میری سنوجوگوشِ نصیحت نیوش ہو''

(Sami Ullah Malik, )

پچھلی سات دہائیوں سے زائدمقبوضہ کشمیرمیں سلگتی اور دہکتی آگ کی تپش جس شدت سے اب دنیامیں محسوس کی جا رہی ہے اغلباًاس سے قبل اقوام عالم کی بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کی خاطراس سے جان بوجھ کراس سے جوغفلت برتی ہے ،اب ان کونئے سرے سے سے یہ پریشانی لاحق ہوگئی ہے کہ اگراس آگ کویہاں نہ روکاگیاتوبعیدنہیں کہ اس سے ہمارادامن خاکستر ہونے سے بچ سکے،یہی وجہ ہے کہ اب امریکاجس نے اپنے مفادات کیلئے بھارت کوگودلے رکھاہے،وہاں کے مشہور زمانہ اخبارات نیویارک ٹائمزاورواشنگٹن پوسٹ بھی واویلا کر رہے ہیں کہ '' کشمیرمیں چوتھی نسل اپنے بنیادی حقوق خوداردایت کیلئے اپنے جان ومال کی قربانیاں دینے کیلئےاپنے آباؤ اجدادسے زیادہ پرجوش اورپرعزم ہیں اور مقبوضہ کشمیراب بھارت کے ہاتھوں تیزی سے نکل رہاہے'' اوروہ بھی اپنے حالیہ مضامین میں بھارت کومشورہ دے رہے ہیں کہ کوڑھ مغزمودی سرکارکو اپنے بیٹے کلبھوشن کی بات مان کردینی ہوگی۔اس کے اقبال جرم پرصادکئے بغیر اب کوئی چارہ ہی نہیں مگراس سے پہلے بھارت نوازکشمیری لیڈرفاروق عبداللہ کی صدائے حق پرلبیک کہناہوگاجوپہلی مرتبہ چلااٹھا ہے کہ''میری سنوجوگوشِ نصیحت نیوش ہو''۔ مقبوضہ کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ کی صداپراس بناپربھی گونگے بہرے بنے رہنے کاجواز باقی نہیں ہے کہ یہ وہی شخص ہے جوبھارت سرکارکی کٹھ پتلی کاکرداراداکرتارہاہے۔یہ صاحب کشمیرکے ناہنجاربیٹے ہی رہے،ان کی بھی نہ سنی تومزید تباہی مودی اینڈکمپنی کامقدربنی رہے گی اوربقول شاعر:
روئیں نہ ابھی اہل ِنظرحال پرمیرے
کہ ہوناہے ابھی مجھ کوخراب اورزیادہ

کی تفسیربنے رہے گی۔بھارتی میڈیاکودیئے گئے انٹرویومیں نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بھارتی حکومت کوحالیہ ضمنی ناکام انتخابات کے دوران تشدداورقتل وغارت گری پرشدیدغم وغصے کااظہارکرتے ہوئے مودی حکومت کوذمہ دارٹھہراتے ہوئے خبردارکیاہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے ورنہ رہاسہامقبوضہ کشمیربھی پاکستان میں شامل ہوجائے گا۔فاروق عبداللہ کاکہناتھا: مودی سرکارآگ سے کھیل رہی ہے،سیکورٹی فورسزکے بہیمانہ ظلم وستم اور فائرنگ کے جواب میں پتھراؤکرنے والے کشمیری نوجوان کسی عہدے یاوزارت کے طلبگارنہیں بلکہ وہ بھارتی مظالم کے خلاف لڑرہے ہیں کیونکہ بھارتی حکومت نے ان سے ہرقسم کی آزادی چھین لی ہے اوروہ آزادی کیلئے لڑرہے ہیں ۔آپ چاہیں یانہ چاہیں پاکستان سے مذاکرات کرناہوں گے۔انہوں نے مختلف بھارتی چینلزپربراہِ راست مودی کومتنبہ کرتے ہوئے کہا: جاگو،جاگوانڈیا:تم کشمیرکھو رہے ہو۔پاکستان سے فوری بات کرکے مسئلے کاحل نکالو!
مقبوضہ کشمیرمیں حالیہ ضمنی انتخابات بے حدچشم کشاہیں۔بھارت کی سفاک فوج نے گجرات کے قصاب اوربھارت کے دہشتگردنریندرمودی کی قیادت میں نہتے کشمیریوں پربے رحمانہ فائرنگ کرکے درجنوں کشمیریوں کوشہیداور سینکڑوں کوزخمی کردیاہے۔سرینگر،بڈگاماورگاندربل اضلاع کے ڈیڑھ ہزار پولنگ اسٹیشنزپراحتجاج کرنے والوں پربھارتی فورسز نے اندھادھندفائرنگ کی جن خالی نشستوں پرضمنی الیکشن ہورہاتھاان میں سے ایک اس وقت خالی ہوئی جب مقامی رکن اسمبلی نے بھارتی فوج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی شہادت پربطوراحتجاج گزشتہ برس استعفیٰ دیا۔ضمنی انتخابات میں ووٹنگ کی شرح شرمناک حدتک چھ فیصدسے کم رہی جوتیس برسوں کے دوران سب سے کم شرح ہے۔بھارت نے کشمیر پر اپناجابرانہ تسلط برقرارکھنے کیلئے چھ لاکھ سے زائدسیکورٹی فورسزکوتعینات کررکھاہے۔ضمنی انتخابات کے دوران حریت پسندوں کی مزاحمت کے پیش نظربیس ہزارمزیدفوجی مقبوضہ کشمیر بھیجے گئے ۔پولیس اورفوج نے مل کرہزاروں کشمیری نوجوانوں کوگرفتارکررکھاہے۔ان کاجرم یہ ہے کہ وہ بھارتی قبضے اورظلم وستم کے خلاف آواز بلندکررہے ہیں۔

قائداعظم محمدعلی جناح نے کشمیرکوپاکستان کی شہہ رگ قراردیاتھاکیونکہ کشمیرجغرافیائی طورپربھی پاکستان سے منسلک ہے۔اس کے خشک راستے اور آبی دھابے پاکستان کی طرف چلتے ہیں۔تاریخی اورثقافتی حوالے سے دیکھیں تو پاکستان اور کشمیرواضح طورپرایک نظرآرہے ہیں۔کشمیراورپاکستان کے لوگوں کے درمیان سب سے اہم رشتہ مذہب کاہے۔یہ وہ بنیادی خصوصیات ہیں جوجواہل کشمیراوراہل پاکستان کوایک لڑی میں پروئے ہوئے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ۳جون ۱۹۷۴ء کے اعلان آزادی میں یہ طے پایاتھاکہ برصغیرکی ریاستیں پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کریں گی،اس وقت تیسراکوئی آپشن طے نہیں ہواتھا۔بھارت نے کشمیرکے ڈوگرہ حکمران کے ساتھ ملی بھگت اور طاقت کے ناجائز دباؤکے تحت یہاں کی مسلم اکثریتی آبادی پراپناجبرنافذکرکے ناجائزقبضہ کرلیاتواسی دن سے کشمیری عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اورآج تک اپنے بنیادی حق کیلئے لاکھوں جانیں قربان کرچکے ہیںاوردن بدن اپنی لازوال قربانیوں اور عزم صمیم سے بھارت کی سیکورٹی فورسزکے ساتھ مقابلہ کررہے ہیں۔

تقسیم ہندکے فوری بعداہل کشمیرکی مزاحمت نے قابض فوج کوکئی علاقوں سے پسپاکردیااوراب یہ علاقے آزادکشمیرپر مشتمل ایک نئی جغرافیائی حقیقت بن چکے ہیں۔بھارت نے کشمیر کوہاتھ سے جاتادیکھا تواقوام متحدہ سے مداخلت کی درخواست کی ۔سوویت یونین اوردیگرعالمی طاقتوں نے بھارت کی مددکی اور کشمیریوں کویہ کہہ کرجنگ روکنے کاکہاگیاکہ بھارت کشمیرکافیصلہ اہل کشمیر کی رائے سے کرنے پرآمادہ ہے۔بھارت نے اس امرکاعہداقوام متحدہ میں تحریری طورپر کیااوراس عہدکواب سات دہائیاں ہورہی ہیں۔عالمی برادری کے سامنے عہد کرنے کے بعدبھارت حیلے بہانوں سے اس معاملے سے روگردانی کرتاچلاآرہا ہے۔

بھارتی حکومتیں اہل کشمیرکواس امرپرقائک کرنے کی کوشش کرتی رہیں ہیں کہ وہ بھارتی آئین کوقبول کرکے مزاحمت ترک کردیں۔اپنی ان بناوٹی کوششوں کودنیاکے سامنے پیش کرنے کیلئے بھارت نے کئی بارچندکشمیری رہنماؤں کو خریدنے کی کامیاب منصوبہ بندی کی۔ان خریدے گئے رہنماؤں نے بھارتی آئین کے تحت ریاست میں ہونے والے انتخابات میں حصہ لیااوربھارت سے خوب مراعات پائیں۔یہ حکمت عملی میں طویل المدتی کامیابی کاذریعہ نہ بن سکی۔شیخ عبداللہ کے پوتے اورسابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ عمرفاروق عبداللہ کوبھی آخرکاریہ کہناپڑاکہ بھارت جبرکے ذریعے سے کشمیریوں کواپنے قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ اس امرمیں رتی بھرشبہ نہیں کہ مقبوضہ کشمیرمیں انتخابات کاڈھونگ قطعی طور پرحق خوداردایت کانعم البدل نہیں ہوسکتا،اہل کشمیر اپنا حق طلب کررہے ہیں،یہ حق جومہذب دنیابنیادی شہری حق کے طور پرتسلیم کرتی ہے۔

مقبوضہ کشمیرکی آبادی کیلئے بھارت کاتسلط قابل قبول نہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں ہونے والے تمام انتخابات میں ووٹنگ کی شرح ظاہر کرنے کیلئے بھارت بڑے پیمانے پر بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے۔بھارت کی تمام ترمکاری کے باوجودمقبوضہ کشمیرمیں ووٹنگ کی شرح نے بھارتی پروپیگنڈہ کواقوام عالم میں ننگاکردیاہے۔حالیہ ضمنی انتخاب میں یہ شرح ساڑھے چھ فیصدریکارڈکی گئی جس سے روزِ روشن کی طرح واضح ہو جاتاہے کہ اہل کشمیربھارتی جمہوریت کوایک ڈھونگ سمجھتے ہیں۔بھارت برسہابرس سے انہیں اپنی فرمانبرداری کے عوض جوسہانے خواب دکھاتا آیا ہے کشمیریوں نے انہیں یکسرردکرکے پوری دنیا پرواضح کردیاہے کہ کشمیریوں کوآزادی سے کم کسی قسم کی رعائت قبول نہیں ۔

اس انتہائی جائزاوربنیادی مطالبے کے جواب میں بھارتی فوج انہیں شہیدوزخمی، معذور،بینائی سے محروم اورعفت مآب کشمیری بیٹیوں کی درندہ صفت فوجیوں کے ہاتھوں عصمت دری جیسے خوفناک دہشتگردی سے خوفزدہ کرکے انہیں دبانے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ حالیہ دنوں میں غاصب بھارتی فورسزکی بہیمانہ کاروائیوں میں مزیداضافہ ہوگیاہے۔مقبوضہ کشمیرکے دارلحکومت سرینگرکے مشرقی ضلع گاندربل میں پولیس نے ایک درجن سے زائدکرکٹ کھلاڑیوں کو گرفتارکرلیا،یہ کشمیریوں کے وہ مسلمان کرکٹرزہیں جنہوں نے ایک کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کرکٹ ٹیم کی وردی زیب تن کرکے مقابلے سے پہلے پاکستان کاقومی ترانہ گایاتھا۔ ان نوجوانوں کایہ ویڈیوکلپ فیس بک ، واٹس ایپ اور سوشل میڈیاپرساری دنیامیں وائرل ہوگیا جس کودیکھ کربھارتی فوجیوں کی حسدکی آگ ایسی بھڑکی کہ انہوں نے فوری طورپرکشمیرکے کئی مقامات پرآپریشن کرکے ان نوجوانوں کو گرفتارکرلیااورابھی تک ان دوافرادکی تلاش جاری ہے جنہوں نے اس میچ کااہتمام کیاتھا۔

جموں وکشمیرمیں وحشت انگیزسانحات پیش آئے جنہیں لکھتے ہوئے قلم بھی اشکبارہوجاتے ہیں۔کشمیریوں کوپاکستانی پرچم سربلندرکھنے کیلئے ہردورمیں آگ وخون کے دریاپیش آئے کشمیریوں پرظلم وستم کے پہاڑڈھانے کے باوجودان کے دلوں سے پاکستان سے محبت کے جذبے کوسردنہیں کرسکا ۔کشمیرکی جدو جہدآزادی کامحورنظریہ پاکستان کی آفاقی فکر ہے۔ہندوکی غلامی سے انکاراور بھارتی مراعاتی پیکجزکومستردکرتے ہوئے آج نوجوان جموں وکشمیر پرپاکستانی پرچم لہراتے ہوئے شہیدہورہے ہیں۔یہ نظریہ پاکستان کوزندہ رکھنے ہی کافیض ہے کہ پاکستان اورکشمیرکے مسلمانوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔نظریہ پاکستان کی اسی آفاقی فکرکے تحت کشمیرپاکستان کی شہ رگ ہے لیکن کیا ہمارے سیاستدانوں کو اس کااحساس بھی ہے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 225719 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 331

Comments

آپ کی رائے