پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر ریاست

(Abdullah Qamar, Rahim Yar Khan)

توحید کی امانت سینوں میں ہے ہمارا
آساں نہیں مٹانا نام و نشاں ہمارا
پاکستان ایک ایسی ریاست ہے کہ جس پہ سائہ خداے ذوالجلال ہے۔ یہ ایک ایسی مملکت ہے کہ جس کی بنیادوں میں لاکھوں شہدا کا خون شامل ہے۔ پاکستان ایک ایسا خطہ ارضی ہے کہ جس مٹی "لاالہ الااللہ" کی خوشبو سے مہک رہی ہے۔پاکستان وہ ملک ہے جو ماؤں، بہنوں، بچوں اور بوڑھوں کی دعاؤں کے نتیجے میں خداے بزرگ و برتر کا انعام ہے۔ پاکستان وہ ریاست ہے کہ جس کے بارے میں قائدِاوظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا :
There is no power on the earth that can undo Pakistan

1947میں برصغیر کی غیر منصفانہ تقسیم کے نتیجے میں جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تب ہی کانگریسی راہنماؤں نے پاکستان کے متعلق زہر اگلنا شروع کر دیا تھا کی پاکستان اپنا وجود اس دنیا میں برقرار نہیں رکھ پائے گا اور جلد ہی ہمارے ساتھ واپس مل جانے کی بھیک مانگے گا اور وہ ایسا کیوں نہ کہتے ؟؟؟ اس وقت کانگریس لیڈروں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ایسی سازش رچی تھی کہ مستقبل میں ہر لحاظ سے پوری طرح بےبس و لا چار ہو۔

جغرافیائی اعتبار سے غیر مساوی تقسیم کی گئی بہت سی مسلم اکثریت کی آبادیاں جو کہ پاکستان کے حصے میں آنی چاہیے تھیں وہ ہندوؤں کے غاصبانہ قبضے کا شکار ہوئیں۔ جن میں کشمیر، گجرات، جوناگڑھ، مناوادر اور حیدرآباد وغیرہ شامل تھیں۔اس طرح اثاثوں کی بھی غیر مساوی تقسیم ہوئی اور پاکستان کے ساتھ کھلی زیادتی کی گئی۔ تقسیم کے وقت متحدہ برصغیر ریزرو بینک میں چار سو بلین روپے کا خزانہ محفوظ تھا اور تناسب کے اعتبار سے پاکستان کے حصے میں 750 ملین روپے آنے تھے مگر اس موقع پر بھی بھارت نے گارحیت اور شدید ہت دھرمی کا مظاہرہ کِیا اور یہ رقم دینے سے انکار کر دیا۔لیکن اس کے بعد پھر پاکستان کے بار بار مطالبے پر بھارت نے عالمی سطح پے اپنی ساکھ برقرار رکھنے لئے 200 ملین روپوں کی قسط جاری کیاور بقیہ رقم کو مسئلہ کشمیر کے ساتھ مشروط کر دیا۔ بھارتی وزیر پٹیل نے کہا کہ باقی رقم کے حصول کے لیے پاکستان کو کشمیر پر بھارت کا حق تسلیم کرنا ہو گا۔مگر پاکستان نے متوقع طور پر اس بات سے صاف انکار کر دیا۔ بعد ازاں گاندھی کی مداخلت پے مزید 500 روپے کی قسط پاکستان کے نام جاری کی گئی۔ اس طرح دو اقساط پر 700 ملین پاکستان کو دیئے گئے۔اسی طرح فوجی اثاثوں کی تقسیم میں بھی دھاندلی کی گئی اور پانی کی تقسیم کے معاملے پر بھی بھارت کی آبی جارحیت کوئی ڈھکی چھپی نہیں۔

بھارت کا یہ رویہ زہر اگلنے یہاں تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس ناپاک سوچ کی تکمیل کے لیے بھارت 1965 میں اپنی تماتر فوجی قوت لے کر پاکستان کے مدِ مقابل آکھڑا ہوا ۔ اور اللہ کے فضل سے سترہ دن کی طویل معرکہ آرائی کے بعد میدان ِ عمل میں یہ بات ثابت کر دی کہ پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔ اس وقت ہمارے اکابرین نے بہادریوں اور قربانیوں کی ایسی ایسی مثالیں پیش کیں کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ہمارے موترف ہو گئے ۔ ایم ایم عالم صاحبؒ نے پانچ انڈین جہازوں پلک جھپکنے میں مار گرایا اور اس کے بعد آج تک انڈین فضائیہ کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ پاکستان کی جانب میلی نظر سے دیکھ سکے۔

16دسمبر کو جب بھارت کی سازش کے نتجے میں ملکِ عزیز دو لخت ہوا تو اس کے بعد بھی اِنہوں نے کہا کہ اب تو پاکستان بچے گا نہیں ۔ لیکن اللہ کے حکم سے ہم آج بھی اپنا وقار قائم رکھے ہوئے ہیں۔اس کے بعد 70 اور 80 کی دہائی میں جب دنیا کی سپر پاور سوویت یونین توسیع پسندانہ عزائم لیے افغانستان کی سرزمین پر اترا تب خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ روس گرم پانیوں پر قبضے کے نشے میں پاکستان کی سرحدوں کو روندتا ہوا آگے بڑھے گا تو ہم نے اللہ کے فضل سے بہترین حکمتِ عملی ترتیب اور اس وقت کی سب سے بڑی قوت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تب دنیا نے یہی کیا تھا کہ اب تو پاکستان بچے گا نہیں ۔۔۔مگر آج ہم ہیں وہ نہیں ہیں۔روس کے حصے بخرے کرنے کے بعد اسی افغانستان کی سر زمین پر دوسرے بڑی سپر پاور کو دھول چٹائی اور اللہ نے آپ کا روب و دبدبا ان کے دل و دماغ پر اس قدر طاری کر دیا کہ امریکی سپاہی آتے وقت بھی خودکشیاں کرتے تھے اور جاتے وقت بھی۔

عالمی سطح پر پاکستان امتِ مسلمہ کا سربراہ مانا گیا ہے اور جب بھی ملتِ اسلامیہ پر خطرہ منڈلایا ہے پاکستان نے آگے بڑھ کر اسلام کے دفاع میں کردار ادا کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ پاکستان امتِ مسلمہ کے مہرا ہے۔

1967 میں امت کو جو سب سے بڑی چوٹ لگی کہ اسرائیل نے بغیر کسی اعلان کے اردن، شام اور مصر تین مسلمان ممالک پے اس دن حملہ کر دیا جس مسلمان عید منا رہے تھے ۔ تینوں ممالک کی فضایئہ زمین پر ہی تباہ ہو گئی اور تب خطرہ یہ پیدا ہو گیا کہ اگر اسرائیل کو بر وقت روکا نہ گیا تو بہت سے ممالک اسرائیل کے قبضے میں چلے جائیں گے۔ اسی لمحے پاک فضائیہ سے مدد طلب کی جاتی اور پاک فضایئہ کے دستے بجلی کی سی سرعت سے وہاں پہنچتے ہیں اور اسرائیلی طیاروں کو مار گِراتے ہیں اور مسلمان ممالک کا دفاع کرتے ہیں۔

اس طرح کو ئی بھی خطرہ جو مسلمان ملت کو ہوتا ہے وہ ٹل جاتا ہے۔1974 میں ایک دفعہ پھر امت کو چیلنج کیا جاتا ہے۔ عرب اسرائیل جنگ پھر سے چھڑ جاتی ہے۔پھر سے ہمارے افواج آگے بڑھ کے ملت کا دفاع کرتی ہیں ۔اسی طرح 1995 بوسنیا کی سلامتی کو خطرہ پیدا ہوتا ہے پھر سے پاک فوج کے دستے وہاں پہنچتے ہیں اور دفاعِ امت میں اپنا کردار پیش کرتے ہیں۔اگر یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ آج اگر یورپ میں کوئی مسلمان ملک ہے تو وہ صرف اس وجہ کہ پاکستان نے اس کی مدد کی ہے۔مشرق و مغرب کے کفر کی راہ آج اگر کوئی چتان قائم ہے تو وہ اللہ کے حکم سے پاکستان کی ریاست ہے-

28 مئی 1998 میں نے مغربی طاغوتوں کی خواہشات کے برعکس اپنا ایٹمی پروگرام مکمل کیا تب بھی کوئی کسر نہ چھوڑی گئی کہ پاکستان ایٹمی طاقت نہ بن سکے۔ مختلف قسم کی پابندیاں لگائی گئیں ۔ لیکن اس دن ہم نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی جو اللہ نے جبرائیل ؑ کو دے کر قرآن میں اتارا کہ وَاعدو اور تیاری کرو۔ ہم نے اللہ کے حکم سے ایٹمی دھماکے کئے اور اللہ نے ہمیں کفار کے مقابلے میں قوت بخشی اور پاکستان ناقابلِ تسخیر بن گیا ۔ اس روز اسلامی برادری اس طرح چراغاں کیا گیا جیسے عید کا دن ہو۔ اندونیشیاء سے لے کر مراکش تک مٹھائیاں بانٹی گئیں۔ اس دن فلسطین کے بچوں نے اسرائیل کے مسلح فوجی اہلکاروں کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ ہمارے ہاتھوں میں ان پتھروں کو نہ دیکھو۔۔۔ بلکہ پاکستان میں پڑے ایٹم بم کو دیکھو۔ اب ایٹمی قوت ہیں۔

ایک بات طے ہے کہ اس پاکستان نے رہنا ہے کیونکہ یہ غلبہ اسلام کا بیس کیمپ ہے۔مگر جو کوئی نھی اس کے ساتھ غداریاں کر رہا ہے اسکو اپنے ھناہوں کا عذاب یہاں سہنا ہے۔قیامت کے دن کسی کو بحیثیتِ قوم عذاب نہیں ہو گا ہر کوئی اپنا فردی عمل لے کے جائے گا مگر قوموں کےانجام کا فیصلہ اللہ اسی دنیائے فانی میں کر دیا کرتا ہے۔

قابلِ قدر قارئین! ابھی پاکستان اور عالمِ اسلام کو در پیش مشکلات کا خاتمہ مکمل طور پر نہیں ہوی ہے۔ ہمیں وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے اپنی تیاری کرنی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان کا دفاع اور استحکام صرف اور صرف افواجِ پاکستان کا فریضہ نہیں بلکہ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے۔ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر مدینہ کی طرز پر وجود میں آنے والی ریاست کا دفاع اور استحکام بھی اسی صورت میں ممکن ہے۔ ہمیں اپنے طلباء کو باشعور بنانا ہو گا اور ان کے دل و دماغ میں نظریہ پاکستان پھر سے اجاگر کرنا ہو گا۔ باشعور نوجوان طلباء کی ذمہ داری ہے کہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ملک و ملت کے دفاع و استحکام اور تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔ ہمیں مشکل حالات کے سرد سمندر میں گرم خون لیے اترنا ہوگا۔ تب جا کے کامیابیاں ہمارا مقدر بنیں گی۔ انشاءاللہ

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdullah Qamar

Read More Articles by Abdullah Qamar: 16 Articles with 5030 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2017 Views: 318

Comments

آپ کی رائے