جان بچانا فرض ہے ایمان بچانا اس سے بھی بڑا فرض ہے

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
اس طرح ہم نے اسے نماز کے لیے مسجد تک ہی نہیں پہنچنے دیا اور وہ کم از کم دو مہینے تک چل پھر نہیں سکے گا شیطان کے چیلوں نے تفصیل سے اپنی کارگزاری سنائی تو شیطان نے کہا کہ کوشش یقیناّّ اچھی تھی لیکن اس کی نیّت اس قدر پختہ تھی کہ مجھے خاص الخاص ذرائع سے پتا چلا ہے کہ اس کو دو ماہ کا ثواب مل جائے گا اس لیے کوشش یہ کیا کرو کہ نیّت خراب کرو میں چاہتا ہوں کہ بنی آدم کو کم سے کم ثواب ملے بلکہ ان سے ایسے گناہ کرائے جائیں جن سے ان کی ساری نیکیاں ضائع ہو جائیں -

آج کل سیاست کے حالات ہر جگہ ڈسکس ہورہے ہیں عمران کہہ رہے ہیں کہ استعفٰی دو پانامہ کیس پر فیصلہ زیر التوا ہے اسمبلی میں اٹھا پٹھخ ہورہی ہے نواز شریف دونوں طرف سے گھر چکے ہیں ایک طرف سے را کی سازشیں ہیں جو انڈرورلڈ کے ساتھ مل کر بہت بڑے بڑے چینج ڈراپ سین کر رہی ہے میں یہاں کہوں گا کہ یہ سارے معاملات جو بگڑ رہے ہیں یہ تو اپنی جگہ لیکن آسمانی عذاب نازل ہونے کے بھی امکانات دن بدن بڑھ رہے ہیں عام لوگوں کے لیے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں مگر ہمیں اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے

ارادے جن کے پختہ ہوں نظر جن کی خدا پر ہو
طلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

بہت سارے لوگوں کا ذہن یہ ہے کہ جان بچانا فرض ہے یعنی جان بچانے کی خاطر جھوٹ بولنا جائز ہے لیکن ان کی یہ سوچ ناقص ہے کیوں کہ ایسی سوچ تو ہندو بنئے کی ہے کہ
چمڑی جائے تو جائے مگر دمڑی نا جائے
خاص طور پر اداکار لوگ اورخاص طور پر را کے لیے کام کرنے والے اداکار وہ ہمارے مسلمانوں کی لڑکے لڑکیوں کو عشق کے جال میں پھانس کر شادی کرلیتے ہیں اور اکثر ان کی شادیاں کامیاب ہورہی ہیں کیونکہ وہ پہلے گیم پلان بناتے ہیں کہ کیسے لڑکے یا لڑکی کے ماں باپ کو اپنی مرضی کی ڈگر پر لانا ہے تاکہ وہ راضی خوشی اپنے بچّے یا بچّی کو ہمارے ساتھ بیاہنے کے لیے راضی ہو جائیں اس طرح سے مڈل کلاس والدین جو بیشمار محرومیوں سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں ان کو ایسا لگتا ہے کہ ہمارے نصیب جاگ پڑے ہیں کیونکہ ان کو مخصوص انداز میں دولت کی چمک دمک دکھائی جاتی ہے اور بے شمار فلموں اور ڈراموں میں ڈائلاگ بازی سے ان کو دوسروں پر اپنی پر اعتماد باتوں سے موہ لینے کی بڑی مہارت ہو چکی ہوتی ہے اور یوں مسلمان لڑکے لڑکیوں کے لیے اپنا ایمان بچانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن جاتا ہے بچنے کے چانس صرف اس سورت میں ہی ہو سکتے ہیں کہ ہمارے لڑکے لڑکیوں کو دین کا علم پختہ انداز سے سکھایا گیا ہو ورنہ وہ اداکار اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ورغلا کر اسلام کے خلاف کر دیتے ہیں جسے ہم دوسری زبان میں برین واشنگ کہہ سکتے ہیں وہ کرتے کیا ہیں کہ اپنے پلان کے مطابق اپنے دوستوں کو گاہک بنا کر لاتے یا لاتی ہیں جس سے پاکدامنی کی مضبوط سے مضبوط دیوار گر جاتی ہے اور پھر گھر سے بے گھر ہوجانے کے ڈر سے اور والدین اور بہن بھائیوں کی طعنوں کے ڈر سے اداکاروں کے چنگل پھنستے ہی چلے جاتے ہیں اور بڑے گھرانے والوں کی ایک ایک موومنٹ پر بڑے بڑے سکینڈل وجود میں آتے ہیں جن سے ٹی وی اخبارات میڈیا خوب کاروبار چلاتے ہیں اور پیسے کماتے ہیں
ایمان بچانا جان بچانے سے زیادہ اہم ہے کیونکہ ایک مسلمان کا یہ عقیدہ چاہیے کہ
جان جائے تو جائے ایمان نا جائے لیکن ان سب باتوں کے باوجود شیطان کا ٹارگٹ ایمان والوں ہے
یہاں میں ایک پیرا گراف احطہ تحریر میں لانا چاہوں گا
شیطان کا شاگرد : عالم پناہ آج میں نے سب سے زیادہ عورتوں کو اپنے شوہروں کی نافرمانی اور ناشکری پر لگایا
ایک اور شاگرد میں نے آج بہت سے لوگوں کو اپنے والدین کی نافرمانی اور گستاخی پر لگایا آج میں نے بھائی سے بھائی کو لڑادیا -
آج میں نے اتنے زیادہ لوگوں کو سود کی لعنت میں گرفتار کردیا -
آج میں نے اتنے لوگوں کو بے ایمانی اورغدّاری پر آمادہ کیا اور اتنے لوگوں سے یہ سب کرا ڈالا
آج میں نے اتنے لوگوں کو کبیرہ گناہوں پر لگا دیا آج میں نے اتنے لوگوں کو توبہ کرنے میں کامیاب نہیں ہونے دیا جو توبہ کرکے نیکی کا راستہ اپنانا چاہتے تھے-
آج میں نے اتنے لوگوں کو جادو گری اور کالے دھندوں پر لگا دیا اتنے لوگوں کو خود کشی پر اکسایا اتنے لوگوں کو اللہ کی رحمت سے ناامید کیا -
سارے باری باری اپنی رپوٹیں دے رہے تھے ایک شیطان نے بتایا کہ میں نے میاں بیوی میں ناچاقی ڈال کر طلاق کرا دی ہے تو شیطان بڑا خوش ہوا اور اس کو اٹھ کر گلے لگا لیا کہ یہ تم نے بہت قابل تعریف کام کیا ہے-
اس لمحے باطل اور ثقیلہ اپنی ٹیم کے ساتھ حاضر ہوئے اور بولے : عالم پناہ ہم نے آج فلاں فلاں سلمان نامی آدمی کو نماز پڑھنے میں کامیاب نہیں ہونے دیا جو توبہ کر کے نماز کے لیے جا رہا تھا ہم نے اسے مسجد میں ہی نہیں پہنچنے دیا -
جب وہ گھر سے نکلا تھا اسے ایک خوبصورت عورت نے روکا جو دروازے میں کھڑی تھی جو پہلے اس کو لفٹ ہی نہیں کراتی تھی اس نے بڑی خوبصورت اور مخمور آواز میں کہا سلمان میری بات سنو میں آپ سے بہت ضروری بات کرنا چاہتی ہوں مگر سلمان نے اس کی آواز پر کوئی توجہ نہیں دی اور کہا کہ میں ضروری کام جارہا ہوں تیری بات کسی اور دن سنوں گا وہ آگے گیا تو ایک عورت ایک بچّہ اٹھائے ہوئے تھی اس نے بڑی لجاجت سے کہا کہ میرا بچہ بہت سخت بیمار ہے اس کو ہسپتال لے کر جانا ہے جلدی سے کو ئی ٹیکسی روکو جلدی کرو یہ بے ہوش ہے اور اس کی جان خطرے میں ہے اللہ کے لیے اسے ہسپتال لے جانے میں میری مدد کرو ورنہ یہ مر جائے گا سلمان نے کہا کہ اتنے لوگ آجا رہے ہیں ان سے کہو میں بہت ضروری کام جارہا ہوں لیکن عورت بڑا اسرار کیا اور منّت سماجت کرنے لگی ٹیکسی روکو مجھے اور میرے بچّے کو ہسپتال پہنچاو تم کتنے ظالم ہو سلمان نے اس کی کسی بات کی پروا نہیں کی اور سڑک پار کرنے کے لیے آگے بڑھا اور ایک تیز رفتار کار نے اسے ٹکر مار دی اور سلمان نے بے ہوش ہونے سے پہلے اس عورت کو فاتحانہ قہقہہ لگاتے ہوئے آخری بار دیکھا جب اس کو ہوش آیا تو ہسہتال میں وہ سٹریچر پر تھا
اس طرح ہم نے اسے نماز کے لیے مسجد تک ہی نہیں پہنچنے دیا اور وہ کم از کم دو مہینے تک چل پھر نہیں سکے گا شیطان کے چیلوں نے تفصیل سے اپنی کارگزاری سنائی تو شیطان نے کہا کہ کوشش یقیناّّ اچھی تھی لیکن اس کی نیّت اس قدر پختہ تھی کہ مجھے خاص الخاص ذرائع سے پتا چلا ہے کہ اس کو دو ماہ کا ثواب مل جائے گا اس لیے کوشش یہ کیا کرو کہ نیّت خراب کرو میں چاہتا ہوں کہ بنی آدم کو کم سے کم ثواب ملے بلکہ ان سے ایسے گناہ کرائے جائیں جن سے ان کی ساری نیکیاں ضائع ہو جائیں -
اداکار بھی شیطان کے ساتھی ہوتے ہیں وہ بھی مسلمان لڑکے لڑکیوں کو اسلام سے ہٹا کر بے دین سیکولر بنا دینا چاہتے ہیں تاکہ مسلمان لڑکے لڑکیاں غیر شرعی کام کرکے اپنی نیکیاں ضائع کر لیں اور اللہ کو ناراض کر بییٹھیں تاکہ وہ ہمارا آسان شکار بن جائیں
میں مسلمان بہنوں سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ خاوند غیر شرعی حکم دے یا سسرال والے غیر شرعی کاموں کے کرنے کا حکم دیں اور جہاں تک بس چلے ان کے ساتھ مقابلہ کریں اگر نہیں تو ان کو اپنے میکے چلے جانا چاہیے کیوں کہ رشتے داری بنائی ہی اس لیے جاتی ہے کہ ہم شریعت پر آسانی سے عمل کر سکیں اگر غیر شرعی کاموں پر مجبور کر دیا جائے تو ایسی رشتے داری کا کیا فائدہ جس سے ایمان جانے کا خطرہ ہوجائے اس لیے اپنا ایمان بچانے کے لیے سال دوسال میکے میں رہنا پڑے تو رہ لینا چاہیے اگر گھر والے بھی ساتھ ملے ہوئے ہوں تو گلی محلّے والے تو ساتھ دیں گے کیوں کہ سب کے سب تو غیر شرعی کاموں پر مصر نہیں ہو سکتے اس لیے جہاں بس چلے معاشرے سے لڑ جائیں اور جس طرح ممکن ہو اپنا ایمان بچائیں کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ جان بچانا فرض ہے مگر ایمان بچانا اس سے بھی بڑا فرض ہے-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 108 Articles with 84481 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Apr, 2017 Views: 717

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ