پانامہ کیس !نواز شریف پھر بچ گئے

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)

ہمارا شروع دن سے یہ موقف رہا ہے کہ پانامہ زدہ سب لوگوں کووزیراعظم میاں نواز شریف کے ساتھ کٹہرے میں کھڑا کرنا چاہیے مگر کیا کریں یہ فارمولا پی ٹی آئی ،پی پی پی سمیت دیگر جماعتوں کو منظور نہیں کیونکہ ان کی دال میں بھی بہت کچھ کالا ہے ۔صرف وزیراعظم کو نااہل قرار دلوانا اور باقی سے چشم پوشی اختیار کرنا سراسر گمراہی ،فاش غلطی ہے جو مسلسل ہو رہی ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست کا مزاج ہے کہ رات گئی تو بات گئی حالیہ درخواستوں سے یوں لگتا ہے کہ درخواست گذار پانامہ زد ہ سب لوگوں کا احتساب نہیں چاہتے بلکہ وہ نواز شریف کو نا اہل قرار دلوا کر سیاست سے آؤٹ کرکے اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں ۔ اگرایسا نہیں تو سب پانامہ زدہ لوگوں کے خلاف درخواستیں کیوں نہیں دی گئیں ؟

لیجئے ایک طویل تھکا دینے والے انتظار کے بعد20 اپریل دن 2بجے سپریم کورٹ کا پانامہ کیس پر 450 صفحات کا فیصلہ آگیاجسمیں ججز واضح طور پر تقسیم نظر آئے، سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے تمام فریقین نے فیصلے کو ماننے کا عندیہ دیا تھا سوائے ایک پارٹی کے جس کا کہنا تھا کہ قانون یا ن لیگ میں سے کسی ایک کا بیڑہ غرق ہوگا ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق وزیراعظم ایک بارنااہل ہونے سے پھر بچ گئے ہیں ظاہراًانھیں 60 دن کی مہلت مزید مل گئی ہے لیکن یاران نقطہ داں کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے کچھ ایسا فیصلہ دیا ہے کہ اس کیس کا فیصلہ گول مول کے سوا ہو ہی نہیں سکتا ۔ابتدائی طور پر تمام درخواست گذارخوش ہیں کہ ہماری فتح ہوگئی کیونکہ دو ججز جسٹس آف خواجہ سعید اور جسٹس گلزار نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل ہونے کے اختلافی نوٹ دئیے ہیں جبکہ تین نے مزید تحقیقات کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے J.I.T سات یوم کے اندر تشکیل دینے اور60 دنوں کے اندر بے نامی جائیداد کی تحقیق کا کہتے ہوئے فیصلہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس جے آئی ٹی میں نواز شریف ،حسین نواز اور حسن نواز کو ذاتی طور پر طلب کیا ہے ۔ن لیگ کے کارکنان ،قائدین ا س فیصلے پر بہت پرجوش اورجذباتی نظر آرہے ہیں وہ اس فیصلے کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے عمران خان وزیراعظم نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف دو ججز کے نزدیک صادق اور امین نہیں رہے لہٰذا و ہ اپنا منصب چھوڑ دیں۔

جبکہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا ہے کہ عدالت نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی ہے ۔پی پی پی کے آصف زرداری نے فیصلے کو مسترد کرکے دوسرے لوگوں کیلئے بھی توہین عدالت کا دروازہ کھول دیا ہے جو کہ ساری قوم کیلئے لمحہ فکریہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ حالیہ فیصلہ اس امر کی واضح وضاحت ہے کہ وزیراعظم کو فیصلے میں نا اہل قرار نہیں دیا گیا ،نواز شریف کا اس فیصلہ میں بچ جانا ان کی قسمت اچھی ہونا ظاہر کر رہا ہے ورنہ اکثر کے نزدیک خیر کی توقع نہیں تھی بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ حالیہ فیصلہ ن لیگ کی عارضی فتح ہے ماضی قریب (60 کے بعد) میں ان کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا عارضی فتح پر ن لیگ کو چاہیے کہ بغلیں بجانے کی بجائے آنے والے دنوں میں اپنی خیر منائے ۔عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا وعدہ کرنے والی ن لیگ ابھی تک اپنا وعدہ پورا نہیں کر سکی ۔حکومت نے قوم سے 10 دن کا وقت مانگا ہے اگر مطلوبہ ایام میں لوڈشیڈنگ کا جن بوتل میں بند نہ ہوا تو ن لیگ 60 دن سے پہلے ہی عوامی ردعمل کیلئے تیار رہے کیونکہ آگئے رمضان المبار ک آرہا ہے شدید گرمی میں روزہ دار لوڈشیڈنگ برداشت نہیں کر پائیں گے ۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے شواہد سے ججز بھی مطمعئن نہیں ہیں اس لئے مزید تحقیق کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دینے کا حکم دیا ہے ۔اگر اس کیس پر طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ہر صاحب علم اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ درخواست گذار جس نتائج کا عزم لئے عدالت آئے وہ انھیں حاصل نہیں ہو سکے ۔وزیراعظم کو ساٹھ دن کا ٹائم مل جانا ن لیگ کے لئے نیک شگون ہی نہیں ترقی کا باعث بھی ہے اگر جے آئی ٹی نے کسی منظور نظرکا خیال رکھے بغیر فیصلہ دیا جو یقیناًن لیگ کے خلاف فیصلہ جائے گاجس کے اثرات تادیر ن لیگ کے سر پر سوار رہیں گے ،ایک نقطہ یہ بھی ہے کہ جے آئی ٹی کا سربراہ چوہدری نثار کا ماتحت افسر ہی ہوگا تو تحقیقات کیا ہوں گی مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ویسے بھی پاکستانی تاریخ جے آئی ٹی کمیشن کے حوالے سے بہت افسوس ناک ہے ہر جے آئی ٹی کمیشن نے قوم کو ٹرخالوجی کے علاوہ کچھ نہیں دیا ،قوم کا وقت،پیسہ ہر جے آئی ٹی نے برباد کیا ۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ساٹھ دن کے بعد بھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو پائے گا ایسا گول مول فیصلہ ہوگا کہ سب اس فیصلے کوبھی اپنی فتح قرار دیں گے اوراگر یہ نہ ہوا تو ایسا فیصلہ ہوگا جو من پسند ہی ہوگا ۔بہرکیف قوم کو اس کیس پر زیادہ امیدیں وابستہ نہیں کرنی چاہیں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 159469 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Apr, 2017 Views: 249

Comments

آپ کی رائے