سی پیک پر بے بنیاد بھارتی واویلا

(Rana Aijaz Hussain, Multan)

 گزشتہ دنوں چین نے سی پیک پر بھارتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے بھارت پر واضع کیا ہے کہ وہ مبالغہ آرائی سے باز رہے، سی پیک کے بارے میں بھارتی خدشات بے بنیاد ہیں۔ قبل ازیں بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن بھاگوت نے یہ بیان دیا تھا کہ مستقل قریب میں خطرہ بن کر ابھرنے والے ممالک سے ٹکر لینے کے لیے بھارت کو ایران، عراق اور افغانستان سے قریبی تعلقات استوار کرنا چاہیے۔ جس پر چین نے واضع کیا ہے کہ چین خطے میں بالادستی نہیں بلکہ امن و ترقی کے لئے کوشاں ہے ، اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے ’’ سی پیک‘‘ کی بدولت ایشیا اور یورپ میں منڈیوں تک رسائی کے مختلف ذرائع سڑک، ریل اور بندرگاہ جیسے منصوبوں کو مربوط کرنے کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ اب عملدرآمد کے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ،پاکستان میں توانائی کے سترہ میں سے گیارہ منصوبوں پر کام شروع کردیاگیا ہے، ان منصوبوں کی تکمیل سے پاکستان میں بجلی کی قلت پرقابو پانے میں مدد ملے گی اور پاکستان کے عوام کو ریلیف ملے گا۔ چین میں اس حوالے سے عالمی کانفرنس منعقد ہو رہی ہے ، جس میں پاکستان اور سری لنکا کے وزرائے اعظم سمیت 28 ممالک کے سربراہان شریک ہوں گے۔

بلاشبہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ صرف چین یا پاکستا ن ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری دنیا کیلئے خوشحالی کا پیش خیمہ ہے۔عالمی ماہرین اقتصادیا ت کے اندازے کے مطابق اس منصوبے سے چین ، جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا ء کے تقریباً تین ارب افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان اس منصوبے کی بدولت مخصوص تجارتی رہداریوں کی تعمیر سے بر اعظم ایشیا ء کی تقریباً نصف آباد ی اس منصوبے کے مثبت اثرات سے فیض یاب ہوگی۔ پاک چین اقتصادی راہداری ایک ایسا ترقیاتی پروگرام ہے جس کے تحت جنوبی پاکستان میں واقع گوادر کی بندرگاہ کو ہائی ویز، ریلوے اور پائپ لائنوں کے ذریعے چین کے جنو ب مغربی علاقے شن جیانگ سے مربوط کیا جا رہاہے۔اس منصوبے کی تکمیل کے بعد چین، مشرق وسطیٰ اور افریقی ممالک کے مابین ہونے والی تجارت پاکستان کے راستے سے ہونے لگے گی اور اکنامک کوریڈور ان ممالک کی تجارت کیلئے مرکزی دروازے کی حیثیت اختیار کر لے گا۔ بالخصوص مڈل ایسٹ سے برآمد ہونے والا تیل گوادر کی بندر گاہ پر اترنے لگے گا کیونکہ گوادر کی بندرگاہ خلیج فارس کے دھانے پر واقع ہے۔ جبکہ اس تیل کی ترسیل پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے راستے سے چین کو ممکن ہوسکے گی۔ خلیج کے ممالک کا ساٹھ فیصدی تیل چین کو برآمد کیا جاتا ہے جو اس وقت سولہ ہزار کلو میٹر کا طویل راستہ طے کرکے چینی بندرگاہوں تک پہنچتا ہے۔ جبکہ اکنامک کوریڈور کی بدولت یہ فاصلہ کم ہوکر صرف پچیس سو کلو میٹر رہ جائے گا۔اور یہ راستہ نہ صرف مختصر بلکہ محفوظ اور آسان بھی ہوگا۔ اس طرح پاکستان کو وسائل روزگار کے حصول کے علاوہ عالمی راہداری کے طور پر خطیر زرمبادلہ کا مستقل موقع بھی میسر آجائے گا۔عالمی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اکنامک کوریڈور منصوبے سے ایشیاء میں علاقائی تجارت و سرمایہ کاری کے بند دروازے کھل جائیں گے۔ اور اطراف میں واقع تمام ممالک کو معاشی ثمرات حاصل ہونگے اور یوں دنیا کی سب سے بڑی منڈی وجود میں آئے گی جو علاقائی استحکام اور خوشحالی کی بنیاد ثابت ہوگی۔ جبکہ گوادر میں پاکستان کے ہنر مند اور غیر ہنر مند افراد کیلئے لاتعداد وسائل روزگار پیدا ہونگے جس سے یہاں عوام کے طرز زندگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ازلی دشمن بھارت مستقبل قریب میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کو دیکھتے ہوئے بے بنیاد واویلا کررہاہے۔

چین نے بھارت پر واضع کردیا ہے کہ چین خطے میں بالا دستی کا نہیں بلکہ امن و ترقی کا خواہاں ہے، چین کے دفاعی بجٹ میں اس سال 7 فیصد اضافہ ہوا ہے جو 2010ء کے بعد سب سے نچلی سطح پر ہے۔ چین کے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کا ایک اعشاریہ تین فیصد ہیں، جبکہ بھارت کے دفاعی اخراجات چین کے مقابلے میں ایک تہائی ہیں۔ اگر بھارت کے دفاعی اخراجات مالیت کے اعتبار سے چین کے دفاعی اخراجات کے مساوی ہوجائیں تب بھی ٹیکنالوجی کا فرق باقی رہے گا کیونکہ چین بیشتر معاملات میں بہت آگے ، اور دفاعی ہتھیاروں کی تیاری میں خود کفیل ہے ۔ چین نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے عالمی تناظر میں رونما ہونے والی کسی بھی تبدیلی کے باوجود چین پاکستان کے سا تھ روائتی دوستی کو قائم رکھتے ہوئے اپنے تمام معاہدوں پر پورا اترے گا۔ اسی طرح پاکستان بھی چین کے ساتھ دوستی کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔لیکن دونوں ملکوں کو متعدد علاقائی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا ہے، جبکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھارت سمیت پاکستان کے کھلے اور چھپے دشمنوں کی آنکھ کا شہتیر بنا ہوا ہے، لیکن ا ب ان شاء اﷲ پاکستان کی ترقی کا سفر رکنے والا نہیں۔ چین اور پاکستان ان کے خلاف ہونیوالی ہر سازش کو ناکام بنادیں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Aijaz Hussain

Read More Articles by Rana Aijaz Hussain: 781 Articles with 336091 views »
Journalist and Columnist.. View More
16 May, 2017 Views: 348

Comments

آپ کی رائے