شریفوں،چودھریوں اور زرداریوں کا 23مارچ

(Rao Imran Suleman, )

پاکستان کے حصول کے لیے ہمارے اباو اجداد کی قربانیاں تو ہر ایک کو یاد ہیں کہ کس طرح وہ جانی و مالی طو رپر اس ملک کی آزادی کے لیے قربان ہوئے مگر اس ملک میں رہتے ہوئے جو قربانیاں ان اباواجداد کی نسلیں ابھی تک دیتی چلی آرہی ہیں اسے کوئی اپنی مثالوں میں نہیں یاد رکھتا،ایک لاحاصل سی خوشی کیوں محسوس ہوتی ہے کہ ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں ؟یقینا ہم سب ہی اداس ہیں ،ا س وقت جہاں اس ملک کی آزادی کوبیسویں ی صدی کا معجزہ قرار دیا جاتاہے وہاں اس معجزے میں جو ملاوٹ پائی جائی ہے وہ یہ ہے کہ اس ملک کو آزاد کروانے سے قبل ہم جس طرح انگریزوں کے غلام تھے اور جس انداز میں ہندو بنیے کی شاطرانہ چالوں کے عتاب میں گرفتار تھے کیااب ہم ان دونوں دشمنوں سے مکمل طور پر آزاد ہیں ؟۔کیا اس ملک میں غریب اور امیرآقا اور غلام کا فرق مٹ چکاہے ، پہلے ہمارے مکانوں اور زمینوں پر وہ قبضہ کرتاتھا جسے ہم اپنا دشمن کہتے تھے مگر یہ تما م باتیں تو آج بھی اسی انداز میں چل رہی ہیں،یقیناہم اپنی آنے والی نسلوں کو 23مارچ کے قومی دن کی افادیت سے روشناس کروانا چاہیے مگر جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں اس ملک میں رہتے ہوئے ہمارے ملک کی عوام جو کچھ کھا پی رہی ہے یقینا یہ عوام اس ملک میں بکنے والی ہر شے کوئی دیکھ رہی ہے استعمال کررہی ہے کیا ہماری نسلیں اس ملک میں بکنے والے دودھ کو نہیں پی رہی کہ اس میں کس انداز میں مردہ انسانوں کو محفوظ کرنے والے کیمیکل ڈالے جاتے ہیں ؟۔کیا ہماری نسلیں اس بات سے نابلد ہیں کہ اس ملک میں کونسی ایسی شے ہے جو ملاوٹ زدہ نہ ہو حتیٰ کہ اس ملک میں بکنے والا زہر بھی خالص نہیں ہے ،اسکولوں میں تعلیم کے نام پر ڈرگ اور منشیات کا کاروبار کیا جارہاہے کیا یہ ہی وہ وعلم جیسے ہر حال میں حاصل کرنے کا در س دیتے ہوئے ہمارے بزرگ اس دنیا سے چلے گئے؟ ٹیکسوں سے بھریہ زندگی ؟ حقیقت میں اس ملک کو ہم نے آزاد تو کروالیا مگر اس مملکت کو چلانے کے لیے ہمیں ابھی تک وہ حکمران نہ مل سکیں ہیں جو اس ملک کی قدر ومنزلت سے آشنا ہوہمیں 23 مارچ کے دن کی اہمیت اس عوام کو نہیں بلکہ ان حکمرانوں کو بتانے کی ضرورت ہے جو موروثی سیاست کے زریعے اس ملک پر حکمرانیاں کرتے چلے آرہے جو جدی پشتی عیاشیوں کی زندگیاں گزارتے چلے آئے جن کو نہ تو کبھی غربت کا احسا س پیدا ہوا نہ ہی مہنگی فیسوں سے پالا پڑ اور نہ ہی ان امراؤں کوکبھی ادویات اور ڈاکٹروں سے محروم سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی ضرورت محسوس ہوئی ،ابھی تک ہمیں ایسے حکمرانوں سے ہی واسطہ پڑتا رہاہے جن کے ہردور میں کرپشن کو عروج ملا ، عوام کوقانون کی حکمرانی کے نام پر ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑا،ستر سالوں سے یہ عوام 23مارچ کا جشن تو مناتی چلی آرہی ہے مگر زخموں سے چور یہ عوام ابھی تک بنیادی حقوق سے محروم چلی آرہی ہے ،نہ تو ان کے پاس پینے کا صاف پانی ہے اور نہ ہی صحت کے لیے ہسپتالوں کا وہ معیار کے جس میں بروقت ڈاکٹرز موجود ہو،ادویات موجود ہو ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا پاکستان کے قیام کا مقصد یہ ہی تھا کہ اسے انگریزوں سے آزاد کروانے کے بعد جاگیرداروں، ڈیروں،چودھریوں ،شریفوں اور زرداریوں کی غلامی میں دے دیا جائے ،افسوس کے ہماری عوام تو آج بھی غلام کی غلام ہی ہے جو دو سے تین حصوں میں بٹی ہوئی جن کا مقصد اپنے اپنے لیڈران کی نسلوں ان کی اولادوں کی خدمت کرنا ہے یعنی یوں کہا جائے کہ اس ملک کی آزادی اس ملک میں بسنے والے چند خاندانوں کے لیے مختص کردی گئی ہے ، میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس ملک کے غریب کسانوں ،مزدوروں ،اساتذہ ،ریڑھی بانوں ،دکانداروں کو وہ حقوق حاصل ہیں جو کسی بھی آزاد ملک کے شہری کو میسر ہوتی ہیں ؟۔کیا کوئی کہہ سکتاہے کہ موجودہ حکمرانوں نے کبھی عوام کی فلاح و بہبود اور بہتر ی کے لیے کام کیئے ۔ میں کیسے بتاؤیہ موٹرویز ،یہ انڈر بائی باس ،یہ پلوں کی بھرمار اور یہ نت نئی بسوں کی سروسز کسی غریب کے گھر کا چولہا نہیں جلاسکتی یہ سب ترقی ضرور ہے مگر صرف اور صرف ایم این اے ،ایم پی ایز، پٹواریوں اور من پسند ٹھیکداروں کی جنھوں نے ان ٹھیکوں کے عوض ہر حال میں اگلا الیکشن کامیاب کرواناہے ، میں پوچھنا چاہتاہوکیا یہاں قانون سب کے لیے برابر ہے ؟کیا کبھی اس قانون نے حاکم اور محکوم کے درمیان ہونے والی زیادتیوں کا ازالہ کیا ؟۔اگر کیا ہے تو کیوں اس ملک کی عوام بیس بیس سالوں سے عدالتوں کے باہر دھکے کھارہی ہے اور کیسز صرف پانامہ لیکس ،ڈاکٹر عاصم ،شرجیل میمن ،ایفی ڈرین کوٹہ ،منی لانڈرنگ اور ایان علی کا ہی سنا جاتاہے میں پوچھنا چاہتاہوں کہ غیر ملکی اور سوئس بینکوں میں پڑا پیسہ کس کا ہے کیا یہ پیسہ اس آزاد ملک کی غریب عوام کا نہیں ہے ؟کہ جن کے بچے اور بزرگوں کے پاس نہ تو علاج میسر ہے نہ ہی خالص خوراک ،اور نہ ہی زہر کھانے کے لیے پیسے کہ وہ اس آزاد ملک سے مکتی پا کر حقیقی طور پر اپنے جسم وجاں سے آزاد ہوجائیں کہ جہاں نہ بھوک ہو نہ ہی افلاس نہ ہی بیماریوں ہو اور نہ ہی مہنگے علاج کا ڈر،اور سب سے بڑھ کر جہاں ملک اور دین کو بیچنے والے یہ تاجر نما حکمران بھی ان کی نظروں سے دور ہو ؟۔جھوٹی مسکراہٹوں کو سجائے یہ آزاد ملک کے آزادشہری اپنے اپنے گھروں میں آزادی کی شمعیں اور جھنڈیاں لگانے کی بھی استقامت نہیں رکھتے ،بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو آزادی اور ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے حکمرانوں کے پروٹوکول سے خوفزدہ ہیں کہ کہیں آزادی کے ان علمبرداروں کے دھول اڑاتے قافلوں میں ان کے بچے دب کر نہ مرجائیں کہ کہیں ان کے پروٹول کی وجہ سے کوئی زخمی یا بیمار بچہ ہی نہ دم توڑ جائے ،مساوات اور برابری کا درس دینے والے یہ مکا ر اور جھوٹے حکمران وہ لوگ ہیں جنھوں نے اس ملک کی آزادی کو بھی گردی رکھ چھوڑا ہے جنھوں نے اپنی نسلوں کی بقا ء کے لیے قوم کی سات نسلوں کو مقروض بنا دیا ہے اس قوم کا بال بال ان قرضوں میں جکڑ کررکھ دیا ہے جس کا ایک روپیہ بھی اس غریب عوام نے کبھی حاصل نہ کیا ہے ۔آزادی کی خوشیاں منانے والی عوام سے معذرت کے ساتھ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rao Imran Suleman

Read More Articles by Rao Imran Suleman: 75 Articles with 37294 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2017 Views: 207

Comments

آپ کی رائے