مودی کا جو یار ہے غدار ہے

(Sami Ullah Malik, )

امریکانے نائن الیون حملے کے بعدساری دنیاکی سیاست اورخود مختاری کوجب یرغمال بنالیاتو پاکستان میں فیصلہ سازی بالعموم لالچ اورخوف کے ماحول نے ایک بدترین مثال کوجنم دیا جہاں ملک میں قابض ایک ڈکٹیٹرپرویزمشرف نے ایک فون کال پر ڈھیرہوکرامریکا کو افغانستان پرحملے کیلئے سہولت کاری کا بدنام دھبہ اپنے سینے پرسجالیااور یوں لگ رہاتھاکہ ''لمحوں کی خطاصدیوں کی سزا''پر محیط ہوجائے گی لیکن آپریشن ضربِ عضب شروع ہوتے ہی قومی خودداری،خودمختاری اورقومی وقارکی طرف رجوع کی علامات نمایاں ہوناشروع ہوگئیں۔ اس سلسلے کاایک اہم قدم بھارتی نیوی کے اعلیٰ افسر اور''را''کے ذمہ دارکلبھوشن یادیوکواس کے اعتراف جرم کے بعد پاکستان میں ایک اعلیٰ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں سزائے موت کاسنایاجاناہے۔

یہ فیصلہ پاکستان کے آئین کے تحت جائزاورقانونی عدالت نے سنایاہے لیکن کلبھوشن کواپناہیرواورسپوت سمجھنے والے بھارت اوراس کے خوشہ چینوں کے علاوہ بھارت نواز میڈیا کے وابستگان اورمتاثرین اسے اس طرح پیش کررہے ہیں جیسے کلبھوشن کوپاکستان میں جاسوسی اوردہشتگردی کے جال بچھانے کے حوالے سے ایسااستثنیٰ حاصل ہے کہ اس کو سزائے موت نہیں اعلیٰ ترین ایوارڈ دیاجانا چاہئے تھایاکم ازکم بھارت کی اجازت اوررہنمائی کے ساتھ اس کیس میں ڈیل کیاجاناچاہئے تھا،اگرکسی وجہ سے مشکل ہوتوعالمی سطح پربھارتی سرپرستوں اوراس کے مفادات کوہمیشہ پاکستان پرترجیح دینے والے ملکوں کی منشاء جان لیناچاہئے تھی۔اگران سارے پروٹوکولزکاکسی وجہ سے خیال نہیں رکھاگیاتوکم ازکم اب ڈرے ڈرے سہمے سہمے ان ملکوں کورام کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔بھارتی غضبناکی سے بچنے کیلئے بھارت کی آشاؤں کے سامنے سر تسلیم خم کرکے اگلے دنوں میں اپنے کیے پر پچھتاوے کاتاثردیناچاہئے۔
اس بھارت نوازاوربھارتی مفادمیں یک رخے پن کاشکارمیڈیاکے بعداب تک بھارتی پارلیمنٹ حکومت ،وزیرخارجہ سشما سوراج ،وزیرداخلہ راج ناتھ اور بھارتی میڈیاکلبھوشن کی سزائے موت پرجس طرح سیخ پاہوکرچیخ وپکارکرکے اپنے غم وغصے کامظاہرہ کیاہے،اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ بھارت کواس فیصلے سے گہری چوٹ لگی ہے۔سشما سوراج نے تو پاکستان کودہمکی دی ہے کہ کلبھوشن کوبچانے کیلئے جس حدتک بھی جاناپڑابھارت جائے گا۔کیوں نہ ایسا کہتیں ،بھارت کااصل چہرہ دیکھنے کاایک اورموقع بناہے کہ وہ کس طرح اپنے ہمسایہ ممالک میں اپنی افواج اورحساس ادارے کے افسران کواستعمال کرتاہے۔ اس سے نہ صرف بھارت کے اس گھناؤنے کردارکو عالمی سطح پرکم ازکم کچھ عرصے کیلئے اچھی خاصی مشکلات کاسامنا ہوسکتا ہے،جس نے بھارتی نیتاؤں کاپریشان کردیاہے۔

اس سے پہلے مقبوضہ کشمیرمیں حزب ِالمجاہدین کے کمانڈربرہان وانی کی شہادت کے بعدسے بھارت اوراس کی افواج کا جو چہرہ دنیاکودیکھنے کومل رہا ہے ،وہ بھی انتہائی کریہہ اور ظالمانہ ہے۔پیلٹ گنوں کانوجوانوں کواندھاکرنے کیلئے استعمال، کشمیرکے گلی کوچوں میں کریک ڈاؤن،انتخابی ڈرامے میں تاریخی ناکامی کے بعدالتواء اوربھارت کے اپنے کٹھ پتلی رہنماء فاروق عبداللہ کابھی یہ بول اٹھناکہ کشمیری نوجوانوں کاخون کھول رہاہے اوروہ بھارتی میڈیاپر دہائی دے رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کے ہاتھ سے جارہاہے اس لئے فوری طور پرحریت کے رہنماؤں اورپاکستان سے مذاکرات شروع کئے جائیں،مسئلے کاحل فوج کاستعمال نہیں ہے۔دراصل فاروق عبداللہ کوزمینی حقائق کااعتراف کرتے ہوئے یہ کہتے کہ کشمیربھارت کے ہاتھوں سےنکل چکا ہے توزیادہ صحیح ہوتا۔

ادھرپاکستان میں وزیراعظم نوازشریف نے رسالپورمیں پاک فضائیہ کے کیڈٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈکے موقع پر دو ٹوک اندازمیں کہہ دیاہے کہ پاکستان کی امن پسندی کوکمزوری نہ سمجھاجائے۔انہوں نے اگرچہ کلبھوشن کاذکرکرنے سے گریزکرنے کی پالیسی جاری رکھی لیکن یہ صاف صاف کہہ دیاہے کہ اپنی خود مختاری اورسلامتی کے معاملے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجاسکتاہے۔انہوں نے بھارت کے جذباتی رہنماؤں کوایک مرتبہ پھر ٹھنڈے رہنے کاسبق دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ امن ومحبت کے ساتھ رہنا چاہتاہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے بھی سینیٹ میں اپنے خطاب کے دوران پوری یکسوئی کے ساتھ قومی سوچ اورپالیسی کااظہارکردیاہے۔اس طرح ملک کے اندراور باہر بڑے واضح انداز میں یہ پیغام پہنچ گیاہے کہ پاکستان اندرونی دہشتگردوں کے ساتھ ساتھ بیرونی دنیاسے مختلف کورزمیں آنے والے دہشت گردوں کوبھی کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اب پاکستان یہ فیصلہ کرچکاہے کہ غیرملکی دہشتگردوں اورجاسوسوں،نسل یااس کی قومیت کچھ بھی ہو،اب ان کے خلاف بھی کومبنگ آپریشن شروع ہوچکا ہے ۔اہم بات یہ ہے وزیردفاع نے نہ صرف بھارتی جاسوس کلبھوشن کی سزائے موت کے بارے میں سوچے سمجھے قتل کے بھارتی الزام کوسختی سے مستردکردیاہے بلکہ بھارت اورعالمی برادری کو بھی مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجی کاروائیوں،گجرات میں مسلم کش فسادات اورسمجھوتہ ایکسپریس پردہشتگردانہ حملے کے واقعات کوسوچے سمجھے قتل عام قراردیاہے ۔(اے کاش ان مسلسل واقعات سے کہیں بھارتی امیج بھی خراب ہوتا)۔

صدشکرہے کہ کلبھوشن واقعے پرپاکستان کے بلاول زرداری کے علاوہ ابھی تک کسی سیاسی جماعت کے سربراہ نے پاکستان کی قومی سوچ ،سلامتی اور پالیسی کے حوالے سے سیاسی عدم بلوغت کااظہارنہیں کیاہے۔بلاول نے بھی ایک طرح سے اپنی جماعت کے شعبہ بچگان کی نمائندگی کی ہے اورکہاہے کہ وہ سزائے موت کے حق میں نہیں ہیں۔کلبھوشن کوملنے والی سزائے موت پر قدرتی پریشانی کااظہارکرتے ہوئے بلاول یہ بھی بھول گئے ابھی کچھ ہی روزقبل ان کی جماعت نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کیلئے آل پارٹیزکانفرنس بلائی تھی بلکہ پارلیمنٹ میں فوجی عدالتوں کے حق میں ووٹ بھی دیاتھا۔اتفاق سے جن فوجی عدالتوں کے حق میں پیپلزپارٹی نے بڑی گرمجوشی دکھائی وہ خصوصی عدالتیں ہیں جن کا عمل اب تک دہشتگردوں کوسزائے موت سنانے کے سواکچھ سامنے نہیں آیا جبکہ جس فوجی عدالت نے کلبھوشن کوسزائے موت سنائی ہے ،یہ ایک معمول کی فوجی عدالت ہے جسے ہمیشہ سے ملکی آئین کا تحفظ حاصل ہے اوران کی موجودگی یا ورکنگ پرکبھی بھی کسی کواعتراض نہیں رہاہے۔

ان کااگلاکمال یہ سامنے آیاہے کہ انہوں نے انتہائی دیانتداری اورمحبت کے ساتھ کلبھوشن کے ساتھ اپنے ناناذوالفقارعلی بھٹوکوبھی ملادیاہے۔ "ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں"؟بلاشبہ بھارت اوراہل بھارت کیلئے اس سے بڑی اذیت کے دن کوئی اورنہیں ہوسکتے کہ پاکستان پر دہشتگردی کاالزام مسلسل عائدکرنے والے بھارت کا اپنا چہرہ کلبھوشن کی صورت میں کھل کرسامنے آگیا ہے اورپاکستان کوتنہاکردینے کیلئے کوشاں بھارت اپنے پیدائشی کٹھ پتلی اور خاندانی وفادارفاروق عبداللہ کی حمائت سے بھی محروم ہوتاجارہاہے جبکہ پاکستان ایک جانب دنیابھرکیلئے ترقی واستحکام کا ذریعہ بننے کیلئے میدان میں ہے ۔دوسری جانب پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف کوششوں کاایک عالم معترف ہورہاہے جبکہ بھارت کی لاکھوں کی تعدادقابض فوج کے جبرواستبدادکے باوجوداہل کشمیرپاکستان کاپرچم اٹھائے اپنی جانیں نچھاور کررہے ہیں،ایسے میں یقینا ًبھارت کے برے دن قریب تر ہیں۔اس کی سب سے بڑی دلیل نریندرمودی کا اترپردیش میں متعصب ہندودہشتگردکوچیف منسٹرکاتقررہے۔

بہرحال اہم ترین ایشو کلبھوشن ہے جو کئی سال تک ایران میں ایک تاجرکے بھیس میں بیٹھا پاکستان میں دہشتگردی کی مکروہ کاروائیوں میں مصروف رہا اوراس کی مشکوک سرگرمیوں سرگرمیوں نے ایرانی اداروں کوبھی متوجہ کئے رکھالیکن ایران نےاس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔اسی سہولت اورتحفظ کے احساس کی بدولت پاکستان میں جعلی نام سے سفرکرنے،یہاں دہشت گردوں کے جال بن بن کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی سازشیں کرنے کے بعد واپس ایران آتاجاتارہا۔ایسے ہی ایک سفرکے دوران بھارتی بحریہ کے اس حاضرسروس افسر''را''کی طرف سے دیئے گئے مشن کے دوران مارچ ٢٠١٦ء میں ماشکیل کے مقام سے گرفتارکر لیا گیا۔ ایک سال کے دوران اس کے پھیلائے ہوئے نیٹ ورک کی جانکاری اور اسے تباہ کرنے کی کاروائیوں کے علاوہ کلبھوشن کے اس نیٹ ورک سے منسلک دہشت گردوں کی ایک بڑی تعدادکوبھارتی اسلحے کے ساتھ گرفتاربھی کیاگیاہے جبکہ اسی دوران کلبھوشن کے خلاف فیلڈجنرل کورٹ مارشل میں مقدمہ چلاکر اسے پاک سرزمین کے قانون کے مطابق سزائے موت سنائی گئی جسے نہ صرف ساری دنیاتسلیم کرتی ہے بلکہ برطانیہ سمیت دولت مشترکہ کے اراکین بشمول بھارت میں بھی ایسے ملزمان کے ساتھ انہی قانون کے تحت کاروائی کی جاتی ہے۔اس مقصدکیلئے پاکستان میں یہ احتیاط بھی ملحوظ رکھی گئی کہ اس کیس کو ان خصوصی عدالتوں میں سے کسی میں ٹرائل نہیں کیاگیا۔

کلبھوشن کوفیلڈجنرل کورٹ مارشل سے سزاکاسنایاجانابلاشبہ مودی کیلئے ایک انتباہ ہے اوران کی پاکستان کے خلاف ہمہ وقت سازشوں میں مصروف رہنے والی حکومت کیلئے بھی کہ جس کے وزاراء کھلے عام پاکستان کودہشتگردی کا نشانہ بنانے کی بات کرتے رہتے ہیں۔ بلوچستان میں دہشتگردی کے مرتکب علیحدگی پسنداوردہشتگردتنظیموں کے سرغنوں کواپنے ہاں پناہ دینے کی کوششیں بھی نظرآتی ہیں جیساکہ محض چندماہ پہلے براہمداغ بگٹی کو بھارت میں پناہ دینے کی بات کی گئی جبکہ نریندرمودی سقوط مشرقی پاکستان میں بھارتی سازش اور بھارتی فوجیوں کے خودلڑنے کابنگلہ دیش کی وزیر اعظم خونی ڈائن حسینہ واجدکے سامنے فخریہ اظہاربھی کرچکے ہیں۔اس معاملے میں بھارتی وزیراعظم کی افغانستان میں آنیاں جانیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں کہ افغانستان کے راستے بھارت پاکستان کوکیسے ٹارگٹ کرناچاہتاہے۔اس تناظرمیں یہ دورکی بات نہیں کی جاسکتی کہ دہشتگردخواہ کسی بھی ملک کا ہو، ملک کی غیور فورسز اور حکومت اب پسماندہ ذہنیت کے ساتھ نہیں بلکہ جرأتمندانہ اپروچ کے ساتھ ڈیل کریں گی۔گویااب کوئی دہشتگرداورپاک سرزمین پردہشتگردی کا مرتکب یا اہل پاکستان کے خون سے ہولی کھیلنے ریمنڈڈیوس کی طرح زندہ سلامت واپس نہیں جاسکے گا۔اس سلسلے میں ایک غداروطن شکیل آفریدی کوبھی امریکی آشاؤں پربیرون ملک فرار ہونے کاموقع نہیں دیا جائے گا۔طارق فاظمی کے ذریعے سے قومی حمیت کاکوئی سودہ نہیں کرے گی۔ اس لئے اس کھاتے میں ٹرمپ انتظاامیہ کی خوشنودی پانے کیلئے طارق فاطمی جوکرتے رہے اب اب اس کاوقت گزرچکاہے۔

کلبھوشن کوسنائی گئی سزائے موت کے پس منظرمیں پاکستان کے سابق فوجی افسرکرنل حبیب ظاہرکی گمشدگی کوبھی مکمل طورپرغیرمتعلق قرارنہیں دیاجا سکتاہے۔کرنل(ر)حبیب ظاہر کوبسلسلہ تلاش روزگارنیپال پہنچنے کے بعدکسی طے شدہ منصوبے کے تحت ہی بھارتی سرحدکے قریبی ائیر پورٹ پراتارا گیا اورپھرغائب کردیاگیا۔اس پس منظرمیں یہ تاثرکمزورنہیں رہاہے کہ بھارت جواب کلبھوشن کواپنابیٹاکہہ رہاہے،اپنے انٹیلی جنس نیٹ ورک کے باعث اس کے خلاف عدالت میں جاری ٹرائل سے مکمل بے خبرنہیں تھالیکن اس کے پاس دنیا کے سامنے کہنے کوکچھ نہیں تھااس لئے کرنل ظاہرکواغواء کرنے کے تانے بانے بنے۔کرنل حبیب جنہیں انتہائی زیادہ تنخواہ پرنیپال میں قائم ایک کمپنی کو ملازمت دینے کیلئے بلا رہی تھی۔یہ محض اتفاق نہیں ہو سکتاہے کہ اس کمپنی کی ویب سائٹ بھارت سے آپریٹ ہورہی تھی اورپاکستانی (ر) کرنل کے نیپال پہنچتے کے ساتھ ہی نیٹ سے اس کمپنی کی سائٹ غائب کردی گئی۔سیدھاساسوال بنتاہے کہ بھارت نے ایک جعلسازی کے ذریعے پاکستان کے اس سابق افسرکوکلبھوشن کے معاملے پرسودے بازی کیلئے بلایاتھا؟ لیکن بھارت کے کلبھوشن اورپاکستان کے کرنل حبیب ظاہرکے معاملے میں رتی بھرمطابقت نہیں ہے۔

پاکستانی شہری ملازمت کے حصول کیلئے اپنے اصلی پاسپورٹ پراسی کمپنی کے فراہم کردہ ٹکٹ پربذریعہ طیارہ نیپال پہنچاجبکہ یہ فوج سے کئی سال پہلے ریٹائرڈہوچکاتھاجبکہ کلبھوشن موجودہ بھارتی نیول افسرہونے کے علاوہ''را''میں ڈیپوٹیشن پرتھا۔اس کی ایران میں کئی سال سے موجودگی خودایران کوبھی محسوس ہوچکی تھی کہ اس کی مصروفیات شکوک سے بالاتر نہیں ہیں ،نیز کلبھوشن کوپاکستانی سیکورٹی فورسز نے گرفتارکرکے میڈیاکے سامنے پیش کیا جبکہ کرنل ظاہرکے لاپتہ ہونے کی فوری اطلاع ان کے اہل خانہ سے سامنے آئی ہے۔اگر کرنل ظاہرکے کچھ ایسے عزائم ہوتے توان کایہ سارا سفر بین الاقوامی قوانین اورقواعدوضوابط کے مطابق نہ ہوتا۔کرنل ظاہرکے لاپتہ کئے جانے کے پیچھے سازش کوعالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کوضرور ایکسپوز کرناچاہئے جبکہ کلبھوشن کی گرفتاری سے انسانی حقوق کی تنظیموں کوبھارتی دہشتگردی کے نیٹ ورک کوسامنے لانے میں اپنا کردار اداکرناچاہئے جو پاکستان اوردوسری جگہوں پرمعصوم شہریوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔

ایسے میں پاکستان میں نام نہاددانشوروں ،ذہنی غلامی کے شکارلبرلزاوربے سوچے سمجھے بول دینے والے سیاستدان کو چاہئے کہ ملکی عدالتوں پراس معاملے پربھی مکمل اعتمادکا اظہار کریں ۔یہ ملک میں آئین وقانون کی بالادستی کاتقاضہ بھی ہے اورقومی یکجہتی کابھی۔ کلبھوشن کاایشوپارلیمنٹ میں زیر بحث لایاجائے،مشکوک رحجانات کاعکاس ہے۔مطالبہ تویہ کیا جانا چاہئے کہ کلبھوشن کے مجرم ثابت ہوجانے کے بعدپارلیمنٹ کامشترکہ اجلاس بلا کر بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کوبے نقاب کیاجائے اورمودی سرکارکے خلاف قرار داد منظور کی جائے۔نیزپارلیمنٹ کی سطح سے یہ مشترکہ بیانیہ ''مودی کاجویارہے غدارہے، غدارہے '' جاری کرتے ہوئے عالمی اداروں اورعالمی برادری کو بھارتی دہشتگردی روکنے میں ساتھ دینے کیلئے کہاجائے، جو ملک اس معاملے میں ساتھ دینے کوآمادہ نہ ہوان کے ساتھ پاکستان بھی تعاون کرنے کی پالیسی پرنظرثانی کرے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226783 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 May, 2017 Views: 292

Comments

آپ کی رائے