14 مئی کومصطفی کمال کے پرامن عوامی مارچ پرسندھ حکومت کاغیرمناسب ردعمل !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)

کراچی کی سیاست میں 3 مارچ 2016 کونئی پہچان کے ساتھ دھماکہ خیز انٹری دینے والے دبنگ سیاست دان مصطفی کمال کو کون نہیں جانتاکہ جب وہ ایم کیو ایم کا حصہ تھے تب بھی اپنی پارٹی کی نمایاں ترین قابل ،اہل اور باصلاحیت شخصیات میں ان کا شمار کیا جاتا تھا جنہوں نے ایم کیو ایم جیسی بدنام زمانہ سیاسی پارٹی میں رہتے ہوئے بھی اپنے کردار اور دامن کو داغدار نہیں ہونے دیااور اس زمانے میں کراچی کے سٹی ناظم کے طور پر اپنے ہاتھ سے 300 ،ارب روپے کراچی کے ترقیاتی کاموں پر خرچ کیئے اور تین روپے کی بھی کرپشن نہیں کی جو کہ فی زمانہ ایک ناممکن سا کام محسوس ہوتا ہے لیکن جب اﷲ تعالیٰ کسی شخصیت سے مستقبل میں کوئی اچھا کام لینا چاہتا ہے تو اسے اس کے دل کو اس کے دوراقتدار و اختیار کے زمانے میں ہی ہدایت کی روشنی سے منور کردیتا ہے جیسا کہ مصطفی کمال جیسے اچھے اور سچے انسان کو اﷲ تعالیٰ نے ایم کیو ایم کے گندے تالاب میں رہتے ہوئے بھی دہشت گردی کرپشن اوربدعنوانی کی کیچڑ میں گرنے سے محفوظ رکھا یہی وجہ ہے کہ جب مصطفی کمال نے ایم کیو ایم سے اعلانیہ علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کراچی کی سیات پر قابض ڈان الطاف حسین اور اس کی قائم کردہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی اندرونی کہانیاں اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ساتھ الطاف حسین اور ایم کیوایم کے ملک دشمن رابطوں کو پول کھولا تو ان کی باتوں کو بہت توجہ سے سنا گیا اور ہر خاص وعام نے ان کی باتوں کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ سب باتیں کوئی اور نہیں بلکہ ماضی میں ایم کیو ایم کے ماتھے کا جھومر سمجھا جانے والا سیاسی رہنما مصطفی کمال کر رہا تھا جس نے تقریبا30 سال تک الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھا اور سمجھا تھا ۔

3 مارچ 2016 کو ایک نئی پہچان اور ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کے بعد سے لے کر گزشتہ ایک سال اور ایک ماہ کی برق رفتار سیاست کے دوران مصطفی کمال نے اپنے دیرینہ ساتھی انیس قائم خانی کے ہمراہ کراچی کی سیاست میں مثبت طرز سیاست کو جس خوش اسلوبی اور مہارت کے ساتھ فروغ دیا ہے اس پر انہیں جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے کہ کراچی کی پرتشدد سیاست میں مصطفی کمال نے شرافت کی سیاست کرکے یہاں کے سیاسی کلچر کو بالکل بدل کررکھ دیا اور وہ کراچی جہاں سیاسی مخالفت کو دشمنی میں بدل کرسیاسی مخالفین کا قتل عام کرنا معمول کی بات بن چکی تھی، مصطفی کمال نے اپنی قائم کردہ نئی سیاسی جماعت ’’ پاک سرزمین پارٹی ‘‘کے پلیٹ فارم سے پاکستان ،پاکستانی پرچم اور پاکستانی عوام سے محبت کا جوعملی مظاہرہ پیش کیا اور جس طرح سے مختلف سیاسی گروہوں اور قومیتوں کے درمیان پیدا شدہ فاصلے ختم کرنے کے لیئے مسلسل عملی جدوجہد اور کوششیں کی ہیں اور جس طرح زبان ،قومیت اور مذہبی و مسلکی اختلافات سے بالا تر ہوکرلوگوں کو بھائی چارے کی تبلیغ کرکے کراچی کے سیاسی کلچر میں برداشت کا عنصر داخل کیا ہے اسے کراچی کی سیاسی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جانا چاہیئے۔

کراچی کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلوانے کی جدوجہد کا آغاز کرتے ہوئے مصطفی کمال نے پاک سرزمین پارٹی کے دیگر قائدین کے ہمراہ کراچی پریس کلب کے باہر ایک سڑک پر شدید گرم موسم میں18 دن تک پرامن احتجاجی دھرنا دے کر شرافت کی سیاست کاجو عملی مظاہرہ پیش کیا اس کی کوئی مثال ماضی قریب میں پیش نہیں کی جاسکتی پھر یہ احتجاجی دھرنا ذاتی یا پارٹی مفادات حاصل کرنے کے لیئے نہیں بلکہ کراچی کے عوام کو پانی ،بجلی اور سیوریج سمیت دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیئے دیا گیا جس میں مصطفی کمال نے 16 عوامی مطالبات حکومت سندھ کے سامنے رکھے کہ وہ ان مطالبات پر عمل درآمد کروا کر کراچی کے باشندوں کے دیرینہ مسائل کو حل کرے لیکن افسوس مصطفی کمال کے18 دن تک جاری رہنے والے اس پرامن عوامی احتجاج کا سندھ حکومت نے کوئی خاطر خواہ نوٹس نہیں لیا جس کے بعد مصطفی کمال نے اپنی پارٹی کی جانب سے پیش کردہ 16 عوامی مطالبات پر عمل درآمد کروانے کے لیئے 14 مئی 2017 کوکراچی میں FTC شاہراہ فیصل روڈ پر پرامن ملین مارچ کرنے کا اعلان کیاتاکہ عوامی حمایت کے ذریعے سندھ حکومت کو اس بات پر راضی کیا جاسکے کہ وہ جلد از جلد کراچی کے باشندوں کو درپیش دیرینہ مسائل حل کرنے کے لیئے عملی اقدامات کا آغاز کرے۔

14 مئی کو کراچی میں مصطفی کمال کے پرامن عوامی مارچ کے ساتھ سندھ حکومت نے جو سلوک کیا وہ نہ صرف انتہائی غیرمناسب بلکہ بہت حد تک ظالمانہ تھا کہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سمیت پاک سرزمین پارٹی کی ساری قیات اور کارکنان کراچی کے شہریوں کے ہمراہ FTC شاہراہ فیصل پر کوئی ہنگامہ توڑ پھوڑ یا جلاؤ گھیراؤ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ یہ سب لوگ تو کراچی والوں کے لیئے پانی مانگ رہے تھے بنیادی انسانی حقوق مانگ رہے تھے اور پھر اس احتجاجی مارچ میں جسے پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے غیر ضروری طور پر’’ ملین مارچ‘‘ کا نام دیا گیا آنے والے تمام لوگوں کے ہاتھوں میں کوئی ہتھیار نہیں تھا ،جمہوری حکومتوں میں پرامن احتجاج کرنا ہر انسان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق ہے جسے حکومت کی جانب سے سختی کے ساتھ روکا جانا دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں کبھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا اگر عوام اپنے مسائل کے لیئے حکومت کا دروازہ نہیں بجائیں گے تو پھر وہ کہاں جائیں گے ۔کراچی کے باشندے جن میں ہرزبان،قوم اور مسلک کے لوگ شامل ہیں ایک طویل عرصہ سے اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور اسی احساس محرومی کو کیش کروانے کے لیئے ایم کیو ایم سمیت بہت سی سیاسی و مذہبی جماعتیں کراچی میں عوام کا نام لے لے کر عوام کو ہی لوٹتی رہی ہیں لیکن اب اگر کراچی کو ایک سچا اور اچھا پرخلوص لیڈر مصطفی کمال کی صورت میں ملا ہے جو ہر طرح کے سیاسی ،مذہبی اور قومی تعصب سے بالا تر ہوکر کراچی کے ہر باشندے کی بلا امتیاز خدمت کرنے کا جذبہ لے کر میدان سیاست میں ہر طرح کی قربانی دینے کا عزم لے کر سامنے آیا ہے تو اس کی راہوں میں پتھر بچھانے کی بجائے اس عوامی خدمت میں اس کا ہاتھ بٹانا چاہیئے لیکن افسوس وہ لوگ جو سیاست میں آتے ہی لوٹ مار کرنے کے لیئے ہیں انہیں عوام کو درپیش مسائل کانہ تو احساس ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ان مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں۔
مصطفی کمال، انیس قائم خانی اور ان کے دیگر ساتھی پر سکون اور آرام دہ زندگی بسر کررہے تھے انہیں کیا ضرورت تھی کے اپنے چین آرام اور ہر طرح کے خطرے سے پاک گھریلو زندگی کوچھوڑ چھاڑ کر کراچی جیسے شہر کی پرتشدد سیاسی جماعتوں کے اکھاڑے میں کود کر اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کو داؤ پر لگاتے لیکن جب اﷲ تعالی ٰ کسی کے دل کو ہدایت کی روشنی سے منور کرنا چاہتا ہے تو پھر فرعون کے گھر موسی ٰ کو پیدا فرمادیتا ہے یہی کچھ مصطفی کمال اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہوا کہ ان پر اﷲ تعالیٰ کی نظر کرم ہوئی اور اﷲ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے گمراہی کے اندھیرے مٹا کر ان کی جگہ ہدایت کی روشنی پیدا کردی جس نے ان سب کا باطن اور حال بدل ڈالا جس کے نتیجے میں کراچی میں آج پرامن سیاسی کلچر نظر آرہا ہے ورنہ 3 مارچ 2016 میں مصطفی کمال کی ایک نئی پہچان کے ساتھ سیاست میں قدم رکھنے سے قبل کراچی کا سیاسی کلچر کیسا تھا یہ بات کراچی کا بچہ بچہ جانتا ہے۔

14 مئی کو مصطفی کمال کی قیادت میں پاک سرزمین پارٹی نے شاہراہ فیصل پرFTC کے مقام پر جو پرامن ملین مارچ کیا اس میں اس احتجاج کو’’ ملین مارچ‘‘ کا نام دیئے جانے کے علاوہ سب کچھ بالکل ٹھیک تھا اور اس مارچ کے بعد جس بات پر سب سے زیادہ تنقید کی جارہی ہے وہ اس احتجاج کو ’’ملین مارچ‘‘ کا نام دینے پر کی جارہی ہے اور سچی بات یہ ہے کہ یہ تنقید درست بھی ہے ۔کسی سیاسی لیڈر یا سیاسی جماعت کی جانب سے اپنے عوامی احتجاج کو’’ملین مارچ‘‘کا نام دیا جانااور پھر اس احتجاجی مارچ میں 10 ہزار افراد سے زیادہ لوگوں کا نہ آنا اس سیاسی لیڈراور سیاسی جماعت کی ساکھ کو متاثر کرنے کے علاوہ ہر طرف سے تنقید کیئے جانے کا باعث بنتا ہے ۔لوگوں کی تعداد کاذکر کیئے بغیر احتجاجی مظاہرے ،دھرنے یا مارچ کیئے جاسکتے ہیں لیکن اگر ان کے ساتھ لوگوں کی تعداد کا ذکر کیا جائے تو آدمی اپنے کہے گئے الفاظ کا اسیر بن جاتا ہے لہذا لیڈر کسی بھی پارٹی کا ہو اگر وہ لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کی باتیں کیئے بغیر احتجاجی دھرنے اور مارچ کرے تو اس طرح اس کی سیاسی ساکھ قائم رہتی ہے وگرنہ لوگ اور خاص طور پر میڈیاچینلزاور اخبارات تو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں کہ لیڈر یا پارٹی کوئی غلطی کرے اور اسے آڑے ہاتھوں لیا جائے۔

14 مئی کے احتجاج کو ’’ملین مارچ‘‘ دینے کو اگر ہم مصطفی کمال اور پاک سرزمین پارٹی کی غلطی یا غلط فہمی قرار دیں تو اس کے ساتھ ہی ہمیں 14 مئی کو شاہراہ فیصل پر پی ایس پی کے پرامن عوامی احتجاج پر حکومت سندھ کی جانب سے اختیار کیئے جانے والے نہایت غیر مناسب بلکہ ظالمانہ طرز عمل کی شدید مذمت بھی کرنی ہوگی کہ اس عوامی مارچ میں آنے والے کم یا زیادہ لوگ دہشت گرد نہیں بلکہ کراچی کے پرامن سیاسی لیڈر اور عوام تھے جو حکومت سے صرف اپنے بنیادی آئینی اور قانونی حقوق مانگنے آئے تھے لیکن ان کے ساتھ جو سلوک اس روز حکومت سندھ کی ہدایت پر پولیس نے کیا وہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ اس کا شمار بلاجواز اشتعال اور ہنگامہ خیزی پیدا کرنے کے جرائم میں ہونا چاہیئے لیکن سندھ حکومت کی ہٹ دھرمی دیکھیں کہ وہ اپنی غلطی تسلیم کرنے کی بجائے مصطفی کمال اور پاک سرزمین پارٹی کے دیگر قائدین اور اس احتجاج کے شرکا کے خلاف مقدمہ درج کررہی ہے۔

14 مئی کو سندھ حکومت کی جانب سے پاک سرزمین پارٹی کی جانب سے منعقدہ پرامن عوامی احتجاجی مارچ کے شرکا پر بلاجواز آنسو گیس کی شیلنگ ، واٹر کینن سے پانی پھینکنااور ربڑ کی گولیاں چلانا یہ بات ثابت کرتا ہے کہ حکومت کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیئے جمع ہونے والی عوام کے پرامن مظاہرے کو بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں کہ شاید اس کو اپنے اقتدار اور اختیار پر اتنا غرور ہے کہ وہ کراچی کی پیاسی عوام کو پینے کا پانی دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کی بجائے ان پر واٹر کینن سے پانی پھینک کر کہتی ہے کہ مصطفی کمال اور مارچ کے دیگر شرکا پانی مانگ رہے تھے جو ہم نے انہیں وہیں دے دیا اور افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ بات کسی عام عہدیدار نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی سیاسی رہنما اور سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا نے ایک ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے کہی ۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے لیکن افسوس اچھے خاصے پڑھے لکھے اور سمجھدار سیاست دانوں کی آنکھوں پر اختیارات اور اقدار کی طاقت کے نشے نے ایسی پٹی باندھ رکھی ہے کہ وہ دیکھتے ہیں مگر انہیں دکھائی نہیں دیتا اور وہ سنتے پر انہیں سنائی نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کا شمار قرآن وحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے دلوں پر اﷲ تعالیٰ غفلت اور گمراہی کی مہر لگا دیتا ہے اورپھر انہیں مرتے دم تک ہدایت کی توفیق نہیں ہوتی ۔

اﷲ تعالی مجھ سمیت تمام لوگوں ،سیاست دانوں اور حکمرانوں کو ہدایت کی روشنی عطا فرمائے تاکہ ہم کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت یہ سوچ سکیں کہ ہم جو کچھ کرنے جارہے ہیں اس کے ملک اورقوم پر کیا اچھے اور برے اثرات رونما ہوسکتے ہیں کہ ہم سب جانور نہیں بلکہ انسان ہیں جسے اس کی عقل اور شعور کی وجہ سے اشرف المخلوقات قرار دیا گیا ہے لیکن جب انسان جانوروں والی حرکتیں کرنا شروع کردے اور ملک و قوم کے حوالے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اس کی عقل گھاس چرنے چلی جائے تو پھر اسی طرح کے واقعات اور حادثات جنم لیتے ہیں جیسا کہ 14 مئی کو شاہراہ فیصل کراچی پر رونما ہوئے ۔اپوزیشن ہو یا حکومت وقت پاکستان اور کراچی سب کا ہے لہذا اس کے تمام مسائل سب کے مشترکہ مسائل ہیں خواہ وہ اقتدار میں ہوں یا حزب اختلاف میں سب کو عوامی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ان کے مسائل کا حل نکالنے کے لیئے سنجیدہ کوششیں کرنی ہونگی ورنہ اگر کراچی جیسے حساس شہر میں غلط طرز حکمرانی کو روا رکھا گیا تو خدانہ خواستہ کراچی ایک بار پھر اسی بدترین سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا جس سے کراچی کو باہر نکالنے کے لیئے مصطفی کمال گزشتہ ایک سال سے پاک سرزمین پارٹی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کررہے ہیں۔

کراچی کے مسائل کوسمجھتے ہوئے سٹی گورنمنٹ اور حکومت سندھ کو سنجیدگی کے ساتھ ان کا حل نکالنے کے لیئے کام کرنا ہوگا ورنہ کراچی کے سیاسی کلچر میں گزشتہ ایک سال کے دوران جو مثبت سیاسی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے وہ پرخلوص سیاسی قیادت کی بھرپور کوششوں کے باوجودبہت جلد سبو تاژ ہوسکتی ہے کہ جب لوگوں کے مسائل تما م تر پرامن کوششوں سے حل نہ ہوسکیں تو پھر وہ مجبور ہوکر پرتشدد طریقہ کار کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں اور ہمیں پاکستان کی سیاست میں کراچی کی مرکزی اہمیت کے پیش نظرعوام کو تشدد کی طرف جانے سے روکنا ہوگا کہ سیاست اور حکومت کا کام مسائل حل کرنا ہوتا ہے مسائل پیدا کرنا نہیں۔اﷲ تعالیٰ سیاست و حکومت میں سرگرم لوگوں بر سر اقتدار طبقے کے دلوں میں عوامی ہمدردی کے جذبات پیدا فرمائے تاکہ ہمارے ملک پاکستان اور اس ملک کے سب سے بڑے اور اہم شہر کراچی کے مسائل دیرینہ بنیادوں پر حل ہوسکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71814 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
19 May, 2017 Views: 299

Comments

آپ کی رائے