ارشد غازی ،طارق فاروق اور سردار سکندر حیات خان

(Junaid Ansari, )

حضرت مولانا محمد یوسف کاندھلوی ؒ اپنی تصنیف حیات الصحابہ ؓ میں تحریر کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود ؓ فرماتے ہیں تم لوگ اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک علم تمہارے بڑوں میں رہے گا اور جب علم تمہارے چھوٹوں میں آجائے گا تو چھوٹے بڑوں کو بیوقوف بنائیں گے ۔

حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا یار سول ؐ ہمارے ساتھ بیٹھنے والوں میں سے کون سب سے بہترین ہے ؟آپ ؐ نے فرمایا جس کے دیکھنے سے تمہیں اﷲ یاد آئے اور جس کی گفتگو سے تمہارے علم میں اضافہ ہو اور جس کے عمل سے تمہیں آخرت یاد آئے ۔

قارئین سلگتے ہوئے عنوان ،دھڑکتے ہوئے دل اور کپکپاتے ہوئے قلم کیساتھ ایک مرتبہ پھر آپ کا ’’رسوا و عاشق ‘‘ آ پ کی خدمت میں حاضر ہے بقول ابن انشاء

بے درد سننی ہو تو چل کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق ترا رسوا تیراا شاعر ترا انشاء تیرا
اس شہر میں کس سے ملیں ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرانام لے ہر شخص دیوانہ تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر ہم ہیں فقیر راہ گذر
دامن کبھی تھاما تیرا رستہ کبھی روکا تیرا
کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم چپ رہے اور ہنس دیئے منظور تھا پردہ تیرا

ان چند اشعار کے اندر ہمیں یوں لگتا ہے کہ جیسے ابن انشاء نے آج سے کئی عشروں قبل انصار نامہ کے لکھاری جنید انصاری کی اس حالت زار کا نقشہ کھینچ دیا تھا جو موجودہ دور کے بڑے بڑے حاکموں نے مل جل کر بنا نے کی کوشش کی لیکن کہتے ہیں کہ مارنے والے سے بچانے والا بڑا ہوتا ہے دنیاوی خدا تو کوشش کرتے ہیں کہ کسی طریقے سے سچ کی آوا ز کو دبا دیں کسی نہ کسی انداز میں کچھ ایسا کر ڈالیں کہ سچ بولنے والے گستاخ زبانیں یا تو کاٹ ڈالی جائیں اور یا پھر ایسے حالات بھی پیداکیے جائیں کہ لوگ بغاو ت کی رسم بھول جائیں یا ایسا کیا جاتا ہے کہ سچ لکھنے والے ہاتھوں کو حالات کی زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور تب بھی دیوانہ دیوانگی سے باز نہ آئے تو سودا رکھنے والے سر کو ہی قلم کر دیا جاتا ہے یہ تمام باتیں سقراط کے زہر کا پیالہ پینے سے لیکر ’’ایسے دستور کو صبح بے نور کو میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا ‘‘کی گردان دہرانے والے شاعر انقلاب حبیب جالب مرحوم تک ہر تاریخ دان کی کتابوں میں درج ہیں ۔سچ و بغاوت سر کچلنے والے ڈکٹیٹر سر کچلنے کی ان تمام حقیقتوں سے تو ضرور آگاہ ہیں لیکن اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے والا ہر مارشل لائی یا جمہوری ڈکٹیٹر ان کہانیوں کے سبق سے اس وقت تک بے خبر رہتا ہے جب تک وہ خود تاج و تخت گرائے جانے کے بعد عبرت کا نشان نہیں بن جاتا ۔

آج سے چند ہفتے پہلے غازی الٰہی بخش مرحوم جو تحریک آزادی کشمیر کے بہت بڑے ہیرو تھے ان کے صاحبزادے سابق وزیر صحت ارشد محمود غازی نے راقم کو اپنے دفتر غازی منزل مدعو کر کے ایک جذباتی انٹرویو دیا جس میں انہوں نے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان سے بہت سے گلے کیے اور ان کی کابینہ کے چند وزیروں کے نام لیکر یہ الزامات عائد کیے کہ یہ وزراء میرپور کے غریب لوگوں کا حق مار رہے ہیں اور گریڈ 1سے لیکر گریڈ5تک کی چھوٹی آسامیوں پر اپنی پسند کے متوالوں اور اپنے اپنے اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ریوڑیوں کی طرح نوکریاں بانٹ رہے ہیں جو زیادتی کی انتہا ہے ارشد محمود غازی نے کہا کہ میرے پاس تمام دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں جو ثابت کر رہے ہیں کہ ان وزرا نے جن کا تعلق برقیات ،تعلیم ،صحت ،خزانہ ،پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ و دیگر وزارتوں کیساتھ ہے یہ لوگ اہل میرپور پر ظلم کر رہے ہیں اس کیساتھ ساتھ انہوں نے ایک وزیر کے اوپر یہاں تک الزام لگا دیا کہ ان کے اربوں روپے کے اثاثے ان کی کرپشن کا نتیجہ ہیں ہم نے جب یہ انتہائی خوفناک قسم کی باتیں سنیں تو ہم اپنی جگہ ڈر گئے کہ جن بڑی بڑی گدیوں پر براجمان بڑے بڑے حاکموں کے اوپر ارشد غازی یہ الزامات لگا رہے ہیں وہ کہیں ہمارا ٹینٹوا نہ دبا دیں کیونکہ دنیا بے شک یہ سمجھتی رہی کہ راقم سمیت تمام صحافی ’’سپائڈر مین ،سپر مین اور بیٹ مین ‘‘جیسے ہیروز کے قریبی رشتہ دار ہیں ہمیں اپنی کم مائیگی اور تمام کمزوریوں کا دل سے اعتراف ہے جن میں ایمان کی کمزوری بھی شامل ہے مضبوط ایمان تو انسان کو اس قابل کر دیتا ہے کہ وہ ناتواں جسم و جاں رکھنے کے باوجود ہر فرعون ،شداد ،نمرود ،ہٹلر کے سامنے ڈٹ جاتا ہے لیکن ہمارے ایمان کی کمزوری کی ہمیں خوب خبر ہے گناہوں سے اعمال نامہ سیاہ ہے صرف اور صرف اپنی ماں والدین کی دعاؤں کی بدولت اﷲ پاک نے ہمارا پردہ رکھا ہوا ہے اور آزمائشوں سے آج تک بچا کر رکھا ہوا ہے چنانچہ یہ انٹرویو کرنے کے بعد ہم نے نشر تو کر دیا لیکن اس کے بعد تھر تھر کانپنا شروع ہو گئے اس انٹرویو کی باز گشت جے کے نیوز ٹی وی ،بول کشمیر نیوز ،میرپور نیوز ،میرپور تیز نیوز ،انقلاب نیوز اور دیگر میڈیا پورٹلز کے وسیلے سے پوری دنیا میں آباد کشمیریوں تک پہنچی اور پھر عمل اور رد عمل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہمارے ساتھ یہ حادثہ ہوا کہ جب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان اقتدار سنبھالنے کے سات ماہ بعد جب پہلی بار میرپور آئے تو آخری رو ز وزیر حکومت چوہدری محمد سعید نے بنگیال میرج ہال میں ان کا عشائیہ رکھا ہم نے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سے انٹرویو دینے کی درخواست کی جو انہوں نے قبول کر لی اور کہنے لگے آپ میرے ساتھ آئیں اور میرے کھانے کی کرسی کی پشت پر اپنا سیٹ تیار کر لیں ہم نے سیٹ تیار کیا اور ہمارے پروڈیوسر محمد علی حیات الرٹ ہو گئے ہم راجہ فاروق حیدر خان کے سر پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہے کہ وہ کیا کیا کھا رہے ہیں اور دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی کہ چاولوں کے ساتھ وہ شوربہ کھاتے ہوئے اتنے مطمئن تھے کہ جیسے ’’من و سلویٰ‘‘جیسا کھانا تناول فرما رہے ہوں ان کی کھانے کی سادگی دیکھتے دیکھتے ہم نے دیکھا کہ سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق ہمارے محسن ڈاکٹر امین چوہدری کے ہمراہ اپنی کرسی کی جانب جا رہے تھے ہم نے لپک کر ان کا ہاتھ تھاما اور ’’اسلام علیکم ‘‘کا نعرہ مار دیا طارق فاروق صاحب نے ہمار ا ہاتھ تھاما اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر فرمایا ’’میں نے آج تک کسی کا بھی حساب اپنی طرف بقایا نہیں رکھا جلد ہی آپ کا حساب بھی برابر کر دونگا ‘‘اس پر ہم نے تھوڑا گڑ بڑا کر اور تھوڑا مسکرا کر عرض کیا کہ جناب چوہدری طارق فاروق صاحب قرض آپ پر ارشد محمود غازی صاحب نے چڑھایا ہے بہتر ہو گا کہ آپ انہی کا قرضہ ادا کریں ہمارا پیشہ یہی ہے کہ ہم انٹرویو ز کرتے ہیں الزامات انہوں نے لگائے ہیں جوابات آپ دیجئے ۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ در اصل آپ کی زبان بھی بہت شیریں اور رواں دواں ہے اس کا علاج کرنا بھی ضروری ہے جلد ہی اس کا علاج بھی کرونگا ۔ہم نے مسکینیت کے ساتھ ان کی کرسی کھینچی اور سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’ویلکم ست بسم اﷲ ‘‘اس واقعہ کے فوراً بعد اگلے ہی دن وزیراعظم فاروق حیدر خان بھمبر کے تین روزہ دورہ پر روانہ ہو گئے وہاں سماہنی جلسہ کی طرف روانگی کے وقت بھمبر ہی میں بھمبر سی پیک انڈسٹریل زون کے متاثرین نے ان کا راستہ روکا اور اپنے درخواست ان کو دینے کی کوشش کی اور جواباً سینکڑوں مظاہرین کو ’’ٹیں پٹاس ‘‘ کر کے پہلے جسمانی طور پر زخمی کیا گیا اور بعد ازاں انہی متاثرین مظاہرین کو دہشت گردی سمیت دیگر دفعا ت لگاتے ہوئے پابندسلاسل بھی کر دیا گیا اگلے ہی دن ان متاثرین مظاہرین کے لیڈر سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری انور الحق نے ہمیں فون کیا اور حکم فرمایا کہ آپ نے آج میرا انٹرویو کرنا ہے ہم نے پوچھا حضور ہم نے ہی کیوں انٹرویو کرنا ہے اس شہر میں اور بھی بہت سے دوست ہیں جو کافی اچھا انٹرویو کرتے ہیں اس پر وہ فرمانے لگے کہ آپ کا گفتگو کا انداز بہت اچھا ہے اور ااس سے بھی اچھی بات یہ ہے کہ تمام کشمیری آپ پر اعتماد کرتے ہیں کہ آپ جو بھی کہتے ہیں وہ عموماً سچ ہی ہوتا ہے ہم نے جے کے نیوز ٹی وی کی انتظامیہ کو آگاہ کیا اور اجاز ت چاہی کہ کیا ہم یہ انٹرویو کر سکتے ہیں انہوں نے بہت خوشی سے اجازت دے دی وہ انٹرویو جے کے نیوز ٹی وی ،بول کشمیر نیوز،میرپور نیوز ،میرپور تیز نیوز ،انقلاب نیوز و دیگر میڈیا پورٹلز کے ذریعے ایک مرتبہ پھر پوری دنیا میں آباد لاکھوں کشمیریوں تک پہنچا اور اس کے بعد پر اسرار طور پر راتوں رات جے کے نیوز ٹی وی سے جنید انصاری کو ’’آف ایئر ‘‘کر دیا گیا ۔ہمیں اس کا کوئی غم نہیں کہ وہ جے کے نیوز جس کے پروگرام کنٹنٹ کا ستر فیصد سے زائد حصہ ’’سچ کیا ہے ود جنید انصاری ‘‘پر مشتمل تھا جس پلیٹ فارم پر ہم نے جے کے نیوز کی کسی بھی سپورٹ کے بغیر صرف اور صرف اپنے شوق،اپنے خرچے ،اپنے جنون ،اپنے جذبے اور اپنے ہر سکون و آرام پر مشتمل اشیا کو قربان کر دیا اور موجود ہ صدر و وزیراعظم ،سابق صدور و وزرائے اعظم ،وفاقی وزراء ،کشمیری وزراء ،ڈاکٹر عطا الرحمن ،ڈاکٹر ثمر مبار ک مند سے لیکر ایک ہزار سے زائد شخصیات کے انٹرویوز کر کے عوام کو آگاہی اور شعور فراہم کرنے کی کوشش کی تھی ہمیں اس ادارے سے حکومت کے دباؤ ،پلاٹوں یا پیسوں کے لالچ یا نہ جانے کس بناء پر داغ مفارقت دینے پر مجبور کیا گیا کیوں کہ ہمیں ہمارا دین یہ سکھاتا ہے کہ رازق صرف اور صرف اﷲ کی ذات ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت کسی بھی انسان یا کسی بھی مخلوق کے لکھے گئے رزق کا ایک دانہ بھی بند کرنے سے عاجز ہے اور اسی کمزور سے ایمان کے نتیجہ میں اﷲ پاک نے ہم پر کرم کیا اور ایک دروازہ بند ہونے پر اﷲ نے ہمارے لیے دو دروازے کھول دیئے اور ہم نے دو ہی دن کے بعد کشمیری چینل نیوز27اور پوری دنیا میں دیکھے جانے والے نیشنل چینل دن نیوز ٹی وی کو جوائن کرلیا جنہوں نے ہماری عزت افزائی کرتے ہوئے ہمیں پورے آزادکشمیرکا انچارج بناد یا یہ اﷲ کا خصوصی کرم اور ہمارے نیک والدین کی دعاؤں کا صدقہ ہے لیکن آج ہم ایک مرتبہ پھر وعدہ کرتے ہیں کہ سچائی کی تلاش کا یہ سفر بند نہیں ہو گا یہ جاری رہے گا ۔
نگاہِ فقر میں شانِ سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو ،وہ قیصری کیا ہے !
بتوں سے تجھ کو اُمیدیں ،خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے !
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنھیں
خبر نہیں روشِ بندہ پروری کیا ہے
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیاہے
اس خطا سے عتاب ِ مُلوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مآلِ سکندری کیا ہے
کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے !

ہمیں علم ہے اور خام قسم کا یہ یقین ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں او ر جو باہر ہے وہ قبر میں نہیں ہم نے چوہدری طارق فاروق سینئر وزیر کو متعدد پیغامات بھیجے ہیں کہ ہمارے ناکردہ گناہوں کی جو سزا وہ دینا چاہتے ہیں کچھ تو دے چکے ہیں اور اگر کچھ مزید رہتی ہے تو وہ بھی دے دیں ہمارا سر ان کی تلوار کیلئے حاضر ہے لیکن شر ط صرف ایک ہے کہ وہ ہمیں انٹرویو کے لیے وقت دیں اور ان تمام سوالوں اور الزامات کے جوابات دے دیں جو ارشد محمود غازی اور چوہدری انوارالحق کے انٹرویو ز نے کھڑے کیے ہیں ۔آخر میں ہم سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان ،صدر آزادکشمیر سردارمسعود خان اور وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے راقم کو دیئے گئے انٹرویوز کا سیاق و سباق آپ کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں جو ہم نے نکیال عظیم ہیرو سردار فتح محمد خان کریلوی کی برسی کے موقع پر سردار سکندر حیات خان کی رہائش گاہ پر ریکارڈ کیے ۔ سالار جمہوریت سابق صدر و وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے ریڈیو پاکستان ریڈیو آزادکشمیر ،نیوز27،بول کشمیر نیوز ،میرپور نیوز ،میرپور تیز نیوز ،انقلاب نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین ہمیں یہ کہتے ہیں کہ سی پیک میں کوئی کرپشن کی جارہی ہے ایسا درست نہیں ہے ارشد محمود غازی کے والد محترم غازی الٰہی بخش مرحوم وہ عظیم انسان تھے کہ جنہوں نے کوٹلی مسجد کے تالے اپنے ہاتھ سے توڑے اور جب انہیں کوڑے مارے جاتے تھے تو ان کے منہ سے ہائے کی بجائے یا علی نکلتا تھا غازی الٰہی بخش مرحوم کے بیٹے ارشد محمود غازی کو جب ضمنی الیکشن میں بیٹھنے پر مجبور کیا گیا تو میں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو نام لیکر کہا تھا کہ آپ نے غازی الٰہی بخش جیسے تحریک آزادی کے عظیم ہیرو کے بیٹے ارشد محمود غازی کیساتھ یہ کیا کر دیا ۔ارشد محمود غازی کو اپنی ہی حکومت پر الزامات نہیں لگانے چاہیے تھے اگر کسی ایک دو وزیروں کی کوئی غلطی ہے تو مسلم لیگ ن کی پوری حکومت پر الزام نہیں لگانا چاہیے ارشد غازی نے مجھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن بد قسمتی سے رابطہ نہ ہو سکا ۔سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ کچھ بھی ارشد محمود غازی ہمارے ساتھی ہیں اور تحریک آزادی کشمیر کے عظیم ہیرو غازی الٰہی بخش کے صاحبزادے ہیں اختلافات دور ہو سکتے ہیں اور غلط فہمیاں ختم ہو سکتی ہیں ۔۔سردار سکندر حیات خان نے کہا کہ میڈیا کا بھی فرض ہے کہ وہ واقعات اور خبروں کو رپورٹ کرتے ہوئے خود کسی خبر میں فریق نہ بنے کیونکہ اس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ میرے مخالف یہ کہتے ہیں کہ سردار سکندر حیات خان کرپشن کا بادشاہ اور موجد ہے میں انہیں جواب دیتا ہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا اور مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان صدر تھے تو ہمارے خلاف مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا تھا اور ہمیں عدالت نے سرٹیفکیٹ دیا تھا کہ ہم پاک ہیں ۔جس سیکرٹری نے مجھے رشوت دینے کی کوشش کی تھی میں نے اسے ایک دن کے اندر نو کری سے نکال دیا تھا جھوٹے الزامات لگانے والے لوگوں کی حقیقت کشمیری قوم اچھی طرح جانتی ہے سی پیک کے حوالے سے میرا موقف انتہائی واضع ہے کہ دریا کے کنارے قدرتی طور پر جو راستے بنے ہوئے ہیں انہی کے کنارے سی پیک ٹریڈ روٹ بنا کر پورے آزادکشمیر کو ایک ہی سڑک کے ذریعے جوڑ دیا جائے کوٹلی آزادکشمیر کا سب سے بڑا ضلع ہے اور یہاں کے لوگوں کی وطن کے لیے بہت قربانیاں ہیں کوٹلی کو لازمی طور پر سی پیک میں حصہ ملنا چاہیے اس سلسلہ میں صدر سردار مسعود خان اور وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان سے بات کی ہے امید ہے کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور وفاقی حکومت چین کے ذمہ داران کیساتھ سنجیدہ گفتگو کرینگے او رہمارے جائز مسئلے پر غور کرینگے ۔اس موقع پر صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ سالار جمہوریت سابق صدر ووزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی یہ تجویز اور خواہش بہت جائز ہے کہ چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے میں آزادکشمیرکے زیادہ سے زیادہ اضلاع کو فائدہ ہونا چاہیے اور کوٹلی ضلع کو بھی اس کا حصہ بننا چاہیے اس سلسلہ میں وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور ان کی کابینہ کے ممبران حکومت پاکستان سے گفتگو و شنید شروع کر چکے ہیں اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ پوری کشمیری قوم کو سی پیک منصوبے سے فوائد ملیں گے اس منصوبے کے ثمرات پورا آزادکشمیر اٹھائے گا سردار فتح محمد خان کریلوی مرحوم تحریک آزادی کشمیر کے ہیرو تھے اور غازی ملت سردار ابراہیم خان مرحوم سمیت تحریک آزادی کے تمام ہیروز ہمارے رول ماڈلز ہیں ۔وزیراعظم آزادکشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ سردار فتح محمد خان کریلوی مرحوم سمیت تحریک آزادی کشمیر کے تمام ہیروز ہمارے محسن ہیں اور بہت جلد ہم ان تمام ہیروز کی خدمات اور ان کی زندگی کے واقعات و حالات پر مبنی ایک مضمون ڈیزائن کر کے آزادکشمیر کے تمام سکولوں اور کالجوں میں اپنے بچوں کے نصاب کا حصہ بنائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان کی تجویز سو فیصد درست ہے کہ سوشل میڈیا کے تمام پورٹلز فیس بک ،لنکڈ ان ،انسٹا گرام ،گول پلس و دیگر کو استعمال کرتے ہوئے ہماری کشمیری نوجوان نسل بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے اجاگر کر سکتی ہے اور سوشل میڈیا تحریک آزادی کشمیر کا بڑا ہتھیار بن سکتا ہے ۔
آخر میں یہی کہیں گے

سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا کہ زور کتنا بازوے قاتل میں ہے

اﷲ ہم سب کے حا ل پر رحم فرمائے اور ہمیں یہ یقین نصیب فرمائے کہ ہم قیامت تک اس دنیا کے تختے پر کبھی بھی دندناتے نہیں رہیں گے ایک دن مرنا ہے اور اﷲ پاک نے جیسا کہ قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی تولے گا اور ہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ کو بھی تولے گا ۔اﷲ ہمیں چھوٹے اور بڑے گناہوں سے محفوظ فرمائے آمین ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Junaid Ansari

Read More Articles by Junaid Ansari: 425 Articles with 210693 views »
Belong to Mirpur AJ&K
Anchor @ JK News TV & FM 93 Radio AJ&K
.. View More
23 Mar, 2017 Views: 316

Comments

آپ کی رائے