نواز شریف کا مظفرآباد آ کر چلے جانا اور مریض صحت عامہ

(Tahir Ahmed Farooqi, muzaffarbad azad kashmir)
نواز شریف کا مظفرآباد آ کر چلے جانا اور مریض صحت عامہ

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کے زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلا س میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے اپنی اپنی ٹیموں سمیت شرکت کی۔ ایجنڈے کے نکات پر اپنے اپنے صوبے کے عوام کے حقوق وسائل مفادات کی ترجمانی کا فریضہ سر انجام دیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ سے گیس کے ذخائر پر صوبے کے عوام کو سہولیات کی فراہمی اور وزیر اعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک نے توانائی کے منصوبہ جات پر رائلٹی سمیت اپنی ترجیہات کے مطابق آواز اٹھائی۔ پنجاب اور بلوچستان والوں نے بھی آواز اٹھائی مگر آزاد کشمیر گلگت بلتستان سے متعلق توانائی کے منصوبہ جات، جنگلات، معدنیات وغیرہ کا قومی معیشت میں کردار ان خطوں کے بیرون ملک لوگوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کلیدی حصے سے ثمرات کے حصول پر ترجمانی کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔ مگر صدارت میاں نواز شریف کر رہے تھے جو دوسرے دن مظفرآباد تشریف لائے نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ کا معائنہ کیا جو تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔ اس کا بہت پہلے افتتاح ہو جانا چاہئے تھا مگر ایک سرنگ کا فیتہ کاٹتے ہوئے تصویر بنائی اور مخالفین کے خلاف بیان داغ دیا، کیا ہی کمال ہوتا بتاتے مشترکہ مفادات کونسل میں آپ آزاد کشمیر گلگت بلتستان والوں کی نمائندگی وزیر اعظم نواز شریف نے خود کی دل رکھنے کیلئے امید ہی دلا جاتے مگر قدرت کا اصول ہے اپنے مرے بغیر جنت نہیں ملتی۔ لہذا مشترکہ مفادات کونسل سمیت فیصلہ ساز اداروں نے خود ان خطوں کی نمائندگی بغیر بات کرنا بھی ممکن نہیں ہے جس کے ذمہ دار دونوں خطوں کے اندر غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل رکھنے والے ہیں۔ بہر حال وزیر اعظم نواز شریف مقبوضہ کشمیر کی سبز ہلالی پاکستان پرچم اوڑھے بہنوں بیٹیوں کے جذبہ جرات پر دو لفظ بول دیتے مگر انتخابی عمل ایسا جنون ہے جو اعصاب پر سوار ہوتا ہے وہی زبان بولتا ہے تاہم وزیر اعظم نواز شریف کے مظفرآباد قدم رنجا ء فرمانے سے پہلے وزیر اعظم فاروق حیدر سے ان کی اسلام آباد ملاقات ہوئی جاری کردہ پریس ریلیز سے بتایا گیا نواز شریف نے فاروق حیدر حکومت کی کارکردگی پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے شاباش دی، تمام مسائل حل کرنے کی یقین دہائی کرائی تو زیادہ زور ایک گھنٹے کی ملاقات کے لفظوں پر تھا واقعی یہ سرپرائز ہے۔ اگر ا س میں اسلام آباد سے مظفرآباد ایک ساتھ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر سفرکا وقت شامل نہیں ہے۔ آپ وزیر اعظم نواز شریف سے تو سال ہا سال اپنے وزراء ایم این ایز، کی ملاقات نہیں ہوتی شہنشاہ جلال دین اکبر ہوتے مگر عمران خان، آصف زرداری، اسفند یار ولی، سراج الحق سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے، پھر رنگ میں بھنگ ڈالنے والے پانامہ اور ڈان لیکس کی اوٹ میں بیٹھے بھی باز نہیں آتے۔ تاہم ملاقات سے قبل نواز شریف فاروق حیدر کی مصحافہ والی تصویر اور ملاقات کی کچھ لمحوں کی ویڈیو کلپ تصدیق کر رہی ہے کہ وزیر اعظم فاروق حیدر کے ہاتھ میں ایک سرکاری فائل ہے جو ججز کی ہوسکتی ہے نہ آئینی اصلاحات سے تعلق رکھتی ہو گی جو بھی ہو گی خطے کے عوام کی بہتری سے متعلق ہو گی جو ثبوت ہے وزیر اعظم فاروق حیدر گپ شپ حاضری کیلئے نہیں اجتمائی فلاح و بہبود کے کاموں کیلئے ہی ملاقاتیں کرتے ہیں جنہوں نے ہسپتالوں کے اندر ایمرجنسی میں آنے والے کے مفت علاج کیلئے فنڈز اور مطلوبہ سٹاف فراہم کرتے ہوئے اپنے اعلان کے مطابق افتتاح کر دیا ہے۔ یونیفارم میں ملبوس ڈاکٹرز، پیرامیڈیکل سٹاف 24گھنٹے ایمرجنسی میں موجود رہے گا، ہارٹ اٹیک سے لیکر ایکسیڈنٹ تک ہر طرح کے آنے والے مریض کو جو چاہے مرض ہو مفت سب سہولت ملے گی، یقینا یہ قابل تحسین عمل ہے۔ اب محکمہ صحت کے آفیسران کی ذمہ داری ہے وہ نگرانی موثر انداز میں کریں کتنی عجیب بات ہے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے محکمہ صحت سے متعلق اجلاس میں ریکارڈ کی پڑتال کرتے ہوئے ثابت ہوا محکمہ صحت کے بعض آفیسران ڈاکٹرز وغیرہ سرکاری گاڑی بھی استعمال کرتے ہیں، سواری الاؤنس بھی لیتے ہیں۔سرکاری رہائش گاہ بھی ہے، کرایہ رہائش بھی لیتے ہیں، سعودی عرب سمیت بیرون ملک ملازمتیں کر رہے ہیں، یہاں سے تنخواہوں کے چیک بھی مل جاتے ہیں، کروڑوں کے اخراجات کی تفصیل بھی موجود نہیں ہے، موقف ریکارڈ ضیاع ہو چکا ہے۔پھر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے سر تو پکڑنا تھا، محکمہ صحت خود علاج کے قابل ہے، بحیثیت چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چوہدری طارق فاروق نے اپنے وقت میں صرف خبریت سے غرض رکھنے والے اخبار نویسوں کو اجلاس کی کوریج کی اجازت دی تھی جس سے عوام الناس کو بھی معلوم ہوتا تھا نظام کو چلانے والی اصل مشینری بیورو کریسی کیا کر رہی ہے جن کے بعد آنے والے چیئرمین صاحبان نے پابندی لگا دی شاید سامنے آنے والی کمزوریوں سے کام نکلوانامصلحت ہواج۔ پاکستان میں تمام پارلیمانی کمیٹیوں کی میڈیا کوریج کرتا ہے یہاں بھی اس کی اجازت ہونی چاہئے۔ یہ صرف محکمہ صحت نہیں تقریباََ سارے ہی محکموں بلکہ ہمارے معاشرے کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے خود ساختہ نیک پرہیزگار، اصول پسندکرداروں کا اپنی تعریف میں آپ ڈھنڈورہ پیٹنے والوں کا المیہ ہے۔
سب کا حق لیکر بھی محروم نظر آتا ہے
اتنا ظالم ہے کہ مظلوم نظر آتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tahir Ahmed Farooqi

Read More Articles by Tahir Ahmed Farooqi: 206 Articles with 72225 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 265

Comments

آپ کی رائے