پاکستان معاشرے میں بڑھتا ہوا احساس محرومی

(zeeshan, Islamabad)
پاکستان معاشرے میں بڑھتا ہوا احساس محرومی

پاکستان و آزادکشمیر میں برسر اقتدار حکمران طبقے اور اسی حکمران طبقے کی نسل کے بڑے بیوروکریٹس نے قائداعظم کے پاکستان کو امرا وڈیروں جاگیر داروں سرمایہ داروں بزنس مینوں کا ملک بنا دیا ہے ۔ وسائل اختیارات کی غیر منصفانہ تقسیم انصاف کی عدم فراہمی طاقت ورکی اجارہ داری نے عام پاکستان کو اپنے مستقبل اور پاکستان سے مایوس کر دیا ہے ۔ ملک میں عدم برداشت کا رویہ ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہا ہے ۔ بڑے آدمی کے لیے کوئی قانون نہیں اور عام پاکستانی کے لیے قانون سے جان چھڑانا ممکن نہیں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ملک میں دہشت گردی لا قانونیت قتل و غارت چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں آئے روز اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔ جرم کو صرف طاقت سے روکنے کی پالیسی ہمیشہ انتقال کو جنم دیتی ہے ۔ جرم کے خاتمے کے لیے اس کے اسباب کو جاننا اور ممکن حد تک ان کا خاتمہ کرنا ہی پاکستان کے موجودہ مسائل کا اصل حل ہے ۔ حکمرانوں کو جرائم کے خاتمے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ان جرائم کے اسباب کا پتہ لگانا اور ان کا حل نکالنا چاہیے ۔ اصل میں مسائل کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی اکثریت پاکستان کے ساتھ مخلص ہی نہیں۔ حکمران نے اپنی لوٹی ہوئی دولت پہلے ہی باہر کے ملکوں میں جمع کر رکھی ہے ۔ ان کے پاس دو ہری نشینلٹیاں ہیں۔ ان کے بچے پہلے ہی بیرون ملک میں پڑھ رہے ہیں۔انہیں پاکستان کے مستقبل سے کیا غرض اگر حکمرانوں اور بڑے بیوروکریٹس کا سب کچھ بھی پاکستان میں ہو انہیں پتہ ہو کہ انہوں نے جینا مرنا پاکستان میں ہی ہے ۔ تو نہ وسائل کی یہ غیر منصفانہ تقسیم ہو نہ یہ احسا س محرومی ہو اور نہ یہ دہشت گردی جرائم قتل و غارت لا قانونیت ہو مسائل کی دوسری وجہ پاکستان میں بیرونی مداخلت بھی ہے ۔ لیکن اس کا تعلق بھی ہمارے اندرونی مسائل کے ساتھ ہے کیونکہ جس شہری کو بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں وہ احساس محرومی کا شکار نہ ہو و وہ دشمن کا آلہ بھی نہیں بنتا تیسرا عنصر مذہبی انتہا پسندی ہے ۔ اس پر بھی عدل انصاف سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے ۔ پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں حکمران کو اب ہوش پڑے گا ۔ خدا نخواستہ کہیں دیر نہ ہو جائے اگر حکمران نہ جاگے تو پھر عوام بھاگے گی اور پھر خانہ جنگی کے بعد دائمی امن قائم ہو گا۔ مگر اس کی پاکستانی قوم کو بڑی قیمت چکانی پڑے گی ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: zeeshan

Read More Articles by zeeshan: 9 Articles with 2626 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Apr, 2017 Views: 238

Comments

آپ کی رائے