پانامہ کیس میں عوامی دلچسپی پہ تعجب

(Dr B.A Khurram, Karachi)

کہاوت ہے کہ ایک ملک کا بادشاہ جو اپنی مفاد پرست کابینہ کے ہاتھوں کٹ پتلی بن کر اپنے علاقے کی غریب عوام پر آئے روز بے جا اشیائے خوردنوش ادویات بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کر کے انھیں اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور کر رہا تھا جبکہ دوسری جانب غریب عوام جہنوں نے اپنے ووٹوں کی طاقتاپنے عوامی نمائندوں کو بڑی شان و شوکت کے ساتھ محض اس لیئے اسمبلیوں میں پہنچایا تھا کہ وہ اسمبلیوں میں پہنچ کر اپنی غریب عوام کے بنیادی حقوق کی جنگ لڑے گے لیکن افسوس کہ مذکورہ عوامی نمائندے غریب عوام کے بنیادی حقوق کی جنگ لڑنے کے بجائے اپنے ذاتی مفاد کی جنگ لڑنے میں مصروف عمل ہو کر رہ گئے جس کے نتیجہ میں مذکورہ علاقے کی غریب عوام اپنے عوامی نمائندوں کے جھوٹے وعدوں سے دلبرداشتہ ہو کر بے بسی اور لا چارگی کی تصویر بن گئی جن کی خاموشی کا ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے کٹ پتلی بادشاہ نے اپنی مفاد پرست کا بینہ جو لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کر نے میں مصروف عمل تھی سے مشاورت کے بعد شہر سے باہر جانے والے دریائی راستوں پر چوکیاں تعمیر کروائی گئی جہاں پر تعنیات محا فظ ہر آ نے جا نے والے افراد سے نہ صرف جگا ٹیکس وصول کرتے بلکہ ان کی چھترول بھی کرتے بے رحم وقت اسی طرح گزر رہا تھا کہ ایک دن علاقے کے چند ایک افراد کا وفد کٹ پتلی بادشاہ کو ملکر عرض کر نے لگا کہ بادشاہ سلامت آپ کا ہر فیصلہ ہمارے سر آ نکھوں پر لیکن ہماری آپ سے ایک التجا ہے کہ آپ نے جو مذکورہ چوکیوں پر محافظ تعنیات کر رکھے ہیں ان کی تعداد کم ہے لہذا آپ سے ہم یہ استدعا کرنے آئے ہیں کہ وہاں پر محافظوں کی تعداد اس قدر بڑ ھا دیں تاکہ وہ جلد از جلد ہم سے جگا ٹیکس کی وصولی کے ساتھ ساتھ چھترول کر سکے تاکہ ہم بر وقت شہر سے باہر آ جا سکے آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ یہی کیفیت ہمارے ملک کی عوام کی ہے جو اپنے عوامی نمائندوں کی جھوٹی قسمیں اور جھوٹے وعدوں سے اس قدر دلبرداشتہ ہو کر بے حسی کا شکار ہو چکی ہے کہ اگر ملک میں سیلاب آ جائے زلزلہ آ جائے یا پھر کوئی اور مصیبت اس کی انھیں کوئی پرواہ نہیں ہاں البتہ گزشتہ دنوں اس ملک کی بے حس عوام پانامہ کیس کا فیصلہ سننے کیلئے اپنی تمام کاروباری زندگی کو معطل کر کے گھروں محلوں اور بازاروں کے ہوٹلوں پر لگائے گئے ٹی وی چینلوں کے اردگرد جمع ہو کر بیٹھ گئی جو کہ ایک تعجب خیز بات ہے قصہ مختصر کہ مذکورہ عوام کافی دیر تک انتظار کر نے کے بعد معزز عدالت کی جانب سے پانامہ کیس کا حتمی فیصلہ کے نہ آنے پر احتجاجا ٹی وی چینلوں کو بند کر کے جانے لگی تو میں نے عوام کے اس انو کھے احتجاج کو دیکھ کر وہاں پر مو جود چند ایک افراد سے پو چھا کہ کیا تم واقعہ ہی وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے نفرت کرتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم بحثیت وزیر اعظم پاکستان اُس کی عزت دل و جان سے کرتے ہیں لیکن ہم اُن کے ملکی دولت لوٹنے کے گھناؤ نے اقدام اور بالخصوص اپنی مفاد پر ست کا بینہ کے ہاتھوں کٹ پتلی بن کر ملک کے تمام کے تمام اداروں کو تباہ و بر باد کر نے کی سازش سے نہ صرف نفرت کرتے ہیں بلکہ خداوندکریم سے دعا گو ہیں کہ خداوندکریم ہماری معزز عدلیہ کو توفیق دے کہ وہ ملکی دولت لوٹنے والے شخص جس کے گھناؤ نے اقدام کی وجہ سے ہمارا ملک جس کے حصول کی خا طر ہمارے بزرگوں نے لا تعداد قر بانیاں دی تھیں پوری دنیا میں بد نام ہو رہا ہے کو نااہل قرار دے سکے جس کے نتیجہ میں اس کی مفاد پرست کا بینہ جو لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصا فیوں کی تاریخ رقم کر نے میں مصروف عمل ہیں اپنی حرام کی کمائی گئی دولت سے بنائے گئے محلوں میں لوٹ جائے بھائی توصیف آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ مذکورہ کا بینہ میں بعض ایسے بھی عوامی نما ئندے ہیں جن کے بزرگ صرف اور صرف سڑک چھاپ تھے جو اب اربوں روپے ملکی دو لت لوٹ کر اپنے ووٹروں سے ایسے تکبرانہ لہجے میں بات کرتے ہیں کہ ووٹر ان کے باپ دادا کے زر خرید غلام ہو ں سچ تو یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں قانون مکڑی کے اُس جالے کی حیثیت رکھتا ہے جس میں ہم جیسے چھوٹے کیڑے تو پھنس جاتے ہیں لیکن بڑے خونخوار درندے اس جالے کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ اس ملک میں اگر کوئی غریب شخص اپنی بھوک مٹا نے کیلئے ہوٹل سے دو روٹیاں چراتے ہوئے پکڑا جا تا ہے تو اس ملک کا قانون اُسے بند سلاسل کر دیتا ہے اور اگر اس ملک کے حاکمین و دیگر عوامی نمائندے اربوں کھر بوں روپے ڈکار جاتے ہیں تو اس ملک کا قانون اندھا اور بہرہ بن کر رہ جاتا ہے کاش اس ملک میں چین بر طانیہ امریکہ جا پان سعودی عرب اور ایران جیسا نظام رائج ہو جاتا یا پھر یہاں پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے فوج کی حکمرانی قائم ہو جاتی تو یوں حاکمین و دیگر عوامی نما ئندے لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصا فیوں کی تاریخ رقم نہ کرتے اس ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور پرویز مشرف کے دور حکومت میں جتنے تعمیر و ترقی کے اقدامات ہو ئے ہیں کسی جمہوری حکومت کے دور میں نہیں بحرحال آج ہم تمام غریب طبقہ اس عہد کے ساتھ اکھٹے ہوئے تھے کہ پا نامہ کیس کے حتمی فیصلے کے بعد ان تکبرانہ گفتگو کر نے والے عوامی نما ئندوں سے ایسا خا موش انتقام لیں گے کہ جس کا رزلٹ دیکھ کر ان عوامی نمائندوں کے بزرگوں کی روحیں بھی کانپ جائے گی بھائی توصیف آپ ان کی ڈھٹائی اور بے شرمی کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ ان کے قائد کے دامن پر وہ بد نما داغ لگا ہے کہ وہ اگر کسی غیر مسلم جماعت کے قائد پر لگتا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے سیاست کو خیر باد کہہ دیتا لیکن افسوس کہ ان عوامی نمائندوں کی حالت زار اُس بد قماش اور تیز طرار خاتون جیسی ہے جس نے ایک بیوقوف شخص سے شادی کر کے تین ماہ بعد ہی ایک بچے کو جنم دے دیا جس کو دیکھ کر بے وقوف شخص ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے پورے علاقے میں مٹھائی تقسیم کر نے لگا جس کو دیکھ کر علاقے کے ایک شخص نے بیوقوف شخص سے کہا کہ تمھارے ساتھ تو بہت بڑی زیادتی ہوئی ہے کہ شادی کے تین ماہ بعد ہی بچہ پیدا ہوا ہے اور تم شر مندہ ہو نے کے بجائے علاقے بھر میں مٹھائی تقسیم کر رہے ہو یہ سن کر بیوقوف شخص نے کلہاڑی اُٹھائی اور گھر پہنچ کر بیوی سے کہنے لگا کہ یہ آپ نے کیا ڈرامہ کیا ہے جس پر بد قماش اور تیز طرار بیوی نے اپنے بیوقوف خاوند کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ تمھاری شادی کو کتنے ماہ ہو گئے ہیں بیوقوف خا وند نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ تین ماہ اور میری شادی کو کتنے ماہ ہو گئے ہیں بیوقوف خاوند نے کہا تین ماہ تو پھر میری اور آپ کی شادی کو ملا کر دیکھا جائے تو چھ ماہ بنتے ہیں اور تین ماہ بعد بچہ پیدا ہوا ہے تو بن گئے ناں پورے نو ماہ اس بات کو سننے کے بعد بیوقوف شخص اُٹھا اور ایک بار پھر ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے پورے کے پورے علاقے میں مٹھائی تقسیم کر نے لگا بالکل اسی طرح یہ مفاد پرست عوامی نمائندے اپنے قائد جن کے متعلق معزز عدالت کے تمام ججوں نے اپنے فیصلے میں امین اور صادق نہیں کہا نجانے کس مصلحت کے تحت ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑا ڈالتے ہوئے مٹھائیاں تقسیم کرنے میں مصروف عمل ہیں
بک گیا دوپہر تک بازار کا ہر ایک جھوٹ
اور میں شام تک ایک سچ کو لیئے یوں ہی کھڑا رہا

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 226089 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2017 Views: 269

Comments

آپ کی رائے