پانامہ

(Dr Ch Abrar Majid, Islamabad)
آج ہر طرف پانامہ زیر بحث ہے ۔ ۔ لوگ تبصرے کر رہے ہیں بلکہ ہو سکتا ہے شرطیں بھی لکائ گئی ھوں۔ ممکن ہے کیس فکسنگ کی خبر آ جائے اور اگر اس طرح کا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے تو عدالت اپنے صوابدیدی اختیارات کا استعمال بھی کر سکتی ہے۔اس طرح مبصرین کو بھی مزید وقت مل جائے گا
بات کچھ لمبی ہی ہو رہی ہے اس طرح لمبے مضمون کو اگر سمجھنے اور فیصلے پر پہنچنے میں دشواری ہو تو پیشگی معزرت۔ اتنا ہی کہوں گا۔
کیا کیا لکھا ہے میں نے وہ میر کیا کہے گا
گم ہووے نامہ بر سے یارب مری کتابت
چلیں اگر سمجھ آگئی تو آپ کا بھلا اگر نہ آئی تو میرا بھلا۔

ویسے یہ پانامہ اتنی جلدی سمجھ آنے والا بھی نہیں۔ عدالت عالیہ بھی لگتا ہے پوری طرح سمجھنے سے شائد قاصر ہے۔ ویسے ہم نے بھی بہت سارے لفظ سنے ہوئے تھے حکمنامہ، سوالنامہ، جواب نامہ، سفرنامہ اقرار نامہ مگر یہ پا نامہ تو پہلی بار ہی سنا ہے۔ پا(ٹانگ) نامہ(خط) ۔ ہو سکتا ہے اس میں کوئی ٹانگ اڑانے کی بات ہو یا ٹانگ کھیچنے کی بات ہو۔ لیکن یہ معاملہ چونکہ عدالت عالیہ میں پہنچ چکا ہے اس لیے اتنا غیر سنجیدہ تو نہیں ہو سکتا۔ ویسے حکومت ہے خوش قسمت کہ کب سے کھینچا تانی ہو رہی ہے مگر۔۔۔۔۔۔۔۔

ویسے آ ج میرا کوئئ زیادہ سنجیدگی کا موڈ تو نہیں ہے مگر یہ بات میں ارادۃْ سنجیدگی سے کرنا چاہتا ہوں کہ نوازشریف ایک سنجیدہ سیاست دان ہے اور پچھلی حکومت میں انہوں نے کوئی کھینچا تانی نہیں کی اور حکومت کا وقت پورا ہونے کا کریڈٹ بہرحال ان کو دینا چاہیے۔

بات کہیں اور چلی گئی۔ویسے بھی اتنے زیادہ صفحوں کی درخواست اور اتنا لمبا فیصلہ کوئی عام تو نہیں ہوسکتا۔ اب اس طرح کے معاملوں میں تاخیر تو ہوہی سکتی ہے ناں۔ویسے بھی کوئی اتنی جلدی نہیں ہوگی ورنہ اگر سیاستدان اگر بدعنوانی کو سنجیدہ مسئلہ سمجھتے تو ایک چھوٹی سی ترمیم کرکے بدعنوانی کے مسائل میں بھی فوجی عدالتوں کو اختیارات دے کر اس ناسور کا قلع قمع کیا جا سکتا تھا۔ ویسے اگر میں پارلیمان کا ممبر ہوتا تو ترمیم کے لیے کوشش ضرور کرتا کیوں کہ اس کے علاوہ اب اور کوئی راستہ نظر ہی نہیں آتا۔

پانامہ پر تبصروں کے علاوہ اب تک بہت ساری قانونی آراء بھی سامنے آ چکی ہیں لیکن پھر بھی اگر اجازت ہو تو کچھ عرض کروں ۔ یوں تو اس پردیکھیں بحث بھی ھوئی شہادتیں بھی پیش کی گئیں اور عدالت عالیہ کے جج صا حبان اپنے خیالات کا اظہار بھی فرماتے رہے اور کافی غوروخوض کے بعد فیصلہ محفوض کر دیا۔ اور کمال کی بات تو یہ ہے کہ محفوض کرنے کے بعد بھی اس پر بہت محنت ہوئی۔ لہذا اس پر اب قانونی روشنی کی تو گنجائش باقی نہیں ہوگی البتہ کچھ عام سی باتیں کر لیتے ہیں۔

اس کیس کے اندر زیادہ تر سچ جھوٹ، چوری، بدعنوانی، پیسہ باہر کیسے گیا، بچوں کی کفالت کا زکر کیا گیا ہے۔ اب یہ سارے معاملات ایک ہی عدالت اور وہ بھی ایپلٹ کورٹ کیسے حل کر سکتی ہے۔ جس میں انکوائری اورشہادت کے معاملات بھی ہیں۔ میری سمجھ سے تو باہر ہے ۔ چلیں آج کا دن ان سب باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور ویسے بھی معاملہ سنجیدہ ہوتا جا رہا ہے جس کا میرا موڈ نہیں تھا۔

چلیں تھوڑی سی بات سچ جھوٹ پر کر لیتے ہیں کہ وزیر اعظم نے اسمبلی کے فورم پر کھڑے ہو کر سچ بولا تھا یا جھوٹ۔ میرے خیال میں تو اس کا انداذہ بھی ان کے خاندان کی باتوں سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ان کو کیا بتایا تھا۔ اگرتو انھوں نے بات ہی ایسے بتائی ہو تو اس میں وزیر اعظم کا کیا قصوراوراگر انجانے میں غلط بیانی ہو گئی ہے تو اس کا ان کو مورد الزام تو نہیں ٹھہرایا جا سکتا زیادہ سے یہی ہو سکتاہے کہ وہ آئندہ محتاط رہیں اور اپنے کیے پرقوم سے معافی مانگ لیں اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہر بات کی چھان بین کی جائے آیا انھوں نے ٹھیک بتایا ہے یا نہیں ۔ اسی طرح ایک بچی بچپن سے ساتھ رہتی آ رہی ہے تو اب دیکھیں نا کفالت اور کیا ہوتی ہے۔ کچھ تو آپ لوگ بھی سو چیں ۔ کہتے ہیں ناں ’جھلا بات کرے سیانہ قیاس کرے‘ اچھا چھوڑیں ایک تو میں نہ چاہتے ہوئے بھی سنجیدہ ہو جاتا ہوں۔ اصل میں مجھے حیرانی ہوتی ہے یہ ضرورت سے زیادہ سوچنے والے وکلاء پر بھی کہ اتنی عام سی بات تھی اور استثناء اور نہ جانےکیا کچھ باتیں کرتے رہے اور خواہ مخواہ کیس کو بھی الجھا دیا اور عدالت کا بھی وقت ضائع کیا۔ پوری قوم بھی تذبذب مہں رہی ۔معذرت کے ساتھ، قوم بھی تماشائئ ہے تماشوں پہ خوش رہتی ہے یہ نہیں سوچتی کہ ایک بندہ کام کر رہا ہے اسے کرنے دیں ۔پہلے ہی پہت شاہ خرچیاں ہیں اور یہ سارا بوجھ آپ لوگوں پر ہی ہے ۔تو کم از کم ان سے کام تو لیں۔
آ ج میرا خیال ہے اس پر اکتفا کرتے ہیں اور اب فیصلہ آ نے پر سنجیدگی سے بات کریں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Ch Abrar Majid

Read More Articles by Dr Ch Abrar Majid: 79 Articles with 73066 views »
By profession I am Lawyer and serving social development sector for last one decade. currently serving Sheikh Trust for Human Development as Executive.. View More
20 Apr, 2017 Views: 266

Comments

آپ کی رائے