راحیل قریشی اور مومن خاں مومن دہشت گر نہیں ہیں

(Ata Muhammed Tabussum, Karachi)

راحیل قریشی

افتخار عالم پیامی جسے مرحوم لگھتے ہوئے،دل میں ایک درد کی لہر اٹھتی ہے،بہت ہی عزیر دوست تھا، دست قضا اسے دور لے گئی۔ جمعیت کا رکن تھا۔ شاعر تھا،معلم تھا،اور حساس طبعیت کا مالک بھی۔ اس گھرانے سے ایک محبت ہے، چھوٹے بھائی، بھائیوں ہی کی طرح عزیز ہیں/ حیدرآباد یوں بھی محبتوں کا شہر ہے۔ انتخاب عالم، تسنیم عالم، اور راحیل قریشی تینوں سے جب بھی ملاقات ہوئی، دل خوش ہوا۔ حیدرآباد میں سیاست بھی بہت محبت شرافت ادب و احترام رکھتی تھی۔ لیکن ایم کیو ایم نے اس میں زہر بھر دیا۔پھر بھی بڑی حد تک ایک دوسرے کا ادب احترام کیا جاتا رہا ہے۔ میں نے جب سے افتخار پیامی کے تین بھائیوں کی گرفتاری اور جیل میں منتقل ہونے کی خبر پڑھی ہے، دل بے قرار ہی رہا، دوستوں سے وقتا فوقتا اس بارے میں پوچھتا بھی رہا، آج حافظ عبدالاحد نے ایک پوسٹ میں اس قصے پر روشنی ڈالی ہے۔،،

راحیل قریشی کو 22 اکتوبر 2016 کو رینجرز نے ان کے گھر فقیر کا پڑ حیدرآباد سے گرفتار کیا، ان کے ساتھ ان کے بڑے بھائی انتخاب عالم و تسنیم عالم کو بھی گرفتار کیا گیا، بلکہ یوں کہا جائےکہ انتخاب عالم کو گرفتار کیا گیا اور ان کے ساتھ ان کے چھوٹے بھائیوں راحیل قریشی و تسنیم عالم کو بھی گرفتار کیا گیا۔
انتخاب عالم ایم کیوایم کے دیرنہ کارکن ہے، اور اب ایم کیوایم لندن کے، بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ الطافسٹ ہیں۔

رینجرز ان تینوں بھائیوں کو گھر سے لے کر گئی، رینجرز کا گھر میں آنا، پورے گھر میں تلاشی لینا اور پھر ان تینوں کو ساتھ لے کر جانا، سب کچھ پرسکون ماحول میں ہوا اتنا پرسکون کہ دو رینجرز اہلکاروں نے گھرمیں پانی پیا اور ایل اہلکار نے خود انتخاب سے (یعنی جسے گرفتار کرنے آئے تھے) سگریٹ لے کر پی۔۔۔
ان تینوں افراد کو ہیڈ کوارٹر منتقل کیا گیا اور کچھ دیر بعد انتخاب کوواپس لے جایاگیا، واپسی پر رینجرز بمعہ اسلحہ انتخاب کو لیکر آئی، اس دوران راحیل اور انتخاب رینجرز کے پاس با عزت مہمانوں کی طرح رہے (یعنی انہیں کلین چٹ مل چکی تھی)۔ رینجرز نے ان کے گھر سےسولہ موبائل بھی جمع کئے، چونکہ ویک اینڈ تھا تو گھر پر تمام بہن بھائی اور بھانجے بھتیجے آئے ہوئے تھے اس لئے اتنی تعداد میں گھر میں موبائل تھے۔

رینجرز نے ان تینوں افراد کو گھر سے ملنے والے موبائل و دیگر اشیاء سمیت سوائے اسلحہ کے پولیس کے حوالے کردیا۔۔

اس ہی دن رینجرز/ پولیس نے ایم کیوایم لندن کے دیگر افراد کو بھی حیدرآباد سے گرفتار کیا تھا جن میں سابق کمیونسٹ طالب علم رہنما مومن خان مومن، سابق ضلع نائب ناظم حیدرآباد ظفر راجپوت (قائمخانی) و دیگر لوگ شامل تھے۔ ظفر راجپوت کو "اوپر" سے سیٹنگ کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

یہ سارا واقعہ 22 اکتوبر ہفتہ کی رات کا ہے۔ اگلے دن ان گرفتاریوں کی خبریں چند اخبارات میں بھی لگیں۔
پولیس 24 اکتوبر بروز سوموار ایف آئی آر کاٹتی ہے کہ "23 اکتوبر بروز اتوار پولیس نے اپنے ایک مخبر کی اطلاعات پر بلدیہ ورکشاپ حالی روڈ پر ایک چھاپہ مار کاروائی کی جہاں پر ایم کیوایم لندن کے کچھ شر پسند عناصرشہر میں بڑے پیمانے پر بد امنی پھیلانے کا پروگرام بنا رہے تھے پولیس پارٹی کے پہنچتے یہ فلاں فلاں لوگ بھاگ گئے اور فلاں فلاں (راحیل تسنیم انتخاب مومن وغیرہ) گرفتار ہوگئے۔ گرفتار افراد کے پاس سے ہینڈ گرنیڈ، رائفل جی تھری، گولیاں ٹی ٹی پسٹل اور بہت سا اسلحہ برآمد ہوا"۔

یہ ہورا واقعہ پڑھ کر اندازہ کہ اب اس ملک میں قانون اور انصاف کی چتا جل رہی ہے، غریب اور بے وسیلہ لوگوں کو دیوار ہی سے نہیں لگایا جارہا ہے، بلکہ دیوار میں چنا جارہا ہے، اور ان دیواروں سے جو چیخییں بلند ہورہی ہیں۔ وہ معاشرے میں پاگل پن دیوانگی کو بڑھا رہی ہیں۔ تو کیا یہ چیخیں ہمارے حکمرانوں اور ایوان میں بیٹھے ایوان عدل کو سنائی نہیں دے رہی۔ گیہوں کے ساتھ گھن کو پیسنے کی کہاوت اب حقیقت کا روپ دھار چکی ہے۔ میں اس جھوٹی ایف آئی آر پر صدائے احتجاج بلند کرتا ہوں۔ اور ان بھائیوں اور مومن خان مون کی رہائی کو مطالبہ کرتا ہوں، مومن خان پر سیاسی مقدمہ بنائو وہ اس کا مقابلہ کرے گا، وہ دہشت گرد نہیں ہے، یہ الگ بات ہے کہ وہ زمانے سے الٹا چلنے کا عادی ہے وہ ہمیشہ باد مخالف ہی رہا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ata Muhammed Tabussum

Read More Articles by Ata Muhammed Tabussum: 374 Articles with 270111 views »
Ata Muhammed Tabussum ,is currently Head of Censor Aaj TV, and Coloumn Writer of Daily Jang. having a rich experience of print and electronic media,he.. View More
22 Apr, 2017 Views: 560

Comments

آپ کی رائے