اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں

(Munzir Habib, )

یوں تو تحریک پاکستان کے تمام بزرگ اپنی اپنی جگہ پر قائدانہ صلاحیتوں کے مالک تھے۔ مگر مرد مومن علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی عقابی نگاہیں چمن میں دیدہ ور پیدا کرنے کیلئے کسی گوہر نا یاب کی تلاش میں تھیں جو محمد علی جناح کی شخصیت پہ جا ٹھہریں جنہوں نے بر صغیر پاک و ہند میں آزادی کے متلاشی اس قافلے کی قیادت سنبھالی اور قائداعظم بن کر مسلمانوں کے دلوں میں بس گئے۔

عدالت میں وکالت کا گر سیکھنے والے قائداعظم محمد علی جناح نے مسلمانوں کی حالت سنوارنے کے لیے ایسا ذوق یقیں پیدا کیا جس سے غلامی کی زنجیریں کٹ گئیں۔ انہوں نے اپنی بلند نگاہ حصول پاکستان پر رکھی اور اس قدر سخن دل نواز ثابت ہوئے کہ برصغیر میں مسلمانوں کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر رخت سفر باندھ کر دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کر رہا تھا ۔ قائداعظم نے ہندوؤں اور انگریزوں کے ساتھ ایسا بے تیغ معرکہ لڑا کہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قیام پاکستان کی حامی بھر لی۔ اس کے پیچھے مسلمانوں کی ایک طویل جدوجہد کی لمبی داستان 23 مارچ 1940 کو ایک اہم سنگ میل پر پہنچی۔ قائداعظم نے اپنے خطبہ صدارت میں واضح کر دیا تھا کہ مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں۔ کیونکہ ان کے رسم رواج روایات تہذیب و ثقافت اور سب سے بڑھ کر ان کا مذہب جدا ہے۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ نے اس قرار داد کو ’’قرار داد لاہور‘‘کا نام دیا جبکہ ہندو اسے پریس نے اسے طنزاً اسے ’’قرار داد پاکستان‘‘لکھنا شروع کر دیا اور مسلمانوں نے قرار داد پاکستان کی اصطلاح کو عملاً سنجیدگی کے ساتھ اپنا کر صرف سات سال میں حقیقت کا روپ دے دیا۔ انڈین اخبار دی ہندوستان ٹائمز ، ماڈرن ریویو ، اورامرت بازار پتریکا، مخالفت میں اداریے تحریر کرتے رہے۔ جبکہ قائداعظم اس پاک وطن کی تعمیر کرتے رہے۔ اقبال کے خواب کی تعبیر کرتے رہے اور آج ہمارے ذمہ کشمیر سمیت اس کی تکمیل باقی ہے۔ علاقوں کی تقسیم کے وقت سر ریڈکلف نے مسلم اکثریت کے تسلیم شدہ علاقوں کو آبادی کے مطابق طے پانے والے نقشے پر لکیر بدل کر گرداس پور اور پٹھان کوٹ کا علاقہ بھارت کو دیکر جموں و کشمیر تک رسائی دے دی۔ ہمارے اردگرد ہونے والے کئی واقعات کے اثرات ہم پر اثر انداز ہوتے رہے کیونکہ پاکستان دنیا کی اہم ترین جگہ پر واقع ہے۔ روس جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ایک ایسا سرخ ریچھ ہے اس نے جہاں کہیں پنجہ رکھا واپس نہیں اٹھایا۔ یورپ کے کئی ملک ہڑپ کر گیا امریکہ یورپ ملکر بھی اس سے نہیں چھڑوا سکے۔ بغیر کسی وجہ کے افغانستان پر چڑھ دوڑا حالانکہ افغانستان نے روس کا کچھ نہیں بگاڑا تھا۔ تو اس وقت پاکستان نے افغانستان سے مہاجر ہو کر آنے والے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ انہیں صرف کیمپوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ پورے ملک میں کاروبار کی اجازت دی۔ کئی تو کاروبار میں پاکستانیوں سے بھی آگے نکل گئے۔ آپس میں محبت اخوت اور امت کا درد تھا۔ جب روسی سپر پاور افغانستان کے پہاڑوں میں بکھر گئی تو روسی ٹریکٹر افغانیوں کے ہاتھ آیا جس پر انہوں نے لکڑ ی کا کاروبار کیا۔ تو ’’سپر‘‘ کا تمغہ امریکہ نے اٹھا کر اپنے سر پر سجا لیا (تیری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی) پاکستان کے ہر تعاون کے باوجوداس کا تکبر بڑھتا ہی چلا گیا نہ جانے اسے کب سے یہ خیال اندر سے کھوکھلا کرتا رہا کہ یہ فتح اس کی تو نہیں تھی۔ افغانستان کے لیے نیا پلان تیار ہوا۔ جس میں ازلی دشمن بھارت نے اپنے لیے ایک ذلت آمیز کردار حاصل کیا اور افغانستان میں غسل خانوں کی طرح قونصل خانے بنائے۔ جہاں کپڑے تبدیل کرنے والوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے غضب کا ڈیرہ جمایا تو وہاں ان کے اوپر ضرب عضب آیا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سے بلوچستان میں بنگلہ دیش کا کھیل کھیلنے کی کوشش نا کام ہوئی کیونکہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا اس موقع پر نظریہ کو ہی مضبوطی سے تھامنا ہے کیونکہ وطن عزیز پاکستان کلمہ طیبہ کے نعرہ پر معرض وجود میں آیا مختلف صوبوں میں رہنے والے مختلف زبانیں بولنے والے مختلف مسالک سے تعلق رکھنے والے سب اس ایک نعرہ پر اکٹھے ہو گئے کوئی علاقایت ، صوبائیت، لسانیت ، فرقہ واریت کی بات نہیں تھی آج نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے کی اس سے بھی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے دشمنوں نے سازش کے ذریعے اس پر کئی وار کیے ہیں جب تک ہم نظریہ پاکستان پر متحد ہیں دشمن کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی پاکستان جب بنا اس وقت بھی لاکھوں جانیں قربان ہوئیں اور آج بھی افواج پاکستان، پولیس اور عوام قربانیاں پیش کر رہے ہیں ۔افغانستان میں ٹھکانہ بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے والے اپنی طاقت کو ریت کی مانندسرکتا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور دوسری طرف پاکستان ابھر کر سامنے آ رہا ہے انکا خرچ کیا ہوا مال وقت ہر چیز حسرت بن کر رہ گئی ہے اور دنیا میں پاکستان کو تنہا کرنے کے خواب دیکھنے والوں کی جب آنکھ کھلی تو گلگت سے گوادر تک پہلا تجارتی قافلہ پوری آب و تاب سے رواں دواں تھا گوادر کے نیلے پانیوں سے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے ساری دنیا نے محسوس کئے سوائے ان کے جو حسد کی آگ میں جلتے ہیں اور مرنے کے بعد بھی انکی چتا جلتی ہے حتیٰ کہ روس نے بھی دوستی کا ہاتھ بڑھا دیا بات تو صرف اتنی ہے کہ کوئی طاقت کے نشہ میں آکر ہماری جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو عبور کرنے کی کوشش نہ کرے پاکستان کے پاس سب سے مضبوط چیز نظریہ پاکستان ہے ۔امریکہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی اڑتی ہوئی دھول دنیا کی آنکھوں میں جھونک کر افغانستان میں دہشت گردی ختم کرنے آیا تھا سوال یہ ہے کہ اس کے آنے سے دہشت گردی ختم ہوئی ہے یا زیادہ ہوئی ہے؟ چین پاکستان کا دوست ہے یہ دوستی ہمالیہ سے اونچی اور سمندر سے گہری ہے جسے ماپا نہیں جا سکتا ۔بھارت کی آبدوز جب پاکستان کے سمندر کی طرف آ رہی تھی تو اس وقت پاکستان نیوی کے سپوتوں نے اسے واپس بھگایا جس سے گرم پانیوں کے سمندر سے اُڑتے ہوئے چھینٹوں نے دنیا کی آنکھوں سے امریکی گرد کو دھو ڈالا ہماری جغرافیائی سرحدوں پرپاک فضایہ کے شاہینوں کی موجودگی میں جب کوئی آگے نہیں بڑھ سکا تو نظریاتی سرحدوں پر حملے شروع ہوگئے اسلام اور پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ مہم چلائی گئی۔ جہاد اور دہشت گردی کو گڈ مڈ کیا گیا فرقہ وارانہ ، گروہی، لسانی، علاقائی بنیاد پر تقسیم کر کے یا کفر کے فتوے لگا کر مسلم اتحاد کے مقابلہ میں یہاں فساد پھیلایا گیا اور دہشت گردی کو فروغ دیکر ملک کا امن تباہ کیا گیا تو پھر ایمان تقویٰ اور جہاد فی سبیل اﷲ کا ماٹو رکھنے والی پاک آرمی کو فساد کے مقابلہ میں آپریشن رد الفساد شروع کرنا پڑا تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے ۔ہم سب مسلمان ہیں اور ہم سب پاکستانی ہیں پاکستان اسلامی نظریہ کی بنیاد پر بنا ہے اسلام میں اقلیت کا تحفظ بھی ہے یہاں کسی سازش کے بیج نہیں بوئے جا سکتے وطن عزیز کے کسی بھی شعبہ میں ملنے والی کامیابی کی خوشی یہاں سب کی خوشی ہے ملک کے کسی بھی علاقہ میں ہونے والے سانحہ کا غم پوری ملت کا غم ہے ۔ہر پاکستانی کے شناختی کارڈ پر اسکی تصویر کیساتھ پاکستانی پرچم کی تصویر ہے اور یہی ہماری ملت کی پہچان ہے اس پہچان کو ہمارے وطن کی خوبصورت وادی جموں و کشمیر میں کشمیری بھائی دشمن کے سامنے لہراتے ہیں اور ان کے جنازے بھی اسی پرچم کے سائے میں چلتے ہیں اور حافظ محمد سعید کا جرم بھی یہی ہے کہ اس نے 2017 کا سال کشمیر کے نام کر کے پاکستانی پرچم کو سربلند کرنے کا فیصلہ کیا کہ کشمیر سے کراچی تک اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munzir Habib

Read More Articles by Munzir Habib: 184 Articles with 69301 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Mar, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے