آزادکشمیر عدلیہ ‘اور بڑھتے ہوئے اندھیرے؟؟؟؟

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarabad azad kashmir)
(فالٹ لائن)

چیف جسٹس پاکستان نے فرمایا ہے گڈ گورننس نہ ہونے کی بڑی وجہ منظور نظر افراد کا تقرر ہے قانون کی حکمرانی کرپشن ،اقرباءپروری کے خاتمے ،مثالی معاشرے کے بغیر قیام ممکن نہیں ہے چیف جسٹس کے یہ ریمارکس خرابیوں اور انکے علاج کیلئے نسخہ ہیں یا ماضی ،حال مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں یہ آئین ،قانون کے ماہرین ہی بہتر بتا سکتے ہیں مگرساری قوم بشمول آزاد کشمیر گلگت بلتستان کے عوام پانامہ لیکس کیس میں سپریم کورٹ پاکستان کے محفوظ کردہ فیصلہ کے سنائے جانے کے منتظر ہیں پاکستان کے سیاسی معاشی حالات سمیت ہر، ہر پہلو کے نہ صرف آزاد کشمیر گلگت بلتستان بلکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی اثر لیتے ہیں اور خاص سے عام تک انکے مطابق رائے بناتے ہیں جو پالیسیوں اور فیصلوں کی بنیاد بنتے ہیں ۔صدر مملکت وقت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے وقت میں ملکی آئین میں ہونے والی اٹھارہوں ترمیم کے بعد رونما حالات کے تناظر میں چاروں صوبوں کی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی اختیار اور وسائل پر حقوق کے مطالبات کو تقویت ملی اب نہ صرف گلگت بلتستان کے عوام سرتاج عزیز کی سر براہی میں کمیٹی کی رپورٹ پر فیصلے کے منتظرہیں بلکہ آزاد کشمیر میں بھی آئینی اصلاحات و حقوق کے حوالے سے پیش رفت ہو رہی ہے ۔ مرکزی وزیرقانو ن حکومت پاکستان زاہد حامد کے زیر صدارت کمیٹی کے دوسرے اجلاس سے پہلے آزاد حکومت اور وزارت امور کشمیر کے سربراہان حکام نے آمنے سامنے بےٹھ کر مسائل کی گتھی سلجھانے کے لیے طوےل غور و غوص کیا ۔اس نشست کو اکیڈمک ڈسکشن بھی کہاجا سکتا ہے جسکے مثبت نتائج کی توقعا ت کی جارہی ہیں جب آئین ،قانون کی بات آتی ہے تو پھر عدلیہ کا مسلمہ کردارہر لحاظ سے اہمیت کا حامل ہوتاہے چیف جسٹس عدالت عالیہ جسٹس غلام مصطفی مغل جسٹس سپریم کورٹ تعینات ہوگئے ہیں جنکے عدلیہ دوست اقدامات پالیسیوں کیلئے بڑا سپیس درکار ہے ۔انکی جگہ سینئر جج ایم آفتاب تبسم علوی چیف جسٹس عدالت العالیہ آزاد کشمیر کا حلف اٹھائینگے امید کی جارہی ہے کہ اپنے فیصلوں اور پالیسیوں سے مزید اچھی روایات قائم کریں گے یہاں آزادجموں وکشمیر میں اس وقت سب سے بڑا عوامی مسئلہ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ بنتا جا رہا ہے یوں تو درست ہے کہ پاکستان میں انتخابات کی تیاریوں کے آغاز کے تناظر میں گرما گرمی کا اثرکے رنگ یہاں بھی بکھررہے ہیں یہاں کی قیادت کارکن وہاں اپنی اپنی مدر پارٹی کی کامیابیوں کے لیے پوری قوت سے حق ادا کریں گے اور اس طرح قدرتی موسم گرما کی تپش کا آغاز بھی ہوگیا ہے مگر لوڈ شیڈنگ جو گھنٹے سے بڑھتے ہوئے بارہ گھنٹے تک جا پہنچی ہے تو جب گرمی پورے زور سے ٹوٹے گی اس وقت کیا عالم ہوگا ٹھیک ہے عام انتخابات میں وزیر اعظم نواز شریف کی مجبوری ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے لوگوں کو مطمئن کیاجائے ان سے ووٹ لینے ہیں مگر سینٹ اور قومی اسمبلی میں آزاد کشمیر گلگت بلتستان کا حصے دارنہ ہونے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ ان خطوں کے عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا جائے۔ بلکہ اپنے دعوﺅں ،اعلانات کے مطابق وہی سلوک کریں جو چاروں صوبوں کے ساتھ کیا جا رہا ہے یہاں دونوں خطوں میں لیگی حکومت ہونے کا غلط استفادہ نہیں ہونا چاہیے کہ جو مزاج یار میں آئے وہی ہوگا واپڈا اسٹیبلشمنٹ کو لگام دیںےہ وہ کام نہ کرے جو آگ لگا دے یہ اچھی بات ہے کہ پی پی آزاد کشمیر کے نو منتخب صدر چوہدری لطیف اکبر نے کوہالہ سے مظفرآباد تک اپنے اور اپنی پوری ٹیم کے پرجوش استقبال اورجذبات سے بھرپور جلسہ میں راہنماﺅں کارکنان کے پوری قوت سے مطالبات کے باوجود حکومتی پالیسیوں کے حولے سے ذمہ دارانہ انداز میں خیالات کا اظہار کیا اور جاریہ منظر نامے میں اپنی پارٹی رہنماﺅں کا رکنان کے جذبات کی ترجمانی بھی موثر طور پر کی ان ہی کی اپنی جماعت کے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین و ممبران کی طرف سے عدالت العالیہ میں وزیر اعظم کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے رٹ دائر کر کے اپنے اپنے حلقہ انتخاب سے متعلق حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے یہ عدالتوں کا راستہ خود وزیر اعظم فاروق حیدر نے بطور اپوزیشن لیڈر اختیار کیے رکھا ۔جو مثبت طرز عمل تھا جب آپ حق حق دارکو ملنے کی بات کرتے ہیں تو اسکا تمام پہلوﺅں سے خیال رکھنا چاہیے آپ کہتے ہیں میڈیا کو چوتھا ستون نہیں مانتا نہ مانیں ۔مگر آپ نے مےں نہیں مانتا کا تکیہ کلام میں بلیک میلراخبارات نکال کر بلیک میلنگ کرتے ہیں کا جملہ اضافہ کیاہے جو معنی خیز ہے ۔اگر نشانہ کوئی سیاستدان نہیں ہے تو آپ بااختیار ہیں میڈیا لسٹ کے سینے کے نیچے بڑھی تو ند کا خاتمہ کر ا دیں اصل مسئلہ تو سہولت کا ری ہے میڈیا لسٹ والے آپکے بیانات پڑھیں یا پھر تصاویر پر غور کریںجو سچ بولتی ہیں آپ شیرہیںبلکہ ببر شیر ہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 204 Articles with 67955 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Apr, 2017 Views: 237

Comments

آپ کی رائے