تم اللہ کی نعمتوں کا شمار نہیں کرسکتے

(Munawar, London)

اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی ان گنت نعمتوں سے نواز رکھا ہے ۔اکثر و بیشتر تو ہم اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں کے بارے میں سوچتے تک نہیں ہیں کہ اللہ تعالی نے ہمیں کتنی عظیم الشان نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔

ارشاد ربانی ہے اگرتم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گننا شروع کرو تو آپ ان نعمتوں کا شمار نہیں کرسکتے۔

ایک دفعہ میں ایک مریض کی بیمارپُرسی کے لئے ایک اسپتال میں گیا۔ وارڈ میں کئی ایک دوسرے مریض بھی تھے۔ایک مریض کے بیڈ کے قریب میں نے ایک گیس سلنڈر دیکھا۔میں نے اس سلنڈر کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ شخص ایک پہاڑی پر پتھر کوٹنے کا کام کرتا تھا۔ پہاڑیوں کو توڑنے کے لئے بسا اوقات بارودی کیمیکلز کا استعمال کیا جاتا ہے۔ایک دن جب بارود لگانے کے نتیجہ میں پتھر پھٹے ۔اس وقت یہ بے چارہ شخص وہاں کہیں قریب ہی تھا۔بارود پھٹنے کے نتیجہ میں فضا میں پھیلنے والے زہریلے مواد سے اس کی سانس کی نالی متأثر ہو گئی ہے۔اب یہ قدرتی طور پور سانس نہیں لے سکتا۔اس لئے اسے مصنوعی سانس مہیا کرنے کے لئے آکسیجن لگائی جاتی ہے۔جیسے ہی گیس کی نالی اس کے جسم سے الگ کریں گے اس کی زندگی کا چراغ گل ہوجائے گا۔

مجھے اس شخص کی حالت زار دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔بظاہر وہ ایک صحت مند اور توانا انسان تھا لیکن وہ اپنی جسمانی بیماری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بے بدل نعمت آکسیجن سے محروم ہوچکا تھا۔

ہماری زندگی کا انحصار جن بنیادی اور اہم چیزوں پر ہے۔آکسیجن بھی ان میں سے ایک ہے۔لیکن ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے کبھی اس نعمت عظمی یا اس کے عطا کرنے والے کے بارے میں سوچا ہے۔

کہتے ہیں ۔ایک بھکاری نوجوان جو بظاہر لگتا تھا۔ اس نے کسی شخص کے سامنے ہاتھ پھیلاکر، اللہ کے نام پر سوال ہے بابا کا روایتی نعرہ بلند کیا۔اس شخص نے فقیر سے کہا۔ میاں تم کیوں مانگتےہو۔اس نے جواب دیا میں بھائی صاحب میں مسکین ہوں۔غریب ہوں میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

اس شخص نے جواب دیا ۔تم غریب نہیں ہو۔مجھے پتہ ہے کہ تم بہت امیر ہو۔فقیر نے اسے بتایا کہ میں آپ کو سچ بتا رہا ہوں کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

اس شخص نے اسے بتایا کہ میں ایک شخص کو جانتا ہوں جو تم سے تمہارا ایک بازو ایک لاکھ میں خرید سکتا ہے۔اسے بیچ دو۔فقیر جھٹ سے بولا ۔نہیں میں ایک لاکھ کے لئے اپنا بازو کبھی بھی نہیں دے سکتا۔اس شخص نے کہا چلو ایک ٹانگ بیچ دو اس کی آپ کو خاصی معقول رقم مل سکتی ہے۔فقیر نے کہا تم پاگل ہو میں چند لاکھ کے لئے اپنی ٹانگ بیچ دوں۔میں تو اپنے جسم کا معمولی سا حصہ کسی بھی قیمت پر دینے کو تیار نہیں ہوں۔

اس پر اس شخص نے فقیر سے کہا۔تم پھرکیسے غریب ہو۔بقول تمہارے ،تمہارے جسم کے اعضاء کی قیمت کوئی ادا ہی نہیں کرسکتا۔پھر زرا سوچو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کس قدر مال و دولت سے نوازرکھا ہے۔

اس کی قدر کرو۔خدا کا شکر ادا کرو ور اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کو ضائع مت کرو۔خدا تعالیٰ کا قرآن پاک میں یہ بھی ارشاد ہے کہ روز محشر آپ سے ان نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Munawar

Read More Articles by Munawar: 35 Articles with 22608 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Apr, 2017 Views: 342

Comments

آپ کی رائے