عقل کے اندھے نا بنیں ہوش کریں

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
بہت سارے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا حکم تو آٹو میٹک ہی پورا ہو جاتا ہے کیوں کہ قرآن میں ہے کہ اللہ کے حکم کے بنا پتّہ بھی نہیں ہلتا لہاذا جو یہ ہم کام دھندہ بزنس جاب کر رہے ہیں وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہی کر رہے ہیں اگر اللہ کا حکم نا ہوتا تو ہم کوئی اور کام کرتے اور بعض لوگ قرآن کی تاویلیں کرتے ہیں کہ اللہ چاہتا تو ہم کو راہ ہدایت پر چلا لیتا مگر اللہ کو منظور ہی یہ تھا جو ہم جاب بزنس اعمال وغیرہ کر رہے ہیں مثلاً بےپردگی بے حیائی والا فیشن کرنا ناچ گانا کرنا اور اللہ کے دین کو چھوڑ کر سیکولر ازم ھندوازم کیمونزم کو اختیار کرنا اور تمام کبیرہ گناہوں کا بے دھڑک ارتقاب کرنا مثلاً شرک جادو قتل دہشت گردی سود زنا اور اسلام اور ملک سے غدّاری کا ارتقاب کرنا اور اللہ پاک کی حدوں کو اور حرمتوں کو پامال کرنا الغرض کہا جاتا ہے کہ ہم اللہ کے حکم سے بندھے ہوئے ہیں

اعوذباللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمان الرحیم
میں پاکستان کی خواتین سے کہنا چاہوں گا کہ وہ پردہ کا اہتمام کریں اور پہلے اپنے آپ کو پردہ کے قابل بنائیں کیوں کہ ہر کام کے اصول اور قاعدے ہوتے ہیں اور حدیث کے مطابق اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہوتا ہے " اور نیت کو بنانا پڑتا ہے یعنی اس کے لیے علم حاصل کرنا چاہیے کہ ہم اللہ کے حکم پردہ کو اپنے اوپر کیسے نافذ کریں گے تاکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی جاسکے

بہت سارے سیکولر ذہن رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ اللہ کا حکم تو آٹو میٹک ہی پورا ہو جاتا ہے کیوں کہ قرآن میں ہے کہ اللہ کے حکم کے بنا پتّہ بھی نہیں ہلتا لہاذا جو یہ ہم کام دھندہ بزنس جاب کر رہے ہیں وہ اللہ کے حکم کے مطابق ہی کر رہے ہیں اگر اللہ کا حکم نا ہوتا تو ہم کوئی اور کام کرتے اور بعض لوگ قرآن کی تاویلیں کرتے ہیں کہ اللہ چاہتا تو ہم کو راہ ہدایت پر چلا لیتا مگر اللہ کو منظور ہی یہ تھا جو ہم جاب بزنس اعمال وغیرہ کر رہے ہیں مثلاً بےپردگی بے حیائی والا فیشن کرنا ناچ گانا کرنا اور اللہ کے دین کو چھوڑ کر سیکولر ازم ھندوازم کیمونزم کو اختیار کرنا اور تمام کبیرہ گناہوں کا بے دھڑک ارتکاب کرنا -

مثلاً شرک جادو قتل دہشت گردی سود زنا اور اسلام اور ملک سے غدّاری کا ارتقاب کرنا اور اللہ پاک کی حدوں کو اور حرمتوں کو پامال کرنا الغرض کہا جاتا ہے کہ ہم اللہ کے حکم سے بندھے ہوئے ہیں تو میں ان کو نصیحت کرنا چاہوں گا کہ جو قرآن وحدیث کےحوالہ جات اس ضمن میں دیے جاتے ہیں ان کا غلط مطلب نہیں نکالنا چاہیے اس کے بارے میں علم حاصل کرنا چاہیے اور کافروں اور بے دین ملحدوں کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے جو لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور لالچ دے کر گمراہ کرتے رہتے ہیں اور جادو کے ذریعہ بھی لوگوں کو کفر والحاد پر آمادہ کرتے ہیں-


اور پھر بھولے بھالے انسان ان دشمنوں کے معمول بن جاتے ہیں اور ترقی اور اصلاح اور امن و امان اور عدل وانصاف کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا بس ہی نہیں چلتا ہم کیا کریں اگر اللہ ہمیں ہدایت دینا چاہتا تو ہم کو وہ ایسے بے یارومدد گار نا چھوڑتا قرآن وحدیث کے مطابق کفّار بھی ایسے ہی جواب دیتے تھے جب ان کو ہدایت کی دعوت دی جاتی تھی لہٰذا ہمیں برے لوگوں والا رستہ نہیں اپنانا چاہیے بلکہ نیک اور ہدایت یافتہ لوگوں والا رستہ اپنانا چاہیے جو خواتین پردہ نہیں کرتیں ان کو اس بات کو بخوبی جان لینا چاہیے-

کہ پردہ نا کرنا لونڈیوں اور نوکرانیوں کا طرزعمل ہے کیوں کہ لونڈیوں اور نوکرانیوں کو بھی اوڑنی اوڑنے کا حکم دینا چاہیے اور اگر وہ جلباب پہنیں تو اور بھی اچھا ہے لیکن ان کو آزاد اورعالی نسب عورتوں والا جلباب نہیں پہنانا چاہیے جیسے کوئی عام فوجی جرنلوں کرنلوں کی وردیاں نہیں پہن سکتا عقل مندوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے باقی عورتوں کو تو عقل کے معاملہ میں بیلنس کی ویسے ہی کمی ہے الاّ ماشاء اللہ جس کو اللہ عقل سلیم جیسی نعمت سے مالا مال کرے اللہ تعالٰی ہمیں اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنائے آمین-

آج کل کی خواتین اسلام کو اس لیے پسند نہیں کرتیں ہیں کہ وہ کہتی ہیں کہ یہ عورتوں کا زمانہ ہے مگر اسلام اتنا مقام عورتوں کو نہیں دیتا جتنا کہ یورپ امریکہ اور انڈیا میں دیا جاتا ہے ان کا یہ کہنا ہوتا ہے ہندوستان میں عورتوں کو دیوی ماتا کا اور کالی ماتا کا مقام دے کر اس کی پوجا کرتے ہیں اوریہ کہا جاتا ہے کہ عورت پوجا کے لائق ہے اور دوسرے ممالک میں جہاں سیکولرازم اور کیمونزم کا قانون ہے وہاں لیڈیز فرسٹ کا عقیدہ کارفرما ہے اور عورت کے دل میں جگہ حاصل کرنے کے لیے کشت وخون اور لڑائی جھگڑا ہو جاتا ہے اور عورت کے دل میں جگہ حاصل کرنے کے لیے قانون کی پروا کرنا بے وقوفی گنا جاتا ہے

ہمارے ملک میں سرگرم خواتین کی فلاحی تنظیمیں اور این جی اوز کی کارکن اور چیئرپرسن دانش ور عورتیں اور فاروڈ ذہن رکھنے والی اور اسلام کو انتہا پسندی کہنے والی اور جہاد کو دہشت گردی کہنے والی اور سیکولرازم اور کیمیونزم کی پیروکار عورتیں کہتی ہیں کہ اسلام میں مردوں کو زیادہ مقام دیا گیا ہے اور عورت کی وراثت اور گواہی آدھی قرار دی گئی ہے اور عورتوں کو سیاست اور حکمرانی راج نیتی ڈیموکریسی سے روکا گیا ہے مردوں کے شانہ بشانہ ہوکر کام کرنے سے سکولز کالجز میں تعلیم حاصل کرنے سے روکا گیا ہے اور کہتی ہیں کہ یہی تو ایکسٹریم ازم اور فنڈامینٹل ازم ہے ۔

جو خواتین رائٹرز کالمسٹ اور اینکر اور تجزیہ نگار اور دانشور ہیں وہ اپنے اپنے شعبہ میں اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اسلام کو "بیک ورڈ" مذہب قرار دلانے میں کوشاں ہیں ان نام نہاد فاروڈ خیالات سے وہ یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ خواتین کی پیروی کی جانی چاہیے نا کہ قرآن وحدیث اور اسلامی تعلیمات کی خواتین جمعہ کیوں نہیں پڑھا سکتیں نماز کی امامت کیوں نہیں کرا سکتیں اذان کیوں نہیں کہہ سکتیں نکاح کیوں نہیں پڑھا سکتیں عید وغیرہ میں خطبہ کیوں نہیں دے سکتیں اور مردوں کی صفوں میں ساتھ ساتھ کیوں نہیں کھڑی ہوسکتیں وغیرہ وغیرہ سپورٹس اور اولمپکس والا مسئلہ الگ ہے اور جنگ میں مردوں کے شانہ بشانہ والا مسئلہ الگ ہے کہ وہاں یورپ امریکہ برطانیہ جیسا قانون اور ماحول کیوں نہیں ہے عورتیں ایک سے زیادہ مردوں سے شادیاں کیوں نہیں کر سکتیں -

تو میں ان سے بڑے ادب سے کہنا چاہوں گا کہ اسلام اللہ کی طرف سے نازل کردہ مذہب ہے اور مکمل شریعت ہے اور جو قوانین یورپ امریکہ برطانیہ ہندوستان چائنہ کینیڈا وغیرہ میں رائج ہیں وہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور اصول و ضوابط ہیں اور یقیناً یہ ساری قائنات اللہ پاک نے پیدا فرمائی ہے اور انسانوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے اور اس لیے اللہ کی فرماں برداری اور عبادت کرنا تمام انسانوں پر فرض ہے اور اللہ کی نازل کردہ شریعت اسلام کی پیروی کرنا لازم ہے کیوں کہ عبادت اس کی کرنی چاہیے جس نے پیدا کیا ہے اور جو رزق اور اولاد اور طرح طرح کی نعمتوں سے نوازتا ہے اللہ پاک نے ہمیں ایسی نعمتوں سے نوازا ہے کہ جن کی قیمت کا ہم اندازہ بھی نہیں لگا سکتے ہم اپنی آنکھیں کھو بیٹھیں تو اس کا کوئی نعم البدل نہیں تلاش کیا سکتا -----

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 82765 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2017 Views: 363

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ