ذکر خیر آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ سے ڈاکٹر صفدر محمود تک

(Anwar Abbas Anwar, )

آئی جی سندھ کے تبادلے کا معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے، عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے حکم امتناعی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم صادر فرمایا ہے کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک انہیں ان کے عہدے سے نہ ہٹایا جائے،وفاقی حکومت نے موقف اختیار کیا ہے کہ وفاقی قوانین کی پابندی سوؓائی حکومتوں پر لازم ہے،سندھ کے وزیر اعلی نے وفاقی حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ اگر اے ڈی خواجہ اسے اچھے لگتے ہیں تو وہ انہیں پنجاب میں آئی جی لگا کر ان کی صلاحیتوں سے فیض یاب ہو لے،سندھ کے سائیں سرکار کا یہ بھی کہنا ہے کہ سندھ میں آئی جی وہیں لگے گا جسے سندھ حکومت چاہے گی، ہاں سائیں مراد علی شاہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اے ڈی خواجہ کا کیس عدالت کے روبرو زیر سماعت ہے، جو بھی فیصلہ آئے گا ہم اسے تسلیم کریں گے۔انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سندھ کے چیف سکریٹری کو ابھی تبدیل کرنے کا انکا کوئی ارادہ اور پروگرام نہیں ہے۔

مجھے سائیں مراد علی شاہ سمیت سندھ کی حکومت اور حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کی بے بسی پر ان سے ہمدردی ہے،کیونکہ جب سے سندگ حکومت معرض وجود مین اائی ہے اسے اسلام ٓابادکی وفاقی حکومت اور عدالتی اسٹبلشمنٹ کے مداخلت کا سامنا ہے، اس کے ساتھ اسے باوردی مقتدرہ قوت کا ایپکس کمیٹی کی صورت میں بھی مداخلت درپیش ہوتی ہے، جب کہ باقی تین صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں بھی وجود رکھتی ہیں لیکن جس انداز میں سندھ کی ایپکس کمیٹی کام کرتی ہے ایسا کبھی باقی صوبوں میں دیکھنے میں نہیں آیا۔

90 کی دہائی کی سیاست 2017 میں چل سکتی ہے؟ یہ سوال اکثر دوست پوچھتے ہیں، میرا جواب ہوتا ہے کہ بعض اوقات پرانی فلمیں ری پروڈیوس کی گئیں اور وہ کامیابی کے جھنڈے گاڑنے میں ماضی کے ریکارڈ توڑ گئیں جب کہ پہلے وہ کامیابی کو حاصل کرنے مین ناکام رہیں ،سید نور اس بات کے بہترین شاہد ہیں۔گذشتہ روز سندھ ہائی کورٹ مین جسٹس منیب اختر کی سربراہی مٰن قائم بنچ نے اے ڈی خواجہ کو ہٹانے کے مقدمے کی سماعت کی، اور سندھ کے چیف سکریٹری رضوان میمن اور سکریٹری سروسز کے بیان حلفی جمع کروائے گئے، سکریٹری سروسز نے بیان حلفی مٰیں کہا کہ اے ڈی خواجہ کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے پر توہین عدالت نہیں کی۔اﷲ ڈینو خواجہ او پی ایس پر کام کر رہے تھے، اس لیے ان کی خدمات وفاق کے سپرد کی گئی ہیں

سندھ کے مرد آہن آئی جی اے ڈی خواجہ کا اصل نام اﷲ ڈینو خواجہ ہے، جسے ہم پنجابی اور اردو سپیکنگ افراد اﷲ دین یا الہ دین لکھتے ہیں، کو اب خود تبدیل ہوجانا چاہیے کیونکہ وہ اس قدر سیاسی ہو گئے ہیں کہ اب سندھ حکومت اس پر اعتبار اور بھروسہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور ناہی وہ اس قسم کا مذید رسک لینا چاہے گی۔ البتہ اس معاملے مٰیں مذید کھینچا تانی کا نقصان بہرصورت اے ڈی خواجہ کو ہی برداشت کرنا ہوگا۔

تمام سیاسی جماعتیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ ملک کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا ،خاص کر اداروں کے درمیان محاذ آرائی تو ملک و قوم کے لیے کسی طور سود مند نہیں ہو سکتی، لہذا تمام آئینی اداروں کو اپنی اپنی آئین مین متعین کردہ حدود اور دائرے مین رہ کر کام کرنے کی ضرورت ہے، حکومت کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور اداروں میں محاذ آرائی کی صورتحال پیدا کرنے ،اور اگر پیدا ہو چکی ہو تو اس کے تدارک کے لیے کام کرنا چاہیے، حکومت اور اداروں کو کسی مسلے کو اپنی انا کا مسلہ نہیں بنانا چاہیے۔

چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ پارلیمنٹ کوجمہوریت کی ڈھال بننا ہوگا، اگرآئین پر نہ چلے تو مارشل لا سے بدتر حالات کا سامنا ہوگا،انہوں نے مذید کہا کہ ایسے معاشرے میں جہاں انساف پانچ پانچ ٹکڑیوں میں بٹا ہو وہاں قانون بیچارہ کیا کریگا؟چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بعض اندرونی اور بیرونی عوامل پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے ایشو اٹھاتے ہیں۔چیف جسٹس عزتماب میاں ثاقب نثار کی بات سے مجھ محسوس ہوا کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ کی ٹرانسفر کے پس پردہ بھی بیرونی عوامل یا ہاتھ نہ ہو، اور یہ عوامل اور ہاتھ نہیں چاہتے ہوں گے کہ پاکستان کی جمہوریت مستحکم ہو پائے۔ اگر مجھے ایسا محسوس ہو سکتا ہے تو یقیننا اس محاذ آرائی کے فریقین بھی محسوس کر سکتے ہیں ،انہیں جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے والوں کی کوششوں کا ناکام بنانے کے لیے اپنے وقتی مفادات کو بھلا دینا چاہیے اور ملک و قوم سب سے بڑھ کر یہ کہ جمہوریت کو ڈی ریل یا غیر مستحکم ہونے سے بچانا چاہیے۔

1990کی دہائی میں بے نظیر بھٹو وزیر اعظم تھیں اور میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلی کے منصب پر فائز تھے، وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر اسٹبلشمنٹ نے پنجاب میں تعینات دو افسران کے اسلام آباد تبادلے کے احکامات جاری کیے، وزیر اعلی پنجاب میاں نواز شریف کی جانب سے ان دونوں افسران کو ہدایات جاری کی گئیں ،کہ وہ اپنے چارج نہ چھوڑیں، دونوں افسران نے ایسا ہی کیا، اور لاہور ہائی کورٹ میں اپنے تبادلے کے احکامات کو چیلنج کردیا گیا، دونوں افسران کے مقدمات کے اخراجات پنجاب کے سرکاری خزانے سے ادا کیے گئے۔اسی محاذ آرائی کے بارے میں پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ نون لیگ 90 کی دہائی والی سیاست کرنا چاہتی ہے جبکہ ملک اس وقت ایسی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ان دو میں سے ایک تو ڈاکٹر صفدر محمود تھے، جو اس وقت ایک تو مورخ، دانشور ، کالمنگار ڈاکٹر صفدر محمود تھے، جو آج کل ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور اخبارات میں کالم نگاری کے جوہر دکھا رہے ہیں، دوسرے افسر کے متعلق مجھے صحیح طرح یاد نہیں کہ اس کا نام گرامی کی اتھا، البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ اس لڑائی میں جمہوریت دشمنوں نے فائدہ اٹھایا اور 6 اگست 1990کو جمہوریت کا بستر گول کردیا گیا،اور دھونس دھاندلی سے میاں نواز شریف کو برسراقتدار لایا گیا،لیکن جمہوریت دشمنوں نے پھر وہیں ہتھیار آزمایا اور میاں نواز شریف کی حکومت کو 58/2 بی کے تحت گھر بھیج دیا گیا۔ مجھے خدشہ بھی یہی ہے کہ سندھ اور وفاق کی لڑائی کو بنیاد بنا کر سندھ کی منتخب حکومت توڑ کر وہاں گورنر راج نہ لگا دیا جائے۔ایسا ہوا تو پھر محاذ آرائی کا لا متناہی سلسلہ چل نکلے گا۔ جس کے نتائج نہ ملک کے لیے اچھے ہوں گے اور نہ ہی جمہوریت اور اسکے چاہنے والوں کے لیے بہتر ثابت ہونگے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Anwer Abbas Anwer

Read More Articles by Anwer Abbas Anwer: 203 Articles with 94422 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
12 Apr, 2017 Views: 450

Comments

آپ کی رائے