کتابوں کا اتوار بازار

(Rashid Ashraf, Karachi)
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 3297 Print Article Print
About the Author: Rashid Ashraf

Read More Articles by Rashid Ashraf: 107 Articles with 125201 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Rashid Sahab Aap ki Mahnat Raygan Nahi Jayge Insha ALLAH is se Hazaron Talab Aur Shaiqeene Adab Ko Faida Hoga aur Ho rha he Jo Aap ke Liyr Sadqaye Jariya Ban rha he
By: IMRAN AKIF KHAN, Hyderabad on Jun, 16 2015
Reply Reply
0 Like
اسلام علیکم
میں آپکی طرف سے کچھ کتاب چاہتا ہوں
۱ ۔ داعی کا تو شہ
فضائل صد قات ۱۔۲
معارف الحدیث
معارف القرآن
جملہ صرف
اردو فروژی لغت
By: AHMAD, SWEDEN on Oct, 13 2012
Reply Reply
0 Like
Dear Rashid,
I still remeber that day when Ahmad Safi Saheb presented me a novel KALEEM of my grandfather Qaisi Rampuri, and i am grateful to all the friends who are giving me the novels of Qaisi Rampuri.
By: Adil Hassan, Karachi. on Oct, 03 2011
Reply Reply
0 Like
انیس صاحب
آداب
حضور، آپ کو جواب تو 17 ستمبر کو دے دیا تھا، یہاں اس جواب کو مکمل نقل کررہا ہوں:

جناب انیس آفتاب صاحب
وعلیکم السلام

تین روز کی تاخیر سے جواب دے رہا ہوں، معذرت قبول فرمائیے گا

یہ کتاب کا رشتہ ہی کچھ ایسا ہے کہ لوگ آپس میں اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے حقیقتا لطف اندوز ہوتے ہیں، بنا کسی لگی لپٹی کے، اس نیک نیتی کے ساتھ جو اب عنقا ہوگئی ہے

اچھا لگا ممبئی کے بھنڈی بازار کا ذکر پڑھ کر اور مزید خوشی یہ جان کر ہوئی کہ جناب بھی ابن صفی صاحب کے مداح ہیں

ابن صفی صاحب پر آپ نے احقر کی سائٹ ملاحظہ کی ہوگی، اگر نہیں تو لنک حاضر ہے

http://www.wadi-e-urdu.com/

عارف اقبال صاحب سے میرا رابطہ ہے

یہ جان کر مسرت ہوئی کہ آپ نے ان کو صفی صاحب کے چند نایاب ناولز بھجوائے تھے لیکن حیرت بھی ہوئی کہ وہ کون سے ناولز تھے جو پاکستان میں بھی دستیاب نہیں تھے، اس بارے میں ضرور آگاہ کیجیے گا

وجہ یہ ہے کہ یہاں کراچی میں صفی صاحب کے تمام ناولز دستیاب ہیں، بلکہ کسی بھی دور میں یہ نایاب نہیں ہوئے، میرے پاس تمام ناولز موجود ہیں بلکہ اب تو اتوار بازار جیسی جگہوں کی بدولت ایک بڑی تعداد ان ناولز کی بھی جمع کرلی ہے جو اوریجنل ناولز کہلاتے ہیں یعنی"فرسٹ ایڈیشن

وادی اردو پر ٹائٹلز دیکھیں تو اس کے پہلے ہی صفحے پر آپ کو متذکرہ سراوراق مل جائیں گے جنہیں دیکھ کر دنیا بھر سے پیغامات آتے رہتے ہیں، لوگ بے انتہا خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان ٹاٹلز کو دیکھ کر انہیں پرانا زمانہ یاد آگیا

چند چیزیں آپ کی تفریح طبع کے لیے پیش کرتا ہوں

http://www.youtube.com/watch?v=Qf6lPrkm1PI

یہ صفی صاحب سے متعلق 80 تصاویر کو یکجا کرکے بنائی گئی ویڈیو ہے جو یقیننا آپ کو پسند آئے گی

http://www.zemtv.com/2010/11/21/ibn-e-safi-21st-november-2010/

پاکستان کے جیو ٹی وی سے 2010 میں ابن صفی پر دستاویزی پروگرام نشر ہوا تھا، یہ اس کا لنک ہے، اس کے پانچویں حصے میں آپ خاکسار کو بھی دیکھ سکتے ہیں

http://www.aanchal.com.pk/online-stories/20/1138/66.html

ابن صفی کے کردار استاد محبوب نرالے عالم پر یہ مضمون کراچی کے جریدے نئے افق میں 2010 میں شائع ہوا

یہ فرمائیے کہ آپ نے مجھ سے رابطہ کیا بزم قلم کے توسط سے کیا ہے یا کسی اور ذریعے سے

خیر اندیش
راشد اشرف
کراچی سے
By: Rashid Ashraf, Karachi on Sep, 20 2011
Reply Reply
0 Like
Rashid Ashraf Sahab Ko Tahe Dilse Salaam Qubol Ho.... Aap jaisi Deewangi yahan bhi hai Mai bhi kitabon ka majnoo Hoon Aapse dosti ki khwahish hai. Aapko [email protected] bhi kiya this magar abtak Jawab se mehroom hoon ?!
Nacheez Anees Aaftab KHAMGAON Dist: Buldhana Maharashtra state (India) [email protected]
By: Anees Aaftab, KHAMGAON INDIA on Sep, 19 2011
Reply Reply
0 Like
پرانی کتابین اکثر اتوار کو ملتی ہیں-- اصل دوکاندار اپنی دوکان بند رکھتا ہے اوسی فٹ پاتھ پر پرانے کتابون کی دوکان سجتی ہے-- اردو کی کتابیں چارمینار کے مغرب مین ملتی ہین-- ایک قبیل کتب فروش قیمتون کو مٹا کر پشت پر اپنی تحریر سے لکھتا ہے-- ایک پیسہ کم نہی کرتا-- دوسی قبیل رسالے زیادہ رکھتا ہے-- رسالے خریدنا اچھا لگتاہے-- قیمتین بھی واجبی-- تیسری قبیل وہ کتب فروش جو "جادو، موکل، سایہ، خزانے وغیرہ " فروخت کرتا ہے-- یون سمجھو کیمیا گری کا نسخہ بیچ رھا ھو--

دراصل اردو کتابون کا المیہ یہ ہے کہ " بار اول، تعداد پانچسو"

سرقہ کتابون کا جائز ہے-- ادبی سرقہ کے احاطہ مین ہے-- خدابخش نے تو "سفیر " بنا رکھے تھے--"

By: Abdul Aziz Abid, Hyderabad Daccan, India on Oct, 18 2010
Reply Reply
0 Like
COMMENTS OF AHMAD SAFI SAHAB:

aaj subha hum nay bhi neend ki qurbani di aur bil Akhir KitaboN kay Itwar bazaar pohanch ga'ay...
Aaj bazaar maeN Rashid kay mazmoon ka shohra sunA'ee diya... Aik do kitub faroshoN ko iss baat par baat kartay sunaa keh unki ya unkay stall ki tasweer aa ga'yee aur doosray ki na Aa'ee. Aik nay khaa "woh chashmay walay bhai aaj tasweeraeN khaeNch kar lay ga'ay haeN" iss say pata chalaa keh Rashid ho kar ja chukay haeN.

Bazaar maeN buhat mazaa Aaya... Do chaar achchee kitabaeN mileeN (dastkhat shuda) aur Musharraf Ali Faruqi aue Prof. Saher Ansari sahebaan say bhi nayaaz Hasil huay. Marhoom Qaisi Rampuri ka ain novel "Kaleem" nazar aaya to iss khayaal say lay liya keh unkay nawaasay Adil saheb ko paesh kar dooNga... ThoRi hi daer maeN woh bhi waheeN aa ga'ay jiss per Saher saheb nay kaha "Joyindah O Yabindah." Adil ko aik aur kitaab bhi waheeN mili "Nargis" kay naam say joe ab nayaab hai.

Yeh kyaa lagaa diya Rashid... Bachchay joe saath hee ga'ay thay aglay Itwaar kay liyay abhi say tayyar haeN... Alwidaa ae Itwaar ki subh' KHwaabi... Shukria Rashid!
By: Rashid Ashraf, Karachi on Oct, 18 2010
Reply Reply
0 Like
Tasleem Elahi Zulfi Canada se Karachi aaiey MERI KITABEIN ki Karachi mei taqreeb e runami k ba'ad kitabein jaan pehchan walouN ko di gaieN aiesi hi aik kitab aik mohterma k naam ki Rs.50/= mei hem ne hathiali.Zakir Ali Khan ALIG ki Riwayat e Aligadh banam Enayet Ali Khan homourist poet on ly for Rs.20/=qeemat 200/= hey le aaiey.
Syed Anwer Jawaid Hashmi,Co-Editor TAZKRA kitabi silsila quarterly Karahi
By: S Anwer Jawaid Hashmi, Karachi on Oct, 17 2010
Reply Reply
0 Like
COMMENTS OF AQEEL ABBAs JAFRI SAHAB:

"janab mujhay to Noon Meem Rashid ki kitab Mawara ka woh pehla edion isi footpath sey mila jo unhon ne apnay dastakht key saath Pitrus Bukhari ko paish kiya tha. Prime Minister Yousuf Raza Gilani ki Shahe Yousuf se sada ka won nuskha bhi mila jo unhon ney Adial Jail se sign karkey Naheed Khan saheba ko bhaija tha.Josh malihabadi, Meera Ji, Raees Amrohvi, Diwan Singh Maftoon, Jagan Nath Azad, Imtiaz Ali Khan Arshi aur faiz ki kitabain unkay signatures ke saath yahin se milin jo unhon ne baray ehtiraam ke saath apnay doston ki nazr ki thin."
By: Rashid Ashraf, Karachi on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
بہت اچھا مضمون ہے اور اس کو پڑھ کر دل چاہنے لگا ہے کہ ’’اس بازار‘‘ کی سیر کی جائے۔۔۔۔ اب کسی اتوار کو نیند کی قربانی دینی ہی پڑے گی۔۔۔ ورنہ کتب فروشون کو بھی گلہ رہ جائے گا:۔

بُک سے کب پیار ہے ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
By: Ahmad Safi, Karachi on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
Dear Rashid Sahib,

I hope that you will be fine.

I have read your Sunday Book Bazar article in Hamriweb and like it a lot.

This is a great effort from your side and I would like to convey my congratulation for that. I also hope that you will keep writing this kind of informative article in future too.

I will be very thankful to you, if you please provide me some information about submitting pictures with my upcoming article. InshaAllah, I will submit that in next 1 or 2 weeks.

I want to submit some pictures with that article too, so please let me know how I can do that?

Thanks and with best regards

AMIN BHAYANI

By: AMIN BHAYANI, USA on Oct, 15 2010
Reply Reply
0 Like
All... i m in Karachi .... and i totally agree that we never ever see ne thing abt books.. ne discussion... ne ads.... no libraries... there was a project for a big library near NIPA but it has been shelved..that clealry shows no interest... u need to trace Book shops... very few left.... no culture of books...a big strata is watching news channels... other running after trends and fashion... remaining are against everything...ALLAH Rehm kerai and aur RAHAI NAAM ALLAH KA....:)"
By: Umair Mandhai , Karachi on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
اس مضمون کا محرٌک ہمارے کتاب چہرہ کے جانے پہچانے دوست راشد اشرف صاحب کا ایک مضمون " کتابوں کا اتوار بازار " بنا ۔ مضمون کیا ہے ، قلم برداشتہ ایک ری ایکشن ہے ۔ ۔ ۔ ۔ملاحظہ فرمائیے اور اپنی آراء سے نوازئیے ۔ دس سال پہلے کا قصہ ہے ۔ میں جنوبی کوریا کے سفر میں اپنے منجھلے بیٹے کے ساتھ ایک ہوٹل میں مقیم تھا۔ اتوار کا پروگرام یہ تھا کہ انڈر گراؤنڈ ٹرین پکڑی جائے، کورین کھانے اور مشروبات آزمائے جائیں اور پورے سیئول شہر کا چکر لگایا جائے ۔نقشے پر ایک مصروف کاروباری علاقے پر نشان لگایا گیا، یہ غالبا" ان کا ڈاؤن ٹاؤن تھا، ہم باپ بیٹے ٹرین سے اس جگہ جا پہنچے ۔ ایک بہت بڑے اسٹور پر بہت ہجوم نظر آیا ۔ ہم بھی وہاں جا پہنچے ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ نئی کتابوں کا اسٹور ہے جس میں اتوار کی اس صبح کم از کم سو ڈیڑھ سو کے قریب گاہک موجود تھے ۔ اکثریت نوجوانوں کی تھی ۔ لڑکے لڑکیاں فرش پر بیٹھے کتابیں کھنگال رہے تھے ۔ کاؤنٹر پر خریداروں کی رونق تھی ۔ کتب خانے کے اندر واقع کافی شاپ میں بھی کافی اور ہلکے پھلکے ناشتے کے ساتھ میگیزینز پڑھے اور دیکھے جارہے تھے ۔ نئی کتابیں خریدنا، انہیں پڑھنا، ان پر بات چیت کرنا ان اقوام کے جوانوں کا شعار ہے ۔ دنیا بھر کے مشہور مصنفین کی کتابیں مہینوں میں نہیں دنوں میں ترجمہ ہوکر بازار میں آجاتی ہیں ۔ جاپان، کوریا، ہانگ کانگ، یورپ، امریکہ اور لاطینی امریکہ میں اگر انڈر گراؤنڈ ٹرین کا سفر کیجئے تو عام طور پر نظر آتا ہے کہ ایک ہاتھ سے چھت پر لگا اسٹیل کا ڈنڈا پکڑے لوگ باگ کوئی کتاب ہاتھ میں لئے کھڑے اسے پڑھ رہے ہیں ۔ یہ لوگ کام پر جارہے ہوتے ہیں یا شام ڈھلے کام سے واپسی کا سفر طے کر رہے ہوتے ہیں ۔یہ زندہ قومیں ہیں جن کا رشتہ کتاب سے قائم ہے ۔ کیا علمی اور فکری سطح پر بحیثیت۔ قوم ہم وفات پا چکے ہیں قبرستانوں میں جیسے گدھ ُمردوں کی تلاش میں منڈلایا کرتے ہیں ۔ میں اور مجھ جیسے بڈھے ٹھڈے ریگل مارکیٹ میں کباڑیوں کے ہاتھ بیچے جانے والا ماضی تلاش کرتے پھرتے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل کا رشتہ کتاب سے کٹتے کٹتے تقریبا" ناپید ہو گیا ہے ۔ جو بزعم۔ خود پڑھے لکھے ہیں ان میں سستی شہرت کا کینسر بری طرح پھیلا ہوا ہے ۔ بڑی بڑی اور حسین تصویروں کے ساتھ کتابیں چھپ بھی رہی ہیں تو ان کی جنہوں نے زندگی میں کسی کتاب کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔ ایک دوسرے کو دھڑلٌے سے اور کثیر تعداد میں ایوارڈز عطا کئے جا رہے ہیں ۔ پھر مصنف ان کی نمائش خود ہی کرتے پھرتے ہیں ۔ ہر شخص ایک اشتہار بنا ہوا ہے ۔ وہ دن دور نہیں جب ایوارڈز اور شیلڈز کا بھی جمعہ بازار لگا کرے گا ۔ پابلو نرودا، گیبریل گارسیا یا ماریو ورگاس یوسا کو چھوڑئیے ہم ن م راشد، منٹو اور فیض و فراز کو بھی ترسیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ رہے نام اللہ کا ۔
By: Majeed Akhtar, Middle East on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
bohot achcha mazmoon likha hai aapne. aur baRa ahm mouzoo per qalam uThaya hai, mujhe yaad hai, aaKhri daf'aa jab maiN Pakistan ayee thee to mere vaalid sahib ne kuchch kitaabeN maNvayeeN thee, jaise ham na fasane rafta vg...in kitaboN ko DhooNDne ke liye mujhe urdu bazaar jana paRa, aur vahaN per bhi sirf aik do kutb.farosh the, jin ke paas adabi zouq rakhne valoN ke liye kitabeN dast.yaab theeN, varna to sirf nisaabi kitabeN hi theeN poore bazaar meiN. aur usper bhi jab maine kitaboN ke naam ginvaaye, to kutbfarosh mujhe hairat se dekh raha tha, jaise maiN us se farsi bol rahi hooN.
By: Sarah Nooruddin, Islamabad on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
"ji maine yehi suna hai, mere bhai bata rahe the ke islamabad meiN to bohot baRa bookstore hai. kitne afsos ki baat hai, ke ab karachi meiN aisa naheeN hai, jab ham karachi meiN rehte the, aur bookstore jaya karte the, to vahaN per poora bookstore aik khaas qism ki nayee kitaboN ki kushboo se basa hota tha, pata naheen mera nostalgia hai, ya vaqa'i aisa tha. bahar.haal afsos hota hai, ab vahaN bookstores ki kami dekh ker, aur us se bhi zyada afsos, ke ab adabi zouq rakhne vale bhi bohot kam reh gaye haiN."
By: Sarah Nooruddin , Islamabad on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
Saher Ansari,Asif Farukhi,Dr Rauf Parekh,Ilyas Patel,Ehtesham Anwer aur deeger ahle zauq book lovers,scholars hameiN yehaN miltey rahey
By: S Anwer Jawaid Hashmi, Karachi on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
Very Nice and informative article. I was used to go there regularly when I was in Karachi. Thanks for this great nostalgic (for me) article.
By: AMIN SADRUDDIN BHAYANI, ATLANATA, USA. on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
A good and informative article.. very helpful for book lovers, thanks Rashid sahib for writing on such a good topic.
By: Yasmin Elahi, Karachi on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
aik intahai aham mozo per aap nay qalam uthaya hay. aaj kitab dosti bahut kam ho gaye hay. aap ka aysay baray mozo per baat karna aur woh bhe pori research kay sath acha laga
By: Muhammad sabir, Colombo , Srilanka on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
Comments of Munir Ahmed Sahab, Karachi:

میں ایک مرتبہ اسی طرح کے پرانی کتابوں کے بازار سے کتاب خریدنے کے بعد مشکل میں پڑ گیا تھا -ہوا یہ کہ غالباً نقوش کا پرانا شمارہ ایسی ہی کسی دکان سے مل گیا --لیکر گھر آیا تو دیکھا کہ اس میں کھٹمل ہی کھٹمل بھرے ھوئے ہیں --وہ بھی موٹے موٹے - ہمارے گھر ملیر چھاؤنی میں ایک بھی کھٹمل نہیں تھا -- میں خوف زدہ ھو گیا تھا - ملیر چھاؤنی میں کھلے میدان بہت ہیں -میں اس کو وہاں لے گیا اور کھلے میدان میں اپنے سے دور رکھ کر جلدی جلدی پڑھا اور وہیں پھینک کر گھر آگیا
جب میں ایسی کتابوں کو دیکھتا ھوں جس کے بارے میں اندازہ ھوتا ھے کہ کسی کی وفات کے بّّّعد لواحقین نے کوڑیوں میں فروخت کر دیا ھے تو ایک عجیب سی سوچ میں پڑ جاتا ہوں ۔جیسے -----جیسے ----بچے مرحوم کو اچھے نام سے یاد کرتے ھوئے کتابیں وغیرہ پھینک رہے تھے یا یہ کہتے ہوئے کہ "ایسی ھی فضول کتابیں جمع کی تھیں --کاٹھ کباڑ --" میں نے تو اپنے بچوں کو بہت پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ جو بھی تھوڑی بہت کتابیں ہیں ان میں انجینیرنگ کی کتب کسی یونیورسٹی یا کسی ادارہ جیسے "سپارکو" وغیرہ کو دے دینا اور دیگر کتب کسی لائبریری کو
By: Rashid Ashraf, Karachi on Oct, 14 2010
Reply Reply
0 Like
فضل حسینی صاحب، سہیل کیانی صاحب، سید ابو مکرم صاحب، محمد ارشد صدیقی صاحب اور اشرف علی شاہ صاحب ۔ تمام احباب کا شکر گزار ہوں

ایک تصحیح کرتا چلوں، صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے، غلطی سے صلاح عام لکھا گیا، معذرت خواہ ہوں

پاکستان کے نامور محقق و ادیب جناب عقیل عباس جعفری صاحب نے راقم کے نام ایک پیغام میں زیر نظر مضمون پڑھ کر یہ تبصرہ کیا

"janab mujhay to Noon Meem Rashid ki kitab Mawara ka woh pehla edion isi footpath sey mila jo unhon ne apnay dastakht key saath Pitrus Bukhari ko paish kiya tha. Prime Minister Yousuf Raza Gilani ki Chah e Yousuf se sada ka woh nuskha bhi mila jo unhon ney Adiala Jail se sign karkey Naheed Khan saheba ko bhaija tha.Josh Malihabadi, Meera Ji, Raees Amrohvi, Diwan Singh Maftoon, Jagan Nath Azad, Imtiaz Ali Khan Arshi aur Faiz ki kitabain unkay signatures ke saath yahin se milin jo unhon ne baray ehtiraam ke saath apnay doston ki nazr ki thin."

خیر اندیش
راشد اشرف
By: Rashid Ashraf, Karachi on Oct, 14 2010
Reply Reply
1 Like
بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی
By: Ahsan ul Haq, Islamabad on Dec, 29 2013
0 Like
GOOD STRUGLE.
By: ashraf ali shah, KARACHI on Oct, 13 2010
Reply Reply
0 Like
Assalamu Alaiykum,
Dear Rashid Sb., Well done, its very good article.
By: MUHAMMAD ARSHAD SIDIKI, Karachi on Oct, 13 2010
Reply Reply
0 Like
شکریھ راشد،
اس مضمون کا لکھنا آپ پر ایک قرض تھا ۔ جو آپ نے خوش اسلوبی سے ادا کیا۔
یہ علاقے میں نے ٨٠ کی دھائیوں میں الیکٹرنکس کے بورڈ اور پرزے خریدنے میں خوب چھانے تھے۔
زیبی ریگل اور بوہری بازار کا آخری چکر لگائے ٢٥ سال ہوچکے۔
یاد ماضی عذاب ہے یارب۔۔۔۔۔۔۔۔
By: Syed Abu Mokaarim Ahmad, Karachi on Oct, 12 2010
Reply Reply
0 Like
Rashid Sahib:
salaams--and Duas
1)U are getting involved in URDU LITERATURE??--Mashallah

2)Either way--our friends in the SILVER BUSINESS in CANADA-remembering you
cheers
By: nawabzada SOHAIL S KIANI , CANADA on Oct, 12 2010
Reply Reply
0 Like
پرانی یادیں تازہ ہوئیں۔ کبھی ہم بھی یہاں جایا کرتے تھے -
بہت شکریہ راشد صاحب
By: Fazal Hussaini , USA on Oct, 12 2010
Reply Reply
0 Like
Language: