اردو انسائیکلوپیڈیا ( طلبا ءکیلئے ایک معلوماتی تحفہ )

(vaseel khan, mumbai)
۔آج کم و بیش یہی صورتحال مسلمانوں کو درپیش ہے حالانکہ ماضی کے مقابلے ان میںکافی بیداری آچکی ہے ، تعلیمی اور صنعتی میدانوں میں ان کی پیش رفت سست رفتاری سے ہی سہی لیکن چل ضرورپڑی ہے ،پھر بھی انہیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے ۔دنیا کا یہ پرانا دستور ہے جو قوم کوشش اور جدوجہد کرتی ہے اسے اس کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔دیر سویر ہی سہی ایک نہ ایک دن وہ منزل مقصود پر پہنچ ہی جاتی ہے ۔خوش کن بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کے اندر اس طرح کی تڑپ دکھائی دینے لگی ہے جس کے خوشگوار نتائج بھی سامنے آرہے ہیں

ایک زمانہ تھا جب ملک کا تمام تر اقتصادی دارومدار زراعت اور کاشتکاری پر تھا جسے زراعتی دورکہا جاتا تھالیکن تیزی سے بدلتے حالات نے کروٹ لی تو یہ زراعتی دور بہت جلد صنعتی اور تعلیمی دور میں تبدیل ہوگیا اوراس وقتد ہم اسی دور میں سانسیں لے رہے ہیں ۔اب تمام تراقتصادی ترقیات کا رخ اعلیٰ تعلیمی و صنعتی تحریکات سے وابستہ ہوچکا ہے ۔ظاہر ہے اقتصادی ترقیات سے وہی لوگ بہرہ مند ہوسکتے ہیں جنہیں اس تغیر پذیرصورتحال سے نہ صرف مکمل واقفیت ہو بلکہ اس کے حصول کیلئے ان کے اندر عملی طور پر تڑپ بھی موجود ہو ، اس کے برعکس کامیابی ان کا مقدر نہیں ہوا کرتی جو ان راہوں کو چھوڑ کر انجان راستوں پر چل پڑیں ،یعنی اگر آپ کی منزل مقصود مغرب کی سمت واقع ہو اور آپ مشرق کے راستوں پر عازم سفر ہو ں تو بھلا کیونکہ منزل مقصود کو پا سکتے ہیں ۔آج کم و بیش یہی صورتحال مسلمانوں کو درپیش ہے حالانکہ ماضی کے مقابلے ان میںکافی بیداری آچکی ہے ، تعلیمی اور صنعتی میدانوں میں ان کی پیش رفت سست رفتاری سے ہی سہی لیکن چل ضرورپڑی ہے ،پھر بھی انہیں ابھی ایک طویل سفر طے کرنا ہے ۔دنیا کا یہ پرانا دستور ہے جو قوم کوشش اور جدوجہد کرتی ہے اسے اس کا صلہ ضرور ملتا ہے ۔دیر سویر ہی سہی ایک نہ ایک دن وہ منزل مقصود پر پہنچ ہی جاتی ہے ۔خوش کن بات یہ ہے کہ مسلم نوجوانوں کے اندر اس طرح کی تڑپ دکھائی دینے لگی ہے جس کے خوشگوار نتائج بھی سامنے آرہے ہیں ۔اسرار ایم سوری نے کیا خوب کہا ہے ۔
منزل ملے ملے نہ ملے اس کا غم نہیں منزل کی جستجو میں مرا کارواں تو ہے

شائقین علم کے اندرتڑپ اور بیداری پیدا کرنے کی غرض سے ماہرین علوم اور ہمدردان قوم نے اس جانب اپنی توجہ مبذول کی اور اس تعلق سے مختلف رہنمایانہ کتابیں تصنیف کی ہیں اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر جواں سال علم دوست عمران امین بھی اردو انسائیکلو پیڈیا کے عنوان سے ایک کتاب لے کر آئے ہیں جس میں یوجی سی نیٹ UGC-NET،ایم ایچ سیٹ MH-SET،پی ایچ ڈی انٹرنس ٹیسٹ PET،یوپی ایس سی UPSC،ایم پی ایس سی ،ٹیٹ TETاور بی ایڈانٹرنس ٹیسٹ وغیرہ مقابلہ جاتی امتحانات کے موجودہ پیٹرن کے عین مطابق اردو زبان و ادب کے ہزاروں معروضی سوالات و جوابات پر مشتمل ایک اچھا خاصا ذخیرہ جمع کردیا گیا ہے جو طلباء کے لئے انتہائی مفیدو کارآمد ہے ۔ موجودہ صورتحال خصوصاًاردو زبان و ادب کے حق میں بہت بہترتو نہیں کہی جاسکتی ، ایک طرف اس ملک کی ایک بڑی اکثریت اس زبان کے خلاف ہے اور اسے مقتدرہ کا زبردست تعاون بھی حاصل ہے دوسری طرف خود ہم بھی اس کے ساتھ غیریت کا سلوک کررہے ہیں ایسی کیفیت میں اس زبان کا جو حال ہونا چاہئے وہ ہورہا ہے ۔ زیر تذکرہ کتاب زبان کی اسی پژمردگی کو تروتازہ کرنے کی ایک کوشش کے طور پر بھی دیکھی جاسکتی ہے جسے مولف نے بڑی محنت اور خلوص کے ساتھ ترتیب دیا ہے ۔کتاب کے ابتدائی صفحات پر وہ لکھتے ہیں۔

’’TET'MPS'UPSC'MH-SET-CBSE-UGC-NET اورB.Ed Entrance Testوغیرہ امتحانات میں سارے سوالات معروضی قسم کے ہوتے ہیں ۔اس لئے اس کتاب کی تیاری میں اسی معروضی طرز کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ طلباء کو امتحانات دیتے وقت کسی قسم کی اجنبیت کا احساس نہ ہو ،اس طریقے کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ ہر قسم کے سوال جو امتحانات میں پوچھے جاتے ہیں یا پوچھے جاسکتے ہیں ان تما م سوالات کو یہاں یکجا کردیا گیا ہے جس سے جوابات یاد رکھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔ ‘‘

مصنف چونکہ ذاتی طور پر تعلیمی میدان کے ہی آدمی ہیں اور ان تمام مراحل سے نہ صرف گزرے ہیں بلکہ مختلف ڈگریوں کے حصول میں انہوںنے امتیازات بھی حاصل کئے ہیں ، اس کتاب کی تیاری میں انہوں نے اپنے تجربات کا بھی بھرپور استعمال کیا ہے جس سے کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہواہے ۔اردو نثر ونظم کی مختلف اصناف ، اردو کے تعلق سے تحریکی سرگرمیاں ، اردو کی تاریخ ، مختلف شعراو ادباکے احوال و کوائف کے ساتھ ان کی تحریکی پیش رفت جیسے مختلف النوع موضوعات پر سوالات نہ صرف ادبی معیارات کو قائم رکھتے ہیں بلکہ امتحانات میں طلباء کی سرخروئی اور کامیابی کے ضامن بھی ہوسکتے ہیں ۔سوالات کے جوابات اسی صفحے پر فراہم کردیئے گئے ہیں ساتھ ہی ۲۰۱۳سے ۲۰۱۶ تک کے امتحانات کے پرچے بھی نمونتاً درج کردیئے گئے ہیںاور ان کے بھی جوابات اخیر میں لکھ دیئے گئے ہیں ۔کتاب میں کچھ فروگزاشتیں بھی ہوئی ہیں ، خاص طورپر تلفظ اور جملوں کی نشست و برخاست میں کچھ کمزوریاں در آئی ہیں جو گراں گزرتی ہیں ، چونکہ یہ درسی کتاب ہے جس کا تعلق براہ راست طلباء سے ہے اس طرح کی کوئی بھی غلطی طلباء کا بہت دور تک تعاقب کرسکتی ہے جو ان کے لئے نقصان کا باعث بھی ہوسکتی ہے ۔چند اشارات ہم یہاں نقل کررہے ہیں مثلا ً صفحہ ۱۵۰پر تیسری سطر میں آخری شب کے ہم سفردرج ہےجبکہ اسے آخرِ شب کے ہمسفر ہونا چاہئے ۔صفحہ ۲۲ پر دوسری سطر میں غیض لکھا گیا ہے جبکہ درست لفظ غیظ ہے ۔صفحہ ۲۲۷ پر الفارق تحریر ہے جو کہ اصلا ً الفاروق ہے ۔ اسی طرح پوری کتاب میںچھوٹی بڑی متعدد فروگزاشتیں موجود ہیں جن کا ازالہ اگلی اشاعتوںمیں ضرور ہوجانا چاہئے ۔مجموعی طور پر یہ کتاب ہر لحاظ سے طلباء کیلئے ایک مفید کتاب ہے جس کا علم وادب کے ایوان میں خیر مقدم ہونا چاہئے ۔۴۶۸؍صفحات پر محیط اس کتاب کی قیمت ۳۵۰؍روپئے ہے جو طلباء کی قوت خرید سے باہر تو نہیں کہی جاسکتی لیکن کچھ گراں ضرورہے ۔شائقین اسے ان پتوں سے حاصل کرسکتے ہیں ۔ مکتبہ جامعہ لمٹیڈ،پرنسس اسٹریٹ ممبئی ، فون : 23774857۔سیفی بک ڈپو، بھنڈی بازارممبئی ، جےکے بک اسٹال مقابل ممبئی یونیورسٹی کالینہ سانتا کروز ، ۶۰۳،رسول پورہ چندن پوری گیٹ ، مالیگاؤں ۔موگراپاڑہ اندھیری ( ایسٹ ) ممبئی ۔شانتی شاپنگ سینٹر میرا روڈ ( ایسٹ ) تھانے ۔مصنف سے رابطہ : 9221304596-9867325358

ایک اور کالی داس ( کالی داس گپتا رضا )
کالی داس گپتا رضا اردو دنیا کیلئے محتاج تعارف نہیں ، ان کی درجنوں مختلف الموضوع کتابیں اس کا کھلا ثبوت ہیں ۔کتابیں تو بہت لکھی جاتی ہیں لیکن یادگار کتابوں کی تصنیف کارنامہ کہی جاتی ہے جو ہر ایک کے حصے میں نہیں آتا ۔موصوف کا شمار ایسے ہی مصنفین میں ہوتا ہے جن کی کتابیں آج بھی اہل علم کیلئے نفع بخش ہیں ،انہوں نے برسوں غالب پر تحقیقی کام کرتے ہوئےکئی گراںقدر تصنیفات چھوڑی ہیں جس سے غالب کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔زیرنظر کتاب کے مصنف مدیر اسباق نذیر فتحپوری ہیں جنہوں نے موصوف کے ساتھ بیشمار ایام گزارے ہیں اور برسوںان کے رفیق و ہمراز بھی رہے ہیں اس طرح سے وہ ان کی ادبی تحریکات و سرگرمیوں کے عینی گواہ بھی ہیں ۔ اس کتاب کے ذریعے انہوں نے کالی داس گپتا رضا کی زندگی کے مختلف پہلوؤں روشنی ڈالی ہے ۔کہیں کہیں ایسے انکشافات بھی سامنے آئے ہیں جو اس کتاب کا خاصہ بن گئے ہیں کیونکہ ان تذکروں سے دوسری کتابیںخالی ہیں ، اس لحاظ سے بھی اس کتاب کی نوعیت منفرد بن گئی ہے ۔ان کی انسانیت نوازی اور اخلاق عالیہ پر بھی گفتگو کی گئی ہے ، جمیل الدین بغدادی کا تذکرہ اس کی روشن مثال ہے ۔اسی طرح قرآن پڑھو۔کیا نہیں ہے قرآن میں، اس جملےسے ان کی دین شناسی اور اسلامی اصول و قوانین سے ان کی بے پناہ قلبی و جذباتی وابستگی کا پتہ چلتا ہے ۔مختلف اہل علم و ادب کے نام ان کے خطوط اور ان کے نام آئے خطوط سےجہاں ان کے علمی تبحر اور تنقیدی و تحقیقی ذوق کا علم ہوتا ہے وہیں ان کے ادبی رحجانات اور انسانیت نوازی کے مختلف واقعات ان کی حیثیت کو مستحکم کرتے ہیں ۔ کتاب کے ابتدائی صفحات پر مشہور صحافی و ادیب شمیم طارق اور حسن عباس فطرت نے ان کی تحقیقی و تنقیدی خدمات اور تحریکات کا جو تعارف پیش کیا ہے وہ بالکل حق بہ حقدار رسید کے مترادف ہے ۔ مجموعی طور پر یہ کتاب رضا شناسی کیلئے ایک ایسے ریفرنس کا کام کرے گی،جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا ۔ زبان و بیان کے اعتبار سے بھی یہ کتاب اس لئے اہم سمجھی جائے گی کہ مصنف نے اپنا مدعا نہایت سہل اور عام فہم اسلوب میں بیان کیا ہے ۔ شائقین یہ کتاب ۲۰۰؍روپئے میں اسبا ق پبلی کیشن سائرہ منزل 230/B/102 ویمان درشن سنجے پارک لوہ گاؤں روڈ پونے سے حاصل کرسکتے ہیں ۔مصنف کا موبائل : 9822516338

ماہنامہ تریاق ( ممبئی )
تریاق اپنی مئی کی اشاعت کے ساتھ بازار میں آچکا ہے ۔ادارتی صفحے پر مدیر نے اردو کے تعلق سےبڑے تلخ لیکن حقائق سے لبریز باتیں کی ہیں آج ہم اردو والوں کی حالت اس شتر مرغ جیسی ہوگئی ہے جوخطرات کے پیش نظر اپنی گردن ریت میں دھنسادیتاہے اور خود کو محفوظ سمجھنے لگتا ہے ۔اردو کا مستقبل یقیناً خطرات سےگھرا ہوا ہے اور ہم اس کی بقا و تحفظ کے بجائےطرح طرح کی تاویلات اور خوش فہمی میں مبتلا ہیں ۔سلا م بن رزاق نے اقبال مجید کے افسانے کا غیر جانبدارانہ اور خالص علمی تجزیہ کرتے ہوئے خوبصورت انداز میں تسہیل کردی ہے ۔اردو زبان و ادب کی صحت سے متعلق ندیم صدیقی کا مضمون قارئین کیلئے تحفہ ٔ خاص سے کم نہیں ۔موسیقی اور الہیات کے موضوع پر ضمیر کاظمی کی تحریر چشم کشا اور فکرانگیزہے ۔اس کے علاوہ نظموں ،غزلوں اور افسانوںکا معیار بھی مناسب ہے ،خاص طور پر گلزار جاوید کا افسانہ سینے میں چھپا سانپ موجودہ پرفریب دنیا کی عکاسی میں بے حد کامیاب ہے ۔ محب اردو ، ٹام آلٹر سے لیا گیا حنیف قمر کا انٹرویو کئی گتھیوں کو سلجھاتا ہے ۔مجموعی طور پر یہ شمارہ ایک بار پھر اپنی کاوشوں میں کامیاب ہے جس میں صاحبان ذوق کیلئے کافی سامان موجود ہے ۔پرچے کے حصول اور دیگر معلومات کیلئے مدیر سےرابطے کا نمبر : 9867861713-9768253501

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: vaseel khan

Read More Articles by vaseel khan: 126 Articles with 58967 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
15 May, 2017 Views: 1184

Comments

آپ کی رائے