کراچی کا ڈان نمبر2 پھر مستعد دکھائی دیتا ہے․․․․

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 ایک ایسا شخص جس نے پاکستان کے ماضی کے مہاجرین کی تباہی میں کسی بھی لمحہ کوئی کسر نہ چھوڑی تھی،اور پہلے ایجنسیز کے آلہ کار کا کردار ادا کر کے کراچی اور حیدر آباد اور سندھ کے شہری علاقوں کے سابقہ مہاجرین کی جی بھر کے نسل کشی کی ۔جو کراچی اور سندھ کے لوگوں کا الطاف حسین کو سائڈ لائن کر کے دوسرامصنوی خدابنا دیا گیا تھا۔جس نے کراچی اور سندھ کے تمام ہی مہاجر علاقوں میں ایجنسیز کے ساتھ مل کر 1994میں اپنے مخالف مہاجروں کے ساتھ وہ گھناؤنا کھیل کھیلا تھااس میں پولیس انکی سب سے بڑیمعاون ہوا کرتی تھی۔ جس کی یادیں اگر چہ اس ظالم کے ظلم سے متاثرہ لوگ ہی کوکیا کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کا بچہ بچہ کبھی بھول نہیں پائیں گے۔اس نے اپنے سُنہیرے دور میں جس قدر اپنے مخالفین کا خون جس بے دردی سے بہایا وہ آج سندھ کی تاریخ کا ایک بھیانک باب ہے۔ سندھ کے شہری علاقوں کے کونسے شُرفا تھے جن کی پگڑیاں ااُس زمانے کے ڈون نمبر2 کے ٹیڈے جیسے اور بد شکل مکوڑوں نے نہ اچھالی ہوں ؟میں خود اس بات کا گواہ ہوں کہ جب مشرف دور کے پہلے الیکشن میں ان کی مٹی کٹنے لگی تو ایک فوجی چھاؤنی کے ساتھ کے علاقے میں میں پرزائڈنگ آفیسر تھا ایک بد شکل لونڈا جس کے عمر مشکل سے 18 سال ہوگی،جُسہ ایسا کہ پھونک مارو تو اُڑ جائے۔ پولنگ اسٹیشن میں گھس آیا اور مجھ سے کہتا ہے کہ بیلٹ پیپرز کی بُکیں میرے حوالے کرو!میں نے کہا کہ آپ ہیں کیا چیز؟ تو موصوف بولا تمہیں پتہ نہیں ہے میں کون ہوں؟اگر پتہ چل گیا تو تمہاری ٹانگیں کاپنپنے لگیں گی․․․․․اس ڈان کی کیڑے مکوڑوں کا پروفیسرز اور اساتذہ کے ساتھ یہ روئیہ تھا تو عام لوگوں کے ساتھ ان کے روئیے کا اندازہ لگانا کسی کے لیئے کوئی مشکل بات نہیں ہے۔

یہ وہ ہی سندھ کے شہری مہاجرعلاقوں کا ماضی کا ڈان ہے ۔جب یہ کھُڈے لائن لگ گیا تو اپنے گھر کے قریبی علاقوں میں اپنے غنڈوں کے ساتھ لوٹ مار کے لئے اے این پی کے علاقائی بد معاشوں کو ساتھ ملاکرقتل و غارت گری کے ساتھ اپنی روزی روٹی جاری رکھی۔خاص طور پر لانڈھی اور ملیر کے علاقوں میں یہاں کے تھانوں کی آشیر واد سے اس کی روزی روٹی چلوائی جاتی رہی تھی اور آج بھیلانڈھیملیر کے تھانے اس گروپ سے خائف ہیں۔یہ وہ ہی پِٹا ہوا مہرہ ہے جس کی کشتی کو تو ڈوبے ہوئے مدت ہوئی ہے ۔مگرلگتا یہ ہے کہ ادارے اس ٹوٹی پھوٹی کشتی کی مرمت کر کے ایک مرتبہ پھر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔اب جبکہ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کا بڑا ڈان کچھ عرصہ کے لئے سائڈ لائن کر دیا گیا ہے۔ تو موصوف مہاجروں کے کی یکجہتی کا علم اٹھائے میدان میں چھوڑ دیئے گئے ہیں ۔جس کے لئے موصوف تعاویل یہ پیش کرتے ہیں کہ بھارت اور پاکستان مذاکرات کر سکتے ہیں تو مہاجر قوم کے لوگ کیوں مل کر نہیں بیٹھ سکتے!!! اور کہتے ہیں کہ ہر کوئی کراچی کو لاوارث سمجھ کر قبضے کی کوشش کر رہا ہے۔بے شک ایسا ہی ہے مگر محترم آپ کا اپنے بارے میں کیا خیال ہے؟؟؟مہاجر وں کو تباہ کرنے کے بعد اب آپ جیسے لوگوں کے پیٹ میں ایک مرتبہ پھر مہاجر قوم کی یکجہتی کی پیڑ کیوں ہونے لگی ہے؟؟؟ یہ بات مہاجروں کی سمجھ سے تو بالا تر ہے۔گویا دودھ کی رکھوالی کے لئے بلے کو پھر چوکیدار بنا دیا جائے؟؟؟
مہاجر قومی موومنٹ کے چیئر مین آفاق احمدذاتی طور پرتو اپنے ماضی کے کردار کے پیشِ نظرمہاجر ووٹ لینے کے اہل ہیں ہی نہیں۔لہٰذا اب ایک مرتبہ پھراسمبلی میں جانے کے خواب کی تکمیل مہاجر اتحاد کی اوٹ میں تلاش کر رہے ہیں ۔کیونکہ اب ایجنسیز میں بھی اتنا دم خم نہیں ہے کہ ماضی کی طرح کے لاڈ ،موصوف کو لڈا سکیں۔لہٰذا انہیں چاہئے کہ اپنے ماضی کے گناہوں کی کم از کم اﷲ سے تو معافی مانگ لیں!رہے وہ تباہ حال خاندان جن پر ان کی آشیرواد سے انکے حواریوں مظالم کئے ۔یہ اُن کی مرضی ہے کہ وہ موصوف کو معاف کریں یا اپنے رب سے انصاف کے طالب رہیں ․․․․سندھ کے شہری عوام سمجھتے ہیں کہ بظاہر تقسیم شدہ ایم کیو ایم،اگر آفاق احمد کو کلین چٹ دیتی ہے تو یہ اپنے لوگوں کے خون کو معاف کر کے اُن سینکڑوں خاندانوں سے غداری کرے گی جنہوں نے متحدہ قومی موومنٹ کے لئے جائز و نا جائز قربانیاں دیں تھیں۔یہ حقیقت ہے کہ آج کی سیاست ماضی سے کچھ مختلف سُجھائی دیتی ہے، اور مہاجر منڈیٹ بھی اسپلیٹیڈ دکھائی دیتا ہے۔جس سے مرکزیت کی سیاست پروان چڑھ رہی ہے اور چڑھنا بھی چاہئے۔جہاں مخصوص نعروں کی اہمیت دفن ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ملک سے تعصبات کی سیاست د م توڑتی ہوئی نظر آرہی ہے۔جو وطں عزیز کو بلا تفریقِ رنگ و نسل و زبان کے تعصبات کے خاتمے میں معاون و مدد گار ثابت ہوگی۔اور کراچی کا ڈان نمبر دواپنی کاوشوں میں مہاجر اتحاد کا نعرہ دے کر کامیاب نہ ہوسکے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 117166 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 May, 2017 Views: 511

Comments

آپ کی رائے