زرداری وعمران کی گونوازگوکی بے تُکی وبے راگ کی راگنی

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)
کاغذی شیرکی بھی گیدڑوں کوگیدڑبھبکی .

اَب کم ازکم زرداری وعمران اور حکومت مخالفین کو لگ پتہ جا نا چا ہئے کہ آج نوازشریف جن سے جیسی پنگے بازیاں لے رہے ہیں وہ ایوئیں /ایسی ہی تو نہیں ہیں، یقینا اِن کے پسِ پردہ بہت سے ایسے سیاسی اور ذاتی مقاصداور عوامل بھی ہیں جو ابھی تو دوسروں کی آنکھوں سے بیشک اوجھل ضرورہیں بہت جلد سب کچھ سب کے سامنے آجا ئے گا کہ اشخاص اور اداروں سے پنگے بازیوں سے نوازشریف کو کیا حاصل ہوا ہے مگرآج پنگے بازی کے ماہر یہ بات تو نوازشریف ہی خوب جانتے ہیں کہ اِن کی اپنے پرائے اور سیاسی دوستوں اور دُشمنوں اور اداروں سے لی جانے والی پنگے بازیاں کس عروج پر پہنچ چکی ہیں اوراِنہیں اِن پنگے بازیوں کے عوض مُلک میں اگلے2018ء کے انتخابات سے قبل و بعد میں کیا اور کیسے فوا ئد حاصل ہوں گے؟؟ ابھی نوازشریف کی اُن سوچوں اور عزائم تک کوئی نہیں پہنچ پا ئے گا کہ نوازشریف اپنی بے مقصد کی پنگے بازیوں اور سیاسی الجھاؤ سے کیا میدان مارنا چا ہتے ہیں؟؟۔

ہاں البتہ ،سوا ئے اِس کے کہ سب بے سوچے سمجھے اِدھر اُدھر کی ہانکتے جارہے ہیں اورحکومت پر طرح طرح کے کیڑے نکال کراِسے ہدفِ تنقیدبنارہے ہیں ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے تھکنے تک یہ عمل جاری رکھیں گے اور اپنے تئیں اپنے پنچوں اور ایڑیوں کے بل پہ اپنا سیاسی قداور اپنی رہی سہی ذات اور شخصیات کو بلند اور اُونچا کرنے کی سعی کرتے رہیں گے یہاں تک کہ عام انتخابات کا وقت قریب آجا ئے گا اور سب نواز شریف کی سیاسی اور ذاتی کردار کشی کرتے کرتے خود مایوس ہوکرتھک ہار کر کفِ افسوس ملتے ہوئے خاموشی سے اپنے سیاسی بلوں میں منہ چھپا کر سوجا ئیں گے۔

بہرحال، آج یہ بات سب کو اچھی طرح اپنے ذہنوں میں اچھی طرح سے کوٹ کوٹ خوب بیٹھالینی چاہئے کہ نوازشریف کا یہ تیسرا اور شائد آخری اقتدار بھی قومی اداروں اور افواجِ پاک سے خودساختہ لڑائی جھگڑوں میں ہی گزراہے کبھی اِس سے پنگا، تو کبھی اُس کی ایسی کی تیسی کردی ،جب کبھی کچھ نہ ملاتوکبھی کسی تو کبھی کسی صوبوں کے درمیان ہی کھینچااؤاور تناو پیداکئے رکھا۔

الغرض یہ کہ اَب جب ن لیگ کے موجودہ اقتدار کے اختتام کو چندماہ ہی باقی رہ گئے ہیں اور اگلا الیکشن سر پرآن پہنچا ہے تو اِس دوران بھی دیدہ دانستہ ن لیگ والوں نے اپنے لیڈر اور مُلک کے انتہائی شارپ مائنڈ بزنس مین وزیراعظم عزت مآب جنابِ محترم نوازشریف کے کاندھوں پہ بندوقیں رکھ کر احساسیت کے لحاظ سے انتہائی اہم نوعیت کے قومی اداروں سے بھی بیٹھے بیٹھا ئے پنگالے کر کشیدگی والا ماحول پیداکردیا ہے اَب آگے آگے دیکھیئے کیا ہوتا ہے؟؟اور قومی اداروں کی اِس کشیدگی اور تناؤکا حل کیا نکلتا ہے؟؟اِس تناؤکی کیفت میں کس کی جیت ہوتی ہے اور کس کی ہار ؟؟۔

بہرکیف ،بدین میں عوامی جلسہء عام اور انتخا بی مہم کے سلسلے میں جمع ہونے والے پبلک ہجوم سے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اورماضی و حال کے پرسنٹیج پلس پرسنٹیج مسٹر آصف علی زرداری نے اپنے مخصوص لب و لہجے کے ساتھ بے تُکی اور بے راگ کی راگنی چھیڑتے ہوئے حسبِ سابق وحسبِ روایت کہا ہے کہ’’مُلک بھر میں عوام ’’ گونوازگو‘‘ کے نعرے لگارہے ہیں مگرمیں وزیراعظم کی ساری چالیں خوب جانتا اور سمجھتا ہوں، ایوان بالا کا الیکشن نہیں جیتنے دونگا، قومی اسمبلی بھی لیں گے اور وفاق و پنجا ب سمیت مُلک کے تمام صوبوں میں اپنی حکومتیں بھی بنا ئیں گے‘‘ اسی طرح اُنہوں نے اِسی عوامی ہجوم سے اپنے خطا ب کے دوران مزید یہ بھی کہنا کہ’’بَلّادیسی،شیرکاغذی نوازشریف کو سینیٹ الیکشن سے پہلے جا نا ہوگا،نوازشریف کو مارچ کا انتظار ہے کیونکہ وہ مارچ میں سینیٹ کا الیکشن جیتنا چاہتے ہیں‘‘زرداری کا کہناتھاکہ’’ آج پانا ما لیکس اور نیوزلیکس کے خا ص اسیکنڈلز کے سامنے آ نے کے بعد مُلک بھر میں بچہ بچہ گونوازگو کے نعرے لگارہاہے،یہ پی پی پی کا سوفیصدی دعویٰ اور عوام سے وعدہ ہے کہ نوازشریف کو دونوں ایوانوں میں شکست دوں گااِنہیں کسی بھی ایوان میں اکثریت حاصل نہیں کرنے دوں گا‘‘ایک طرف آصف علی زرداری اپنے پورے سیاسی اور شارپ ترین مائنڈکے ساتھ قبل ازوقت انتخابات برسرِاقتدار اپنے سیاسی حلیف و حریف نوازشریف اور اِن کی پارٹی ن لیگ کردار کشی کا ٹھیکہ لئے ہوئے ہیں تو وہیں دوسری جانب چند دِنوں کے مہمان وزیراعظم مسٹر نوازشریف بھی اپنے مخالفین کے خلاف اپنے لاؤلشکر سمیت میدان میں آستینیں چڑھا کر پوری طرح اُترچکے ہیں گویا کہ جیسے جیسے عام انتخابات کے دن قریب آتے جا ئیں گے الیکشن میں انویسمنٹ کرنے(لاکھوں اور کروڑوں لگاکر اربوں اور کھربوں بنا نے) والی ن لیگ ، پی پی پی اور پی ٹی آئی جیسی سیاسی اور جماعتِ اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) جیسے مذہبی جماعتوں کے سربراہان کی ایک دوسرے کے خلاف زبانی کلامی نشتر سے زیادہ تیزدھار اور زہرِقاتل سے بھی زیادہ تُرش و تیزجملوں کی نوراکُشتی جاری رہے گی یکدم ایسے ہی جیسے پچھلے دِنوں وزیراعظم نوازشریف نے اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن (المعروف مسٹر ڈیزل) اور دیگر مُلکی اور غیرمُلکی اہم اشخاص سے ملاقاتوں کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کچھ اِس طرح سے کیا کہ ’’مخالفین جتنا چاہیں شورمچا ئیں،اور اپنی جیت اور ہماری شکست سے متعلق چا ہیں جتنے خواب دیکھیں مگر اُن کے ہر شوراور اِن کے ہر خوش فہم خواب کی تعبیر کا جوا ب یہ ہوگا کہ ہم آئندہ بھی حکومت بنا ئیں گے، کسی کے مفروضوں اور قیاس آرا ئیوں پر مبنی الزامات سے ہمارا کچھ نہیں بگڑے گاجبکہ ہم پر الزامات لگا نے والوں کو کرتوتوں کی سزا ملے گی، ترقی کا خواب ہر صورت میں شرمندہ تعبیر ہوگا‘‘اور اِسی طرح لیہ میں اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں منعقدہ ایک جلسہٗ عام جس میں لیہ کے گردونواح کے زیادہ ترمکین شامل تھے اُن سے خطا ب کے دوران کاغذی شیرنے سیاسی گیدڑوں کو گیدڑبھبکی دیتے ہوئے کہا ’’گیدڑکا شیر سے کیا مقابلہ ؟؟‘‘۔

بیشک گیدڑ کا شیر سے کوئی مقابلہ نہیں مگر کیا ہی یہ اچھاہوتا کہ شیر بھی کاغذی تو نہ ہوتاجیساکہ ہمارایہاں کاغذی شیر برسرِاقتدار ہے اگرچہ یہ شیر آج تک بھارت پر تو نہیں دھاڑاہے کبھی جس سے یہ احساس ہواہوتا کہ یہ کاغذی نہیں اصل شیر ہے۔

تاہم وزیراعظم نوازشریف نے لیہ میں عوامی اجتماع سے دورانِ خطاب اپنے ذراتدبرانہ اور تفکرانہ لہجے کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ’’ مخالفین کا ایجنڈاجھوٹ ہے سوگیدڑ بھی آجا ئیں شیر کھڑارہے گا‘‘100گیدڑ بھی آجا ئیں توشیرکھڑارہتاہے گیدڑوں سے ڈر کر کہیں نہیں بھاگتا ہے‘‘ اُن کا اِس موقع پر یہ بھی کہنا تھاکہ حریف یہاں آکر الیکشن لڑیں ضمانت ضبط نہ ہوجا ئے تو مجھے کہنا‘‘ وزیراعظم نے تکبربھرے
انداز سے کہا کہ مخالفین کی 10جلسیاں اِس جلسے میں سماسکتی ہیں، تاہم اِس خطاب میں نوازشریف نے اپنی پہلی والی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی حکمتِ عملی استعمال کی اور بھرے مجمع کی آنکھ میں پھر دھول جھونکتے ہوئے کہا کہ کارخانوں نے بجلی کی پیداوارشروع کردی ،جلدلوڈشیڈنگ کی للعنت ختم ہوجا ئے گی،مخالفین کا کام ہم پر کیچڑاُچھالنااور الزام لگانے ہے جبکہ ہمارا کام کاغذوں سے نکل کرحقیقی کام کرناہے‘‘ اَب حکومت کے وقتِ نزع برسرِاقتدارجماعت ن لیگ اور پی پی پی و پی ٹی آئی جیسی حزبِ اختلاف کی جماعتیں چا ہیں مُلک کو اُوجِ ثُریا کی بلندیوں سے بھی اُونچی اُڑان بھرنے اور عوامی فلاح و بہبوداورسماجی خدمات کے جتنے بھی دعوے اور وعدے کیو ں نہ کرلیں مگرمُلکی کی تمام ظاہرو باطن سیاسی جماعتوں کو یہ ضرور معلوم ہوجانا چا ہئے کہ آج 70سالوں سے بند عوام کی آنکھیں کھل چکی ہیں اور اَب کوئی سیاسی جماعت عوام کو سبزباغ دکھا کر اور چکمہ دے کرکسی بھی صورت میں اقتدار حاصل نہیں کرسکتی ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 617910 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 May, 2017 Views: 504

Comments

آپ کی رائے