اسلام میں زبردستی نہیں ہے تو کیا ہوگا ؟

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
جہالت اس قدر عام ہوتی جارہی ہے کہ بھولے بھالے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا لڑکا یا ہماری لڑکی اداکار یا اداکارہ بن جائے تو ہم کروڑ پتی بن جائیں گے تو یہ کام جہالت کا ہوہی نہیں سکتا اور اس کے لیے طرح طرح کے مضحکہ خیز دلائل پیش کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ سود کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں کیوں کہ سود سے پیسہ آتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہندوانہ سوچ رکھنے والے لوگ تو سود کی پوجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کی پوجا کرتے ہیں جو نظر آتا ہے اور اللہ کی پوجا کیوں کریں وہ تو نظر ہی نہیں آتا معاذ اللہ العیاذ باللہ

اسلام میں زبردستی نہیں ہے تو کیا ہوگا ؟
وہی ہو گا جو منظور خدا ہوگا
آج کل کے پڑھے لکھے گریجوایٹ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام میں زبردستی نہیں ہے اور اس طرح سے ظلم کا ساتھ دیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ میں نے کئی ایک ایسے دانشوروں کو دیکھا ہے جو بظاہر بڑے محب وطن بنے پھرتے ہیں لیکن وہ جہالت کو پاکستان میں نافذ کرنا چاہتے ہیں اور وہ اپنی پرائویٹ مجلسوں میں کہتے ہیں کہ اسلام میں زور و زبردستی نہیں ہے لیکن جہالت میں تو زور و زبردستی ہے اس لیے ہم جہالت کو زبردستی دنیا میں نافذ کرنا چاہتے ہیں وہ اس قدر اثر و رسوخ والے ہیں کہ کوئی ان کو یہ کہے کہ آپ لوگوں کی سوچ آئیڈیالوجی ظالموں کی حمایت پر مبنی ہے تو بدترین دھمکی آمیز رویّہ کا اظہار کیا جاتا ہے جسے پنجابی زبان میں کھورو ڈالنا کہتے ہیں وہ آگے سے شرمندہ ہوئے بغیر کہتے ہیں کہ اسلام سچا دین ہے تو اس میں زبر دستی کی کوئی ضرورت نہیں ہے لکن جہالت جھوٹی ہے اس لیے اس کو زبر دستی نافذ کرنا پڑتا ہے ظاہر ہے جب اسلام کو نافذ کرنے کی بات ہوتی ہے تو زبردستی کی رٹ لگا دی جاتی ہے تو پھر جو لوگ جہالت پر لوگوں کو لانا چاہتے ہیں ان کے لیے کھلی چھٹی مل جاتی ہے اور یہ ہمارے معاشرے کا المیہ بن چکا ہے اور بہت سے ناجائز اور کالے دھندے والے فلموں اور ڈراموں اور اخبارات و رسالوں کے ذریعے کھلے عام جہالت کا پرچار کرتے ہیں اور کہتے ہیں جس کام سے لوگوں کو خوشی ملتی ہو اور پیسے ملتے ہوں وہ جہالت کا کام ہوہی نہیں سکتا ہے -

جہالت اس قدر عام ہوتی جارہی ہے کہ بھولے بھالے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا لڑکا یا ہماری لڑکی اداکار یا اداکارہ بن جائے تو ہم کروڑ پتی بن جائیں گے تو یہ کام جہالت کا ہوہی نہیں سکتا اور اس کے لیے طرح طرح کے مضحکہ خیز دلائل پیش کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر کہتے ہیں کہ سود کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں کیوں کہ سود سے پیسہ آتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ہندوانہ سوچ رکھنے والے لوگ تو سود کی پوجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اس کی پوجا کرتے ہیں جو نظر آتا ہے اور اللہ کی پوجا کیوں کریں وہ تو نظر ہی نہیں آتا معاذ اللہ العیاذ باللہ

یہاں اس بات کو آج کے دانشور بھی اسی طرح بھول چکے ہیں جیسے ابو جہل کے دور میں دانشوروں اور مذہبی راہنماوں کا بھی یہ خیال تھا کہ مر کے مٹّی ہو جانا ہے کوئی قبرکے سوالات نہیں حشر کی سختیاں نہیں ہیں پل صراط کا امتحان نہیں ہونے والا بلکہ ابو جہل جس کو ابوالحکم کے نام سے یاد کیا جاتا تھا یعنی بڑے سرداروں کا حکمران یا حکمرانوں کا حکمران اس کو جب آخرت کے عذاب سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتا تھا کہ جس اللہ نے ہمیں اس دنیا میں اتنی عزّت اور مال ودولت دیا ہے آخرت میں بھی ہمیں یہ چیزیں دے گا کیوں کہ ہم اس کے گھر بیت اللہ کے متولّی ہیں - یہی سوچ بنی اسرائیل کی تھی اور ہے کہ ہم اللہ تعالٰی کی لاڈلی قوم ہیں ہم ہی جنت کے وارث ہیں دوزخ کے لیے اور قومیں تھوڑی ہیں پھینکی جانے والی دوزخ میں -
پہلی قوموں کی طرح آج کے مسلمان بھی اور خصوصی طور پر حکمران کرائے کے بکاو مولوی رکھ لیتے ہیں جو تنخواہ ہی اس بات کی لیتے ہیں کہ آپ کے ہر کام کو جھوٹے فتووں سے بلکل درست قراردیں اور قرآن و حدیث سے یہ ثابت کرتے رہیں کہ آپ ہنڈرڈ پرسنٹ جنّتی ہیں اور اس طرح سے مولوی اور مفتی اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں -ہمارے حکمرانوں کو اللہ کے دین کو ملک میں نافذ کرنا چاہیے اور قرآن و حدیث کے مطابق قوانین نافذ کرنے چاہییں تاکہ اللہ کا دین رہتی دنیا تک غالب ہو جائے اور دنیا سے ظلم اور جہالت کا خاتمہ ہو جائے - یہ ہم سب مسلمانوں پر خواہ وہ حکمران ہوں یا عوام فرض ہے - اگر ہم یہ فرض ادا نہیں کریں گے تو کیا کافر اپنا مذہب چھوڑ کر خود بخود اسلام میں داخل ہو جائیں گے - نہیں بلکہ وہ ہماری اولادوں کو غیر مسلم بنالیں گے اور ہم اللہ کے مجرم بن جائیں گے - اور بلا شبہ اسلام کے ایسے سنہری قوانین ہیں کہ اگر ہمارے ملک مین نافذ ہو جائیں تو دنیا بھر سے لوگ ہمارے ملک میں کھچے چلے آئیں گے اور سعودیہ کی طرح ہمارا ملک بھی ترقی کی منازل طے کرنے لگے گا ہمارے ملک کے حسابات غیر مسلموں کے ہاتھوں میں ہیں جس کی وجہ سے جب مارشل لاء بھی نافذ ہوتا ہے تو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوتا اور افسر شاہی اور حسابات والے جمہوریت کی دھمکی دے ڈالتے ہیں ورنہ خزانے خالی ہونے کی نوید سنا دیتے ہیں - اور اسطرح مارشل لاء والوں کو عوامی راہنماوں کو ممبر بنا کر الیکشن کرا کے اسمبلی میں لانا پڑتا ہے اور پھر فوج کے دن گنے جاتے ہیں اور ان کو تنقید کا نشانہ بن بن کر اکتا کر اقتدار چھوڑنا پڑتا ہے فوج کو چاہیے کہ اقتدار پر قابض ہو تو اسلام کا نفاذ کر دیں اور جہاد کو جاری کریں کہ سکولوں میں جہاد کی تعلیم لازمی قرار دلا کر لاکھوں بلکہ کروڑوں لڑکوں کو فوج میں شامل کریں اور دوسرے محکموں کے ملازموں کو بھی جہاد کی ٹریننگ دلا کر مجاہد بنائیں اور عوام کے دلوں کو تسخیر کرکے کافر ملکوں پر حملہ آور ہو کر فتوحات کا سلسلہ شروع کریں اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ایمانداری کا ماحول بنائیں مگر حکمران فوجی ہوں یا جمہوری سب کو حسابات رکھنے والے عیسائیوں اورڈاکٹروں اور اداکاروں اور غنڈے بدمعاشوں کے ہاتھوں کا کھلونا بننا پڑتا ہے اور کٹھ پتلیوں کی طرح ان کے اشاروں پر ناچنا پڑتا ہے اس کرپشن بھرے سسٹم کو بدلنے کے لیے فوج کو اقتدار مضبوط ہاتھوں سے سنبھالنا ہو گا اور اسلام نافذ کر کے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہوگا اس کے لیے حسابات اور شناختی دستاویزات کومسلمانوں کے ہاتھوں میں دینا نہایت اہم ہے ورنہ یہ لوگ پھر سے اپنی خباثتیں پھیلا دیتے ہیں اور شوشل میڈیا کے ذریعے فوجی حکمرانوں کو بے بس کر دیتے ہیں میری ان باتوں کے بعد یہ عیسائی اور غیر مسلم قوّتیں مجھے میرے گھر والوں کے ذریعہ سے پاگل خانے میں بھجوا کر میری کاوشوں کو سبوتاز کر دیں گے اور مجھے تواتر سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں جن کو مین خاطر مین نہین لاتا مگر مجھ غریب کو ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس قدر دوائیوں کے ذریعہ سے مفلوج کر دیا جاتا ہے کہ میں اپنا ماضی اور ساری اہم باتیں بھول جاتا ہوں اور کمزوری میں اپنے آپ کو سنبھالنے میں مصروف ہوکرسب کام مجھے روکنا پڑتا ہے اس سے پہلے بھی میرے ایسے اہم کالم ڈلیٹ کیے جاچکے ہیں اللہ کی پناہ اسلام دشمنوں کے شر سے -

ورلڈ میپ سے ہرا رنگ کم ہوتا جارہا ہے

انسانی حقوق کی اس قدر مٹی پلید ہو رہی ہے جہالت کے ہاتھوں کہ پوچھیے مت جب کوئی اسلامی حدود کے نفاذ کی بات کرے تو انسانی حقوق کی پامالی کا دعوہ دائر ہو جاتا ہے اسلام کی حدود نافذ ہونے سے کون سی انسانی حقوق کی پامالی ہوتی ہے میرے خیال میں جہالت میں کمی واقع ہوجانے کا خوفناک امکان پیدا ہوجاتا ہے جو غیر اسلامی بلکہ اینٹی اسلامی سوچ رکھنے والے لوگ ہیں وہ انسانی حقوق کی پامالی کے نام پر اللہ کی حدود کو نافذ ہونے روک دیتے ہیں مسلمان ملکوں میں اسلام کو اس قدر بے وقعت کر دیا گیا ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کے نقشے سے ہرا رنگ غائب ہوتا جارہا ہے اور جہالت کو بناو سنگھار کرا کر اور لش پش کر کے اسلامی ملکوں میں تیزی سے رائج کیا جارہا ہے اور حکمرانوں کو اس بات سے بے خبر ہی رکھا جارہا ہے اور عوام اور حکمران اس بات پر متّفق نظر آ رہے ہیں دور دور تک اسلامی انقلاب کے امکانات نظر نہیں آ رہے ہیں جب کوئی اسلامی انقلاب کی بات کرے تو فوراً دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے اور اسلامی انقلاب کی بات کا گلہ گھونٹ دیا جاتا ہے-

یوں لگتا ہے کہ حکمرانوں اور عوام نے مشترکہ طور پر جہالت پھیلانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور کوئی بھی سنجیدہ بات کرے تو وہ ڈاکٹر صاحب منع کر دیتے ہیں کہ ٹینشن آپ کے لیے نقصان دہ ہے اور سنجیدگی کی بات کہنے سننے سے ٹینشن اور ڈپریشن ہو جانے کا خطرہ ہو جائے گا البتہ جب اسلامی حدود کے نفاذ کو روکنے کی بات ہو تی ہے تو سب حکمران اور عوام سنجیدہ ہو جاتے ہیں اور ڈاکٹر ڈبل سنجیدہ ہو جاتے ہیں اس وقت غیر سنجیدہ ہو جانے سے ان کو ٹینشن اور ڈپریشن اور مالیخولیا ہارٹ اٹیک اور برین ہیمرج ہو جانے کے امکانات رونما ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو جاتا ہے ان سب باتوں سے کیا پتا چلتا ہے کہ جہالت زندہ باد شیطان سے دوستی اور اللہ رحمان سے بیزاری ہے - یہ کام ہمارے افسر شاہی دنیا میں خاص طور پر اسلامی دنیا میں پھیلا رہے ہیں افسر شاہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو دولت کے پجاری ہوتے ہیں اور ان کے تعلقات سیاسی لوگوں سے تو ہوتے ہی ہیں بلکہ ہر سیاست دان کے پیچھے افسر شاہی کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ ہی مائنڈ سیٹ اور گیم پلان سیاست دانوں کے ذریعہ سے معاشرے میں لانچ کرتے ہیں سیاست دانوں کے ساتھ ساتھ ان کے تعلّقات سوشل میڈیا سے بھی ہوتے ہیں سوشل ویلفئر سماجی تنظیموں سے بھی ہوتا ہے اور خاص طور پر انڈر ورلڈ اور بلیک مافیاز سے بھی ایسے لوگوں کے مراسم ہوتے ہیں-

الغرض جہاں جہاں سے ان کی دولت میں دن دگنی رات چگنی بڑھوتری ہوتی ہے تو مجموعی طور پر اپنی دولت میں اور زمین جائیداد اور بینک بیلنس میں اضافہ کی تو سب کو فکر ہے مگر دنیا کے نقشہ سے ہرا رنگ کم ہوتا جارہا ہے اس کی فکر کسی کو نہیں ہے اگر کوئی فکر کرتا ہے تو ہرے رنگ میں اضافے کی کوشش بھی ناجائز دھندوں سے کرنے کی کوشش کرتا ہے تو نتیجہ یہ ہے کہ ہرا رنگ اور کم ہو جاتا ہے -

اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے یہ بات آپ لوگوں نے بہت سے لوگوں سے سنی ہوگی خاص طور پر جب اپنے بیوی بچوں اور بہن بھائیوں کو نماز کے لیے اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے کے لیے کہا جاتا ہے اس وقت وہ آگے سے جواب دیتے ہیں کہ اسلام میں زوروزبردستی نہیں ہے آپ نماز پڑھو اور اسلامی تعلیمات پر عمل کرو ہم بھی جب اللہ کو منظور ہوگا نماز بھی پڑھیں گے اور اسلامی تعلیمات پر عمل بھی کر لیں گے اور بعض لوگ تو اسلامی تعلیمات اور نماز سے بے زاری کا اظہار کردیتے ہیں اور آگے سے طرح طرح کے بہانے بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ دل کی نماز ہوتی ہے دکھلاوے کی ٹکریں مارنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور اس طرح سے اللہ کے دین کی دعوت کو زبر دستی روک دیا جاتا ہے پتا چلا کہ اسلام میں زور زبردستی نہیں ہے مگر جہالت میں زور زبردستی ہے وفاداری کی نیّت ہی نہیں کرنا چاہتے احسان فراموشی غدّاری ہڈیوں میں رچ بس چکی ہو جیسے -

ہر بندہ یہی سوچ رکھتا ہے کہ کوئی معجزہ کوئی چمتکار ہو جائے اور میں راتوں رات امیر ہو جاوں اور من مانیاں اور عیّاشیاں کرتا پھروں کوئی مجھے روکنے والا نا ہو اس کے لیے چاہے دین ایمان غیرت عزّت اور ملک ہی کیوں نا ہیچنا پڑ جائے مگر کوٹھی کار بنگلہ جائیداد بینک بیلنس ہونا چاہیے الغرض تاج والی بادشاہت نا سہی بے تاج بادشاہ ہی بن جاوں لوگ مجھے اچھے الفاظ سے یاد کریں میری خوشامدیں تعریفیں کریں اور اللہ نے جس مقصد کے لیے ہمیں پیدا فرمایا ہے وہ کام نا ہی کرنا پڑے اور اس کے لیے بہانے ہیں جی اللہ تعالٰی کو ہماری عبادت کی ضرورت ہی نہیں عبادت کے لیے فرشتے ہی بہت ہیں انسان کو اللہ نے بنایا ہے کہ یہ جی بھر کے برائیاں کریں اور مجھ سے معافی مانگیں اور میں ان کو معاف کر دوں اور یہ کہ یہ دنیا میں رہ کر کمزوریوں کے باوجود ترقّی کریں محنت کر کر کے ناممکن کو ممکن بنائیں وغیرہ وغیرہ ایسی بہت ساری باتیں بنا رکھی ہیں فرائض سے پیچھا چھڑانے کے لیے آج کل کے لوگوں نے اور سب سے بڑھ کر ہمارے دانشور کیا کہتے ہیں نیکی اور پارسائی کا راگ الاپنے والے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں - کیوں کہ جو کام زیادہ ترقّی کرتا ہے وہ اچھا ہی ہوتا ہے اس لیے سیکولرازم اس وقت دنیا میں زیادہ ترقّی کر رہا ہے کہ جو جہاں لگا ہوا ہے ٹھیک ہے- آواز خلق نقّارہ خدا کا نعرہ بلند کر دیا جاتا ہے کیا عوام کی زندگیوں کا فیصلہ ان کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے بلا بلا وغیرہ وغیرہ

جی حکمران عوام کی رائے سے بننا چاہیے جس کے بارے میں زیادہ زیادہ لوگ ووٹ دیں گے وہ پارٹی بر سر اقتدار آئے گی اس فلسفہ کے مطابق تو بر صغیر میں ہندووں اور بے دینوں اور غیر مسلموں کی ہے اس لیے اس حساب سے پاک و ہند میں ہندووں کی حکومت ہونی چاہیے -

سیکولرازم کی حقیقت

اس وقت ایشیا میں سب سے بڑا سیکولرازم کا ٹھیکے دار انڈیا ہے لیکن یہ ان کی عیّاری اور مکّاری ہے حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان ایک انتہا پسند بت پرستی کا پرستار ملک ہے اور گائے کی پوجا کرنے والا ملک ہے اس میں ذات پات اور اونچ نیچ کی جہالتیں بھی عروج پر ہیں اور ستّی کی جاہلانہ رسم بھی پائی جاتی ہے اس کے علاوہ جہیز بیاج دھرم بھرشٹ بھرشٹیا چار بھینٹ چڑھانا گائے کی پوجا کرنا جیسے جہالت کے بے شمار کام پائے جاتے ہیں اور جو اب انگریزوں کی تعلیم ہے اس نے تو حد کر دی ہے کہ فحاشی و عریانی اور برہنہ سیکسی فلمیں سر عام چلتی ہیں جو لوگ ان ننگی فلموں کو روکنے کی کوشش کرتا ہے اس کو زبردستی منع کر دیا جاتا ہے - سیکولرازم کا مطلب ہے کہ سب اپنے اپنے مذہب پر چلیں مسلمان ہیں تو وہ اپنا مذہب سنبھالیں دوسرے مذہب والوں کو نہیں چھیڑنا اگر کوئی ہندو ہے تو وہ اپنے مذہب کو سچا سمجھے اگر کوئی عیسائی ہے تو وہ عیسائیت پر آزادانہ عمل کر سکتا کوئی بدھ مذہب دہریہ ہے تو وہ بھی اپنے مذہب پر چلنے کے لیے آزاد ہے یعنی جرائم کو مذہب کی آڑ میں کیا جائے اور کوئی ان کو پکڑ کر سزا بھی نہیں دے سکتا - سیکولرازم کی بنیاد ہے جمہوریت پر ہے اس میں یہ ہوتا ہے کہ مسلمان ملکوں میں اسلامی جمہوریت کا نعرہ بلند کیا جاتا ہے اور ہندو ملک میں ہندو جمہوریت اور عیسائی ملک میں عیسائی جمہوریت الغرض سب کو اپنی اپنی پڑ جائے اور ہندو عیسائی مجوسی بے دین کافر دہریے اپنی من مانیاں کرتے پھریں اور اللہ کے دین کی دعوت دینے والے اللہ کے دین کو دنیا میں عام کرنے والے بے بہا قربانیاں جام شہادت نوش کرنے کے بعد بھی ان کی تمام کششین رائگاں چلی جائیں اور بے بسی کے آنسو بہاتے پھریں اور ان کی اولادیں کافروں کے ساتھ مل کر اللہ کے نازل کردہ دین سے مرتد ہوجائیں اور اللہ کا دین دنیا سے ختم ہو جائے دوسرے لفظوں میں انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے انسانی حقوق و قوانین کا بول بالا ہو جائے اور اللہ کے نازل کردہ دین کو بھولا بسرا کر دیا جائے کیا سیکولرازم میں اور اللہ کےنازل کردہ دین میں کوئی فرق نہیں ہے - اور کیا انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین پر زبردستی عمل درامد کرانا درست ہے اور اللہ کے دین پر عمل درامد کرانے سے زبردستی اور ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوجاتی ہے-؟ کیا یہ اللہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور نافرمانی نہیں ہے -؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 83004 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Mar, 2017 Views: 694

Comments

آپ کی رائے