوں زندگیاں سنور جاتی ہیں جبکہ اگر وہ راہ راست سے بھٹک جاے جو اسکی زندگی عذاب بن جاتی اور اسی مرحلے کیلیے حضرت عمر. فاروق خلیفہ دوم بے کہا تھا جب ان سے کسی نے پوچھا تقوی کیا ہے تو آپ نے کہا کہ کانٹےدار. جھاڑیوں سے اپنا دامن بچا کر اگر. انسان گزر جاے تو اسے تقوی کہتے ہیں کانٹے. دار جھاڑیاں جھوٹ حسد زنا بد ا خلاقی بد زبانی خیانت وعدہ خلافی والدین سےناروا سلوک لوگوں کے حقوق غصب کرنا وغیرہ اگر انسانان برایوں سے اپنا دامن بچاکر اس دنیا سےر خصت. ہوتا. ہے تو وہ متقی اور. انمیں. گھر جاتا ہے تو وہ بدکاری. میں چلاجاتاہے اور اسکی بڑی سحت. سزا ہے ا خری مرحلہ بڑھاپا ہےجس. میں انسان ویسے. بھی کسی کام کا نہیں ہوتا اور اس مرحلے میں انسان بس موت. کے انتظار. میں لگ جاتاہے عبادت جوانی. کی اچھی لگتی ہے اور. ہمارے معاشرے میں رواج بن. گیاہے جوانی کے خمار میں انسان پتہ. نہیں کیا سے کیا کر گزرتا ہے جب جوانی ڈھلتی ہے تو حج کی بھی فکر لگجاتی ہے اور. داڑھی بھی رکھ لی جاتی ہے اور اللہ اللہ شروع. ہوجاتی ہےمگر نیکیاں کمانے کا مرحلہ جوانی کا ہوتا ہے اللہ پاک ہمیں دنیا و آ خرت میں کامیاب کرے. اور ہم سے. وہ کام کرواے جس. سےہماری. اگلی زندگی سنورجائے آمین -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muneer Ahmad Khan

Read More Articles by Muneer Ahmad Khan: 303 Articles with 160706 views »
I am Muneer Ahmad Khan . I belong to disst Rahim Yar Khan. I proud that my beloved country name is Pakistan I love my country very much i hope ur a.. View More
18 Mar, 2017 Views: 1091

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ